نیا پاکستان، عمران اور چیلنجز

پاکستان میں حالیہ عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تو حکومت بنا ہی رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وفاق اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے گڑھ صوبہ پنجاب میں بھی حکومت بنائے گی۔

پی ٹی آئی کے اس دعوے کا درست یا غلط ہونا تو ایک ہفتے کے اندر اندر سامنے آجائے گا لیکن جو صورت حال ہے اس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ پی ٹی آئی ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

بات یہ نہیں کہ وہ حکومت بنانے میں کامیابی ہوگی یا نہیں، یہاں سوال حکومت کے استحکام کا ہے۔ اس سلسلے میں جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی حکومت جو مختلف الخیال لوگوں اور گروہوں پر قائم ہونے والی ہے کیا وہ پاکستان کی اس بگڑی ہوئی شکل کے ساتھ پاکستان کی ایسی شکل و صورت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی جس کو دیکھ کر دنیا اسے “نئے پاکستان” سے تعبیر کر سکے اور عمران خان اس کو فخر کے ساتھ یہ کہہ سکیں کہ دیکھو یہ ہے ایک نیا پاکستان، امن والا، تشدد پسندانہ رویوں سے پاک، ایک کروڑ سے زائد ملازمتوں کو فراہم کرنے والا، گلی گلی خوشیاں لانے والا، اعلیٰ تعلیمی اداروں والا، صحت کی ایسی سہولتوں والا جو بین الاقوامی معیار سے بھی کہیں بہتر ہیں، شہری اور دیہی تفریق ختم کردینے والا، میرٹ کے علاوہ اور کچھ نہ سننے والا اور سب سے بڑھ کر “مدینہ” والی فلاحی ریاست بن جانے والا جو آپ (ص) کے دور میں ہوا کرتی تھی۔

اس پاکستان کو سب سے پہلے مزید نیا بنانے والی بات قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی اور میں پورے دعوے سے کہتا ہوں کہ اس نے ایسا ہی کر دکھایا تھا۔ پاکستان ٹوٹ چکا تھا۔ شاید دنیا اس کو پاکستان کے نام سے یاد بھی نہ رکھتی لیکن بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ پاکستان کے نام سے ہی قائم ہے اور یہی نام اس کی اب تک پہچان ہے۔ سرمایہ دار پاکستان سے سرمایہ باہر منتقل کرنا ہی چاہتے تھے کہ راتوں رات پورے ملک کو قومیالیا گیا اور سب سرمایہ ضبط کر لیا گیا۔ اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا۔ ایٹمی پروگرام کو ایک نیا رنگ و ڈھنگ دیا گیا اور ڈاکٹر قدیر کی صورت میں ایک عظیم سائنس دان کو ملک کے اندر لاکر اس ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اسی طرح کے بیشمار کام ایسے تھے جس کو کرنے کی جرات کوئی حکمران کبھی پہلے کرسکا تھا اور نہ آج تک کسی میں یہ جرات پائی گئی۔

بھٹو نے اگر “نیا ملک” یا باالفاظ دیگر نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کیا تھا تو پھر کرکے بھی دکھایا تھا۔ اب یہ دعویٰ عمران خان کا ہے ہم نیا پاکستان بنائیں گے۔ اس کو اس دعوے کے ساتھ جو مدد حاصل ہے وہ عوام کی تو ہے ہی لیکن پاکستان کا سب سے مضبوط ادارہ بھی اس کے ساتھ قدم سے قدم جوڑ کر کھڑا ہے۔ اگر یہ ادارہ اس وقت بھٹو کے ساتھ اسی طرح کھڑا ہوتا اور ایک منتخب لیڈر کو سولی پر چڑھانے کی بجائے اس کے وژن کو ساتھ لے کر چلتا تو جنوبی ایشیا میں پاکستان چین سے آگے نہیں بھی ہوتا تو اس کا ہم پلہ ضرور ہوتا لیکن پاکستان کی بد قسمتی کہ ایسا نہ ہوسکا اور آج پاکستان ایک بار پھر اسی سیڑھی پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہے جس کو 45 سال قبل بھٹو نے منتخب کیا تھا۔ پاک چین دوستی اسی کا نعرہ تھا لیکن اس کی مخالفت اس طرح کی گئی کہ اسے شدید مذہبی مسئلہ بنادیا گیا اور ہم چین کے ہم پلہ بننے سے رہ گئے۔ آج جس “سی پیک” کا شور ہے یہ بھٹو دور کے “جیب خرچ” جیسے بھی نہیں تھا۔

گھر ہوں، گلیاں ہوں یا سڑکیں بازار، ان کو نیا بنانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ ان سب کو نیا چہرہ دینے کیلئے سرمایا اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ جس ملک کا حال یہ ہو کہ “کچرا” اٹھانے تک کے وسائل اور سرمایہ میسر نہ ہو، ان سب کاموں کیلئے بھی دوسرے ممالک سے قرضہ لینا پڑتا ہو تو اس میں نیا کیا کیا جاسکتا ہے۔ یہی کچھ اب عمران خان سے قوم دیکھنے کی منتظر ہے جس کیلئے عمران خان یقیناً فکر مند ہوں گے جس کا اظہار کل کی میٹنگ، جس میں ان کے کامیاب امید واروں نے ان کو بطور وزیر اعظم نامزد کیا ہے، کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم “نیا پاکستان” نہیں بنا سکے تو ہمارا حشر ان ساروں سے برا ہوگا جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔

جب کوئی دعویٰ کرے تو پھر اس کے دعوے کے مطابق سوال کرنے والے سوالات بھی کرتے ہیں۔ سولات کرنے والوں کی نیت ضروی نہیں کہ بد ہی ہو، اس لئے ان کے سوالات کے جوابات کو بہت تحمل سے دینا ضروری ہوتا ہے۔ چنانچہ بی بی سی کے پروگرام سیربین نے پاکستان تحریک انصاف اور ممکنہ وزیر اعظم عمران خان کو درپیش خارجہ، معاشی اور داخلی مسائل کے حوالے سے سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، اقتصادی ماہر اور صحافی حمیرہ شاہد اور سینیئر صحافی اور تجزیہ کار قطرینہ حسین سے بات کی۔ چنانچہ اس کے جواب میں سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ جو چہرہ امریکہ کا اب سامنے آیا ہے اور سب دیکھ رہے ہیں یہ بہت مختلف چہرہ ہے۔’امریکہ کامسئلہ صرف پاکستان ہی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے ساتھ ہے۔ جس طریقے سے امریکہ اپنے آپ کو دنیا کے سامنے اب پیش کر رہا ہے وہ بہت مختلف ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے امریکہ سپر پاور ہونے کے ناطے دنیا کے ایشوز کو سنبھالتا تھا ان کو نمٹاتا تھا۔ پاکستان کے لیے فائدہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایک حد تک تعلقات کو باہمی احترام کے تحت برقرار رکھے۔ یہ ہمارے حق میں نہیں ہو گا کہ ہمارے تعلقات امریکہ کے ساتھ دوستانہ نہ ہوں۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت پر لازم ہے کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی کو ذمہ دارانہ طریقے سے چلائے۔ عمران خان صاحب کی حکومت پر لازم ہے کہ وہ دنیا کو باور کرائے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف پاکستان میں امن چاہتا ہے بلکہ خطے میں بھی۔ اور خاص طور پر افغانستان میں مثبت کردار ادا کر بھی سکتا ہے اور اس کا خواہشمند بھی ہے۔

خارجہ پالیسی کے یہ خد و خال ہونگے تو کہا جاسکے گا “نیاپاکستان” بننے جا رہا ہے لیکن اگر ایک کمزور حکومت ہونے کے ناطے عمران اس بات پر مجبور ہوگئے کہ خود کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا جائے تو یہ عوام کیلئے ایک بہت بڑے صدمے کی بات ہوگی اور عمران کیلئے سیاسی کیرئر کی تباہی کی۔ اس لئے ضروری ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو عمران انھیں راہوں پر چلیں جس کو وہ تعین کر چکے ہیں۔

 بی بی سے کے پروگرام سیر بین میں پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں ان سے جب پوچھا گیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان کے لیے بہت اہم ہو گئی تو ایسے میں کیا پاکستان کو امریکہ کو راضی رکھنا اہم ہے تو حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کو کسی کو راضی نہیں کرنا ہے بلکہ ایک جمہوری ملک ہونے کے ناطے اپنے عوام کو راضی کرنا ہے۔

اسی طرح ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے ساتھ عمران خان نے برابری اور برادرانہ روابط کی بات کی ہے جبکہ اس سے قبل ہم چند شاہی ممالک کو فوج بھی مہیا کرتے رہے ہیں تو یہ کیا حقیقت مندانہ پالیسی ہو گی تو سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران خان کی یہ حقیقت پسندانہ پالیسی ہو گی۔ اگر آپ صحیح جگہ پر کھڑے ہوں اور آپ کو معلوم ہے کہ کس پر سمجھوتہ نہیں کرنا جو کہ پاکستان کا فائدہ ہے تو دنیا بھی سمجھ جاتی ہے اور دنیا بھی آپ پر بے وجہ دباؤ ڈالنا بند کر دیتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کسی کی پراکسی ریاست اور کلائنٹ ریاست نہیں ہے۔ ہمارا دنیا میں اور اس خطے میں عزت اور وقار ہے۔ ہمارے کچھ لیڈروں نے خود پاکستان کی عزت اور وقار کو بیچنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لیڈروں کی غلطی ہے وہ ملکی اور ریاستی غلطی نہیں ہے۔

حنا ربانی کی یہ ساری باتیں اور دلائل و براہین اپنی جگہ درست لیکن ان سب باتوں کیلئے ایسی حکومت کا ہونا بہت ضروری ہے جو بہرلحاظ بہت مستحکم ہو اور جہاں “دوحکوتی” تصور نا پید ہو۔ جہاں پاکستان کی حکومت پر متمکن فرد پاکستان کے کشمیر کی حکومت کی مانند ہو اور اس کی ڈوریں پاکستان کے وفاق کے پاس ہوں وہ حکمران کوئی بھی آخری قدم اٹھانے سے قبل اپنے ملک کے “آخری” کی جانب مڑ مڑ کر دیکھنے پر مجبور ہوگا اور یہی بات ایک طویل عرصہ سے پاکستان کے استحکام کیلئے تو خطرہ بنی ہوئی ہی ہے وہیں دنیا کے دوسرے ممالک کیلئے بھی ایک درد سر ہے کہ وہ اگر پاکستان سے کوئی بڑا معاہدہ بھی کرنا چاہیں تو کس کے پاس جائیں۔ چنانچہ پاکستان میں جو کچھ اب تک دیکھنے میں آیا ہے وہ یہی کچھ ہے کہ آنے والے راولپنڈی اور اسلام آباد کے چکر ہی میں پھنسے نظر آئے۔ لہٰذا اب اس بات کی ضرورت ہے کہ ان مناظر سے باہر نکل کر دنیا پر یہ باور کرایا جائے کہ اب جو بھی فیصلے ہونگے وہ دارالحکومت اسلام آباد سے ہی ہونگے۔ لیکن کیا ایسا ہی ہو سکے گا؟، یہ آنے والے چند ماہ میں ہی معلوم ہوجائے گا۔

ایک ایسا ملک جس کی معاشی زندگی کا انحصار غیرملکی قرضوں پر ہو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنی خود انحصاری کی جانب تیزی سے بڑھ سکتا ہے، ایک معجزانہ بات ہوگی۔ ایسے عالم میں دنیا سے ہر بات میں برابری کی بنیاد پر معاہدات کرنا کوئی آسان نہیں۔ ہمارے 124 پبلک ادارے ہیں جیسے پی آئی اے، ریلویز، سٹیل ملز وغیرہ، ان اداروں کو کھڑا کرنے کی ضرورت ہے اور ضروری نہیں کہ ہر چیز کو نجکاری کی جانب لے جایا جائے۔ ان کے لیے فنڈ مہیا کیے جائیں اور خودمختار مینجمنٹ دی جائے۔ نوجوانوں کے حوالے سے حمیرہ شاہد نے کہا کہ دنیا بھر میں بےروزگاری بہت زیادہ ہے اور پاکستان میں نوجوانوں کو کاروبار کی جانب لانا ضروری ہے۔  اسی طرح سی پیک پاکستان اور ہمارے نوجوانوں کے لیے بہت اہم ہے اور ہماری حکومت کو یہ سوچنا چاہیے کہ سی پیک کو پاکستان کی عوام کے فائدے کے لیے کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔

عمران خان کے کئے گئے وعدوں میں سے ایک وعدہ بہت ہی اہم ہے اور وہ ہے لاکھوں مکانوں کی تعمیر۔ مکانات بنانا اور عوام کو وہ مکانات کسی سود کے بغیردینا جیسا کام کوئی آسان نہیں۔ اس کام کیلئے نہ صرف سرمایا درکار ہوگا بلکہ وہ اصول و قواعدبھی مرتب کرنے ضروری ہونگے جو سود کے متبادل ہوں اور اس کا بوجھ مکان لینے والوں پر بھی نہ پڑے۔ یہ ایک ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا اور چیلنج بھی ایسا جس کو قبول کرنا اور پورا کرنا بہر صورت ضروری ہوگا۔

یہ ہے وہ چیلنج جس کا مقابلہ عمران خان اور ان کی پی ٹی آئی کو درپیش ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ کوئی منتخب لیڈر اتنا ضعیف العمر ہوگا جو وزیر اعظم کا حلف اٹھا رہا ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسائل کے انبار اور عمر دونوں اس بات کو کہاں تک اس بار کو اٹھا کر لیجانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں