رمضان :مختلف شہروں کی جدا ،انوکھی و دلچسپ روایات

اللہ نے پاکستان کو ایسے خطہ زمین عطا کیا ہے جس میں تمام موسم آتے ہیں گرمی ہے تو بھی بھرپور اور سردی آتی ہے تو وہ بھی جم کر ۔رمضان المبارک اپنی رحمتیں اور برکتیں لٹا رہا ہے،گرم موسم میں رمضان کے پکوان پر بھی اثرات ہوتے ہیں اور یہ پاکستان بھر کے دسترخوان پر بھی مختلف ڈشوں کی صورت میں دکھائی دے بھی رہے ہیں ، کھانے پینے میں بعض لوگ پسند کا خیال رکھتے ہیں تو کچھ زبان کے چسکے کو اہمیت دیتے ہیں ، جبکہ اپنے شہر یا علاقے میں مخصوص چیز کی با آسانی دستیابی بھی لوگوں کی ایک مخصوص تعداد کو اپنی جانب مائل کر لیتی ہے۔
کچھ ایسی ہی کوشش کی گئی ہے کہ آپ کے سامنے ملک میں سحر و افطار میں پائے جانے والے مختلف رنگوں کو آپ کے سامنے پیش کیا جائے کہ کون کیا کھاتا ہے اور کس کو کیا پینا پسند ہے۔ گھر میں کیا کچھ بنایا جا سکتا ہے امید ہے مختلف شہروں میں بسنے والے افراد کے دسترخوان میں کچھ نہ کچھ تو منہ میں پانی لے آنے کا سبب بنے گا۔
کشمیری والدین کے گھر پیدا ہونے والے عدنان حنیف نے یوں تو صرف ایک رمضان کشمیر میں گذار ا اس دوران ایک دلچسپ بات ان کے مشاہدے میں آئی جوکہ اب سے 15برس قبل کی ہے کہ اس وقت موبائل عام نہیں تھا اور وقت دیکھنے کے لئے گھڑیاں بھی ہر گھر میں موجود نہیں تھیں تو لوگ احتیاطاً صبح 2بجے ہی سحری کے لئے بیدا ر ہو جاتے تھے کہ کہیں سحر کا وقت ختم نہ ہوجائے اور علم بھی نہ ہو۔کھانے پینے کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ کشمیر میں موسم ملک کے دیگر حصوں کی بہ نسبت سرد ہے لہذا وہاں کے لوگ مشروبات بہت کم پیتے بلکہ پانی بھی بہت کم ہی پیا جاتا ہے۔عدنان نے کراچی سے موازنہ کرتے ہوئے کشمیر کی افطار کا ذکر کیا کہ وہاں کے لوگ بیکری مصنوعات زیادہ شوق سے کھاتے ہیں جن میں کیک ، پیٹز، پیسٹریز اور بسکٹ وغیر ہ شامل ہیں۔کراچی میں اپنے گھر کا احوال بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افطار میں پھلوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کم از کم افطاری میں 3سے4پھل موجود ہوتے ہیں اور ساتھ ہی فروٹ چاٹ بھی بہت پسند کی جاتی ہے ۔ عموماً جب کبھی کسی دوست کے گھر افطار کے لئے گیا ہوں تو وہاں اگر فروٹ چاٹ ہو تو پھل نہیں ہوتے اور پھل رکھ دیئے گئے ہیں تو چاٹ نہیں ملتی۔
لیہ سے تعلق رکھنے والے عبیداللہ نے اپنے علاقے میں رمضان کی خصوصی بات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ابتداء سے ہمارے علاقے میں سحری میں پڑوسیوں کو لسی تحفتاً بھیجی جاتی ہے ۔ سحری میں دہی اور کبھی کبھی سویاں کھائی جاتی ہیں۔عید قریب آتی ہے تو سڑکوں پر مٹھائی کی دکانیں سج جاتی ہیں کیونکہ عید سے قبل اور عید پر مٹھائی ایک دوسرے پر گھروں میں بھیجنے کی روایت بہت پرانی ہے۔
میرپور خاص میں گذارے رمضان کے ایام کے بارے میں محمد متین احمد نے بتایا کہ سحری میں دہی یا انڈے کے ساتھ پراٹھہ کھانے کا رواج ہے کیونکہ سالن کی وجہ سے پیاس زیادہ لگتی ہے ، ساتھ ہی کھجلہ پھینی بھی سحری میں تناول کیا جاتا ہے ۔ افطار میں خاص طور پر مقامی کھجور استعمال ی جاتی ہے اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میرپور خاص کا آم دنیا بھر میں مشہور ہے تو ہم ا سے کیونکر محروم رہیں گے۔دہی بڑے اور سموسے بھی افطار کے دسترخوان پر سجے ہوتے ہیں۔ بازار سے ایک خاص قسم کی کچوری ملتی ہے جس میں دال کے ساتھ ہینگ ڈلی ہوتی ہے اس کا ذائقہ تو شاندار ہوتا ہی ہے ساتھ ہی وہ ہاضمے میں بھی مفید ہے۔گرمی کا دشمن تھادل بھی اس بار دسترخوان کی زینت بنے گا۔’بے دریا ‘پر بکنے والا بیف پلاؤ شہر بھر میں مشہور ہے رمضان میں وہ بھی خوب کھایا جاتا ہے ۔جبکہ گھرمیں مونگ کی دال ک وپیس بنائے جانے والے پکوڑوں کا تو جواب نہیں۔
کراچی سے 2برس قبل اسلام آباد منتقل ہونے والی اسماء طارق کہتی ہیں کہ کراچی میں بھی یہی معمول تھا اور اب بھی یہی ہے کہ ہم سب سحری میں پراٹھے کے ساتھ سالن اور انڈے پھر پھینی کھاتے ہیں آخر میں چائے ہوتی ہے۔کھجور سے روزہ کھولنے کے بعد پکوڑے، گھر کے بنے چائنیز رول، ، سموسے دہی بڑے ۔ افطار میں شربت نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے ۔
یاسر قریشی نے اپنے گھر میں سحری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے یہ دیکھا ہے رمضان کی پہلی تاریخ کو ہمارے گھر پر سحری میں والدہ چکن کڑاہی بناتی ہیں ۔جبکہ افطار میں میٹھے دہی بڑے بناناتائی کی ذمہ داری ہے ،واقعی مل جل کر رہنے کے بہت سے فوائد ہیں جن میں گھر کے کاموں کا بہ احسن و خوبی نمٹ جانا بھی ہے کبھی والدہ کی طبیعت ٹھیک نہ ہو تو تائی اور کبھی وہ بیماری ہوں تو امی سارے کام کرنے کے لئے موجود ہوتی ہیں ۔ہمارے میں افطار میں با زار میں دستیاب شربت کی بجائے گھر میں مشروب بنانے کو ترجیح دی جاتی ہے جیسے اس بار فالسے کا شربت افطار میں موجود ہے اور عام طور پر رمضان میں موسم کے پھل کی مناسبت سے شیک تیار کیا جاتا ہے جن میں مینگو شیک، چیکو شیک،اسٹرابیری شیک شامل ہیں ۔جبکہ افطاری میں روزہ حرم سے آئی کھجور سے کھولتے ہیں چاچا کے ایک دوست برس ہا برس سے کھجور بھیج دیتے ہیں وہی سارا رمضان چلتی ہیں۔
سلطان پور کمیونٹی میں شادی ہونے کر جانے والی تسنیم ناصر بتاتی ہیں کہ سحری میں پراٹھے اور افطار میں چھولے دہی بڑے ، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ چنے کی دال کی چاٹ بھی خصوصی طور پرتیار ہوتی ہے اس میں دال کو ابالا نہیں جاتا صرف پانی میں بھگو دیا جاتا ہے جب وہ پھول جاتی ہے تو اس میں پیاز ٹماٹر اور چاٹ مسالہ ڈال کر پیش کرتے ہیں ۔یہاں آلو کے سموسے اور ویجی ٹیبل رول گھر میں بنائے جاتے ہیں، اگر مصروفیت زیادہ نہ ہو تو رول کے لئے مانڈہ گھر میں تیار کر لیتے ہیں ورنہ رمضان میں تو یہ با آسانی بازار سے مل جاتے ہیں ۔ انہوں نے فروٹ چاٹ کو جوسی بنانے کا اپنا طریقہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ میں اس میں کم پانی میں تیار گاڑھا ٹینگ شامل کر تی ہوں۔پکوڑوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پکوڑوں کی ورائٹی میں آلو ، بینگن، پالک، اجوائن کے پتوں ، پیاز اور مکس سبزی کے پکوڑے پسند کئے جاتے ہیں۔
ڈسٹرکٹ دادو تحصیل میہڑ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ذوالفقار سکندر نے ہم لوگ سحری میں سالن نہیں بناتے بلکہ اگر رات کا سالن بچا ہوا ہو تو وہ کھا لیا جاتا ہے ورنہ زیادہ تر ہم آلو یا بھنڈی فرائی کر کے روٹی یا پراٹھے کے ساتھ کھاتے ہیں ساتھ میں چائے اور دہی ہوتا ہے۔افطار میں فروٹ چاٹ ، پکوڑے ، اور ستو یا تھادل کا اہتمام کیا جاتا ہے اس کا انحصار موسم پر ہوتا ہے ۔ رات میں کھانے کا خاص اہتمام ہوتا کہ کوشش ہوتی ہے کہ بھنے والے سالن بنائے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ غذائیت حاصل ہو۔
خاتون خانہ شاہین سعید نے بہار سے تعلق رکھنے والی اپنی والدہ شاہدہ بیگم کے رمضان کے حوالے سے بتایاکہ عمومی طور پر ہمارے گھر میں سحر و افطار کے اوقات میں معمول کے کھانے ہی کھائے جاتے تھے ، لیکن ایک خاص اہتما م یہ ہوتا تھا کہ سحری میں رات کا بچا ہوا سالن پراٹھوں یا روٹی کے ساتھ کھایا جاتا تھا تو اب شادی کے بعد میرے گھر میں بھی یہی معمول ہے ، دہی سحری کا ایک لازمی جز ہے ۔ افطار میں پکوڑے ، چاٹ، پھل تو ہوتے ہیں لیکن خاص طور پر چنے اور مسور کی دال کے پکوڑے امی تیار کرتی تھیں اور اب میں اور میری تمام شادہ شدہ بہنیں اپنے اپنے گھروں میں یہی تلتی ہیں۔دونوں دالوں کو بھگونے اور پھر پیسنے کے بعد نمک ،زیرہ ، کٹی لال مرچ، پیاز، ہرا دھنیااور ہری مرچ ڈال کر پیسٹ تیار کرتے ہیں ا ور پھر اسے تل لیا جاتا ہے ۔جسے سب گھر والے چٹنی اور کیچپ کے ساتھ نہایت شوق سے کھاتے ہیں۔ جب کبھی افطار پارٹی ہوتو بیسن کے پکوڑے نہ بھی بنیں لیکن دال کے پکوڑوں مہمانوں کو ضرور پیش کرتی ہوں۔
راولپنڈی میں تعلیم کے لئے مقیم محمد احمد ضیاء نے بتایا کہ رمضان میں پکوڑے سموسے ، چاٹ اور شربت معمول کی بات ہیں لیکن یہاں سحری میں ’گٹو‘بہت شوق سے کھایا جاتا ہے یہ جلیبی جیسی ہوتی ہے لیکن پھیکی اس کو سادہ بھی یعنی بغیر دودھ کے بھی کھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے بیشتر شہروں میں سموسوں کے ساتھ کراچی کی طرح چٹنی نہیں بلکہ چھولوں کی چاٹ ملتی ہے جوکہ ہم جیسے طلباء کے لئے سہولت کا باعث ہوتی ہے۔
سیالکوٹ کی حافظہ آمنہ نے سحری کی انفرادیت کے حوالے سے بتایا کہ پراٹھے ، سالن ، انڈے اور دودھ دہی اکثر گھروں میں کھایا جاتاہے، افطار میں دیگر لوازمات کے ساتھ دودھ سوڈا یعنی سافٹ ڈرنک اور دودھ ملا کر پینا ایک لازمی روایت ہے جو کہ نہ صرف پیاس کا احساس ختم کردیا ہے بلکہ توانائی بھی فراہم کرتا ہے ، دودھ سوڈا کاربونیٹڈ سفید سافٹ ڈرنک میں ملا کر بنایا جاتا ہے یوں تو بچے عموماً دودھ سے دور بھاگتے ہیں لیکن یہ مشروب وہ بھی بہت شوق سے پیتے ہیں۔
ثمرین شفیق اپنے سسرال میں رمضان کا احوال بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم سب گھر والے تو سالن روٹی سے سحری کرتے ہیں اور اس کے بعد سب کو چائے چاہیے ہوتی ہے۔ افطار میں لوگ فرائی کالے چنے شوق سے کھاتے ہیں، شربت کی2سے3اقسام ہونا لازم ہے جس کو با آسانی روح افزاء ، ٹینگ اور کسی پھل اور دودھ کے شیک سے پورا کیا جاتا ہے جبکہ دیگر لوازمات میں دہی بوندیاں، فروٹ چاٹ اور پکوڑے شامل ہیں۔
اسلام آباد میں مقیم ہما ملک نے بتایا کہ ہماری سحری تو پراٹھے ،آملیٹ اور چائے سے مکمل ہو جاتی ہے،جبکہ افطار میں پکوڑے فروٹ چاٹ، سموسے ، دہی بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں ۔ سب سے اہم چیز کھجور کا شیک ہے جو ہمارے گھر میں رمضان میں افطاری کے دسترخوان کا لازمی حصہ ہوا کرتا ہے، جبکہ اس کا ساتھ دینے کے لئے روح افزاء بھی موجود ہوتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ رمضان میں ہم لوگ کھانا نہیں کھاتے ، شاید اس کی وجہ کھجور کے شیک کی بھرپور غذائیت بھی ہو۔

حصہ
mm
عبد الولی خان روزنامہ جنگ سمیت متعدد اخبارات و جرائد میں اپنے صحافیانہ ذوق کی تسکین کے بعد ان دنوں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ چلا رہے ہیں۔انشاء پردازی اور فیچر رپورٹنگ ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے۔

جواب چھوڑ دیں