فاٹا انضمام بل اور خدشات

فاٹا انضمام بل پاکستان کے تقریباً تمام بڑے ایوانوں سے منظور ہو گیا ہے۔ اب صرف اس پر بھرپور قانون سازی کی ضرورت ہے جس پر اب نئی قانون ساز اسمبلیاں کام کریں گی۔

یہ انضمام پاکستان کے حق میں کتنا اچھا اور افغانستان کے حق میں کتنا برا یا بہتر ہے اس بات کو تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا لیکن مجھے لگتا ہے پاکستان کی سیاست اور ریاست، دونوں کے لئے کچھ نئی کہانیاں اور مشکلات کا باعث ضرور بنے گا۔

یہاں سوچنے کی بات یہ ہے جو علاقے 70 برس سے پاکستان میں ہوتے ہوئے بھی باقائدہ پاکستان میں شامل نہیں تھے تو اس کی پس پشت پر یقیناً بہت گہری وجوہات رہی ہونگی اور اب جو قدم دو تہائی صدی سے زیادہ گزرنے بعد عین اس وقت اٹھایا جارہا جب موجودہ حکومت کے ختم ہونے میں ایک ہفتہ بھی نہیں بچا تو کیا اس کے نتائج مستقبل میں اتنے ہی خوش کن ہونگے جتنے کی توقع کی جارہی ہے؟۔

آج سے تقریباً پانچ چھ سال قبل کا وہ وقت بھی مجھے یاد ہے جب صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا رکھا گیا تھا۔ کراچی سے خیبر تک جہاں جہاں پختون آباد تھے وہاں وہاں کئی کئی دن تک جشن منایا گیا تھا لیکن مجھے ایسا منظر فاٹا انضمام کے فیصلے کے بعد پاکستان میں کسی مقام پر نظر نہیں آیا جبکہ پاکستان اور خصوصاً کراچی میں ایک بہت بڑی تعداد پختونوں اور پختون قائلیوں کی آباد ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ فاٹا کو پاکستان میں ضم کرنے کا سب سے زیادہ مطابہ کے پی کے کی جانب سے کیا گیا تھا اور پھر ان کا یہ مطالبہ پاکستان میں موجود ہر کمینٹی نے اپنا مطالبہ بنا کر سارے بڑے ایوانوں سے بھاری اکثریت سے منظور بھی کرالیا لیکن اس کے باوجود پورے پاکستان میں کہیں بھی جشن کا وہ سما دیکھنے میں نہیں آیا جو صوبہ سرحد کو خیبر پختون خواہ کا نام دیئے جانے پردیکھنے میں آیا تھا اور خاص طور سے پخنون برادری کی جانب سے تو ذرہ برابر بھی کسی خوشی کا کوئی اظہار کیا ہی نہیں گیا۔ یہ سارے اشارے اس بات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ اس انضمام کو عوامی نمائندوں میں تو ضرور مقبولیت حاصل رہی ہوگی لیکن اگر اس کو عوامی امنگوں کا ترجمان کہا جارہا ہے تو شاید یہ بات بہت درست نہیں۔

یہ وہ علاقہ جات ہیں جس کو پاکستان کے بانی، بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی اسی طرح آزاد و خود مختار قرا دیا تھا اور ان علاقوں اور ان میں آباد جوانوں کو پاکستان کے محافظوں کا نام دیا تھا۔ 70 سال کے بعد ان کو باقائدہ پاکستان کے آئین و قانون کے تابع بنائے جانے کا یہ اقدام کیوں اٹھانا پڑا اس کا جواب یا تو وقت دیگا، یا انضمام کے حق پر سب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے والی قوت دے گی یا پھر تاریخ ہی اس کا فیصلہ کرے گی لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ خوش کن قدم پاکستان کی سیاست اور ریاست کیلئے کئی تنازعات اور الجھاؤ میں اضافے کا سبب ضرور بنے گا جس کا آغاز کل کے مظاہروں کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ بظاہر یہ سب کچھ پاکستان کے عوام کی امنگوں کا ہی مظہر نظر آرہا ہے کیونکہ یہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی واضح اکثریت نے بنا کسی “دباؤ” قبول کیا ہے لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اس میں فاٹا کے عوام کی رائے کا کوئی عمل دخل نہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ فاٹا کے سارے نمائندے اس میں شریک تھے تو کیا یہ مان لیا جائے کہ وہ ان کے حقیقی نمائندے تھے؟۔ جو علاقہ پاکستان کے قانون کے دائرے میں ہی نہیں ہے ان علاقوں کے چنے ہوئے افراد کو کس طرح شفافیت کا درجہ دیا جا سکتا ہے؟، یہ بات عقل و فہم سے دور کی بات لگتی ہے اور جب ان کے چناؤ میں شفافیت ہی آلودہ ہو تو پھر ان کی جو بھی رائے ہو اس کو کس طرح حق اور سچ سمجھا جا سکتا ہے۔

معلوم نہیں کیوں پاکستان نے فاٹا میں استصواب رائے سے اجتناب کیا۔ کیا عوام سے رائے لینا غلط ہے؟، کیا وہاں کے افراد پر اعتبار نہیں کہ وہ پاکستان کے حق میں اپنی رائے استعمال کریں گے؟۔ دنیا بھر میں اس قسم کے سارے فیصلے استصواب رائے کے بعد ہی کئے جاتے ہیں۔ کیا پاکستان کے وجاود میں ۤآنے کا سبب بھی استصواب رائے ہی نہیں تھا؟۔ کیا دیگر بہت سارے علاقے، ریاستیں جو برطانیہ کی حکومت سے باہر نکل آئے وہاں استصواب رائے کا عمل دخل نہیں تھا؟۔ اگر پاکستان اپنے ہی علاقہ مکینوں سے استصواب رائے طلب کرنے سے گریز کرتا ہے تو پھر مقبوضہ کشمیر میں “حق رائے دہی” کا پاکستان کا مطالبہ کیوں کر وزنی ثابت ہو سکتا ہے؟۔

رہی یہ بات کہ پاکستان کی اسمبلیوں نے اس کی منظوری دیدی ہے کہ تو کیا 2018 کے بعد اگر ایسی حکومت بن گئی اور خاص طور سے خیبر پختونخوا کی حکومت، جو اس انضمام کے خلاف ہو تو کیا اس بل پر مزید قانون سازی کا عمل آگے بڑھ سکے گا؟۔

یہاں تھوڑا سا اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ فاٹا کے علاقوں کا پس منظر ہے کیا اور یہ آزادی سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد 70 سال تک کس قانون کے تحت “ازاد”ہی رہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تقسیم ہند کے بعد بہت سارے علاقے خوامخوا آزاد یا متنازع رہے ہوں اور تاحال وہ تنازعات کا شکار ہی ہوں۔ ان آزاد اور متنازع علاقوں کی بھی کچھ نہ کچھ وجوہات ہونگی اور یقیناً اس میں کسی نہ کسی قانون یا معاہدات کا عمل دخل ضرور ہوگا۔ فاٹا بھی اگر آزاد قبائلئ علاقاجات کے نام سے موسوم رہا ہے تو وہ بھی بلاجواز تو نہیں رہا ہوگا۔ اگر اس کے پیچھے کچھ رکاوٹیں یا الجھنیں تھیں جو اب تک انضمام میں مانع تھیں تو پھر پہلے ان الجھنوں سے اپنے آپ کو الگ کرنا میرے نزدیک سارے فیصلوں سے پہلے ضروری تھا۔ نیز یہ کہ اگر یہ علاقے قانونی طور پر پاکستان ہی کا حصہ تھے تو پھر اسمبلیوں سے کسی بھی قسم کا بل منظور کرانا ضروری کیوں سمجھا گیا؟۔ پاکستان میں تو اور بھی آزاد ریاستیں تھیں جس میں ریاست بہاولپور اور کالاباغ جیسے علاقے بھی شامل تھے، کیا ان کیلئے بھی بل کی ضرورت پڑی؟، یہ علاقے اپنی مرضی و منشا سے پاکستان میں شامل ہوئے تو پھر ان قبائلی علاقوں نے پاکستان میں از خود شمولیت اختیار کیوں نہیں کی؟۔ یہ اور اسی طرح کے بہت سارے سوالات ہیں جو تاحال تشنہ لبی کا شکار ہیں اور یہی تشنہ لبی آنے والے دنوں میں پاکستان کیلئے کئی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے یا فاٹا کی تاحال قانونی حیثیت کے ریشے آج سے  139 برس قبل 26 مئی 1879 کےگندمک معاہدے سے جاملتے ہیں۔ جسے افغانستان میں ’د گندمک تڑون‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔پہلی افغان – انگریز جنگ (1839 –  1842) میں شکست کے بعد دره خیبر اور کوئٹه کے راستے افغانستان پر دوباره چڑھائی کرنے کے بعد برطانوی راج نے  کابل کے حکمران شاه محمد یعقوب خان کے ساتھ معاہده کیا، جس کے تحت افغانستان پر تو ان کی حکمرانی تسلیم کر لی گئی تاہم کئی سرحدی علاقے افغانستان کے کنٹرول سے چلے گئے۔ افغان تجزیه نگار محمد عاشق الله نے ڈی ڈبلیو کو بتایا که اسی ’د گندمک تڑون‘ کے تسلسل میں برطانوی راج نے سابقه شمال مغربی سرحدی صوبے NWFP  بشمول میانوالی اور اٹک اور قبائلی علاقے کا کنٹرول افغانستان سے ضبط کر لیا تها: ’’اس سند کے مطابق ہی 1893 میں ڈیورنڈ لائن کھینچی گئی اور متحد ہندوستان سے برطانیه کے انخلا کے بعد اور پاکستان کے قیام کے بعد افغانستان میں کمزور حکومت کے باعث یه ایک بارڈر کے طور پر موجود رہی اور اس کے قریبی علاقے فاٹا دیگر پاکستان کے برعکس ایک خاص حیثیت میں رہے جبکه وہاں سے قبائلی عمائدین، طلبا اور تاجر آزادانه طور پر افغانستان آتے جاتے رہے۔‘‘

شمالی علاقہ جات کے انضمام کے فیصلہ پر کابل میں ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ “ڈیورنڈ لائن کے ساتھ واقع علاقوں کی سیاسی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کے حوالے سے پاکستانی حکام کو اپنی تشویش سے بارہا آگاہ کیا گیا ہے۔ افغان ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان مشاورت کے بغیر ان علاقوں کی سیاسی اور فوجی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی برٹش انڈیا اور افغانستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا سینٹ اور قومی اسمبلی دونوں نے ملک کے قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا بل بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے”۔

افغانستان کا استدلال اپنی جگہ تاہم پاکستان نے فاٹاانضمام سے متعلق افغانستان کا اعترض مسترد کردیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ عوامی امنگو ں کے عین مطابق ہے۔ترجمان کا مزید کہنا تھاکہ پاکستان کسی بھی ملک کے ذاتی فیصلے میں عدم مداخلت پر یقین رکھتا ہے جب کہ افغانستان کا عدم مداخلت کے اصولوں پر عمل نہ کر نا انہایت افسوس ناک ہے۔

تمنا تو یہی ہے کہ اٹھایا گیا قدم پاکستان کیلئے خوش کن ثابت ہو لیکن جو قوم کالاباغ ڈیم بنانے کے مسئلے کو دینی اور شرعی مسئلہ بنا دیتی ہے اس سے کسی اچھائی کی توقع رکھنا مجذوب کی بڑکے سوا اور کچھ نہیں۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں