ہمارے دینی مدرسے

                .معاملہ زندگی کے کسی بھی پہلو سے تعلق رکھتا ہو، بحث و تمحیص کا شکار ضرور ہوجاتا ہے

لاوڈ اسپیکر کے استعمال سے لے کر کیمرے کی کلک سے آگے نکلتے ہوئے کئی کئی گھنٹوں کی موویاں بنا نے تک

                ہر معاملہ دین و شرع کی بحث کا شکار ہوجاتا ہے، علامہ اقبال نے شاید ایسے ہی کسی موقعہ کے لئے فرمایا تھا کہ

مشرق میں اصول دین بن جاتے ہیں

مغرب میں مگر مشین بن جاتے ہیں

پڑتا نہیں یاں ایک بھی اپنے پلے

واں ایک کے تین تین بن جاتے ہیں

                مسٹر بھی کم نہیں، وہ بھی مولویوں پر تنقید کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے

                ایسا ویسا کوئی معاملہ ان کے ہاتھ لگ جائے تو پکڑ تے ہیں اس کی ”منڈی“ اور رگڑے پر رگڑا، رگڑے پر رگڑا، لگائے چلے جاتے ہیں۔

                آج کل ان (بندروں) کے ہاتھ (مدرسوںکی) ادرک لگ گئی ہے جس کو وہ صبح و مسا رگڑ رہے ہیں۔

                وفاق المدارس کے مطابق مدرسوں کی تعداد 18 ہزار ہے اور ان میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے، جبکہ میرے خیال میں مدرسوں کی اورطلبہ کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔۔۔ مگر خیر ۔۔۔ اسی کو درست مان لیتے ہیں

                گویا یہ بات تو طے ہوئی کہ ہر سال لاکھوں بچے فارغ التحصیل بھی ہوتے ہیں اور لاکھوں اس میں داخل بھی ہوتے ہیں

                یہ بات بھی ماننے کی ہے کہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے 90 فیصد سے زیادہ بچے وہ ہوتے ہیں جن کا کوئی والی وارث اورسہارا نہیں ہوتا۔

                بیشتر مدرسے ایسے مقام پر ہیں جہاں کسی بھی قسم کے علم کی روشنی کی معمولی سی کرن تک نہیں پہنچی

                ملک کے ان بے سہارا بچوں کی کفالت، ان کی مناسب تربیت، رہائش کا بند و بست، پاکیزہ تعلیمی ماحول کی فراہمی کس کا فرض ہے؟۔

                رہنے سہنے، کھانے پینے، کپڑے لتے اور دیگر لازمی ضرویات زندگی کس کو فراہم کرنا چاہیئے تھیں؟۔

                اگر انھیں علم (وہ بھی پاکیزہ دینی ) کی روشنی پہنچ رہی ہے، اگر وہ یتیم خانوں کی بجائے درسگاہوں میں مقیم ہیں، اگر ان کو مناسب کھانا، لباس کی فراہمی اور اعلیٰ اخلاقی تربیت مل رہی ہے اور وہ بھی بلا اجرت تو اس پر ” اربابِ اختیار ، حکمرانوں اور مسٹروں“ کو ان مدرسوں والوں کی ہمت اور جرات کی داد دینی چاہیئے کہ وہ نہایت کم “وظیفہ” لے کر رات دن ان بچوں کی پرورش کر رہے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ ان کی دینی اور اخلاقی تربیت بھی کر رہے ہیں ۔ یہ وہ کام کر رہے ہیں جو فرض ہے حکمرانوں کا۔

                ذرا سوچئے! اگر ہمارے ملک کے طول و عرض میں یہ مدرسے نہیں ہوتے تو ہر سال یہ لاکھوں جاہل، بے سہارا، دھول مٹی سے اٹے، گالم گلوچ کرنے والے وحشی انسان اس زمین میں فتنہ و فساد کے علاوہ کیا اور بھی کچھ کر رہے ہوتے؟۔

                ہر حکمران کو ان تمام مدرسوں، اداروں، ان کی انتظامیہ اور ان تمام لوگوں اور فلاح و بہبود کے اداروں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ جو کام ان کے کرنے تھے وہ کام مدرسے کر رہے ہیں اور وہ بھی مفت اور وہ بھی نہایت کم وظیفے کے عوض۔

                الزام لگایا جاسکتا ہے کہ یہ سارے مدارس مسالکوں میں نفرتیں ابھار نے کا سبب بن رہے ہیں۔

                اگر اس الزام کو مان بھی لیا جائے تو پھر الزام لگانے والوں کو اس بات کا جائزہ بھی لینا پڑے گا کہ وہ تعلیمی ادارے جو مسالک کی تعلیم نہیں دیتے کیا وہ محبت کو فروغ دے رہے ہیں؟، اور تربیت یافتہ انسانوں کو تیار کر رہے ہیں؟۔

                نیز ملک کے طول و عرض میں جو سیاسی جماعتیں ہیں کیا دلوں کو جوڑنے کا کام کر رہی ہیں؟۔

                کیا ہمارے ادارے، خواہ وہ عسکری ہوں یا ہماری عدالتیں، ان کے اقدامات اور فیصلے لوگوں کے ذہنوں اور دل و دماغ پر خوشگوار اثر ڈال رہے ہیں؟۔

                مدرسوں پر آج کل جو سب سے زیادہ الزام لگایا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ مدرسے انتہا پسندی یا مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتہا پسندی یا شدت پسندی کا کوئی حدود اربع بھی ہے یا نہیں؟ اگر شدت پسندی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ ہے تو کم از کم پاکستان میں رہنے والے ہر مسلمان کا فرض بھی بنتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہر مسلمان کا یہ حق بھی بنتا ہے کہ وہ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ بھی کرے اور اس کے نفاذ کے لئے ہر ممکن قدم بھی اٹھائے۔ یہی نہیں، ہر مسلمان کا فرض یہ بھی ہے (خصوصاً پاکستان میں) کہ اگر اس کے لئے کچھ سخت ترین اقدامات بھی کرنے پڑیں تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے اس لئے کہ اس ملک کو حاصل ہی اسلام اور نظام مصطفی کے لئے کیا گیا تھا۔ اب اگر کسی جانب سے اسلامی شریعہ کے نفاذ کی بات شدت سے بھی کہی جا رہی ہے تو غلط کہاں سے ہو گئی؟

                کہا جاسکتا ہے کہ اسلام جبر کی تعلیم نہیں دیتا؟ درست، لیکن کیا جو کچھ بھی قانون یہاں نافذ کیا جارہا ہے، جوجوکچھ ہمارا میڈیا دکھا رہا ہے، جس طرح کی تعلیم ہمارے موڈرن اسکولوں میں رائج ہے، لاانفورسمنٹ ایجنسیاں کمزوروں اورناتوانوں کے ساتھ جو کچھ بھی کر رہی ہیں، رشوت کا جو بازار گرم ہے، قانون کے نام پر قانون کی جس جس طرح دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، عدالتوں میں وکیل جس جس طرح مدعیوں کی کھال نوچ رہے ہیں، کیا یہ سب کچھ پیار محبت سے ہو رہا ہے؟

                یہ جو دہشتگرد اور شدت پسندوں کے خلاف رات دن آہن و فولاد کی بارش ہو رہی ہے کیا یہ تحمل اور برد بارانہ کارروائیاں ہیں؟ کیا ان کو گل پاشی تصور کر لیا جائے؟

                یہ اور ایسی ہی ہزاروں باتیں ہیں جو اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہیں کہ اصل معاملہ مدرسوں اور مسالک کا نہیں، ان سے اظہار نفرت کا ہے اور نفرت سے نفرت اور عداوت تو جنم لے سکتی ہے محبت کبھی پر وان نہیں چڑھ سکتی۔

                پھر یہ بھی کہ مدرسے، تعلیمی ادارے، ملک کے حساس ادارے ، یہ سب جس معاشرے کے افراد سے مل کر بنے ہیں۔ اس معاشرے کا آوے کا آوا ہی کرپٹ اور ہر قسم کی برائی کا شکار ہے اور جب معاشرہ ہی بیمار ہو تو اس کی کوکھ سے جنم لینے والا ہر ادارہ ہی کینسر زدہ ہو گا لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اصلاح معاشرہ کی جانب بھر پورتوجہ دی جائے اور جب معاشرہ پاکیزہ ہوجائے گا تو اس قسم کی ساری تکرار از خود ختم ہو جائے گی۔

                البتہ، یہ بات ماننے کی ضرور ہے کہ اصلاح کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے ، مثلاً

                1۔ مد رسے دین کے علم کو محدود نہ کریں۔

                2۔ مدارس بچوں کو ہنر مند بنائیں تاکہ وہ اپنے لئے مناسب اور باعزت روز گار کا بند و بست از خود کر سکیں۔

                3۔ کھیل کود کے اوقات بھی ہوں اور اسباب بھی۔

                4۔ اسلام نے تفریح پر کوئی قدغن عائد نہیں کی ہوئی، جہاں اتنا کچھ کرتے ہیں وہاں ماہانہ، سہ ماہی، سالانہ سیرو تفریح کا اہتمام بھی کیا جاسکتا ہے۔

5۔ آج کل کوئی کتنا ہی قابل ہو، اگرانگلش سے نا بلد ہے تو اس کی علمیت کو کوئی تسلیم کرنے کوتیار نہیں ہوتا، ذرا سوچئے کہ اگر ان سارے فارغ التحصیل بچوں کی انگریزی ”دریا کی موجوں کی طرح سبک اور رواں “ ہوتی تو ان ”مسٹروں“ کی ساری ”ٹر ٹراہٹ“ بند ہوجاتی یا نہیں؟ بہت ممکن ہے کہ لبوں پر تالے بھی پڑ جاتے، لہٰذا اس بات کی جانب بھی توجہ کی بہت ضرورت ہے۔

                امید ہے کہ طرفین اپنی اپنی ذمہ داریوں اور کوتاہیوں، دونوں کے لئے “خود احتسابی” کے عمل کی تجدید و احیا پر توجہ ضرور دیں گے۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں