فاٹا تاحال عالم برزخ میں

پہلے تو ہر پاکستانی کو یہ علم ہونا چاہیے کہ فاٹا کیا ہے۔ یہ وہ شمالی علاقہ جات ہیں جو تاریخ پاکستان کی ابتدا سے ہی “آزاد شمالی قبائلی علاقاجات” کہلاتے رہے ہیں۔ جہاں پاکستان کے چار صوبوں کا باقائدہ نام لیکر ذکر کیاجاتا ہے اور کیا جاتا رہا ہے وہیں “شمالی علاقہ جات کا ذکر لازماً کیا جاتا ہے اور کیا جاتا رہا ہے۔ یہ وہ قبائلی علاقے ہیں جن کے متعلق بانی پاکستان نے بھی ان کو “آزاد قبائلی علاقہ جات” ہی قرار دیا تھا اور ایسا کہتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یہ علاقے اور ان علاقوں میں بسنے والے سارے افراد پاکستان کی سرحدوں کے محافظ ہیں۔ تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ کوئی 50 برس سے زیادہ ان علاقوں میں سرحدوں کی حفاظت کیلئے پاکستانی افواج کو روایتی محفاظت بھی نہیں کرنا پڑی تھی جبکہ پاکستان ان 50 برسوں میں کئی مرتبہ سرحدی کشیدگیوں کا شکار بھی رہ چکا تھا۔ حالات بدلتے دیر تو نہیں لگتی۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد یہ علاقے شمالی سرحدوں کی جانب سے مداخلت کی زد میں اس بری طرح آئے کہ افواج پاکستان کو سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری باقائدہ لینا پڑی۔ یہی وہ علاقے ہیں جن کے رہائشیوں نے افغان وار میں عملاً بیشمار قربانیاں دیں اور قبائلی روایات اور مہمان داری کا بھرم رکھتے ہوئے ان کو بھی گلے لگالیا جو دوستوں کی شکل میں ان کے اور پاکستان کے دشمن تھے۔ یہ ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ بھی خود انھیں علاقوں والوں کو بھگتنا پڑا اور خود پاکستان کو بھی سزا کاٹنا پڑی۔

فاٹا وہ علاقہ ہوا کرتا تھا جس کے ہر قسم کے فیصلے وہاں کی روایت کے مطابق جرگے ہی کیا کرتے تھے اور حکومت پاکستان کی جانب سے قبائلیوں کا کیا گیا ہر فیصلہ”قانونی” ہی سمجھا جاتا تھا لیکن حالات کی بدلتی کروٹ کے پیش نظر یہ ضروری ہوگیا تھا کہ اس علاقے کو پاکستان کے آئین و قانون کے تحت مکمل طریقے سے لے لیا جائے اس لئے ملک کے سب سے بڑے آئین ساز اداروں نے ایک ایسا بل ایوان میں پیش کیا جو اگر منظور ہوجائے تو ایسے سارے علاقے جو “ایجنسیاں” کہلاتے ہیں وہ باقائدہ قومی دھارے میں شامل ہوکر آئین پاکستان کے دائرہ اختیار میں آجائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق ” وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس میں فاٹا کے جلد خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام پر زور دیا گیا، کمیٹی نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی توثیق بھی کی۔اجلاس کے اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے فاٹا کے انضمام کے ساتھ انتظامی اور عدالتی ڈھانچے کے قانونی امور کو بھی مکمل کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے فاٹا کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی آئندہ 10سال کے لیے یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ یہ فنڈز کسی دوسرے علاقے میں استعمال نہ ہوں”۔

اگر غور کیا جائے تو قومی سلامتی کے اجلاس میں فاٹا سے متعلق جو فیصلہ آیا ہے وہ بھی بہت حوصلہ افزا نہیں اس لئے کہ اس اجلاس میں بھی محض فاٹا کے “انضمام” کی توثیق والی بات ہوئی ہے۔ کے پی کے میں شامل کر لئے جانے کی کوئی خبر دور دور تک نہیں اور شاید یہ اتنا آسان مسئلہ بھی نہیں۔ پھر اس پر بھی غور کیا جائے یہ توثیق ٹھیک اس وقت کی جارہی ہے جب حکومت ختم ہونے میں دس دن بھی باقی نہیں۔ عبوری حکومت کا بننا، نئے انتخابات ہونا، اس کے بعد ساری اسمبلیاں وجود میں آنا اور پھر نئے سرے سے اس مسئلے کو اٹھاکر کوئی آئینی اور قانونی شکل دینے میں “ابھی دلی دور است” والی بات ہے۔ جس بات پر 70 برسوں میں بھی غور نہیں کیا گیا ہو اس کو اتنی آسانی سے حل کر لیا جائے گا؟، شاید ایسا ممکن نہیں۔

فاٹا کے لوگ خود کیا چاہتے ہیں؟، یہ بھی ایک بہت اہم اور غور طلب سوال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسمبلی میں بیٹھے فاٹا کے ممبران اور سینٹروں کی واضح اکثریت “انضمام” کے ہی حق میں ہیں لیکن ہر پاکستانی کو یہ بات بھی اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ اسمبلیوں یا سینٹ میں بیٹھے یہ ارکان کیا فاٹا کے عوام کے حقیقی نمائندے ہیں؟۔ جس علاقے کیلئے ابھی یہی فیصلہ نہیں ہوا کہ وہ پہلے کی طرح آزاد رہے گا، صوبہ بنایا جائے گا یا کے پی کے میں ضم ہو جائے گا اس کے نمائندوں کو “حقیقی” مان لینے والی بات بہر حال مشکوک ہی ہے اس لئے اس کام میں جتنی احتیاط کی جائے بہتر ہے کیونکہ بعد میں اس کے خلاف کوئی آواز بلند ہونا اس علاقے کہ عوام اور پاکستان کیلئے بڑا مسئلہ اختیار کر سکتی ہے۔

فاٹا صوبہ بنایا جائے، اسے پہلے کی طرح آزاد رکھا جائے یا اسے صوبہ کے پی کے میں ضم کر دیا جائے، اس کے متعلق مختلف رہنماؤں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ آزادی کے حق میں ہیں، کچھ کی آرا صوبہ بنادینے کے حق میں ہیں اور کچھ کا کے پی کے کے ساتھ انضمام کے حق میں ہے۔

فاٹا کے عوام کا مطالبہ ہے کہ فاٹا کو خبیرپختونخواہ میں شامل کیا جائے۔ یہ بات فاٹا کے منتخب نمائندے کہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہم سے سو بار پوچھا گیا ہم نے سو بار بتایا کہ ہم خیبرپختوخواہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ فاٹا کے منتخب ممبروں نے پارلیمنٹ کے سامنے اپنے مطالبات کیلئے احتجاج کیا دھرنا بھی دیا تھا۔ ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں، جس میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی، (ق) مسلم لیگ،اسفند یار ولی خان کی پارٹی، شیر پاؤ کی پارٹی اور خود (ن)لیگ نے بھی فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں شامل کرنے کا کہا ہے۔بلکہ نواز شریف نے فاٹا اصلاحات کیلئے اپنے مشیر سرتاج عزیز کی سربرائی میں کمیٹی بنائی تھی۔ جس نے ڈیڑھ سال محنت کر کے فاٹا اصلاحات تیار کیں۔ اس کمیٹی نے فاٹا کے عوام،جرگہ،وکلاء، طلبہ، تاجروں، سیاستدانوں یعنی فاٹا کے تمام حلقوں سےمشورے کیے، تمام حلقوں نے ایف سی آر کا خاتمہ اور فاٹا کی خیبر پختونخواہ میں شمولیت کی رائے سے اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر، عبدالقادر بلوچ نے اعلان کیا تھاکہ 18 دسمبر کو فاٹا اصلاحات بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا۔ پھرپارلیمنٹ کے گزشتہ جاری رہنے والی لسٹ میں فاٹااصلاحات کا بل شامل بھی کیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے ممبران میں یہ کاز لسٹ تقسیم بھی کی گئی۔ جس میں بحث کے بعد اسے قانون کے مطابق پاس ہونا تھا۔

جیسا کہ میں نے کہا کہ جس طرح فاٹا کے نمائندوں کا انتخاب کسی بھی لحاظ سے سند نہیں اس لئے کہ جو علاقہ پاکستان کے آئین و قانون کے تابع نہیں اس کے نمائندوں کا انتخاباب کسی بھی لحاظ سے شک و شبے سے بالا تر نہیں ہو سکتا اور جن کا انتخاب مشکوک ہو ان کی رائے میں وزن کیونکر ہوسکتا ہے۔

ایک جانب جماعت اسلامی کے امیر اور سینیٹر سراج الحق فاتا کے کے پی کے میں انضمام کے حق میں ہیں بلکہ انھوں نے اس سلسلے لانگ مارچ بھی کیا جو 10 دسمبر کو چل کر 12 دسمبر اسلام آباد پہنچا، تو ایک جلسے کی صورت اختیار کر گیا۔ پارلیمنٹ کے سامنے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے اس جلسے میں خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے حکومت کو 31 دسمبر تک وقت دیا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ سے بل پاس کروا کر فاٹا کو خبیر پختونخواہ میں شامل کرے۔ ورنہ پورے پاکستان سے لوگوں کو اسلام آباد جمع کیا جائیگا اور حکومت اس احتجاج کے سامنے ٹھہر نہیں سکے گی۔

ایک جانب سیاستدانوں کا ایک گروپ اس بات کے حق میں ہے کہ انضمام ہو لیکن دوسری جانب فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کہتے ہیں کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔

فاٹا کو ضم کیا جائے یا الگ صوبہ بنایا جائے، اس بحث کے بیچ ایک اور رائے بھی بڑے زورشور اور مؤثر طریقے سامنے آرہی ہے اور وہ بھی فضل الرحمن ہی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کیوں نہ یہ بات فاٹا کے عوام ہی سے پوچھ لی جائے۔ ریفرنڈم اس کا بہترین حل ہے۔ لوگوں کی اکثریت جو فیصلہ چاہتی ہو اس پر کیوں نہ عمل کر لیا جائے۔

استصواب رائے یا ووٹ کا جو طریقہ کار ہے اول تو وہ ہی اتنا ناقص ہے کہ منتخب ہونے والےارکان اسمبلی کوہی مشکوک کر دیتا ہے۔ ویسے بھی جو ایوان منتخب ہو جاتا ہے وہ بھی ہمیشہ جوتے کی نوک پر ہی رہتا ہے اس لئے فاٹا میں استصواب رائے کی تجویز کتنی ہی وزنی اور عمدہ کیوں نہ ہو کیا وہاں کے عوام کی رائے کسی دباؤ اور خوف کے بغیر ہوگی؟ کیا رائے قابل قبول بھی ہوگی یا پھر پاکستان بھر سے لی جانے والی رائے کی طرح ٹھوکروں کی نذر ہوجائے گی؟۔ یہ ہے وہ سوال جو فاٹا کے عوام کی طرح ہر پاکستانی کو مقتدر اداروں سے ضرور پوچھنا چاہیے۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں