منقاریں اور پنجے تیز کرنے پر اتفاق

پاکستان کی آبادی کہنے کو تو 22 کروڑ ہے لیکن ان بائیس کروڑ میں کوئی ایک بھی اس لائق نہیں جس کو چند دنوں کیلئے ملک کے کسی اہم عہدے پر بنا کوئی انگلی اٹھائے متمکن کر دیا جائے۔ سب سے زیادہ افسوسناک اور درد انگیز بات یہ ہے کہ وہ ملک جس کو بنایا ہی اسلام کے نام پر گیا تھا اور جس مقصد کیلئے لاکھوں فرزندان اسلام نے اپنے جانیں، عزتیں، آبروئیں اور تن من دھن لٹا دیا تھا اس قبیل (اسلام کا دین رکھنے والا) کا ایک فرد بھی اس قابل کبھی نہیں سمجھا گیا کہ بے شک وہ عوامی مقبولیت نہ رکھنے کی وجہ سے “منتخب” عوامی نمائندہ نہ کہلاسکتا ہو لیکنچند ہفتوں کے لئے ہی سہی، اسے نگراں وزیر اعظم یا اس کی کابینا کا ممبر بنایا جا سکے۔ پاکستان میں مذہبی اسکالر گنوں تو جو بھی پتھر پلٹا جاتا ہے اس کے نیچے سے ایک مذہبی اسکالر نکل آتا ہے۔ چلو یہ مان لیا جائے کہ علما کے ساتھ مسالک کا الجھاؤ ہے تو کیا پاکستان میں لاکھوں حاضر اور لاکھوں ریٹائرڈ اساتذہ و پروفیسرز میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ ملک کی نگرانی اس کے سپرد کردی جائے؟۔ غریب طبقے والے تو قابل سے قابل بھی جاہل ہی تصور کئے جاتے ہیں لیکن متوسط طبقے میں سے بھی کسی کو یہ اعزاز حاصل نہیں کہ اسے پاکستان میں کوئی مقام حاصل ہو۔ یہ سارے مقامات، اعزازات، تعظیم اور بڑائی ملک کے ان لوگوں کو حاصل ہے جو اپنے اپنے عہدوں پر بیٹھ کر اپنے اپنے شعبوں میں کبھی کوئی ایسا کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہی نہ ہوئے ہوں جس کو دنیا میں تو دور کی بات پاکستان میں بھی پاکستانی عوام کے سامنے فخر کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہو کہ یہ ہیں وہ افراد جو پاکستان کی عزت و شرف میں چار چاند لگا کر اپنے عہدوں سے فارغ ہوکر ایک عام شہری کی طرح عوام کے درمیان اپنی گوشہ نشینی کی زنگی گزار رہے ہیں، بازاروں میں ان کے نوکر چاکر نہیں وہ خود خریداری کرنے جاتے ہیں، کسی غریب خوانچہ فروش سے اشیائے ضروریہ خریدتے ہیں، کسی چھولے والے سے چھولے کھاتے ہیں، کسی موچی کا دکھ درد معلوم کرنے کے بہانے اس سے اپنے بوٹ پالش کراتے ہیں، سردی کی راتوں میں تکیے اور کمبل لیکر نکلتے ہیں اور فٹ پاتھ میں سردی کے مارے ٹھٹر کر گٹھڑی بن جانے والوں کو تکیے اور کمبل بانٹ رہے ہوتے ہیں۔ جب گھر سے اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے جاتے ہیں تو راستے میں بسوں کے انتظار میں کسی غریب کے بچے بچی کو اٹھا لیتے ہیں۔ وہ کونسے ایسے کام ہیں جو وجہ امتیاز و فخرو غرور ہیں جن کی وجہ سے انھیں اسلامی جمہوریہ پاکستان یہ عزت و شرف بخش رہا ہے کہ ایک آسمان سے اٹھا کر انھیں ایک اور آسمان تک پہنچانا چہاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بہت قابل افراد ہوتے ہونگے جن کو نگرانی کیلئے منتخب کیا جاتا ہوگا۔ بہت بڑے وکیل ہوتے ہوں ہونگے، جج ہوتے ہونگے، بیوروکریٹ ہوتے ہونگے اور نہ جانے کیا کیا ہوتے ہوں کے لیکن کوئی یہ بات کبھی نہیں بتاتا کہ انھوں نے اپنے اپنے عہدوں کے ساتھ کیا کیا انصاف کیا ہوگا یا وہ کونسا نمایاں کام انجام دیا ہوگا جس کو پاکستان کی تاریخ میں کچھ اس طرح لکھا جا سکے کہ یہ ان ہی کی ذات کا خاصہ کہلائے۔

جب کوئی آئین و قانون ہی نہ ہو تو کچھ بھی روبہ عمل ہوسکتا ہے۔ جس ملک میں کرسیاں بچانے کیلئے ایک ایک دن آئین و قانون میں بیسیوں ترامیم کی جاسکتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ نگراں حکومت بنا کا کوئی کلیہ و قائدہ نہ بنایا جا سکا۔ اگر کوئی طے شدہ فارمولا بنا ہوا ہو تا تو لمبی لمبی مشاورتیں کس لئے کی جاتیں۔ ہر کام اپنے مقرہ وقت پر خود بخود عمل میں آجایا کرتا۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ نگراں حکومت جو چند ہفتوں کیلئے وجود میں لائی جاتی ہے اس کی مشاورت بھی وہی لٹیرے کر رہے ہوتے ہیں جن کو حکومت کے دورانیے میں ہر طبقہ فکر کی جانب سے گالیوں کے علاوہ اور کچھ نہیں پڑرہا ہوتا۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، ہر طبقہ چاہتا ہے کہ جو جو بھی نگراں سیٹ اپ کا حصہ بنے وہ اس کے مطلب کا فرد ہونا چاہیے۔ یہ سوچ کس جانب اشارہ کرتی ہے؟، یہی ناں کہ نگراں حکومتیں کبھی بھی غیر جانب دار نہیں ہوتیں بلکہ امتیازی رویوں کی حامل ہوتی ہیں۔ جب کرپشن کا آغاز انتخابات سے قبل ہی ہوجائے تو پھر اس کے نتائج کیا ہونگے؟۔ یہی وجہ ہے کہ خواہ الیکشن کمیشن، اس کے اہل کار، نگراں حکومت اور اس کی ٹیم کے ممبران، وہ ادارے جو لاانفورسمنٹ سے تعلق رکتے ہیں، وہ عملہ جو ٹھیک الیکشن کے دن حساس ساز و سامان لیکر جاتا ہے، سب کے سب شفافیت سے عاری و بیگانہ ہیں۔ جس ملک کے حکمران، اعلیٰ افسران، نگران، لاانفورسمنٹ کے ادارے، اس معیار پر ہی پورے نہ اترتے ہوں اور ان کا ذاتی یا اجتماعی کردار ہی اس عمل و تعلیمات کے خلاف ہو جس مقصد کیلئے یہ ملک وجود میں آیا تھا ان سب سے یہ توقع رکھنا کہ وہ صاف و شفاف انتخاب کا انعقاد کراکے ایسے لوگوں کو منتخب کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے جو “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کے نظریے سے ہم آہنگ و ہم رنگ اذہان کے حامل ہونگے، یہ بات دیوانے کے خواب کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہو سکتی یہی وجہ ہے کہ بعد از انتخابی نتائج پورے ملک میں ایک ہنگامہ برپا رہتا ہے اور ہر آنے والی حکومت اپنے پورے دورانیے میں تادیبی کارروائیوں سے باہر نکل ہی نہیں پاتی۔

سناہے ان سارے گھڑ پیچوں نے جو پانچ برسوں تک ایک دوسرے کو بھیڑیوں کی طرح نوچتے اور گھسوٹتے رہے، ایک دورے پر تبرے بازی کرتے رہے، ایک دوسرے کو ملک کا غدار کہتے رہے، ایک دوسرے کو نااہل قرار دیتے رہے اور ایک دوسرے کے منہ پر اون لائن لاتیں گھونسے مارتے رہے انھوں نے “باہمی مشاورت” سے نگراں وزیر اعظم اور نگراں حکومت بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ خبر کے مطابق سابق چیف جسٹس ناصرا لملک کو نگراں وزیراعظم مقرر کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ان کے نام کا اعلان کیا، اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک کے جمہوری دور میں ایک اہم دن ہے جس کے لیے 6 ہفتے سے مذاکراتی عمل چلتا رہا اور ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا ہے جس کا ماضی سب کے سامنے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعظم کا فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا،ہر نام پر غور کے بعد ناصرالملک کے نام پر اتفاق رائے ہوا جس پر کوئی شخص انگلی نہیں اٹھا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور ان کی جماعت کا شکرگزار ہوں۔ اس موقع پر قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ کہا جاتا رہا کہ سیاستدان خود فیصلے نہیں کرتے، خوشی ہے کہ ایک بارپھر ہم اپنے جمہوری 5سال پورے کررہے ہیں، سب لائق اور قابل احترام ہیں۔انہوں نے کہا کہ ناصر الملک نگراں وزیر اعظم ہوں گے، امید ہے کہ اللہ انہیں جذبہ دے گا کہ وہ شفاف، غیرجانبدار اور آزادانہ انتخابات کرائیں گے، یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم الیکشن ہوگا۔اپوزیشن لیڈر کامزید کہنا تھا کہ امید ہے آنے والا وقت ہمیں چیلنجز سے نمٹنے کی توفیق دے گا، جو بھی جماعت انتخابات جیت کر آئے گی وہ نئے جمہوری دور کا آغاز کرے گی۔دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر مملکت آصف علی زرداری ‘ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ‘عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یارولی ‘ محمود خان اچکزئی ‘ شیخ رشید ‘پرویز مشرف اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

دیکھا آپ نے جو پورے 5 برس تک ایک دوسرے کی کپڑے اتارتے رہے، ایک دوسرے پر رکیک حملے کرتے رہے، پگڑیاں اچھالتے رہے، ایک دوسرے کو ملک دشمن قرار دیتے رہے، نااہل کہتے رہے اور نااہل قرار دینے کیلئے ہر ادارے کا در کھٹکھٹاتے رہے اور مغلظات بکتے رہے کیسے ایک دوسرے سے شیروشکر ہوگئے؟۔ کیوں؟، محض اس لئے کہ اگر نگراں حکومت نہیں بنی تو الیکشن کا انعقاد خطرے میں پڑجائے گا اور اگر الیکشن نہ ہوسکے تو ان کی “روزی روٹی” کا کیا بنے گا۔ اس ایک بات کے علاوہ اگر کوئی اور نقطہ ہے تو میں قارئین سے کہونگا کہ وہ اس کی نشاندہی ضرور کریں۔

جب ملک کے وہی سارے کے سارے گدھ جنھوں نے ملک میں لوٹا ماری اور نوچ گھسوٹ کے علاوہ اور کوئی کارنامہ انجام ہی نہ دیا ہو وہ اچانک ایک میز پر بیٹھ کر خوش دلی کے ساتھ ایک فیصلہ پر متفق ہوجائیں تو یہ بات اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ وہ پاکستان کو ایک (معذرت کے ساتھ) مردار کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھتے جس کو ابھی مزید نوچنا باقی ہے۔

ایسا سب کچھ کیوں ہوتا ہے؟، محض اس لئے کہ ہم آج تک کوئی ایسا مربوط نظام بنانے میں کامیاب ہی نہیں ہو سکے جس کے ہوتے ہوئے اس قسم کے کام از خود یعنی خود کار طریقے سے انجام پاجائیں۔ جب تک کوئی نظام قانون کے کے دائرہ اختیار میں نہیں لایا جائے گا وہاں عوام کے سر پر اسی طرح کے گدھ منڈاتے رہیں گے اورعوام کی قسمتوں کے مالک بنے رہیں گے۔

مجھے احساس ہے کہ میرا آج کا لہجہ زیادہ ہی تلخ ہے۔ کسی کو اگر یہ تلخی گراں گزری ہو تو میں غالب کا یہ شعر اس کی خدمت میں عرض کرکے اجازت اور معذرت کا خواستگار ہونگا کہ

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں