کشن گنگا ڈیم کی تعمیر، قصور کس کا

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خبر کہ “عالمی بینک نے بھارتی آبی جارحیت روکنے سے صاف انکار کردیا۔ عالمی ادارے نے کشن کنگا ڈیم کی تعمیر کے خلاف پاکستان کی شکایات اور شواہد کو ناکافی قرار دے کر مسترد کردیا۔ عالمی بینک نے کشن کنگا ڈیم سے متعلق پاکستانی وفد سے ہونے والی ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ عالمی بینک نے کشن گنگا ڈیم سے متعلق پاکستان کی شکایات اور تحفظات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے ضامن کی حیثیت سے عالمی بینک کا کردار نہایت محدود ہے، جس کی وجہ سے تنازع کے حل کے لیے پاکستانی وفد سے ہونے والی ملاقات بغیر اتفاق رائے کے ختم ہوگئی ۔ترجمان عالمی بینک کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد نے 21 اور 22 مئی کو عالمی بینک کی سی ای او کرسٹینا جورجیوا سے ملاقات کی اور بھارت کی جانب سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے تحفظات سے آگاہ کیا تاہم تنازعات اور اختلافات کے حل کے لیے عالمی بینک کا کردار نہایت مختصر ہے اس لیے یہ ملاقات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئی تاہم عالمی بینک پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا اور اپنی ذمے داریاں نہایت شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے نبھاتا رہے گا”

مجھے اس بات کا پورا پورا یقین ہے کہ پاکستان اس بری خبر کو سہنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان ٹوٹنے جیسے صدمہ کو جو ملک برداشت کر سکتا ہے اس کے سامنے یہ خبر “خراش” جیسی بھی نہیں۔

جو ملک ڈیم نہیں بنا سکتا اور ڈیم بنانے جیسے معاملے کو بھی دینی اور مذہبی معاملے جیسا سمجھتا ہو، صرف “کالاباغ” کا نام لینے پر ہی پورے پاکستان میں آگ لگ جاتی ہو وہاں اس کو اس بات کا حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے ملک میں تعمیر ہونے والے کسی ڈیم کو تعمیر ہونے سے روکے۔ جب تین چوتھائی صدی گزر نے کے بعد بھی کوئی ملک اپنے آبی ذخائر کو وسعت نہ دے سکے اس کو یہ حق حاصل ہی نہیں کہ وہ کسی اور کی راہ میں رکاوٹ ڈالے۔

ہم اقبالؒ کو حکیم الامت تو ماننے ہیں لیکن اس سے نہ تو حکمت سیکھنے کیلئے تیار ہیں اور نہ ہی دوا لینے کے قائل ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ نے جو جو بھی حکمت کی باتیں مسلمانوں کے دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش کی وہ مسلمانوں کے سروں سے آج تک کئی کئی گز اوپر سے گزر جاتی ہیں البتہ دنیا اور خاص کر بھارت نے ان حکیمانہ باتوں کو نہ صرف اچھی طرح سمجھ لیا ہے بلکہ وہ عملاً بھی ہم سے بہت آگے چلا گیا ہے۔

مجھے وہ دور بھی یاد ہے جب ہمارا “روپیہ” بھارت کے روپے سے دو گنا بڑا تھا۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب پاکستان میں آٹا 16 روپے من تھا تو بھارت میں 40 رپے من تھا اور نوجوانی کا وہ دور بھی یاد ہے جب میں اپنی کرکٹ کی پوری ٹیم کو ایک روپے میں چائے پلادیا کرتا تھا جبکہ بھارت میں ایک روپے میں بمشکل ایک کپ چائے ملا کرتی تھی۔

معاملہ بالکل ہی برعکس ہو چکا ہے، زمین کو بہت گہرائی کے ساتھ کاٹ کر آسمان تک اٹھایا گیا ہے، پھر پلٹا گیا ہے اور پھر دوبارہ زمین پر پٹخ دیا گیا ہے۔

اقبالؒ کا فرمان ہے “ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات”۔ یہ ایسی سچی بات ہے جس کو جھٹلانا اتنا ہی نا ممکن ہے جس طرح دن کو دن نہ ماننا اور رات کو رات تسلیم نہ کرنا۔ ہم اب اتنے ضعیف اور کمزور ہو چکے ہیں کہ کبھی اپنی شکایات ایم ایف کے پاس لیجانی پڑتی ہیں، کبھی ماسکو بھاگنا پڑتا ہے، کبھی اقوام متحدہ میں دوہائیاں دینی پڑتی ہیں اور کبھی منہہ اٹھا کر چین کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔

میں معترف ہوں اس بات کا کہ مجھے نہیں معلوم “سندھ طاس معاہدہ” کیا ہے۔ اس کی ٹرمس کنڈیشنز کیا کہتی ہیں لیکن یہ معاہدہ جن جن کے درمیان ہوا گا اور جو بیچ کا “بِچولا” بنا ہوگا ان کے پاس اب تک ان کی کاپیاں موجود ہونگی۔ وہ تمام ذمہ داران جو پاکستان کے مقدمے کو آئی ایم ایف لیکر گئے ہونگے وہ معاہدے کو سامنے رکھ کر ایسے تمام ضروری شواہد اپنے ہمراہ لیجانے میں کیوں ناکام ہوئے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے ان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے رد کردیا۔ جو لوگ ایسے ایسے سنجیدہ معاملے کیلئے کروڑوں روپے خرچ کرکے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے جاتے ہیں کیا محض اپنا “ٹی اے ڈی اے” بنانے اور عیاشی کرنے جاتے ہیں؟۔ کیا ناکامی کی صورت میں ان کا مواخذہ ہوتا ہے یا رات گئی بات گئی کہہ کر فائل بند کردی جاتی ہے؟۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا، کئی اہم معاملات پر اسی قسم کی ناکامیاں پاکستان کا منہہ چڑاتی رہی ہیں لیکن مجھے یاد نہیں کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ فعل پر کسی کا احتساب ہوا ہو۔

بہت سامنے کی بات ہے، جب دریا پورے جاہ و جلال کے ساتھ بہتے ہوئے ملین آف ملین مربع ایکڑ پانی کے حساب سے سمندر میں گر رہا ہوگا اور ہم ڈیم بنانے کو “خلاف شرع” قرار دے بیٹھے ہونگے اور اسی طرح تین چوتھائی صدی گزر جائے گی تو پڑوسی ملک کیلئے اپنے علاقے میں ڈیم بنانے کا جواز ہم خود ہی فراہم نہیں کر رہے ہونگے؟، تو کیا بھارت کیلئے آئی ایم ایف کے سامنے اتنا ہی کہنا کافی نہیں رہا ہوگا کہ ملین آف ملین مربع ایکڑ پانی کے زیاں سے کیا یہ بات بہتر نہیں کہ اسے محفوظ بنالیا جائے؟۔

یہ کالا باغ بھی کچھ ایسا سیاہ بخت ہے کہ جب جب بھی پاکستان میں “کالا باغ” ڈیم کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے، پاکستان کے تین صوبوں میں آگ لگ جاتی ہے اور یوں یہ معاملہ ٹھپ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے تین صوبے ایک سے لیکر ایک لاکھ تک بھی اس کو تعمیر ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ بات صحیح ہے یا غلط، لیکن کبھی کسی حکومت اور کسی حاکم نے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی کہ آخر صوبے آبی ذخیرے کی تعمیر کے کیوں مخالف ہیں؟۔ کوئی توبات ان کے ذہن میں ہوگی کہ جو مخالفت کا سبب ہوگی؟، لیکن کوئی اس اہم مسئلے کیلئے سنجیدہ ہوگا تو ایک دوسرے کو سنے گا۔ اول تو ایک دوسرے کو سننے کیلئے، ان کی رائے کو جاننے کیلئے یا ان کے خدشات کو دور کرنے کیلئے کوئی تیار ہی نہیں ہوتا دوسری جانب یہ رویہ بھی سامنے ہے کہ اگر کوئی کام کرگزرنا ہو تو وہ بغیر رائے جانے اور بغیر پوچھے گچھے کر گزرا جاتا ہے۔ کوئی مجھے یہ بتائے کہ اس سے قبل جتنے بھی ڈیم بنائے گئے کیا عوام یا صوبوں سے پوچھ کر بنائے گئے تھے؟۔ اسی طرح کالاباغ کو بھی بنا لینا چاہیے تھا لیکن لگتا ہے جب کسی کام کو نہ کرنا ہو تو اس کو عوامی رائے پر چھوڑدیا جاتا ہے اور جب کوئی منصوبہ سیاست کی نذر ہوجائے تو پھر وہ منصوبہ اسی طرح تعطل کا شکار ہوجایا کرتا ہے۔

بہر صورت آئی ایم سے بات چیت ناکام ہو چکی ہے، بھارت کا سینہ مزید چوڑا ہوچکا ہے، اس کے راستے کی آخری قانونی و بین الاقوامی رکاوٹ بھی دور ہو چکی ہے، ہمارےخارجی تعلقات پہلے ہی بہت ناگفتہ بہہ ہیں ایسے میں اب پاکستان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں علاوہ یہ کہ وہ متبادل حل ڈھونڈے ورنہ زمینیں بنجر ہوجانے سے پاکستان کو بچانا بہت مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جائے گا۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں