ہم موسیؑ کی قوم ہیں

جا، “تو اور تیرا خدا لڑلے” یہ تھا اس قوم کا جواب جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایات کی حد کر دی تھی۔

کیا قومِ موسیؑ اور ہمارا حال اس سے مختلف ہے؟۔

خاص طور سے 1857 کی جنگ یا انگریزوں کے خلاف ہندو مسلم بغاوت کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کو جو حال ہوا یا بنا دیا گیا، کوئی تصور کرسکتا تھا کہ مسلمان اب بر صغیر انڈوپاک میں دوبارہ اس قابل ہو سکیں کہ وہ معاشرے میں سر اٹھا کر چل سکیں؟۔ دنیا جانتی ہے اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف اس بغاوت میں ہندو اور مسلمان برابر کے شریک تھے لیکن ناکام بغاوت کے بعد اس کا سارا کا سارا قصوروار مسلمانوں کو ٹھہرا گیا اور آٹھ دھائیوں تک نہ صرف انگریزوں نے بلکہ ہندوؤں نے مسلمانوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک رکھا اور ہر سطح پر پورے بر صغیر میں مسلمانوں کے ساتھ ایسا امتیازی رویہ اپنایا جو کسی تہذیب میں غلاموں کے ساتھ بھی روا نہیں رکھا جاتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان پستی کی اس انتہا کو جا پہنچے جہاں سے ابھرنے کا ہر تصور مفقود ہو کر رہ گیا تھا۔

انگریزوں کے خلاف بغاوت میں سارا کردار “مذہب” کا تھا۔ کسی جانب سے “ثور” کی مانند پھونکی گئی یہ بات کہ جس بندوق کی گولی کو بندوق میں استعمال کرنے سے قبل اس کا کیپ تمہیں کھولنے کیلئے اپنے دانت استعمال کرنے پڑتے ہیں وہ کیپ ممنوعہ، حرام اور نجس جانوروں کی چربی سے بنایا گیا ہے۔ ہندوؤں کو سمجھایا گیا کہ وہ چربی “گاؤماتا” کی ہے اور مسلمانوں کو قائل کیا گیا کہ وہ چربی سور کی ہے۔ ممکن ہے بات سچ ہی ہو لیکن یہ “ثور” ایسا کام کر گیا کہ انگریزوں کیلئے پیغام اجل بن گیا اور قریب تھا کہ انگریز میدان (ہندوستان) چھوڑ کر فرارہو جانے  پر مجبور ہی ہوجاتے کہ ان کی شیطانی کھوپڑی نے جانے کیا گل کھلایا کہ وہ ہندو جو گاؤ ماتا پر مر مٹنے کیلئے تیاروآمادہ تھے انھوں نے اپنی گاؤماتا پر لعنت بھیج کر بغاوت سے پہلو تہی کرتے ہوئے انگریز سرکار کے چرنوں میں پہلے گھٹنے ٹیکے اور پھر قدموں سر بھی رکھ دیا۔ ہندو تو تمام تر واہی تباہی مچاکر “پوتر” ہوگئے لیکن مسلمان گرفتار بلا ہوئے۔

ہر طاقت کا یہ مشغلہ ہوتا ہے کہ وہ دو دشمنوں میں سے کسی نہ کسی ایک دشمن کو اپنا دوست بنا لیتی ہے اور ایسا عام طور سے کسی چھوٹی قوم کے مقابلے میں کسی بڑی قوت والے دشمن کو اپنے  قریب کرتی ہے لہٰذا ہندو جو اس وقت بھی مسلمانوں کے مقابلے میں بہت واضح اکثریت میں تھے، انگریزوں نے ان سے صلح کی اور مسلمانوں کو خوب کس کر رکھ دیا گیا۔

مسلمان میں کوئی خوبی ہو یا نہ ہو، یہ وصف ضرور ہے کہ وہ دین اور مذہب کے معاملے پر کسی طرح کا کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتا۔ یہ بات دنیا کی ہر قوم بہت اچھی طرح جانتی ہے لہٰذا اس بات کو انگریز کیوں نہ جانتے ہونگے اس لئے غیر منقسم ہندوستان میں اپنے پاؤں کو مضبوطی کے ساتھ جمانے کیلئے مسلمانوں سے کہیں بہتر ہندو ہی ثابت ہو سکتے تھے۔

بر صغیر انڈوپاک کے مسلمان جن کے لئے ہندوستان میں خیمہ زندگی کی قناطوں کو بھی سانسوں کی کھونٹیوں کے ساتھ مضبوطی سےباندھ کر رکھنا  دشوار تر ہو چکا تھا وہاں 1906 میں بنگال میں ایک تنظیم کی داغ بیل ڈالی گئی جس کو بر صغیر کا ہر مسلمان خوب جانتا اور پہچانتا ہے۔ مسلم لیگ کا قیام گویا اس بات کا مظہر تھا کہ اب مسلمانوں کو اللہ کی جانب سے یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ تم ہمت کرو، اٹھو اور اس تحریک کے دست و بازو بن جاؤ اور اس سر زمین پر جس میں تم غلاموں کی زندگی سے بھی بدتر زندگی گزار رہے ہو، عزت و وقار کےساتھ  سر اٹھاکر چل سکو۔

اسی دوران مسلمانوں میں مسلمانیت بیدار کرنے کیلئے کئی اور تحاریک بھی چلیں جس کی وجہ سے وہ مسلمان جو کئی دھائیوں سے ہندوستان میں ظلم و جبر اور امتیازی سلوک کی وجہ سے مایوسی کی آخری حدود تک کو پار کر چکے تھے ان کو یہ احساس ہونے لگا کہ اگر جبر و ستم کے سامنے ذرہ برابر بھی مزاحمت کر لی جائے تو کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کرلینا کوئی عجب بات نہیں ہوگی۔

مجدد الف ثانی، عطااللہ شاہ بخاری اور مولانا محمد علی جوہر جیسے لوگوں نے مسلمانوں کو مایوسی کی پستیوں سے نکالنے میں بہت اہم کارنامہ انجام دیا اور مایوس مسلمانوں میں احساس یاسیت و ناامیدی کو آس و امید میں بدل کر رکھ دیا۔ مسلم لیگ بن جانے کے باوجود اس وقت تک مسلمانوں میں کسی ایسے تصور نے جنم نہیں لیا تھا جس میں علیحدگی کا کوئی شائبہ بھی شامل ہو۔ اب تک مسلمانوں کی یہی خواہش تھی کہ کسی طرح ہم ہندوؤں کو اپنے ساتھ ملا کر انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کریں، اسی لئے مسلم لیگ بن جانے کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت اسی بات کی خواہش رکتی تھی کا کانگریس جو ہندوؤں کی پارٹی ہے اور مسلم لیگ جو مسلمانوں کی جماعت ہے، ان دونوں کے اشتراک سے کوئی ایسی جد و جہد کی جائے کہ انگریز ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔

ہندو اس معاملے میں کتنے مخلص تھے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن مسلمانوں نے تحریک خلافت اس زور و شور سے چلائی کہ اس وقت کی دو بڑی جماعتیں، مسلم لیگ اور کانگریس بالکل ہی پس پشت چلی گئیں اور قریب تھا انگریز ہندوستان سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اپنے آبائی وطن میں پلٹ جانے پر مجبور ہوجاتے، ترکی نے تحریک خلافت پر وہ شب خون مارا کہ مسلمان اپنے مقصد سے اور کئی دھائی پیچھے ہو کر رہ گئے۔

1940 تک پہنچتے پہچتے اور مسلسل امتیازی سلوک سہتے سہتے مسلمانوں میں یہ احساس پختہ تر ہوتا چلا گیا کہ ہندوؤں کے سااتھ چل کر اور ان کے ساتھ رہ کر کبھی کوئی سکون کا سانس میسر نہیں ہو سکتا۔ جینا ہے تو ہندوؤں سے نجات حاصل  کرنی ہے اور یہ نجات اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اپنے لئے الگ خطہ زمین حاصل نہ کر لیا جائے جنانچہ 1940 کے بعد مسلمانان ہند نے ایک الگ خطہ زمین حاصل کرلینا اپنا مقصد حیات بنا لیا۔

برصغیر کا مسلمان روز اول سے تا حال اسلام کے جذبے سے سر شار رہا ہے۔ اس کا ذاتی کردار کچھ بھی ہو، جہاں کسی نے اس کے سوئے ہوئے “مسلمان” کو چھیڑا اس نے شعلہ جوالہ بننے میں کبھی کسی سستی اور کاہلی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کی اس خوبی میں چھپی ایک خرابی کو ہر تحریک چلانے والے نے خوب اچھی طرح سمجھا لیکن اپنے اندر چھپی اس خرابی کو یہ مسلمان آج تک نہیں سمجھ سکا کہ اس کو متحرک رکھنے والے یا اس کو ایک تحریک بنانے والے کیا اس کے ساتھ مخلص ہیں؟۔ کیا اس کو یہ نظر نہیں آرہا تھا کہ پاکستان بنانے والی جماعت میں اس صلاحیت کے لوگ ہیں جو انھیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی منزل کے راستے پر گامزن رکھ سکیں گے۔ اس بات پر نہ تو اُس وقت کے مسلمانوں نے غور کیا، نہ اس سے قبل اور نہ ہی آج کا مسلمان اس بات پر ذرہ برابر بھی غور کرنے کیلئے تیاروآمادہ ہے۔

پاکستان بن گیا، بنانے والوں کے مقاصد پورے ہوگئے، مسلمانوں نے بھی راستے کو ہی منزل سمجھ لیا۔ منزل ملجائے تو پھر سارا جنون ختم ہوجاتا ہے لہٰذا جنون فنا ہو گیا۔ ہم ہندوؤں سے جس شکایت کی بنا پر الگ ہوئے تھے، جوامتیازی سلوک مسلمانوں کے جنون کا سبب بناتھا، وہ امتیازی سلوک جس کی بنیاد دو مذاہب پر تھی جس کو “دوقومی نظریہ” کہا جاتا ہے وہ ایک اللہ، ایک رسول اور ایک کتاب والوں میں بھی ایک دوسرے کیلئے اس حد تک زہر بن گیا اپنے ہی بدن کے آدھے سے زیادہ حصے کو اپنے ہی ہاتھوں کاٹ کر پھینک دینا پڑا۔ تاریخ کے اتنے بڑے المیے کے بعد بھی “امیازی سلوک” کا یہ سلسلہ ملک میں کینسر کی طرح پھیلتا جارہا ہے اور دور و نزدیک اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا کہ کینسر کی یہ طفیلی بیل جسم و جان کا ساتھ چھوڑ دیگی۔

1857 کے بعد جو قوم سر اٹھا کر چل نہیں سکتی تھی اسے اللہ نے اپنے بندوں کے ذریعے بیدار کیا، مجدد الف ثانی، عطا اللہ شاہ بخاری اور محمد علی جوہر جیسے مجاہد لوگ ان کے درمیان آئے۔ قوم جاگی لیکن پھر سو گئی۔ مسلم لیگ بنی، ایک بیداری پیدا ہویئ یہاں تک کے پاکستان تک بنا ڈالا لیکن پاکستان بنتے ہی قوم  پھر خواب غفلت میں چلی گئی۔ ایوب کی آمریت کے وقت پھر ثور پھونکا گیا لیکن ملک کی دو لختگی کے ساتھ ہی پھر سو گئی۔ افغان جہاد کے نتیجے میں “کتاب” کو قرآن سمجھ کر بیدار ہوئی لیکن الیکشن کے بعد پھر سو گئی۔ یہ سوتی جاگتی اور جاگتی سوتی قوم عجیب ہی ہے۔ اگر روس افغانستان میں ہو تو “جہاد” مگر امریکہ کے مکمل قبضے کے بعد “قتال” کا نعرہ لگاتی ہے۔ برمی مسلمانوں پرہونے والے ظلم پرسمندر کے طوفان کی طرح اٹھتی ہے لیکن چین کی مرضی کو دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ بہت سارے مسلم ممالک کی سعودی مخالفت پر واویلا کرتی ہے لیکن یمن کے مسلمانوں پر سعودی گولہ باری کیلئے عذر تراش لیتی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ کبھی آسمان تک لیجاتی ہے اور حالیہ اسرائیلی گولہ باری کے نتیجے میں مرنے والوں پر دو آنسو تک بہانے کیلئے تیار نہیں ہوتی۔ انسانوں اور انسانوں کے درمیان جس امتیازی سلوک پر “دوقومی نظریہ” کا جواز بنا لیتی ہے اسی “واحد” نطریے” کی حامل ہونے کے باوجود شہریوں اور شہریوں کے درمیان امتیازی سلوک کو اس حد تک روا رکھتی ہے جہاں سے ملک ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔

پاکستان بناکر سوجانے اور اللہ سے کئے گئے وعدے کے خلاف مسلسل پیش قدمی اور سونے جاگنے کا یہ سلسلہ ایسا ہی جیسے قوم موسیٰ کا تھا۔ جب تک قوم موسیٰ کے رویے کو تبدیل نہیں کیا جائے گا اور اللہ کا سچا سپاہی نہیں بنا جائے گا اس وقت تک کوئی سکھ اور چین کی نیند ہمیں میسر نہیں آسکتی۔ چھوٹے چھوٹے پارٹی، لسانی، علاقائی اور سیاسی مقاصد کو بھولنا ہوگا اگر پاکستان کو پھلنا اور پھولنا ہوگا۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں