دبی شخصیت کے ساتھ ایک صبح

تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر
ادبی شخصیات کے ساتھ آپ نے سنا ہوگا کہ اکثر شام یا رات منائی جاتی ہے۔کیونکہ سارا دن وہ ادبی کاموں،رسائل،میگزین و دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے شام سے رات گئے تک وہ فارغ ہوتے ہیں۔مشاعرہ ہو یا ادبی نششت محفل رات کو ہی جمتی ہے۔یقین مانئے اکثر شعرا کرام کے گھر اُتنی دہی نہیں جمتی جتنی محفلیں جمتی ہیں۔رات تاخیر سے بسترِ استراحت پر جانے کی وجہ سے صبح صادق آنکھ کا نہ کھلنا قدرتی اور محفل کا ’’خمار‘‘ بھی ہو تا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کوئل و بلبل کو اپنی شاعری میں استعمال کرنے والے شعرا نے کبھی ان پرندوں کی شکل علی الصبح باہر نکل کردیکھی ہو یا ان کی آواز سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں۔دوحہ سے واپسی اسلام آباد کوئی پانچ گھنٹے کا قیام تھا علی الصبح اسلام آباد ائر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنے ایک دیرینہ ادبی دوست کے گھر کا راستہ لیا۔ملاقات چونکہ دوحہ سے روانگی پر ہی فون پہ طے ہو چکی تھی اس لئے صبح سویرے انہیں فون بھی نہ کیا سوچا ہمدم دیرینہ ہے میرے پہنچتے ہی بیڈ روم سے گیٹ تک دیر نہیں لگائے گا۔مقررہ وقت پر اس کے ہاں پہنچے،ڈور بیل دی۔اور ذرا گیٹ کی سائیڈ پہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے،جواب و شکل دونوں ہی ندارد پا کر ایک بار دو بار،سہ بار مسلسل بیل پہ ہاتھ دھرے رکھا،تھوڑا توقف کیا اور سوچ میں پڑ گئے خدایا کسی اور کے گھر تو دھاوا نہیں بول دیا۔چند قدم پیچھے ہٹے،گھر کے باہری حصہ کو غور سے دیکھا،ماسوا اس کے کوئی فرق نہ پایا کہ جب پچھلی بار تشریف آوری ہوئی تھی تو منڈیر پر کالا کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا،جس کی کہانی بھی الگ سے ہے۔کہ پچھلی بار میں نے یونہی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی کوّے کی کائیں کائیں شروع ہو گئی تو موصوف اپنا پسٹل لے کر نمودار ہوئے کہ آج یا کوا نہیں یا مہمان نہیں۔کیونکہ مجھ سے قبل کوئی چار بار کوّے نے کائیں کائیں کی اور چاروں مرتبہ مہمان آ وارد ہوئے اور میں پانچواں مہمان تھا۔صد شکر کہ اس بار کوّے کی جگہ ایک فاختہ تشریف فرما تھی ۔ایک بار پھر ہمت مجتمع کی اور ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ آنکھیں ملتے ہوئے چوکیدار کی شکل دکھائی دی،بھاری بھر کم آواز میں اس استقبالیہ کے ساتھ خوش آمدید کیا کہ اتنی صبح آن دھمکا ہے ،چین سے سونے بھی نہیں دیتے۔لو جی موصوف کیا یہاں تو چوکیدار تک سویا ہوا ہے۔نیم بند آنکھوں سے ہی ہمیں پہچانتے ہوئے دور سے ہی سلام کیا اور اسی ہاتھ سے اندر آنے کا بھی اشارہ فرما دیا۔ڈرائنگ روم کھول کے بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی،نہ چوکیدار،نہ دوست اور نہ کوئی چائے پانی،سب ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ،حالانکہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے نہیں ۔کوئی گھنٹہ بعد کام والی ماسی ڈرائنگ روم کی صفائی کرنے آئی تو ایسے ہی اسے پوچھ لیا کہ یہ چوکیدار کدھر ہے،پتہ چلا کہ سرکار نسوار کی چٹکی منہ میں دبائے پھر سے استراحت فرما رہے ہیں۔اچھا تو آپ کا صاحب ابھی اٹھا ہے کہ وہ بھی خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا ہے۔میرے لفظوں کا مطلب شائد ماسی کے پلّے نہ پڑا تھا ،جھٹ سے بولی کہ ہائے رے یہ صاحب نے گھر میں خرگوش کب سے پال رکھے ہیں مجھے تو خبر تک نہیں۔عافیت اسی میں جانی کہ پانی منگوا کر خشک آنتوں کو ذرا تر کر لیا جائے۔ماسی سے ممکن ہے تُو تُکار اور بھی چلتی کہ اتنے میں جعفری صاحب آن وارد ہوئے،نیم وا آنکھیں،سر کے بال جیسے کسی پرندے کا الجھا ہوا گھونسلہ ہو،منہ میں سگاراور جون ایلیا کو گالیاں ایک ساتھ دبائے آرہے تھے۔ہم جو بھوک کی شدت سے جلے بھنے بیٹھے تھے گویا چلا اٹھے کہ آپ کے ہاں کیا ناشتہ گالیوں سے ہوتا؟ملازم کو آواز دی اور باقاعدہ تھانہ انچارج کی طرح تفتیش شروع کردی کہ بتاؤ سب سے اچھا ناشتہ کہاں سے ملتا ہے۔بڑے میاں بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔فرمانے لگے کہ صاحب اس وقت تو ناشتہ کہیں سے بھی نہیں ملے گا کیونکہ یہ ناشتہ کا نہیں لنچ کا ٹائم ہے۔اسی میں غنیمت جانی کہ جو بھی گھر سے مل جائے فبھا۔ناشتہ میں چائے اور بسکٹ ہمارے مقدر میں لکھ دئے گئے۔بسکٹ کی شکل و صورت اور اڑی رنگت دیکھتے ہی انداز ہ ہو گیا کہ کچھ زیادہ عرصہ نہیں تو عرصہ چھ ماہ سے اس ادیب کے گھر کے کچن میں ذلالت و رسوائی کی صعوبتیں برداشت کر کے کہیں ہمارے لئے بچا ہے،اور چائے ،وہ بھی ’’منتشر‘‘یعنی دودھ الگ،چینی الگ،اور گرم پانی الگ،سب چیزوں کو جب میل ملاپ کے بندھن میں باندھا تو حاصل جمع ٹھنڈی چائے شکوہ کناں ہوا کہ جناب چائے تو گرم پلا دیتے بالکل ٹھنڈی ہے،عجیب منطقی جواب سے نوازا کہ دیکھو میری ایک بات پلے باندھ لو زندگی میں چائے ٹھنڈی اور ’’زنانی‘‘گرم ہو تو زندگی میں گرمی رہتی ہے۔ناشتہ کے حجم اور انداز سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ شاعرانہ ناشتہ ہے اور حکیم لق لق والا قصّہ بھی بالکل سچ لگنے لگا ،جس میں ایک شاعر کو شکائت قبض ہو گئی۔چند ایام گزرنے پر اس کو خیال آیا کہ کہیں یہ شکائت دائمی صورت اختیار نہ کر جائے۔فیصلہ کیا کہ کسی دانا حکیم سے مشورہ کیا جائے اپنے زمانے کے مشہور حکیم حاجی لق لق کے پاس پہنچے اور شکائت قبض کے بارے میں شاعرانہ عرض کی کہ حضور اس کا کچھ سدِ باب کیا جائے وگرنہ ’’باب ‘‘کے بند ہو جانے سے تو بادشاہیوں کے تخت بھی تاراج ہو جایا کرتے ہیں۔میں ٹھہرا شاعر پرُ تحقیر۔اور دانا لوگوں سے ہی سنا ہے کہ میاں قبض اور بلی کو شروع سے ہی پکڑ لینا چاہئے وگرنہ بڑے ہو کر دونوں ہی بہت تنگ کرتے ہیں۔حکیم صاحب نے خاص عنائت فرمائی اور دو عدد پڑیا مع کڑوا شربت مفت میں عنائت فرمادیں،پڑیا تو یوں توں کر کے زہر مار کر لیں مگر کڑوا شربت اپنے محبوب کتے کو پلا دیا جو کافی دنوں سے بھونکے جا رہا تھا۔میری شکائت تو دور نہ ہوئی البتہ کتے نے اس شربت پینے کے بعد بھونکنا بند کر دیا،ارے واہ کیا معجزاتی شربت تھا۔اگلے روز بھی جب مرض میں افاقہ نہ پوا تو پھر حکیم کے متھے جا لگا کہ حضور کچھ کریں مرض بڑھتا جا رہا ہے یوں یوں دوا کر رہا ہوں،الغرض دو،تین ،چار بار بھی جب پڑیا اور حبّ قبض کشا نے اپنا کام نہ دکھایا تو حکیم مارے پریشانی پوچھنے لگے کہ جناب رات کو کھانا کیا کھاتے ہو؟شاعر نے عرض کی جناب حکیم جانِ من ایک عرصہ ہوا کچھ اچھا مشاعرہ اور نہ مشاہرہ ملا،تو کیا ناشتہ اور کیا رات کا کھانا؟حکیم صاحب شہ نشیں سے اٹھے ایک پرانی سی ڈبیا سے چند روپے شاعر کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے فرمانے لگے کہ جاؤ میاں پہلے کچھ ’’کھا ،پی‘‘ لو تمھیں دوا کی نہیں خوراک کی ضرورت ہے،میاں پیٹ میں کچھ ہو گا تو باہر آئے گا۔ناشتہ کی ذلالت سے ابھی فارغ بھی نہ ہو پائے تھے کہ ادیب دوست فرمانے لگے کہ دیکھئے لنچ کے بغیر میں آپ کو واپس نہیں جانے دونگا۔اس ہرزہ سرائی پہ ایک اور بات یاد آ گئی،کہ خان صاحب آئے روز امام مسجد سے درخواست کرتے کہ مولوی صاحب دعا کیجئے کہ اللہ مجھے اولادِ نرینہ کی نعمت سے نوازے۔مولوی صاحب بھی ہر بار بڑی دلجمعی سے دعا فرماتے،دو تین سال گزر گئے تو ایک دن مولانا صاحب نے پوچھا کی خان بھائی آپ کی شادی کو کتنے سال ہو گئے ہیں تو خان صاحب شرماتے ہوئے جواب دینے لگے کہ
’’ماڑا شادی تو ابھی نہیں بنایا قسم سے‘‘لنچ کا سنتے ہی ٹرالی بیگ اٹھایا ،ٹیکسی پکڑی اور پیچھے مڑے بغیر کہ کہیں پتھر کا نہ ہو جاؤں سیدھا ائرپورٹ۔وہ دن اور آج کا دن موصوف کو کبھی اسلام آباد جا کر فون بھی نہیں کیا کہ کہیں پھر سے ناشتہ کی آفر ہی نہ کر دیں۔

جواب چھوڑ دیں