کے الیکٹرک عدالت اور لوڈ شیڈنگ

یوں تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ پورے پاکستان کو درپیش ہے اوروقت کے ساتھ ساتھ اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے جبکہ کمی آنے کے امکانات معدوم سے معدوم تر ہوتے جارہے ہیں۔

میں یہ بھی نہیں کہتا کہ گزشتہ چار پانچ برسوں کے دوران اس پر غوروفکر بھی نہیں کیا گیا اور مسئلے کو دور کرنے کیلئے کوششیں بھی نہیں کی گئیں۔ اس مسئلہ پر غور فکر بھی کیا گیا اور کوشش بھی کی گئی لیکن اس کے باوجود بھی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ اپنی جگہ نہ صرف بر قرار ہے بلکہ لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں ہر سال کچھ اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے سسٹم میں کئی ہزار میگاواٹ کا اضافہ کیا ہے۔ جہاں تک میری ناقص معلومات ہیں ان کا یہ دعویٰ درست ہے لیکن پھر بھی لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی کی بجائے اضافہ کیوں دیکھنے میں آرہا ہے؟، یہ بات غور طلب بھی ہے اور قابل بحث بھی تاکہ عام لوگوں کو سمجھایا جاسکے کہ کئی ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں ڈالے جانے کے باوجود بھی بجلی ناپید کیوں ہوتی جارہی ہے۔

پاکستان کے طول و عرض میں نئی نئی بستیاں تعمیر ہو رہی ہیں، بڑی بڑی ملٹی اسٹوریز وجود میں آرہی ہیں، دفاتر بن رہے ہیں، سرکاری و نیم سرکاری عمارتیں کی بلڈنگیں بن رہی ہیں یا ان میں توسیع کی جارہی ہے۔ عوام کی وہ رہائش گاہیں جو ان کی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہی ہیں ان میں بھی توسیع کی جارہی ہے، شاپنگ پلازے بنائے جارہے ہیں، تفریگاہیں بنائی جارہی ہیں اور سڑکیں، گلیاں، شاہ راہیں، موٹرویز جیسی ڈؤلپمنٹ دیکھنے میں آرہی ہے۔ یہ اور بہت سارے ملیں اور کارخانے یا تو بنائے جارہے ہیں یا ہر سال ان میں کچھ نہ کچھ توسیع ہوتی رہتی ہے۔ ان سب کی ضرورت بھی آخر کار بجلی ہی ہوتی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں بجلی کی لاکھوں دکانیں اور اسٹورز ہیں جن میں روز کی بنیاد پر شمار سے باہر بجلی سے چلنے اور جلنے والی اشیا فروخت ہوتی ہیں، لاکھوں موٹریں، پنکھے، بلب، ہیٹر، ایئر کنڈیشن، واٹر کولرز اور ڈیکوریشن کا سامان فروخت ہوتا ہے۔ ان ساری موٹی موٹی باتوں کو سامنے رکھا جائے تو ہر فرد اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ بجلی کی طلب میں ہر روز سیکڑوں میگاواٹ اضافہ ہو جاتا ہے جس کوئی ادارہ یا وہ محکمہ جس کی ذمہ داریوں میں یہ سب شامل ہے، وہ اس اہم نقطے کو شمار میں لانے کیلئے تیار و آمادہ نظر ہی نہیں آتا۔

ہر سال اس بات کا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم نے سسٹم میں اتنے سو یا اتنے ہزار میگا واٹ کا اضافہ کردیا ہے لیکن کوئی یہ بتانے کیلئے تیار نہیں ہوتا کہ ہر سال بجلی کی طلب میں مزید کتنا اضافہ ہو چکا ہے۔ یا تو بازار میں بجلی کی ساری پیداواری اشیا کی خریدوفروخت بند کردی گئی ہوں تاکہ ہونے والے اضافے کو اضافہ گنا جائے یا پھر ضروری ہے کہ ہر سال جو بھی اضافہ ہو وہ ہر سال بڑھ جانے والی ضرورت کو شامل کر کے کیا جائے تب کہیں جاکر طلب و رسد میں توازن پیدا ہو سکے گا۔

کراچی جس کی آبادی دنیا کے بیشمارممالک کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے وہاں چار برس قبل کی صورت حال یہ تھی کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چار برس قبل جب یہاں وزٹ پر آئے تو واپسی پر یہ فرماتے ہوئے گئے کہ “کراچی میں بجلی جاتی نہیں اور پنجاب میں بجلی آتی نہیں”۔ گویا چار سال قبل کراچی میں لوڈشیڈنگ کا کوئی تصور پایا نہیں جاتا تھا لیکن اس کے فوراً بعد کراچی ایسا لوڈ شیڈنگ کی لپیٹ میں آیا کہ شہری بلبلا اٹھے۔ وہ شہر جس کے باسیوں نے اس عذاب کا تصور بھی نہیں کیا تھا گرفتار “کے الیکٹرک” ہوکر رہ گئے۔ ان کی اس بلبلاہٹ کا عدالت کی جانب سے “ازخود” نوٹس لیا لیکن لگتا ہے کہ اس نوٹس پر بھی کے الیکٹرک ٹس سے مس ہونے کیلئے تیار نہیں۔

عدالت جب کسی مسئلے کو اٹھاتی ہے تو پھر اسے کسی نہ کسی حتمی انجام تک پہنچا کر رہتی ہے چنانچہ عدالت نے شہرقائد میں جاری لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹوآفیسرطیب ترین اورحیسکوکے چیف کو بھی عدالت میں طلب کر لیا۔ دوران سماعت کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ پر عدالت نے کے الیکٹرک پرشدیدبرہمی کا اظہار کیا، کے الیکٹرک کے سی ای اوطیب ترین سے استفسارکیاآپ کولوڈشیڈنگ کی اجازت کس نے دی؟ کوئی مسئلہ ہے توکیاشہریوں کوجہنم میں ڈال دیں جس پرسی ای اوکے الیکٹرک طیب ترین نے عدالت کوبتایاکہ بجلی کے 18یونٹس ہیں جن میں سے 2میں فالٹ آیاہے۔ جسے دورکرنے کی کوشش کررہے ہیں اوراس کے لیے ہم نے بیرون ملک سے پرزے منگوائے ہیں،جو 2 ہفتے میں آجائیں گے ۔جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک کے پاورپلانٹ میں فالٹ آگیاتوکوئی بیک اپ بھی ہوناچاہیے روز میڈیا پر دیکھتا ہوں شہری بلبلارہے ہیں۔کیاشہریوں کوآپ کے رحم وکرم پرچھوڑدیں۔ کراچی کے لوگ تباہ ہوگئے ،کیاان کوبجلی دیناآپ کاکام نہیں۔ایسے پرزے نہ منگوائیں جن کی ضرورت نہیں پی آئی اے نے بھی ایسے جہازوں کے پرزے منگوالیے جوان کے پاس ہی نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے استفسارکیا۔بتایاجائے کتنے گھنٹے لوڈشیڈنگ کرتے ہیں۔لوڈشیڈنگ کاشیڈول کیاہے ۔جس پرطیب ترین نے عدالت کوبتایاکہ کچھ علاقوں میں لوڈشیڈنگ کاشیڈول ہے ۔ہم 2650میگاواٹ بجلی پیداکررہے ہیں جبکہ شہرمیں3200میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے اوراوسطً طلب 2900میگاواٹ ہے ۔جس پرچیف جسٹس نے استفسارکیاغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی اجازت کونسی اتھارٹی سے لیتے ہیں۔ کیا لوڈشیڈنگ بھی اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔یہ تومجرمانہ غفلت ہے ۔کیوں ناآپ کے خلاف کارروائی کی جائے ۔رمضان آرہاہے کراچی کے شہری رمضان میں کیاکریں گے ؟ یہ توشدیدگرمی میں مارے جائیں گے ۔جس پرطیب ترین نے عدالت کوبتایاکہ مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اورمسئلہ پرقابوپالیں گے ۔اس موقع پرچیف جسٹس نے کے الیکٹرک کوکراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری ختم کرنے اور20مئی تک لوڈشیڈنگ کاشیڈول عدالت میں پیش کرنے کاحکم دے دیا۔

گزشتہ دنوں جب عدالت میں کے الیکٹرک کے افسران پیش ہوئے تو انھوں نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے جواز میں یہ کہا تھاکہ انھیں سوئی سدرن والے گیس فراہم نہیں کرتے جس پر سوئی سدرن والوں کو عدالت نے پابند کیا تھا کہ وہ کے الیکٹرک کو گیس فراہم کریں۔ ان کے اس فیصلے پر بڑا شور مچاتھا کیونکہ ایک تو یہ فیصلہ یک طرفہ سا تھا کیونکہ سوئی سدرن کو شکایت تھی کہ کے الیکٹرک ان کے بل ادا نہیں کر رہی اور دوسری جانب “سی این جی” اسٹیشنوں اور گھریلو صارفین کی لوڈ شیڈنگ بڑھ جانے کے سبب عام آدمی ایک نئے عذاب کا شکار ہو کر رہ گیا تھا۔ وسیع تر مفاد کی وجہ سے لوگ یوں خاموش ہو رہے کہ کم از کم بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب تو کم ہو، یہ عذاب ایک دو دن تو کم ہوا لیکن فوراً بعد ہی اور شدت کے ساتھ لوٹ کر ان پر دوبارہ مسلط ہو گیا۔ اگر اس کا سبب گیس کی عدم فراہمی ہوتا تو دوران سماعت کے الیکٹرک کے حکام عدالت کے نوٹس میں یہ بات دوبارہ بھی لا سکتے تھے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ حقیقتاً پہلے بھی گیس کی عدم فراہمی مانع نہیں تھی اور اب بھی ایسا کوئی معاملہ نہیں بلکہ لوڈ شیڈنگ کا سبب یا تو پیداواری یونٹوں میں خرابی ہے یا اس میں بھی کسی قسم کی کوئی سیاسی مداخلت ہے جس کی سزا عوام کو ہی بھگتنا پڑتی ہے۔

مجھے پرویز مشرف کا وہ دور بھی یاد ہے جب پورے ملک میں بجلی کی ترسیل بلا روک ٹوک جاری رہتی تھی اور ملک کے کسی کونے سے لوڈ شیڈنگ کی کوئی شکایت سنائی نہیں دیتی تھی بلکہ یہ کہا جارہا تھا کہ ہم اتنی بجلی پیدا کرتے ہیں کہ پڑوسی ممالک کو فروخت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ٹھیک اس کے فوراً بعد پورے ملک سے لوڈ شیڈنگ کی شکایات آنا شروع ہو گئیں جو پہلے تو کہیں کہیں سے آیا کرتی تھیں لیکن آہستہ آہستہ یہ ملک کے طول عرض میں کینسر کی طرح پھیل گئیں اور اب یہ عالم ہے کہ ملک کے ہر شہر اور ہر گاؤں میں ایک چیخ و پکار مچی ہوئی ہے اور وہ شور بپا ہے کہ کانوں پڑی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔

بات بس اتنی سی ہے جب تک کوئی ذمہ دار خود تکلیف سے نہ گزرے یہ ممکن ہی نہیں کہ اسے دوسرے کی تکلیف کا احساس ہو سکے لہٰذا ضروری ہے کہ لوڈ سیڈنگ کے عذاب سے ان ساروں کو گزارا جائے جن کی وجہ سے انھیں اس بات کا احساس ہو سکے کہ اگر بجلی بند ہوجائے تو اس گرمی کی شدت میں جینا اور سانس لینا کتنا دشوار ہو جاتا ہے شاید اسی چیز کا اور تکلیف کا احساس دلانے کیلئے چیف جسٹس نے کہا کہ “اگرلوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو12گھنٹے کے لیے آپ کے گھرکی بجلی بند کردیں گے اورجرنیٹر چلانے کی اجازت بھی نہیں دیں گے”۔ عدالت نے مزید سختی کے ساتھ ہدایت کی کہ “بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کریں اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے جامع پلان بناکرعدالت میں پیش کریں”۔

یہ وہ سارے کام ہیں جو اقتدار پر بیٹھے لوگوں کے ہیں لیکن اقتدار پر متمکن لوگ یا تو بے حس ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے انھیں ووٹ کی “عزت” کا از خود کوئی خیال نہیں رہا ہے یا وہ اتنے بے بس ہیں کہ کسی پر بس چل کر نہیں دے رہا۔ بات جو بھی ہو اب عوام کی نظریں عدالت اور اس کے حکم اور فیصلوں پر گڑی ہیں۔ اگر ان کو یہاں سے بھی مایوسی دیکھنا پڑی تو پھر دربدری ہی ان کا مقدر بنے گی اس لئے چیف جسٹس سے ہم درخواست کریں کے کہ وہ احکامات پر عمل در آمد کو یقینی بنائیں اور عوام کی مشکلات دور کریں۔ امید کی جاتی ہے کہ عدالت عالیہ کے احکامات پر ضرور عمل درآمد ہوگا اورعوام کی مشکلات کا حل ضرور نکلے گا۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں