معرکہ عین جالوت اور سلطان رکن الدین بیبرس 

۲۵ رمضان ۶۵۸ھ ؁

تاریخ میں کئی واقعات ایسے ہیں کہ جن کے رونماء ہونے کے سبب کچھ ایسا منظر نامہ بنا جس نے یکایک تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ ۹۷ ؁ھ میں دمشق میں سلیمان بن عبدالمالک کا مسند خلافت سنبھالنا اور اس کے نتیجے میں قتیبہ بن مسلم کا چین کی سرحدوں سے ،طارق بن زیاد کا فرانس سے اور محمد بن قاسم کا فتح سندھ کے بعد پلٹ جانا اس کی ایک مثال ہے۔بعد میں اگرچہ ترک اور افغان فاتحین کے ذریعے ہندوستان میں تو اسلام پہنچ گیا مگر چین اور فرانس کی سرحدوں سے واپسی کے بعد عالم اسلام کی سرحدیں چودہ سو سال کے بعد بھی کاشغر(مشرقی ترکستان) سے آگے نہ بڑھ سکیں اور نہ ہی یورپ عالم اسلام میں شامل ہوسکا۔
اس کے علاوہ 1402 ؁ء میں جنگ انقرہ میں امیر تیمور کے ہاتھوں عثمانی سلطان بایزید یلدرم کی افسوس ناک شکست اور گرفتاری بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا کہ جس نے یکایک تاریخ کا رخ موڑ دیا اور اس کے نتیجے میں پورے یورپ کی تسخیر کی خواہش عثمانی ترکوں کا خواب بن کر رہ گئی۔
اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اگر 1815 ؁ء میں واٹر لو کے میدان میں نپولین کو شکست نہ ہوتی تو شاید دنیا کو جنگ عظیم اول اور دوم کی تباہ کاری کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
آج ہمارا موضوع ایک ایسی ہی معرکہ آرائی کا تذکرہ ہے جو 25رمضان المبارک 658 ؁ ء بمطابق1260 ؁ء کو مصر اور شام کے درمیان واقع عین جالوت کے مقام پر پیش آئی اور جس کے نتیجے میں عالم اسلام جو بظاہر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا وہ مکمل بربادی سے بچ گیا،عامتہ الناس کو تو چھوڑیں ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بھی ’’معرکہ عین جالوت‘‘ اور اس کے ہیرو ’’سلطان رکن الدین بیبرس‘‘ کے بارے میں بہت کم واقفیت رکھتا ہے ۔حالانکہ اس معرکہ آرائی کے نتیجے میں نہ صرف عالم اسلام کو سیاسی طور پر نئی زندگی ملی بلکہ حرمین شریفین کی حرمت کو لاحق شدید ترین خطرہ بھی ٹل گیا ۔
تیرھویں صدی عیسوی کا سیاسی منظر نامہ
معرکہ عین جالوت کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے تیرویں صدی عیسوی کے سیاسی منظر نامہ کو دیکھنا پڑے گا ۔یہ صدی عالم اسلام کے لئے نہایت پر آشوب تھی اور اس صدی میں جتنے مسلمان شہید ہوئے اتنے شاید نہ اس سے پہلے شہید ہوئے نہ اس کے بعد آج تک (دور جدید میں اکیسوی صدی عیسوی کا آغاز اگر چہ اب تک مسلمانوں کے لیے کچھ ایسی ہی صورت حال لیے ہوئے ہے۔) بہر حال تیرھویں صدی عیسوی میں1219 ؁ء میں منگولیا سے اٹھنے والا طوفان بلاخیز ایک کروڑ مسلمانوں کو بہا کر لے گیا ۔ چنگیز خان نے پہلے تو چین کی عظیم تاریخی سلطنت کو برباد کیا پھر اس نے ماوراء ا لنہر کے علاقوں کا رُخ کرتے ہوئے سمرقند، بخارا،تاشقند، مرو اور نسا سے لے کر خراسان کے علاقے ہرات تک اور نیشا پور سے لے کر دریائے سندھ کے ساحلی علاقوں تک تباہی اور بربادی کی داستانیں رقم کیں ۔ وسطی ایشیا اور چین کے بعد مشرقی یورپ اور روس کے علاقے چنگیز خان کا شکار بنے۔ 1227 ؁ ء میں چنگیز خان کی وفات کے بعد اوکتائی خان اس کا جانشین بنا۔ 1246 ؁ء میں اوکتائی خان کا بیٹا گیوک خان تیسرا خاقان اعظم منتخب ہوا اور 1251 ؁ء میں منگو خان جو تولی خان کا بیٹا تھا وہ چوتھا خاقان بنا۔ خاقان کی تبدیلیوں کے باوجود بھی منگول سلطنت کے حملے ارد گرد کے علاقوں میں جاری رہے اور اب ان کا نشانہ مسلمانوں کے علاوہ دوسری قومیں بھی بننے لگیں جن میں یورپی اور روسی قومیں بھی شامل تھیں۔
1258 ؁ء میں ہلاکو خان نے منگوخان کے گورنر کی حیثیت سے بغداد پر حملہ کرکے خلافت عباسیہ کا خاتمہ کردیا۔ بغداد کے ساتھ ساتھ موصل حلب اور دمشق بھی ہلاکو خان کے ہاتھوں فتح ہوگئے۔ دمشق کے سوا (وہاں کے حاکم نے ہلاکو خان سے معاہدہ کرلیا تھا) عراق اور شام کے اکثر شہروں کو بغداد جیسی قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس طرح تاتاری یلغار وسطی ایشیا سے نکل کر ایران، افغانستان، چین، روس اور ہندوستان کے اکثر علاقوں ، مشرقی یورپ، شام ، فلسطین، اور عراق کو نگل کر مصر کے دروازے تک پہنچ گئی۔ 1241 ؁ء میں منگولوں نے لاہور پر حملہ کرتے ہوئے اس شہر کو بھی تخت و تاراج کردیا۔ 1237 ؁ء میں باتو خان بلغاریہ پر قبضہ کرچکا تھا اور 1241 ؁ء میں اس نے Leighitz لائگنٹزکے میدان میں جرمنوں کو شکست سے دوچار کیا۔ اسی سال منگولوں نے شاہ ہنگری کو بھی شکست دے دی۔ مختصر یہ کہ تیرہویں صدی عیسوی کے وسط میں منگول وسطی ایشیا سے نکل کر چاروں طرف پھیل گئے تھے اور ہر طرف ان کی قتل و غارت گری اور فتوحات جاری تھیں۔ منگول سلطنت چار حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی مگر منگولیا کا خان اب بھی پوری سلطنت کا حکمران سمجھا جاتا تھا۔
ایسے میں ہلاکو خان تین لاکھ کے ٹڈی دل لشکر کے ہمراہ عراق، شام، فلسطین کے شہروں کو فتح کرکے مصر پر حملہ آور ہوگیا ۔ مصر کے بعد اب براہ راست منگول خطرہ حجاز کی مقدس سرزمین کے سامنے آگیا تھا جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے شہر آباد تھے۔ یعنی اگر ہلاکو خان مصر کو بھی فتح کرلیتا تو اس کے بعد حجاز کے مقدس مقامات تک اس کی راہ میں کوئی قابل ذکر حکومت نہیں تھی۔1260 ؁ء بمطابق 658 ؁ھ کے رمضان المبارک میں مصر اور شام کے سرحدی علاقے ’’عین جالوت‘‘ کے مقام کو ہلاکو خان کی تین لاکھ فوج مصر کے مملوک سلطان کے بیس ہزار کے مختصر سے دستے کے سامنے کھڑی تھی!
مصر کے مملوک سلطان
تیرہویں صدی عیسوی کے سیاسی منظر نامے کے بعد آئیں اب ذرا مملوک سلطنت کا کچھ تعارف حاصل کرتے ہیں جو نہ صرف بغداد کی خلافت ختم ہونے کے بعد قاہرہ کی عباسی خلافت کی شکل میں عالم اسلام کا مرکز قرار پائی بلکہ تین سو سال تک صلیبی حملہ آواروں کے سامنے بیت المقدس کا دفاع کرتی رہی۔
اسلامی تاریخ کی خاصیت ہے کہ مسلمانوں نے غلاموں کے ساتھ کبھی بھی وہ سلوک روا نہیں رکھا جو رومیوں کے زمانے سے لے کر پچھلی صدی تک مغربی ممالک میں کیا گیا۔ اسلامی معاشرے میں غلاموں کو برابری کا درجہ دینے کے نتیجے میں غلام دینی اور دنیاوی سطح پر ترقی کے بلندترین مقام تک پہنچے۔
مصر کے مملوک سلطان اور ہندوستان کا خاندان غلاماں ان غلام سرداروں پر مشتمل تھا جو ترقی کرتے کرتے حاکم وقت بن گئے ۔ مصر میں بحری اور برمی مملوک حکمرانوں نے تین سو سال تک حکومت کی۔ ان سلاطین میں جانشینی کے وقت سخت کشمکش ہوتی اور طاقتور غلام امیر سلطان بن جاتا۔ یعنی ان میں جانشین کے طور پر بیٹا حکومت نہیں حاصل کرپاتا تھا۔
سلطان رکن الادین بیبرس
1223 ؁ء میں خوارزم شاہ کے ایک درباری کے گھر بیٹا پیدا ہوا اور اس کا نام محمود رکھا گیا۔ خوارزم شاہ کسی بات پر اس درباری سے خفا ہوگیا اور اسے قید کرلیا گیا ۔ اس طرح یہ اعلیٰ خاندان گردش میں آگیا۔ اسی دوران خوارزم کی سلطنت چنگیزی حملوں کی زد میں آکر تباہ ہوگئی اور تاتاریوں نے مسلمان بچوں اور جوانوں کو قید کرکے غلام بنا کر فروخت کرنا شروع کردیا۔محمود بھی انہی بچوں کی طرح غلام بن کر مختلف ہاتھوں فروخت ہوتا رہا اور آخر میں مصر کے بازار میں فروخت کیلئے لایا گیا۔ مصر میں مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے محمود فاطمہ نامی ایک نیک خصت خاتون کی تحویل میں آگیا۔ فاطمہ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا جس کا نام بیبرس تھا ۔ محمود کی شکل اس لڑکے بیبرس سے ملتی تھی چنانچہ فاطمہ نے محمود کا نام بدل کر بیبرس رکھ دیا اور اسے اپنا بیٹا بنالیا۔ فاطمہ کا ایک بھائی مصر کے سلطان الملک صالح نجم الدین کے دربار سے منسلک تھا۔ اس کی ملاقات جب بیبرس سے ہوئی تو وہ اسے قاہرہ سلطان کے دربار میں لے گیا۔ سلطان الملک صالح نے کئی لاوارث لڑکے اپنی کفالت میں لیے ہوئے تھے۔ ان لڑکوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی جاتی ، خوراک کا خیال رکھا جاتا اور سخت جنگی تربیت کے مراحل سے گزارا جاتا۔ اس طرح یہ لڑکے سلطان کے وفادار بن جاتے اور سلطان کے ذاتی فوج میں شامل کرلیے جاتے۔ (یہی طریقہ بعد میں ترکوں نے اختیار کیا اور عثمانی سلاطین کی مشہور زمانہ افسانوی شہرت کی حامل فوج ’’ینی چری‘‘ ایسے ہی غلام لڑکوں پر مشتمل ہوتی تھی)
بہر حال محمود براہ راست سلطان مصر کے زیر نگرانی تربیت پاکررکن الدین بیبرس کے نام سے مصر کی فوج میں شامل ہوگیا اور اپنی لیاقت اور مہارت کے سبب مصری فوج کا سالار شمار ہونے لگا۔
25رمضان658 ؁ھ
مصر شام اور فلسطین کے سرحدی علاقوں پر مشتمل عین جالوت کا میدان ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میدان کو عین جالوت اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں حضرت داؤد ؑ نے جالوت نامی ایک ظالم اورجابر بادشاہ کو شکست دی تھی۔ اس معرکہ آرائی کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ بیان کیا ہے،
ترجمہ:’’ اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور جو چاہا اسے سکھایا۔‘‘
(البقرۃ : آیت نمبر:251)
عین جالوت کے معنی ’’جالوت کا چشمہ‘‘کے ہیں اور اس علاقے میں اب 658 ؁ھ میں ہلاکو خان تین لاکھ کے لشکر کے ساتھ مصر پر حملہ آور تھا۔ اس وقت مصر کا حاکم مملوک سلطان سیف الدین قطز تھا اور رکن الادین بیبرس اس کا سپہ سالار ۔ سلطان قطزکی فوج کسی بھی طرح تین لاکھ کے لشکر جرار کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ تھی اور اب مصر کی شکست کا مطلب تھا کہ ہلاکو خان کی رسائی حجاز مقدس کے شہروں اور حرمین شرفین تک ہوجاتی اور پھر مراکش، شمالی افریقہ کے مسلم علاقے اور پھر اندلس!
مگر اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کو بچالیا۔ ایک معجزہ رونما ہوا اور ہلاکو خان کو اپنی فوج کا ایک بڑا حصہ لے کر قراقرم واپس جانا پڑا ۔ قراقرام کے چوتھے خاقان اعظم منگو خان کا انتقال ہوگیا اور دنیا بھر سے تاتاری شہزادے قراقرم کے مرکزی جرگے جسے قرولتائی کہا جاتا تھا اس میں شرکت کرنے کیلئے قرقرم روانہ ہوگئے۔ ہلاکو خان نے اپنے نائب کتبغا خان کو بیس ہزار کا لشکر سونپ کر واپس قراقرم کی راہ اختیار کی۔
یہاں اس دھمکی آمیز خط کا ذکر ضروری ہے جو تاتاریوں کی طرف سے قطز کو لکھا گیا تھا، یہ خط ہلاکو خان کی طرف سے لکھا گیا تھا یاکتبغا خان کی طرف سے اس بارے میں تاریخ میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بہر حال تاتاری سفیر نے یہ خط سلطان قطز کو پیش کیا۔
’’یہ اس کا فرمان ہے جو ساری دنیا کا آقا ہے کہ اپنی پناہ گاہیں منہدم کردو، اطاعت قبول کرلو، اگر تم نے یہ بات نہ مانی تو پھر تم کو جو کچھ پیش آئے گا وہ بلندو بالا اور جاودانی آسمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔‘‘
غالب امکان ہے کہ خط ہلاکو خان نے قراقرم روانگی سے قبل بھیجا تھا جس میں صاف انداز میں اعلان جنگ کیا گیا تھا۔ بہر حال تاتاری سفیر نے رعونت آمیز انداز میں یہ خط سلطان مصر کے سامنے پھینک دیا۔ یہ انداز دیکھ کر سلطان مصر اور رکن الدین بیبرس کی آنکھیں غصے کے عالم میں سرخ ہوگئیں۔ سلطان کو خط کے مندرجات پڑھ کر سنائے گئے تو سلطان نے سفیر سے کہا کہ ہمارا ہلاکو خان سے کوئی جھگڑا نہیں لہٰذا اسے چاہیے کہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ کر واپس چلا جائے ، اس پر سفیر نے جواب دیا ،
’’تو گویا چاہتے ہو کہ تمہارا بھی وہی حشر کیا جائے جو ہم تمہارے خلیفہ کا کرکے آئے ہیں ۔ جان لو کہ ہمارے آقا کی قوت لامحدود ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔‘‘
تاتاری سفیر کا یہ انداز دیکھ کر سلطان مصر آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے کہا۔۔۔،
’’ان تاتاریوں کی زبانیں گدی سے کھینچ کر انہیں قتل کردیا جائے۔ ہمارے طرف سے خط کا جواب یہی ہے۔‘‘
بہر طور15رمضان 658 ؁ھ بمطابق 1260 ؁ء میں عین جالوت کے میدان میں منگول سالار کتبغا خان اپنے لشکر کے ساتھ مقیم تھا کہ سلطان قطز اور امیر رکن الدین بیبرس افواج مصر کے ساتھ آموجود ہوئے۔ ہلاکو خان کی روانگی کے بعد دونوں لشکروں میں عددی توازن تقریباً برابر ہوگیا تھا کیونکہ تاتاری لشکر کا بڑا حصہ ہلاکو خان اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ عملی طور پر افواج کی کمان رکن الدین بیبرس کے پاس تھی۔ بیبرس تاتاریوں کے قصے سن کر کہا کرتا تھا کہ ’’وقت آنے دو ہم ان وحشیوں کو بتادیں گے کہ صرف وہ ہی لڑنا نہیں جانتے بلکہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اِن کی گردنیں دبوچ سکتے ہیں۔‘‘ کتبغا خان کو ہلاکو خان کی طرف سے واضح ہدایات تھیں کہ اس کی واپسی تک اسی جگہ قیام کرے اور مصر پر ہرگز حملہ آور نہ ہو۔ امیر رکن الدین بیبرس کو جب ہلاکو خان کی واپسی کی اطلاع ملی تو اس نے سلطان قطز کو فوراً منگولوں پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس طرح باقاعدہ طور پر آگے بڑھ کر رکن الدین بیبرس نے منگول لشکر پر حملہ کردیا۔ عین جالوت کی اس تاریخ ساز جنگ میں رکن الدین بیبرس نے تاتاریوں پر ان کا اپنا طریقہ حرب استعمال کیا۔ اس نے اپنے چند دستے ایک گھاٹی میں گھات لگا کر بٹھادیے۔ بیبرس نے ابتدائی طور پر پسپائی کا انداز اختیار کیااور منگول اس کی چال میں آکر گھاٹی میں پھنس گئے۔ گھات لگا کر دشمن کو تنگ جگہ لاکر پھنساناتاتاریوں کا اپنا انداز جنگ تھا جو رکن الدین بیبرس نے خود ان پر استعمال کیا اور ماضی کی فتوحات کے نشے میں سرشار کتبغا خان بیبرس کی چال میں آگیا۔ گھاٹی میں گھات لگائے محفوظ مصری دستے نے منگولوں کو تحس نحس کردیا۔ منگول لشکر میں ابتری پھیل گئی اور وہ دو اطراف سے مسلمانوں میں گھر گئے۔ بیبرس نے منگول فوج کا قتل عام کیا اور انہیں اس بری طرح سے مارا کہ تاریخ میں اس سے پہلے تاتاریوں کے ساتھ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ کتبغا خان بیبرس کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور بیبرس نے اسے قتل کردیا۔ منگول لشکر مکمل طور پر قتل یا گرفتار ہوگیا تھا۔ مقتول سالار کتبغا خان کی لاش کی نمائش قاہرہ کی گلیوں میں تاتاری قیدیوں کے ساتھ کی گئی اور بعد ازاں ان قیدیوں کو بھی قتل کردیا گیا۔
معرکہ عین جالوت کے نتائج
عین جالوت کے میدان میں تاتاریوں کی شکست کی خبریں شام اور فلسطین کی منگول مقبوضات میں آگ کی طرح پھیل گئیں ۔مسلمانوں نے منگول حاکموں کے خلاف بغاوت کردی اور جگہ جگہ سے خبریں آنے لگیں کہ مسلمانوں نے تاتاریوں سے شہر واپس لینے شروع کردیے ہیں۔ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے شام اور فلسطین کی اکثر مقبوضات منگول تسلط سے آزاد ہوگئیں ۔ اس طرح منگولیا سے اٹھنے والی کالی آندھی چالیس سال تک مظلوم مسلمانوں کا خون پی کر 1260 ؁ء میں عین جالوت کے میدان میں رکن الدین بیبرس کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ اگرچہ اس کے بعد بھی تاتاریوں نے مسلمانوں کے علاقوں پرکئی حملہ کیے مگر ان کے ناقابل شکست رہنے کا تاثر ختم ہوگیا تھا اور اب مسلمان ہر جگہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ ہندوستان پر مسلسل تاتاری حملے اور خلجیو ں کا کامیاب دفاع اس کی ایک روشن مثال ہے۔
رکن الدین بیبرس کا مصر کے تخت پر قبضہ کرنا
پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ مملوک سلاطین میں جانشینی کا کوئی نظام نہیں تھا بلکہ طاقتور امیر ہی حاکم اور سلطان بن جاتا تھا۔ معرکہ عین جالوت سے قبل سلطان مصر سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا کہ فتح کے بعد شام میں حلب اور اس کے اطراف کے علاقے بیبرس کے تصرف میں دے دیے جائیں گے۔ مگر بعد میں سیف الدین قطز مکر گیا اور اس طرح قطز اور بیبرس کے درمیان رنجش پیدا ہوگئی اور معرکہ عین جالوت کے چند دنوں بعد ہی پراسراطور پر سلطان قطز قتل کردیا گیا اور رکن الدین بیبرس سلطان مصر بناگیا۔ سلطان قطز کے پراسرار قتل میں تاریخ میں سلطان بیبرس کا نام مشکوک انداز میں لیا جاتا ہے۔
ہلاکو خان کا انجام
سقوط بغداد کے حوالے سے ہلاکو خان کو تو اکثر قارئین جانتے ہونگے ۔ میں مگر اس مرد خونخوار کا انجام کیا ہوا؟ اس سے اکثر لوگ ناواقف ہیں ۔ آئیے یہاں کچھ تذکرہ ہلاکو خان کے انجام کا کیے دیتے ہیں۔ منگول قرولتائی سے فارغ ہوکر ہلاکو خان واپس لوٹ آیا۔ وہ سلطان بیبرس سے انتقام لینے کیلئے بے چین تھا۔ دوسری طرف قدرت کا قانون حرکت میں آچکا تھا۔ اس دفعہ تاتاریوں کو ان کے اپنے ہی ہاتھوں سے شکست کھانا تھی۔ بخارا کی خانقاہ کے شیخ سیف الدین ایک صوفی بزرگ تھے اور ان کی کوششوں سے چنگیز خان کا ایک دوسرا پوتا اور جوجی خان کا بیٹا برکی خان مسلمان ہوگیا۔ قبل اس کے کہ ہلاکو خان سلطان بیبرس سے بدلہ لیتا اور حجاز مقدس کی طرف پیش قدمی کرتا برکی خان کی سربراہی میں ایک منگول لشکر اس کے سامنے آگیا ۔ اس طرح چنگیز خان کے دو پوتے آمنے سامنے آگئے اور برکی خان کے ہاتھوں ہلاکو خان کو شکست ہوگئی اور اس شکست کے صدمے سے تاب نہ لاکر وہ ہلاک ہوگیا۔
اس پر علامہ اقبال نے اپنا مشہور زمانہ شعر کہا ؂
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسبان مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے
سلطان بیبرس اور نویں صلیبی جنگ
سلطان رکن الدین بیبرس کو نویں اور آخری صلیبی جنگ کا ہیرو بھی تسلیم کا جاتا ہے۔ منگولوں سے فارغ ہوکر اس نے شام ، فلسطین اور مصر کی عیسائی مقبوضات کی طرف توجہ دی اور ایک کے بعد ایک عیسائی علاقوں کو فتح کرنا شروع کیا۔ 1270 ؁ء میں فرانس کا شہنشاہ لوئی نہم ’’یرو شلم ہمارا ہے‘‘ کے نعرہ لگاتا یورپ کی صلیبی افواج نائٹس اور ٹیمپلرس کو ساتھ لیے مصر پر حملہ آور ہوگیا۔ سلطان رکن الدین بیبرس نے یہاں بھی شہنشاہ لوئی نہم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور صلیبوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کردیا۔ فرانس کا شہنشاہ لوئی نہم بیبرس کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا اور بعد میں اسے کثیر رقم کے عوض رہا کیا گیا۔ اس صلیبی جنگ کے بعد دوبارہ یورپی افواج صلیبی جنگ کے نام پر عالم اسلام پر حملہ آور نہیں ہوئیں ۔ اس طرح اسے آخری صلیبی جنگ کہا جاتا ہے۔
یعنی منگول یلغار اور صلیبی جنگیں دونوں کا خاتمہ سلطان رکن الدین بیبرس کے ہاتھوں سے ہوا اور افسوس کی بات ہے کہ یہ کردار ہماری تاریخ میں اب وقت کی گرد تلے دب کر گمنام ہوچکا ہے۔
خلافت عباسیہ کا احیاء
سلطان رکن الدین بیبرس کا ایک اور انمول کارنامہ جو اکثر لوگوں کے علم میں نہیں وہ خلافت عباسیہ کا احیاء ہے۔ سقوط بغداد کے بعد عالم اسلام خلافت جیسی مرکز یت سے محروم ہوچکا تھا۔ عالم اسلام پر سکتہ طاری تھا کہ خلافت کے خاتمے کے بعد اب اسکا احیاء کیسے اور کس کے ہاتھوں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک کام کیلئے بھی سلطان رکن الدین بیبرس کا انتخاب کیا۔1262 ؁ء ،میں خلیفہ ظاہر کا ایک بیٹا ابوالقاسم احمد منگول قید سے رہا ہوکر مصر آگیا۔ سلطان بیبرس اسے قاہرہ لے آیا اور اس وقت کے مشہور عالم دین عزیز الدین عبدالسلام کے سامنے ابوالقاسم کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرتے ہوئے خلافت عباسیہ کا احیاء کیا۔ اس طرح عالم اسلام کو خلافت عباسیہ مصر کے روپ میں مرکزیت حاصل ہوگئی۔ اگر چہ یہ خلافت برائے نام ہوتی تھی اور اقتدار مملوک سلطان کے پاس ہی ہوتا تھا مگر پھر بھی خلیفہ کو عالم اسلام میں ایک احترام حاصل تھا ۔ یہ خلافت عثمانی ترکوں کے ہاتھوں مصر کی فتح تک قائم رہی اور پھر بعد میں خلافت کا ادارہ عثمانی ترکوں کو منتقل ہوگیا۔
اس کے علاوہ سوڈان کے عیسائی بادشاہ ڈیوڈ کو بھی سلطان بیبرس نے شکست سے دوچار کیا اور قلعہ الموت کے باطنی حشیشین فدائیوں کے خلاف بھی سلطان بیبرس نے حملے کیے۔
عالم اسلام کا یہ عظیم سالار اور مجاہد اعظم1277 ؁ء میں اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ہمارے تاریخ دانوں نے سلطان بیبرس پر بہت کم لکھا ہے اور تاریخ کے طالب علم بہت کم اس بارے میں واقفیت رکھتے ہیں ۔ منگول سیلاب سے حرمین شرفین کی حفاظت، فرانس کے شہنشاہ سے بیت المقدس کا دفاع اور بغداد کی تباہی کے بعد خلافت اسلامیہ کا دوبارہ احیاء سلطان رکن الدین بیبرس کے وہ سنہری کارنامے ہیں ، جو اسے ہمیشہ تاریخ اسلام میں زندہ جاوداں رکھیں گے۔
*۔۔۔*۔۔۔*

حصہ
mm
عدیل سلیم ایک منجھے ہوئے قلم کار ہیں،تاریخ اسلام سے انہیں خاص دلچسپی ہیں،تاریخی موضوعات کوعام فہم انداز میں قلم بند کرنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے۔

6 تبصرے

  1. واہ عدیل بھائی آپ نے بھولی بسری تاریخ کے اوراق کی خوبصورت منظر کشی کرکے ایک فلم کی طرح آنکھوں کی سامنے رکھ دی۔

    خدا کرے زور قلم اور زیادہ۔

  2. بہت اچھی تحریر ہے۔ تاریخ کے کئی گوشے وا ہوئے۔ عدیل سلیم جملانہ صاحب ماشاءاللہ بہت اچھا لکھتے ہیں۔ آپ کی مزید تحاریر کا انتظار رہے گا۔

  3. تاریخ کےگمنام گوشوں سے اس طرح پردہ اٹھانا کہ افسانوی رنگ کی آمیزش بھی رہے اور حقیقت مجروح بھی نہ ہو ایک مشکل امر ہے۔۔ عزیزم عدیل نے نہایت خوبی کے ساتھ اپنے قلم اور اپنی فطری تحقیقانہ صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔۔ ماشااللہ
    (فیروز ناطق خسرو)

  4. بہت ہی خوبصورت اثر انگیز معلوماتی تحریر..واقعی میری نظر سے تو یہ کردار اب تک اوجھل رہا تھا…عدیل نے کمال کر دکھایا ہے…اللہ کرے زور قلم اور زیادہ . اسی طرح تاریخ کے اوجھل گوشوں پر سے گرد اور دھول جھاڑنے کا کام جاری رکھیں ..

جواب چھوڑ دیں