شمشیر و سناں اول

                ایک امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا۔ متعد اسلامی ممالک نے اسے فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ امریکہ نے کہا کہ یہ پائیدار امن کیلئے ضروری ہے۔ مسلم ممالک نے کہا کہ اس فیصلے سے جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں گے۔ کوئی ذرا اس فرق کو بھی دیکھے کہ ایک امریکہ نے کسی سے پوچھے بغیر، کوئی اجلاس بلائے بغیر اور دنیا کے کسی بھی ملک سے رائے لئے بغیر پوری دنیا کے سامنے کھل کر اعلان کیا کہ بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہوگا۔ دوسری جانب 57 اسلامی ممالک کی تنظیم دنیا سے اپیل کر رہی ہے کہ ”دنیا“ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ شاید اسی موقعہ کیلئے کہا گیا ہے کہ

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

                کسی محلے میں کوئی گھر ایسا ہو جس میں کچھ ایسی حرکتیں ہو رہی ہوں جو معاشرے میں ناپسندیدہ سمجھی جاتی ہوں ہوں، اخلاق باختہ ہوں یا تخریب کارانہ ہوں تو اس گھر کے اروگرداڑوس پڑوس اور اہلِ محلہ کا ایسی حرکتوں پر آواز بلند کرنا اور ایسی حرکتوں کی حوصلہ شکنی کرنا ان پر فرض ہوتا ہے یا نہیں؟۔ لیکن اہل محلہ سوتے رہیں، اس گھر کی ایسی کسی حرکت کا کوئی نوٹس ہی نہ لیں اور بھنگ پی کر سو رہیں تو بے شک دنیا کتنا ہی شور مچائے اس گھر والوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے کا۔ ممکن ہے کہ دنیا اڑوس پڑوس کے گھر والوں کو ہی نہیں اہل محلہ کو بھی ان کا سہولت کار قرار دے کر اپنی کارروائی کا نشانہ بنا ڈالے۔ کسی ظلم کے خلاف خاموشی بھی تو اتنا ہی بڑا جرم شمار ہوتا ہے جتنا اُس ظالم کا جو کسی معصوم کے ساتھ کررہا ہو۔

                اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں کوئی بھی ایسی حرکت جو خلاف اسلام ہو، مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہو یا ان پر زیادتی کے زمرے میں آتی ہو تو دنیا کے تمام مسلمانوں پر یہ بات فرض ہوجاتی ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس ظلم، زیادتی یا امتیازی سلوک کے خلاف دنیا بھر میں نہ صرف احتجاج کریں بلکہ جب تک حالات معمول پر نہ آجائیں اس وقت تک سینہ سپر رہیں لیکن اس بات سے بھی تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو مسلمان بیدار ہونے کیلئے اور ظلم کو ظلم ماننے کیلئے تیار ہی نہ ہوں اور ہنوز دلی دور است کا ورد کرتے ہوئے خواب غفلت میں ہی پڑے رہنا چاہتے ہوں تو کیا ان کی اس غفلت پر بھی کسی کے لب پر کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں کرنی چاہیے؟۔

                اسرائیل کے اطراف میں کوئی ایک آدھ ملک ہو تو پھر بھی بات قابل معافی تصور کی جاسکتی ہے لیکن جہاں بیسیوں ممالک اور کروڑوں عرب مسلمان اسرائیل کے اطراف موجود ہوں وہاں اسرائیل کی اتنی جرات ہو کہ وہ جب چاہے عربوں کو مغلوب کرلے اور جب چاہے اڑوس پڑوس کے عرب ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو اذیت میں مبتلا کردے اور کوئی ایک ملک بھی اس کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کی ہمت نہ کر سکے تو پھر بے شک دنیا لاکھ اسرائیل کی مذمتوں پر مذمتیں کرتی رہے، اسرائیل کا بال بیکا تک نہیں کیا جاسکتا۔

                ستاون اسلامی ممالک کس دنیا سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ امریکہ کو مجبور کریں کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردینے کا فیصلہ واپس لے اور پائیدار امن کیلئے بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کرے۔ کیا “57” اسلامی ممالک اس ”دنیا“ کا بتانا بھی پسند کریں گے جس سے وہ درخواست گزار ہیں؟۔ کبھی اِن 57 ممالک نے اس بات پر بھی غور کیا کہ ”ایک“ امریکہ کس اساس پر یہ فیصلہ کر رہا ہے کہ اسرائیل کا دارالحکومت بیت المقدس ہوگا اور وہ کیا کمزوری ہے جس کی بنیاد پر 57 اسلامی ممالک ”دنیا“ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست گزار ہیں کہ خدا کیلئے امریکہ کو اس اقدام سے باز رکھنے کی کوشش کریں؟۔ اس کا جواب صرف اور صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

                ایک امریکہ یہ فیصلہ اس لئے کرسکتا اور منواسکتا ہے کہ اس کے پاس طاقت اور وسائل ہیں۔ اور 57 اسلامی ممالک اس لئے دنیا کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں کہ وہ سارے کے سارے بے پناہ وسائل رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو ”طاقت“ بنانے کیلئے تیار نہیں۔ علامہ اقبال نے کتنی سچی بات کہی ہے کہ

آ تجھ کو بتاوں میں تقدیر امم کیا ہے

شمشیر و سناں اول طاوس و رباب آخر

                دنیا بھر کے مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا سبب یہی ہے کہ انھوں نے ”شمشیر و سناں“ کا درس بھلاکر ”طاوس و رباب“ کو اوڑھنا بجھونا بنالیا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ بات الم نشرح ہوجائے گی کہ ہم پھر مغلیہ دور کے اس آخری دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں تلواریں میان میں رکھ دی گئی تھیں اور جام و جم کی محفلیں سجادی گئی تھیں۔ تحقیق و جستجو ختم ہوگئی تھی اور ایک سے ایک خوبصورت اور منفرد عمارت بنانے کا سودا سر میں سما گیا تھااور یہ شوق ان کی تباہی و بربادی و ہلاکت کا سبب بنا۔ آج بھی وہی دور لوٹ کر آگیا ہے۔ جس عرب ملک کی جانب نگاہ دوڑائی جائے ہر جانب ایک سے ایک بلند و بالا عمارت بنانے کا خبط سوار ہے لیکن کسی کو اس بات کی فکر نہیں کہ دشمن کے خلاف وہی ہتھیا و اسباب بہم کریں جو دشمن کے پاس ہیں بلکہ اس سے بھی سوا کریں تاکہ دشمن کو دھمکایا جا سکے۔ یہ سارے اسباب خرید کر نہیں حاصل کئے جاسکتے۔ جو ملک آپ کو ہتھیار دیگا وہ کبھی آپ کو اتنا طاقتور دیکھنا پسند نہیں کرسکتا کہ کل آپ اس کو آنکھیں دکھا سکیں اور اس کیلئے بلائے جان بن سکیں۔ اس کے دیئے ہوئے ہتھیار اس کے مقصد کی تکمیل کیلئے ہی ہوتے ہیں اور اگر کوئی ان ہتھیاروں کو دیئے ہوئے ممالک کے مرضی و منشا کے خلاف استعمال میں لانے کی کوشش کرے تو ہوائی جہاز رنوے کو، بحری جہاز پانی کو اور زمین پر دوڑنے والی مشینری زمین کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتی۔ جو ہتھیار بیچتے ہیں وہ ہتھیاروں کو بھی اپنا پابند بناکر رکھا کرتے ہیں مگر یہ بات کوئی بھی سمجھنے کیلئے تیار و آمادہ نہیں۔

                حال ہی میں عرب اسلامی ممالک نے 41 ممالک سے زیادہ ایک مشترکہ فوج تیار کی ہے جس کو دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے کیلئے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے کھرب ہا کھرب ڈالرز ادا کئے ہیں۔ اگر 41 ممالک کی وہ فوج جو دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود امریکہ کی اس بات پر کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنایا جائے، دم سادھ کر بیٹھی ہوئی ہے تو پھر مجھے یہ بتایا جائے کہ 57 اسلامی ممالک کس دنیا سے اور کس منہہ کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ امریکہ کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کریں۔ اتنی بڑی فوج کے رکھنے کے باوجود اگر آپ اسرائیل سے فلسطین کو آزاد نہیں کراسکتے، بیت المقدس کو فلسطین کے حوالے نہیں کر واسکتے تو دنیا اب اتنی بھی پاگل نہیں کہ وہ آپ کی جنگ بھی لڑے۔

                ”شمشیر و سناں اول“ کا مطلب عام طور پر مسلمانوں نے یہی نکالا ہے کہ دنیا میں جنگ و جدل کا سا سما برپا رکھا جائے۔ در اصل ”شمشیروسناں اول“ جنگی ہتھیاروں کی فراہی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ہر وہ عمل ہے جس سے کسی بھی ملک کی سرحدوں کاتحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہتھیار وہی ہوتا ہے جس کی تخلیق آپ کے اپنے ہاتھوں ہوئی ہو۔ دنیاکے جتنے بھی وہ ممالک جو طاقت کے لحاظ سے مضبوط ہیں ان کے پاس ان کے اپنے ایجاد کئے ہوئے ہتھیار ہیں۔ خریدے ہوئے ہتھیاروں سے صرف اور صرف شکار کھیلا جاسکتا ہے خواہ وہ جانوروں کا ہو یا انسانوں کا۔ اس لئے کہ کوئی ملک بھی آپ کو وہ ہتھیار بیچ ہی نہیں سکتا جو خود اس کی تباہی و بربادی کا سبب ہو۔

                یاد رکھیے کہ محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 حملے کئے۔ ہر حملے میں وہ ایک نیا ہتھیار لیکر حملہ آور ہوا کرتا تھا۔ ترقی و جستجو کا یہی سلسلہ جب تک مسلمانوں میں رائج رہا، مسلمان دنیا پر غالب رہے لیکن جب مسلمان ”طاوس و رباب“ میں پڑگئے تو ذلت و خواری کا طوق ان کے گلے پڑگیا۔امریکہ سے گلہ اور دنیا کے آگے ہاتھ مت جوڑیں اور اپنی اپنی کمزوریوں پر نظر ڈالیں۔ علامہ اقبال نے ایسے ہی موقع کیلئے کہا ہے کہ

یہ آبِ جو کی روانی یہ ہمکناری خاک

مری نگاہ میں ناخوب ہے یہ نظارہ

اِدھر نہ دیکھ اُدھر دیکھ اے جوان عزیز

بلند زورِ دروں سے ہوا ہے فوارہ

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں