ہائے میاں محمد نواز شریف

                پاکستانی عدالتوں کا یہ المیہ ہے کہ ان کے ہر بڑے اور اہم فیصلے “تشکیک” سے پر ہوتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود بھی اس تاثر کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتیں کہ وہ کسی دباؤ کے بغیر فیصلے کر رہی ہیں۔ پاناما لیکس کے تحت چلنے والا یہ مقدمہ اس لحاظ سے تو لائق تحسین تھا کہ اس کا آغاز اوپر سے ہوا ورنہ اس قسم کے مقدمات کو نچلی سطح سے شروع کیا جاتا ہے اور عام طور پروہ اوپر جانے سے قبل ہی ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ اوپر سے شروع ہونے والے اس مقدمے کا اختتام اوپر ہی اوپر ختم ہو چکا ہے۔ اس لیکس میں کم و بیش 450 افراد ملوث تھے لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف پر ہی مقدمے کا یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ یہ ہے وہ بات جو بہر حال ناقدین کو تنقید کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ ایک بات اور بھی بہت غور طلب ہے اور وہ یہ ہے کہ 27 جولائی کو سپریم کورٹ کی جانب سے ایک شیڈول جاری کیا گیا تھا جس کے تحت تمام ججوں کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا تھا اور اس کے تحت 31 جولائی سے 14اگست تک کوئی جج بھی میسر(فارغ) نہیں تھا۔ یہ بات سہ پہر تک ایسی ہی تھی جس سے اس بات کا خدشہ پیدا ہو چلا تھا کہ کیس کا جو بھی محفوظ فیصلہ ہے وہ 14 اگست کے بعد ہی سنایا جائے گا لیکن رات ہوتے ہیں یہ اعلان ہوا کہ 28 جولائی کو دن ساڑھے گیارہ بجے کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ چند گھنٹوں میں سپریم کورٹ کا شیڈول تبدیل ہوجانا معنی تو رکھتا ہے۔ اس اعلان نے ایک اچھے اور احسن قدم کو کسی حدتک مشکوک بناکر ویسا ہی کر دیا جو بکری دودھ دینے کے بعد اپنے مالک کے ساتھ کر دیا کرتی ہے۔میں جناب ڈاکٹر عبدالرشید جنید صاحب کے ایک آرٹیکل سے استفادہ کرتے ہوئے ذیل میں میاں محمد نواز شریف کا مختصر دورحکمرانی بیان کر رہا ہوں جو قارئین کیلئے معلوماتی بھی ہوگا اور دلچسپی کا سبب بھی بنے گا۔

                پاکستانی حکمرانوں کی تاریخ بھی بڑی عجیب رہی ہے۔ 28 جولائی 2017کو ایک بار پھریعنی تیسری مرتبہ میاں نواز شریف کو وزارتِ عظمی کی کرسی سے سبکدوش ہونا پڑا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناماکیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا جس کے بعد نواز شریف اپنی تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے۔سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف چار الزامات میں ریفرنس دائر کرنے کا قومی احتساب بیورو کوحکم دیا ہے لیکن انہیں نااہل قرار دیئے جانے کی بنیاد اس فیصلہ سے نہیں ہوئی۔ عدالت نے28 جولائی کو اپنے متفقہ فیصلہ میں لکھا کہ میاں محمد نواز شریف عوامی نمائندگی کے قانون ، سیکشن 99 ایف اور 1973 کے آئین شق 62(ایک) (ف) کے تحت صادق نہیں اس لئے انہیں مجلس شوریٰ کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ اس فیصلہ کی وجہ متحدہ عرب امارات کی کمپنی کیپٹل ایف زیڈ ای سے ان کے نام کی وہ تنخواہ جو انہوں نے کبھی وصول نہیں کی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالت کے سامنے سوال اٹھایا گیا کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کے چیرمین کی حیثیت سے وہ اس کمپنی سے تنخواہ کے حقدار تھے جس کا انہوں نے سنہ2013کے انتخابات میں اپنے کاغذات نامزدگی میں ذکر نہیں کیا۔ نواز شریف کی جانب سے اس سلسلہ میں کہا گیا کہ کیونکہ انہوں نے یہ تنخواہ وصول نہیں کی اس لئے عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت یہ ان کا اثاثہ نہیں تھی اور اس کا کاغذات نمائندگی میں ذکر کرنا ضروری نہیں تھا۔ عدلیہ نے کہا کہ اسے اس بات پر فیصلہ کرنا تھا کہ کیا عوامی نمائندگی کے 1976کے قانون کے تحت ایسی تنخواہ کا بھی کاغذات نامزدگی میں اثاثے کے طور پر ذکر ہونا ضروری ہے جو وصول نہ کی گئی ہو۔ عدالت نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تنخواہ اگر وصول نہ بھی کی جائے تو قابل وصولی ضرور رہتی اور قانوناً اور عملاً ایک اثاثہ ہی بنتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس صورت میں کاغذات نامزدگی میں اس تنخواہ کا ذکر کیا جانا ضروری تھا۔ مختلف زاویوں سے جائزہ لینے کے بعد آخر کار عدالت اس نتیجہ پر پہنچی اور اپنے فیصلہ میں لکھا کہ جب اس نے مدعا علیہ اول (میاں محمد نواز شریف) کے وکیل سے پوچھا کہ کیا نواز شریف نے کبھی دبئی میں اقامہ حاصل کیا، کیا وہ ”کیپٹل ایف زیڈ ای“ کے بورڈ کے چیئرمین رہے اور کیا وہ تنخواہ کے حقدار تھے۔ عدالت نے فیصلہ میں لکھا کہ نواز شریف کے وکیل نے اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ’ ’جہاں تک ان کے بورڈ کے سربراہ ہونے کا تعلق ہے وہ ایک رسمی عہدہ تھا جو 2007میں ملک بدری کے دوران انہوں نے حاصل کیا تھا اور ان کا کمپنی کے معاملات سے اور اس کو چلانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح انہوں نے دس ہزار درہم کی تنخواہ بھی کبھی وصول نہیں کی۔ اس طرح وہ تنخواہ ان کے اثاثوں کے زمرے میں نہیں آتی۔‘ ‘جس پر عدالیہ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثوں کا ذکر نہ کرنا غلط بیانی ہے اور عوامی نمائندگی کے قانون کی خلاف ورزی ہے، اس لئے وہ صادق نہیں۔ اسی فیصلہ کے تحت پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف28 جولائی کو اپنے عہدہ وزارتِ عظمی سے مستعفی ہوگئے۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے معاملے میں اپنے متفقہ فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور انکے افرادِ خاندان کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔

                یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں پورے ملک میں بدترین قتل و غارت گری رہی تھی اور کئی اہم سیاسی قتل بھی ہوئے تھے جن میں جماعت اسلا می کے قومی اسمبلی کے رکن جناب ڈاکٹر نذیر احمد(ڈی جی خان) کا قتل بھی شامل ہے لیکن وہ ”قصوری“ کے قتل میں اس بری طرح پھنسے کہ تختہ دار تک جا پہنچے۔ ایسا ہی کچھ میاں محمد نواز شریف کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ شاید اسی کو مکافات عمل کہا جاتا ہے۔

                میاں نواز شریف جنہوں نے 1970کی دہائی کے آخر میں سیاست میں داخل ہونے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی لاکالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1981ء میں محمد ضیاءالحق کی فوجی حکومت کے دوران پنجاب کے وزیر خزانہ بنے اور ان ہی کے دور میں دوبارہ مارشل لا کے بعد 1988میں وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔ نواز شریف 1990ءمیں اسلامی جمہوری اتحاد کی سربراہی کی جس میں انہیں فتح حاصل ہوئی اور پہلی مرتبہ وہ6 نومبر1990کو وزیراعظم پاکستان بنے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستان انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے نواز شریف پر الزام لگایا کہ انہوں نے انتخابی عمل میں لاکھوں روپے کی رشوت سیاست دانو ں میں تقسیم کی۔ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کے الزام میں نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ سے برطرف کردیا جس پر نواز شریف نے عدالت عظمیٰ پاکستان سے رجوع کیا۔ 15 جون 1993ءکو چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے نواز شریف کو بحال کردیا۔ نواز شریف نے جولائی 1993ءکو ایک معاہدے کے تحت استعفیٰ دیدیا جس کے باعث صدر کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ دوسری مرتبہ 17 فروری 1997ءکو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہیں وزیراعظم پاکستان منتخب کیا گیا۔ اکتوبر1999ء میں نواز شریف نے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کو ہٹاکر نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کی کوشش کی جس کے بعد فوجی بغاوت ہوئی اور فوجی سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف اقتدار پر فائز ہوئے۔فوج کی طرف سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان پر مقدمہ چلا۔ جو “طیارہ سازش کیس” کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اغواءاور قتل کے الزامات شامل تھے۔ فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد نواز شریف سعودی عرب چلے گئے۔ 2006ءمیں میثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کئے اور فوجی حکومت کے خاتمہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ 23 اگسٹ 2007ءکو عدالت عظمیٰ نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازدت دیدی۔2013کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بناءپر وہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے اور پھر 28 جولائی 2017کو پاکستانی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے انہیں نااہل قرار دیا اور الیکشن کمیشن کو نواز شریف کی قومی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جس پر الیکشن کمیشن نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120سے انکی رکنیت ختم کردی اس طرح یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ چھے ہفتے کے اندر نواز شریف اور انکے بچوں مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی مہیا مواد کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرے اور چھ ماہ میں ان پر کارروائی مکمل کی جائے۔عدالت نے نواز شریف ، حسن نواز، حسین نواز کے خلاف چار جبکہ مریم نواز انکے شوہر کیپٹن(ریٹائرڈ) صفدر اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ایک ایک معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

                نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوشی کے بعد انکی قیادت میں میٹنگ منعقد کی گئی جس میں وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی کو 45روز کیلئے عبوری وزیراعظم پاکستان بنایا گیا۔ نواز شریف ہی کی ایما پر وہ اب تک وزارت عظمیٰ پر متمکن ہیں۔ یکم اگست کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہونے والی ووٹنگ میں انہیں 221ووٹ حاصل ہوئے اس طرح وہ ملک کے نئے وزیر اعظم منتخب ہوگئے ہیں۔ لیکن شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کے معاہدے میں بے ضابطگیوں کا سامنا ہے اور قومی احتساب بیورو میں ایک انکوائری چل رہی ہے جو ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے 1988ءمیں سیاست میں قدم رکھا اور قومی اسمبلی پاکستان کے لئے 6مرتبہ منتخب ہوئے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مشرقِ وسطی میں ان دنوں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ سعودی عرب، عرب امارات، بحرین، مصر کی جانب سے قطر کو دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کرکے اس سے تعلقات منقطع کرلئے گئے اور اس پر مکمل پابندیاں عائد کردی گئیں۔ قطر بحران کے موقع پر ترکی اور ایران اس کا ساتھ دے رہے ہیں

 ان دونوں ممالک سے اشیائے خوردونوش اور دیگر سازوسامان قطر پہنچایا جارہا ہے اورانکے فضائی و سمندری حدود بھی استعمال کئے جارہے ہیں۔ ترکی کی جانب سے قطرکو فوجی تعاون بھی حاصل ہے جس میں پابندیوں کے بعد مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کشیدہ حالات پر پاکستان کی غیر جانبدارانہ پالیسی کئی ایک شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 28 جولائی کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے کر انکے بوجھ کو ہلکا کیا ہے کیونکہ نواز شریف پر سعودی عرب کے کئی ایک احسانات ہیں۔وہ سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزار چکے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان سے بہتر تعلقات بنائے رکھنے کا خواہش مندہی نہیں بلکہ فوجی تعاون کے لئے بھی پاکستان پر بھروسا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک کے اتحاد نے جو فوجی اتحاد قائم کیا ہے اس کے سربراہ سابق پاکستانی فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کو بنایا گیا ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے حالات پر خاموشی یا غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کئے جانے کی وجہ سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے لئے لمحہ فکر بن گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات میاں نواز شریف کے لئے خوش آئند ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے آئندہ چھ ماہ تک دیگر الزامات کا فیصلہ آئے گا ہو سکتا ہے کہ وہ نواز شریف کے حق میں ہو اور اس وقت تک ہوسکتا ہے کہ خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری پیدا ہوجائے۔ موجودہ حالات میں نئے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے کاندھوں پر بھاری بوجھ ڈالا گیا ہے جسے وہ سنبھال پاتے ہیں یانہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

                نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی تو بے شک ہو گئے لیکن وہ ایسا پرندہ ثابت ہونے کیلئے تیار نہیں جس کے متعلق شکیب جلالی نے کچھ یوں کہا تھا

شکیب کیسی اڑان اب وہ پر ہی ٹوٹ گئے

کہ زیر دام جب آئے تھے پھڑ پھڑائے بہت

                نواز شریف نے اٹل فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنا پھڑپھڑانا کسی طور نہیں چھوڑیں گے خواہ ان کے بازو زخموں سے چور ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ وہ عزم کرکے بیٹھے ہیں کہ ووٹ اور ووٹ کی عزت کو ہر قیمت پر بحال کر کے رہیں گے۔

                سیاست میں اب جھوٹ اتنا شامل ہو گیا ہے کہ اس میں سے سچ کو چھانٹنا بہت ہی مشکل ہو گیا ہے۔ انتخاب سے قبل سارے وعدے اور دعوے جھوٹ، بڑے بڑے منصوبوں کے خواب جھوٹ، اپنے آپ کی پارسائی کی ساری کہانیاں جھوٹ، جمہوریت پرستی کی باتیں جھوٹ، عوام کی خوشحالی کی داستانیں جھوٹ، غریبوں کی غمخواری میں بہنے والے ٹسوے جھوٹ، روٹی کپڑا اور مکان کے فسانے جھوٹ، زمین کو رشک بریں بنانے کے سب خواب جھوٹ، عوام کے زخموں پرمرہم رکھنے کے بول بچن جھوٹ سیاست کی دن کی روشنی بھی جھوٹ اور راتوں کی سیاہی بھی جھوٹ۔ سیاست میں جھوٹ کی اتنی ملاوٹ ہو گئی ہے جتنی ملاوٹ ہماری فضا و ہوا میں بھی نہیں۔ اس تمام کذب و جہل کے باوجود بہرحال جو بات مجھے اچھی لگی ہے وہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ اگر کوئی سیاستدان لاٹھی کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہوا ہے تو وہ بہرصورت نواز شریف ہے۔ میری بھی رائے یہی ہے کہ پاکستانی سیاست کی تقدیر کا ایک مرتبہ فیصلہ ضرور ہوجانا چاہیے کہ یہاں وائٹ کالر والے کرسی اقتدار پر متمکن ہونے چاہئیں یا ”مٹیالی“ رنگت لباس والے۔

                عوام کو یہ بات کسی طور نہیں فراموش کرنے چاہیے کہ پوری دنیا میں وہی ممالک مضبوط اور مستحکم ہیں جن کی وردی وائٹ کالر کے تابع ہے یا باالفاظ دیگر جہاں حکومت مضبوط ہے ادارہ نہیں۔ اختلاف رائے ہر فرد کا حق ہے لیکن جو بھی میری رائے سے اختلاف کرے وہ لازماً ایسے مضبوط اور مستحکم ملک کو بطور مثال ضرور کوڈ کرے جہاں حکومت سے بھی مضبوط کوئی اور ادارہ ہو اور وہ ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہو۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں