جہانزیب راضی

15 مراسلات 0 تبصرے

آرمگڈون کی آخری لڑائی

اسوقت دنیا میں موجود تمام ممالک میں سب سے کم عمر ملک اسرائیل ہے  جو 14 مئی 1948 کو وجود میں آیا ۔ آپ...

ہر بچہ ہوتا ہے خاص

یہ انیس سو پچانوے کی بات ہے میرے والدین نے مجھے بہت محبت اور چاہت کے ساتھ اسکول میں داخل کروایا ۔ جس اسکول...

ایسے تھے ہمارے نبیؐ

یہ منظر بھی بڑا دلچسپ تھا۔ ایک دیہاتی آدمی کچھ عجیب سے حلیئے میں مسجد میں گھس آیا تھا اور کھڑے کھڑے بغیر کسی...

کراچی کہانی

بدقسمتی سے جو علاقے پاکستان کے حصے میں آئے وہ سارے ہی نا خواندہ اور زراعت پیشہ لوگ تھے ۔ پنجاب کا جو حصہ...

دو مظلوم طبقے

کسی بھی معاشرے کو بنانے یا بگاڑنے کا سہرا اس قوم کے دو طبقات کے پاس ہے ایک وہ طبقہ جس کے پاس اس...

اہم بلاگز

جدید ذرائع ابلاغ اور خواتین کی تذلیل کا کلچر

جدید ذرائع ابلاغ نے عورت کی تذلیل کو کلچر بنادیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جدید خواتین کی اکثریت کو اپنی تذلیل کا احساس نہیں۔ کوئی چیز جب کلچر بن جاتی ہے تو عام لوگ اس کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کلچر کیسے غلط ہوسکتا ہے؟ اس کی ایک مثال غلامی کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ میں غلامی صدیوں کا سفر طے کرکے کلچر بن گئی تھی، چنانچہ غلاموں کو محسوس ہوتا تھا کہ غلامی ایک ’’فطری حالت‘‘ ہے، ایک ازلی و ابدی فطری حالت، جس سے نجات حاصل کرنے کا خیال بھی اکثر غلاموں کے ذہن میں نہیں آتا تھا۔ چونکہ غلامی کے ادارے کی پشت پر جدید ذرائع ابلاغ یا نام نہاد Mass Media کے پروپیگنڈے کا جادو نہیں تھا، اس لیے غلام بہرحال اپنی غلامی کا جشن نہیں مناتے تھے، اسے Celebrate نہیں کرتے تھے۔ مگر جدید ذرائع ابلاغ نے عورت کی تذلیل کے کلچر میں اتنے بیل بوٹے اور شہرت و ترقی کے اتنے قمقمے لگا دیے ہیں کہ جدید عورتیں اپنی تذلیل کے کلچر کو Celebrateکرتی نظر آتی ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ ان کی تذلیل نہیں کررہے بلکہ انہیں ’’آزاد‘‘ کررہے ہیں، ان کی عزت افزائی کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں جدید ذرائع ابلاغ کا کمال یہ ہے کہ وہ عورت کی تذلیل کا کلچر بھی پیدا کرتے ہیں، اس کے خلاف معاشرے میں مجرمانہ ذہنیت کو بھی پروان چڑھاتے ہیں، اور پھر زینب جیسی مظلوم بچیاں Rape اور قتل ہوتی ہیں، خواتین پر مجرمانہ حملے ہوتے ہیں اور انہیں جنسی سراسیمگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو جدید ذرائع ابلاغ اس پر ماتم کرکے اسے بھی فروخت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں رئیس فروغ کا شعر یاد آجاتا ہے۔ رئیس فروغ نے کہا ہے: جی میں آتا ہے کسی روز اکیلا پا کر میںتجھے قتل کروں پھر ترے ماتم میں رہوں قصور کی مظلوم زینب کے قاتل نے بھی یہی کیا۔ جدید ذرائع ابلاغ بھی یہی کرتے ہیں۔ زینب پر ظلم کرنے والا بالآخر پکڑا جاتا ہے، مگر جدید ذرائع ابلاغ نہیں پکڑے جاتے۔ زینب پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے کو سزا مل جاتی ہے، مگر جدید ذرائع ابلاغ سزا سے محفوظ ہیں۔ لیکن ان باتوں کا مفہوم کیا ہے؟ ہندو ازم دنیاکا قدیم ترین مذہب ہے۔ ہندو ازم میں عورت دُرگا ہے، لکشمی ہے، سرسوتی ہے، کالی ہے… یہ سب ہندو ازم کی دیویاں ہیں۔ ہندو ان تمام دیویوں کی پوجا کرتے ہیں۔ اس سے نیچے ہندو ازم میں سیتا ہے جو شوہر پرستی، صبر اور تقویٰ کی علامت ہے۔ ساوتری ہے جس نے ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق موت کے فرشتے سے اپنے شوہر کی روح واپس لے لی کیونکہ وہ اپنے شوہر کے بغیر زندہ رہنے کا تصور نہیں کرسکتی تھی۔ ہندو ازم میں عورت رادھا ہے، میرا ہے۔ دونوں شری کرشنا سے عشق کی علامتیں ہیں۔ عیسائیت کی تاریخ میں حضرت مریمؑ ہیں۔ اسلام میں عورت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی علامت ہے۔ اسلام کی تاریخ میں حضرت عائشہؓ ہیں۔ حضرت عائشہؓ کا علم ایسا ہے کہ اکابر صحابہؓ ان...

جدید اسکولنگ سسٹم

ہم اس وقت 29 قسم کے تعلیمی نظاموں کا شکار ہیں ۔ ان سب  تعلیمی نظاموں میں جو  چیز مشترک ہے وہ ہے " کرپشن " ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ اسکولوں اور آفسوں کے چپڑاسیوں سے لے کر پرائیوٹ اور گورنمنٹ وائٹ کالر جاب کرنے والے لوگوں سے مل لیں ۔ آپ بیورو کریسی ، فوج اور سیاستدانوں کو دیکھ لیں آپ کو اوپر سے لے کر نیچے تک سب میں جو چیز  قدر مشترک نظر آئیگی وہ سامنے والے کی کھال اتارنے کا طریقہ ہے ۔ سگنل پر کھڑے سپاہی کی اوقات پچاس روپے ہے تو وہ پچاس روپے لے لیتا ہے ۔ ایس – ایس – پی صاحب کی حثیت 440 لوگوں کا قتل کر کے ڈنکے کی چوٹ پر ریاست کی دھجیاں اڑانا ہے تو وہ اسی حساب سے کام کر رہے ہیں ۔ "صاحب" کے کمرے کے باہر بیٹھے چپڑاسی کی اوقات 100 روپے لے کر اندر بھیجنا ہے تو اندر بیٹھے " صاحب " اندر آنے والے کے کپڑے  تک اتروا کر باہر بھیجنے کو ہر دم تیار ہیں ۔ اصل میں ہم ابھی تک منافقت اور دو رنگی سے بھی باہر نہیں آسکے ہیں ہم اپنے عمل اور قول سے اپنے بچوں کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں ۔ ہم بچپن میں اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ " تعلیم شعور حاصل کرنے کا ذریعہ ہے " اور یہ اس بچے کی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ ہوتا ہے ۔ بچہ جیسے جیسے بڑا ہونے لگتا ہے ہم اس کو اچھی طرح یہ بات سمجھا دیتے ہیں کہ تمھارے تعلیم حاصل کرنے کا واحد مقصد پیسہ کمانا ہے۔ اس کو سمجھ آجاتی ہے کہ مجھے بچپن میں ہی مجھ سے میری ماں کی گود چھیننے ، میری میٹھی میٹھی نیندوں کو صبح ہی صبح دھکے کھاتی وینوں اور بسوں میں قربان کرنے کا واحد مقصد  پیسہ تھا ۔ میرا کھیل کود بند کر کے میری معصوم خوشیوں کو ذبح کرنے کی پہلی اور آخری وجہ یہی تو تھی ۔ پھر وہ اس پیسے کے لئیے کسی بھی ماں کی گود اجاڑنا ، کسی کی بھی خوشیاں چھین لینا اور دم توڑتے مریض سے بھی پیسہ لئیے بغیر علاج کرنے کو تیار نہیں ہوتا ہے ۔اس کو جعلی میٹیریل لگا کر پل بنانے  اور لاکھوں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگانے میں بھی تامل نہیں ہوتا  ، اور بھلا ہو بھی کیوں پڑھائی کا مقصد جو یہی تھا ۔  آپ یقین کریں جب تک ہماری سوچ تبدیل نہیں ہوگی تب تک ہم ، ہمارے حالات  اور ہمارا ملک کبھی تبدیل نہیں ہوسکتا ۔ اپنے بچوں کو پیسے کے لئیے نہ پڑھائیں ، سکھانے کے لئیے پڑھائیں ۔ پیسہ کمانا وہ خود سیکھ جائینگے ۔ اسکول پڑھانے کی نہیں سکھانے کی جگہ ہے ۔ ہم کو اپنا تعلیمی نظام اور طریقہ تعلیم سب کچھ بدلنا پڑیگا ۔ اپنے لئیے نہیں دوسروں کے لئیے جینا سکھانا ہوگا ۔ کمانے کا نہیں خدمت کا جذبہ فراہم کرنا ہوگا ۔ پیسہ ان کو تب بھی ملے گا اور ان کی سوچ سے...

“پاکستان میں مغرب کے ’’شہدا‘‘ اور ’’غازی

پاکستان کے سوشلسٹوں کا مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ وہ سوشلسٹ تھے اور سوشلزم ایک مذہب دشمن نظریہ تھا۔ سوشلسٹوں کا مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنے نظریے اور جدوجہد کا مقامی مرکز پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہر چیز کے سلسلے میں رہنمائی کے لیے ’’ماسکو‘‘ یا ’’پیکنگ‘‘ کی جانب دیکھتے تھے۔ دنیا میں سوشلزم کے یہی دو مراکز تھے۔ اس صورت حال نے سوشلسٹوں کو کبھی حقیقی معنوں میں ’’مقامی‘‘ اور ’’آزاد‘‘ نہ ہونے دیا۔ اتفاق سے اس وقت یہی صورتِ حال پاکستان کے سیکولر اور لبرل عناصر کی ہے۔ یہ عناصر اپنے نعروں، سرگرمیوں اور ردِ عمل کے سانچوں کے لیے واشنگٹن، لندن اور پیرس کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ واشنگٹن، لندن اور پیرس چاہتے ہیں تو پاکستان میں توہین رسالت کی وارداتیں بڑھ جاتی ہیں۔ واشنگٹن، لندن اور پیرس سے ہدایت ملتی ہے تو مظلوم زینب پر ہونے والے ظلم کی آڑ میں جنسی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے کی مہم شروع ہوجاتی ہے۔ مشال خان کا قتل حال ہی کا واقعہ ہے۔ مشال خان کو قتل کرنے والوں کا موقف تھا کہ مشال خان توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے اور اس سلسلے میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ بدقسمتی سے توہین رسالت کے مرتکبین کو ریاستی ادارے سزا دینے میں ناکام نظر آتے ہیں اس لیے لوگوں میں معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ ریاست نے توہین رسالت کے مرتکبین کو قرار واقعی سزا دینے کی روایت قائم کردی ہوتی تو شاید لوگ مشال خان کو قتل نہ کرتے بلکہ اسے قانون کے حوالے کردیتے۔ خیر یہ ایک اور ہی قصہ ہے، یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ مشال خان کے قتل نے معاشرے میں شدید ردعمل پیدا کیا اور بعض علما اور دانش ور تک مشال خان کے قتل پر ماتم کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشال خان کے قتل کے الزام میں درجنوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے، ایک اطلاع کے مطابق عدالت اس قتل کے مقدمے کا فیصلہ 7 فروری کو سنائے گی۔ یعنی ان سطور کی اشاعت تک فیصلہ آچکا ہوگا۔ عدالت اس سلسلے میں کیا فیصلے کرے گی، کہنا تو مشکل ہے لیکن اس کیس کے سلسلے میں یہ کہنا اب آسان ہوچکا ہے کہ مشال خان کیس کو ’’مقامی تناظر‘‘ میں دیکھنا حماقت اور کھلے حقائق کا انکار ہے۔ یعنی مشال خان کا معاملہ کسی نہ کسی اعتبار سے ’’واشنگٹن مرکز‘‘ یا ’’لندن مرکز‘‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ کراچی میں الطاف حسین اور ان کی ایم کیو ایم کی سیاست نے گزشتہ 25 سال میں 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کو لاشوں میں تبدیل کیا ہے، کراچی میں شہید ہونے والوں میں حکیم سعید جیسی قومی بلکہ بین الاقوامی شخصیت، بڑے بڑے علما، صحافی، ڈاکٹرز، وکلا غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ مگر کبھی امریکا یا برطانیہ کے کسی اسکول، کسی کالج اور کسی یونیورسٹی کو یہ خیال نہ آیا...

برکت کیسے حاصل ہو؟

ہم میں سے بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ آج کے دور میں برکت اٹھ گئی ہے ۔ ہمارے کھانے پینے کی چیزوں میں ، وسائل میں ، مال و دولت میں، تن خواہ میں ، تجارت میں ، غرض کسی چیز میں اب برکت نہیں رہ گئی ہے ۔ پہلے کم مقدار کی چیز میں زیادہ افراد کا گزارہ ہوجاتا تھا ، اب زیادہ مقدار کی چیز میں کم افراد کا گزارہ نہیں ہوتا۔ ہم یہ شکوہ تو کرتے ہیں، لیکن غور نہیں کرتے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا حقیقی سبب کیا ہے؟ سبب معلوم نہ ہو تو اس کا ازالہ نہیں ہوسکتا ۔ مرض کی درست تشخیص نہ ہو تو اس کا علاج ممکن نہیں۔ ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے وضاحت فرمائی ہے کہ برکت کیسے حاصل ہوتی ہے؟ اور اس سے محرومی کیوں کر ہوتی ہے؟ آپ کا ارشاد ہے : " اِنَّ اللَّہَ یَبتَلی عَبدَہُ بِمَا اَعطَاہْ ، فَمَن رَضیَ بِمَا قَسَمَ اللَّہْ لَہْ بَارَکَ اللّہْ لَہْ فیہِ ، وَوَسَّعَہْ ، وَمَن لَم یَرضَ لَم یْبَارک لہْ " (احمد:20279) ( اللہ تعالی اپنے بندے کو جو کچھ عطا کرتا ہے ، اس کے ذریعے اسے آزماتا ہے۔جو شخص اتنے پر راضی ہوجائے جتنا اللہ نے اس کی قسمت میں لکھا ہے ، اللہ اس کے لیے اُس میں برکت دے گا اور اس میں خوب وسعت دے گا ۔اور جو شخص اس پر راضی نہ ہو ، اللہ اس میں برکت نہیں دے گا۔ ) اس حدیث میں تین باتیں بتائی گئی ہیں : (1) پہلی بات یہ کہ دنیا میں ہر شخص امتحان کی حالت میں ہے ۔ کسی کو اللہ تعالی نے خوب مال و دولت اور بے انتہا آسائش سے نوازا ہے ، کسی کو اوسط آمدنی اور اوسط سہولیات عطا کی ہیں ، کسی کو معمولی رزق دیا ہے اور کسی کو محروم رکھا ہے ۔ ہر ایک یہاں حالتِ امتحان میں ہے۔اللہ تعالی در اصل یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ جس شخص کو اس نے عطا کیا ہے وہ اس کا شکر عطا کرتا ہے یا نہیں اور اسے جتنا عطا کیا ہے اس پر قناعت کرتا ہے یا نہیں اور جس شخص کو اس نے عطا نہیں کیا ہے وہ صبر کرتا ہے یا نہیں ۔ (2) دوسری بات یہ کہ جو شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی بہ رضا رہتا ہے اسی کو برکت حاصل ہوتی ہے ۔ اسے جو کچھ حاصل رہتا ہے ، اگر وہ مقدار میں کم ہو تو بھی اللہ تعالی اس میں وسعت دیتا ہے ، اسے اور اس کے متعلقین کو اتنے ہی میں آسودگی اور طمانینت حاصل رہتی ہے اور وہ بہت سوں کے لیے کفایت کرتی ہے ۔ (3) تیسری بات یہ کہ جو شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی بہ رضا نہ ہو ، اس کی زبان پر کمی کا شکوہ رہتا ہو اور وہ ہر وقت ننّانوے کے پھیر میں لگا رہتا ہو ، اللہ اسے برکت سے محروم کردیتا ہے۔ برکت کیا ہے ؟ برکت ایک احساس کا نام ہے۔ پانچ روٹی...

چوروں کو سارے نظر آتے ہیں چور

عطا الحق قاسمی کا شمار میاں نواز شریف کے اہم مشیروں اور وکیلوں میں ہوتا ہے۔ اصول ہے انسان پر صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے۔ شاید محبت کے اثر کے تحت ہی عطا الحق قاسمی نے اپنے ایک حالیہ کالم میں اقبال، قائد اعظم اور مولانا حسرت موہانی کی توہین کی تھی۔ اس توہین کی صورت یہ نکالی گئی کہ عطا الحق قاسمی کو اقبال کی شاعری کے سمندر کے مقابلے پر ان کے خطبات پسند ہیں مگر صرف اس لیے کہ خطبات میں اقبال نے پارلیمنٹ کا ذکر کیا ہے اور پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دیا ہے۔ قائد اعظم کو پسند کرنے کی وجہ عطا الحق قاسمی کے نزدیک یہ ہے کہ ان سے کچھ ایسی چیزیں بھی منسوب ہیں جن کے ذکر سے فساد خلق پیدا ہوسکتا ہے۔ مولانا حسرت موہانی کی شخصیت میں عطا الحق قاسمی کو صرف یہ بات نظر آئی کہ وہ خود کو سوشلسٹ کہا کرتے تھے۔ عطا الحق قاسمی کے اس کالم پر ہم نے گزشتہ ہفتے گفتگو کی تھی۔ مزے کی بات یہ ہوئی کہ عطا الحق قاسمی کے بعد ان کے فرزند ارجمند یاسر پیرزادہ بھی ہمارا کام ہے ہم تو سر بازار ناچیں گے‘ کہتے ہوئے سامنے آگئے۔ ان کے والد محترم نے اقبال، قائد اعظم اور حسرت موہانی پر ہاتھ صاف کیا تھا یاسر پیرزادہ نے مولانا روم اور ابن عربی پر کیچڑ اچھال دیا ہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ باپ بیٹے کے درمیان پست مزاجی کا مقابلہ ہورہا ہے۔ یاسر پیرزادہ نے 21 جنوری 2018ء کے کالم میں اگر چہ مولانا روم کو عبقری یا genius اور ابن عربی کو بڑا فلسفی قرار دیا ہے مگر انہوں نے ان عظیم شخصیات میں جو اصل شے دریافت کی ہے وہ ان کا ’’عاشقانہ مزاج‘‘ ہے۔ یاسر پیرزادہ نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ ’’وہ (یعنی ابن عربی) قرطبہ میں تھے تو فاطمہ نامی خاتون سے ان کی قربت عرصے تک رہی۔ اس کے بعد جب وہ مکے میں رہے وہاں مکین الدین نامی ایک عالم سے حدیث پڑھی۔ ان عالم کی بیٹی عین الشمس نظامی نہایت خوبصورت تھی جس پر ابن عربی مر مٹے۔ چناں چہ وہ لکھتے ہیں کہ ان کے اکثر مکاشفات کا روحانی جذبہ اس کے عشق کا رہن منت ہے۔ (بحوالہ۔ تصوف کی حقیقت از غلام احمد پرویز)‘‘۔ مولانا روم کے بارے میں یاسر پیرزادہ نے لکھا ۔ ’’رومی اگر شمس تبریز کے عاشق تھے تو خدا جانے یہ کیسا عشق تھا۔۔۔ وہ قونیہ کی گلیوں میں گھومتے، دیوانہ وار رقص کرتے، اس عالم میں غزلیں کہتے اور ایسے کہ ان کے منہ سے جھاگ اڑتی، شمس تبریز کا قصہ رومی کے شاگردوں، پیرو کاروں اور کہا جاتا ہے کہ خود ان کے بیٹے نے پاک کیا مگر اس کے باوجود رومی کا عشق ماند نہ پڑا۔ رومی کا اگلا عشق احسام الدین چیلسپی سے ہوا۔ یہ عشق بھی شدید تھا‘‘۔ مولانا روم کی فکر، شخصیت اور تخلیقی جوہر اتنا بڑا ہے کہ انہیں عبقری یا genius کہنا بھی ان کی توہین ہے۔...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

روحانی ریمانڈ

صاحبو، مجھ سے اگر کوئی یہ پوچھے کہ انسانی اعصاب کیلیئے سب سے کڑا وقت کونسا ہوتا ہے تو میں بلا تردد عرض کروں گا کہ "عین اس وقت ، کہ جب کوئی لکھنے پڑھنے والا فرد نصف شب کے بعد کسی بیتاب قوال سے بہت کم فاصلے پہ موجود ہو" ، مجھے یقین ہے کہ کسی دوسرے فرد کو میرے اس بیان کی فکرانگیزی اس وقت تک سمجھ آہی نہیں سکتی کہ جب تک کہ وہ خود کبھی اس کڑی آزمائش سے دوچار نہ ہوا ہو اور رات کے پرسکون لمحات میں اسکی سماعت ، اچانک کسی بپھرے ہوئے قوال کے ہتھے نہ چڑھ چکی ہو۔۔۔ میری یہ بپتا پرانی نہیں ابھی گزشتہ شب ہی کی ہے کہ جب میرے گھر کے عین سامنے اک مست قوال محفل سماع کے نام پہ مائیکروفون پہ کان پھٹنے اور پو پھٹنے تک نجانے کیا کیا کرنے پہ تلا رہا،،، اور میں گویا شب بھر 'روحانی ریمانڈ' پہ رہا،،، ابتداء میں تو میں نے بہت برداشت سے کام لیا اور بہت دیر تک ضبط نفس کے طریقے آزماتا رہا لیکن کانوں پہ امنڈتی بانگ درا جب اسپیکروں کی ہنرمندی سے چنگھاڑتی ضرب کلیمی بن گئی تو خوار و مضطرب ہوکر خود بھی پرعقیدت سامع بن کر 'وقوعہ' پہ جاپہنچا۔ دیکھتا ہوں کہ درمیان میں بیٹھا جو شخص متواتر گردن ہلارہا ہے اور زور زور سے ہاتھ چلا رہا ہے وہی اس 'مقدس ورکشاپ' کا استاد ہے اور اس نے کئی 'چھوٹے' یعنی اپرنٹس قوال آہ وفغاں کیلیئے دائیں بائیں ساتھ بٹھا رکھے ہیں جو کہ نہایت متناسب انداز میں گردن مٹکانے کیساتھ ساتھ استادانہ لے کی آنچ بڑھانے کیلیئے برابر سے زوردار تالیاں بھی پٹخارتے جاتے ہیں اور تالیاں بھی کیا گویا ایک ہتھیلی سے دوسری کو اور دوسری سے پہلی کو کس کس کر چانٹے لگا رہے ہیں،،، ہمراہ ایک نائب قوال بھی ہے کہ باربار بوکھلا کر اچانک اچانک واویلا مچانے کیلیئے مخصوص ہے،، اس کا دوسرا کام پوری چوکسی سے اپنے سر کو 'استاد' کی تالیوں کے بیچ آکر چپاتی بننے سے بچانا ہے کیونکہ وہ قوال کے بالکل نزدیک بیٹھا ہے اور ہر لمحے گمان ہوتا ہے کہ اس قربت کی سزا اسے آج مل کر رہے گی،،، طبلہ ٹھنک رہا ہے اور طبلہ نوازاسی سے ہم آہنگ کرکے اپنی گردن اور دیدے دونوں برابر سے مٹکارہا ہے،،، ایک لاغر و فاضل سا بچہ بھی وہیں ساتھ دبکا بیٹھا ہے جس کا کام سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وقفے وقفے سے چونک کے سیٹی جیسی باریک اور چبھتی ہوئی آواز میں چیخیتی ہوئی ایں ایں یا ریں ریں کرنے کی کوششیں جاری رکھے اور اسٹیج پہ کسی جونیئر قوال کو نیند کی جھپکی لینے نہ دے ، حاضرین کو جگائے رکھنے کا کام البتہ اسی چھٹے ہوئے قول نے مستقل اپنے ذمے لے رکھا ہے۔۔۔ ساز و صدا کی اسی ہڑبونگ میں دیکھتے ہی دیکھتے میرے سامنے بیٹھے دو افراد دفعتاً ہڑبڑا کر اٹھے اور اسٹیج کی جانب بڑھے اور،،،، اسٹیج تک پہنچنے سے پہلے ان میں سے ایک نے جیب میں ہاتھ ڈالا جس سے میں نے...

لائن پر آؤ یا لائن بناؤ

الن کلن کی باتیں ’’ہمارے یہاں عقلمندوں کی کمی نہیں، ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔‘‘ ’’جب ہزار ملتے ہیں تو پھر ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ’’اسی لئے ڈھونڈنے کی زحمت نہیں کی جاتی بلکہ جو مل جائے اسی سے کام چلا لیا جاتا ہے۔‘‘ ’’ایسا کیا ہوگیا، کچھ بتاؤ گے بھی یا پہیلیاں ہی بھجواتے رہو گے؟‘‘ ’’اب دیکھو ناں ہمارے ملک میں جو عقلمند ملتے ہیں وہ عوام کے خادم نہیں بلکہ عوام کے حاکم ہوتے ہیں۔ اسی لئے وہ عقلمندی کے ایسے جوہر دکھاتے ہیں کہ جس سے عوام کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔‘‘ ’’ ایسا کیا ہوگیا جو تم ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہو؟‘‘ وارداتیں ہورہی ہیں یا ہونے کا خطرہ ہے تو ڈبل سواری پر پابندی لگا دو۔ موبائل سے ریکی کی جاتی ہے تو موبائل کا نیٹ ورک بند کردو۔ بجلی کی ادائیگی کسی علاقے میں کم ہورہی ہے تو وہاں پر لوڈ شیڈنگ کرو۔ آٹا مہنگا ہے تو ڈبل روٹی کھا لو۔ ‘‘ ’’واقعی یہ بات تو تم نے ٹھیک کہی، لیکن اصل بات کیا ہے؟ وہ بتاؤ، یہ پرانی باتیں ہیں۔‘‘ ’’عوام کے نصیب میں دربدر کی ٹھوکریں کھانا لکھا ہے۔ کبھی یوٹیلٹی بلوں کے لئے لائن میں لگایا جاتا ہے، کہیں گیس بھروانے کی لائن میں لگایا گیا، کہیں پیٹرول نایاب کرکے لائن میں لگایا گیا، کہیں سم رجسٹریشن کے نام پر لائن میں لگایا گیا، کہیں ووٹ ڈالنے کے لئے لائن میں لگایا، کہیں لائسنس کے لئے لائن میں لگایا اور کہیں شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نادرا کی لائن میں لگایا۔‘‘ ’’جو قوم لائن پر نہیں آتی پھر اسے اسی طرح لائن میں لگایا جاتا ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ ابھی کون سی لائن لگنے والی ہے؟‘‘ ’’سنا ہے چھ ماہ میں شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق ہوگی۔‘‘ ’’ٹھیک سنا ہے۔‘‘ ’’مطلب ایک بار پھر دوبارہ سے لائن میں لگ کر تصدیق کرنی ہوگی؟‘‘ ’’اب تک تو آپ کو لائن میں لگنے کی عادت ہوجانی چاہیئے تھی۔ لیکن چونکہ یہ قوم لائن میں لگنے کی عادی نہیں اس لیے یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے۔‘‘ ’’اب آپ کیا چاہتے ہو بغیر لائن کے تمہارا کام ہوجائے؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ زرداری کے بیٹے بلاول تو نہیں ہیں یا آپ شریف خاندان سے تو تعلق نہیں رکھتے جو آپ بغیر لائن میں لگے اپنا کام کروا سکیں۔‘‘ ’’تو پھر ایک کام کیوں نہیں کرتے۔ سب کو لائن میں لگا کر چار چار جوتے کیوں نہیں لگائے جاتے تاکہ سب کی عقل ٹھکانے آجائے۔‘‘ ’’ایسی ذلت بھلا کون پسند کرے گا؟‘‘ ’’ذلت عوام کا مقدر ہے کیونکہ ان کے پاس شعور نہیں۔ انہوں نے اس کو اپنا نصیب سمجھ لیا ہے اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ عقلمند ہم پر کیوں حکومت کررہے ہیں جو ہمارے ووٹ لے کرآتے ہیں اور ہمارے ہی پیسوں پر پلتے ہیں اور ہمارے درمیان اس طرح وی آئی پی انداز میں نکلتے ہیں، جیسے یہ انسان ہیں اور ہم سب گدھے۔ ان کی جان کی قیمت ہے اور ہم چیونٹیاں ہیں جس کے جی میں ا?ئے پاؤں تلے روند جائے۔‘‘ ’’تو تمہارے خیال میں عوام کیا کرسکتی ہے؟‘‘ ’’کہہ تو رہا ہوں چار جوتے سب کو...

چلتی پھرتی جلی کٹی تحریریں

جس ملک میں ہاتھ دیکھنے والا اور سڑک پر طوطے سے فال نکالنے والاپروفیسر اور عامل کا بورڈ لگائے بیٹھا ہو اور جس قوم میں پانی کے ٹیکے لگانے والا اپنی کلینک کے ماتھے پر اسپیشلسٹ کا اشتہاری بورڈ لگائے ہوئے ہو، بھلا اْس قوم کے ڈرائیور اپنی اپنی گاڑیوں کے پیچھے دلچسپ و عجیب معنی خیز المیہ و طربیہ عبارتیں لکھ کر اپنا کتھارسس کیوں نہ کریں گے؟ ان کی چلتی پھرتی تحریریں پورے ملک کی سیر کراتی ہیں اور لوگوں کا دل بہلاتی ہیں۔ یہ تحریں ہم نے درختوں اور دیواروں پر بھی دیکھی ہیں جو لوگوں کا ضمیر جھنجوڑنے کے لئے لکھی گئی ہوتی ہیں لیکن ہم اتنے مردہ ضمیر ہیں کہ اْن پر غور کرنے کے بجائے ہنس دیتے ہیں اور بے ترتیب جملے لکھنے والوں کو کوستے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے حکومت نے دیواروں پر وال چاکنگ سے روک رکھا ہے کہ دل جلوں کی یہ تحریریں کہیں عوام کو بیدار نہ کردیں۔ خیر دیواروں پر لکھی تحریروں کو تو روکا جاسکتا ہے لیکن ان پیغامبر عبارتوں کو کون مٹائے گا جو ڈرائیور حضرات اپنی گاڑیوں پر لکھواتے اور قوم تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اْس روز ہمارا سفر تھا انڈس ہائی وے شہداد کوٹ سے حیدرآباد تک کا تھا۔ اْس سفر کا اصل مقصد گاڑیوں پر لکھی گرم نرم عبارتوں کا معائنہ کرنا تھا۔ یہ عبارتیں کن کی پسند پر لکھوائی جاتی ہیں یہ کوئی نہیں جانتا، نہ ڈرائیور نہ مالکان نہ پینٹرز، اور نہ ہی کبھی کسی ادیب نے اْن الفاظ پر غور کیا ہے۔ یہ ایک روایت کی طرح بس لکھی جارہی ہیں۔ کیا کبھی کسی کالم نگار نے ان الفاظوں پر تبصرہ کیا ہے؟ کبھی نہیں۔ اگر کیا ہوگا تو زندگی میں شاید ایک آدھ بار۔ کیا کوئی ٹاک شو ان الفاظ پر چلا؟ کبھی نہیں۔ بس اگر انہیں کسی نے پڑھا اور لکھا تو یہ عوام اور ڈرائیور ہیں۔ ملک کے 75 فیصد ڈرائیور اَن پڑھ ہیں پھر بھی اْن کی گاڑیوں کے پیچھے لکھے الفاظ دل کو چھو لیتے ہیں۔ گاڑیوں کے پیچھے لکھے الفاظ کی جنگ کا نظارہ کرنے ہم جیسے ہی قنمبر شہر پہنچے تو سب سے پہلے پولیس کی گاڑی ملی جس پر جلے ہوئے الفاظ کے ساتھ لکھا تھا ’’مجرم کی تلاش‘‘ بھلا ہو سندھ کے قانون کا جنہیں مجرم کی تلاش تو ہے ملزم کی نہیں۔ ایک اور قانون کی گاڑی ملی جس پر لمبے لمبے حروف کے ساتھ لکھا تھا ’’بادشاہ‘‘ بالکل سچ لکھا تھا۔ واقعی سندھ پولیس بادشاہ ہے کچھ آگے بڑھے تو ایک رکشہ ملا جس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ’’تعلیم عورت کا زیور ہے اور میرا چھوٹا بھائی اْس عورت کا دیور ہے‘‘ مزید آگئے گئے تو یہ پڑھنے کو ملا ’’جسم پر گندگی بے شک ہو مگر دل پر گندگی کبھی نہ ہونے دینا‘‘ اِس تحریر کو لکھوانے والا ڈرائیور غالباً کئی دنوں سے نہایا نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ گاڑی کے پیچھے یہ الفاظ لکھوا رکھے تھے یا ممکن ہے کہ وہ گاڑی والا گندا رہنے والوں پر طنز کررہا تھا۔ جس قوم کے فراڈئیے، بہروپئیے عالم دین کا ٹائٹل سجائے ہوئے ہوں وہاں ڈرائیور...

آئی رے سردی

سردی کب شروع ہوتی ہے اس بارے میں الگ الگ اندازے ہیں لیکن اس پہ سب کا اتفاق ہے کہ جب لگنا شروع ہوجائے اسی دن سے سردی شروع ہوجاتی ہے ، تاہم روایتی طور پہ سردی کا آغاز بالعموم دسمبر کے مہینے سے شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہر برس دسمبر کی آمد پہ گرما گرم شاعری اور سرد مغالطوں کی نئی فصل کاشت ہوتی ہے اور ہر بار عاشق دسمبر کی آمد کا جس بیتابی سے انتظار  کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس بار کے دسمبر میں تو وہ اپنے عشق کی کیاری میں ذاتی خون جگر سے سینچی گئی رومانی مولی کاشت کر ہی لیں گے لیکن پھر ہوتا یوں ہے کہ ان کا عشق سرد موسم کے دو تین ٹھٹھراتے غسل ہی میں کافی ٹھنڈیا جاتا ہے اور پھر وہ سارا خنک موسم کھانستے چھینکتے اور بڑا سا گرم ٹوپا پہنے رقیب کی مونگ پھلیاں ٹھونگتے اور اس سے فرمائش کرکے گرما گرم چکن سوپ پیتے گزار دیتے ہیں۔ یوں مزید عشق کرنے کے لیے وہ بھی سلامت رہتے ہیں اور رقیب کو بھی گزند نہیں پہنچتی۔ کچھ ہونہار عاشق اس موسم میں محبوب کے بھائی سے دوستی گانٹھ کے اس کی گلی میں بلکہ عین اس کے گھر کے سامنے اکثر بڑے دھڑلے سے لکڑیاں جمع کرکے الاؤ روشن کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ، یوں محبوب کا بھائی ہاتھ تاپتا ہے اور وہ دل تاپتے ہیں اور گاہے آنکھیں سینکتے ہیں۔ سردی کی کونپل چونکہ دسمبر میں سر ابھارتی ہے چنانچہ کچھ خاص قسم کے شعراء کی افزائش کا مہینہ بھی یہی ہے جنہیں ہم دسمبری شاعر کہتے ہیں کیونکہ ان کے کلام کا مرکزی نکتہ سرد  دسمبر کا گرم انتظار اور اس کا والہانہ خیرمقدم ہوتا ہے اور یہ دسمبری کلام عام طور پہ تاثیر کے لحاظ سے ٹھنڈے موسم سے بھی کہیں زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے ، اتنا ٹھنڈا کہ  اس کی خنکی سے اس کے تمام ردیف اور قافیے  اور  اوزان وغیرہ بھی ٹھٹھر جاتے ہیں- موسم سرما کی خصوصیات یوں‌ تو بیشمار ہیں لیکن آغا ان میں سے خاص الخاص یہ قرار دیتے ہیں کہ سردی درحقیقت قدرت کی طرف سے کپکپانا سکھانے کا وہ سالانہ ٹریننگ پروگرام ہے جس سے ملازمت اور ازدواجی زندگی ، دونوں ہی کو خوش اسلوبی سے بھگتانے میں بڑی اخلاقی مدد ملتی ہے اور اس سیزن سے حاصل کردہ سبق کےتحت بغلوں میں ہاتھ دبائے رکھنے اور کسی قدر خمیدہ پشت ہوکے چلنے کی عادت پڑجانے سے اور بعد از موسم سرما اس انداز کو معمول بنالینے سے تو دنیاوی درجات کی بلندی تقریباً یقینی ہوجاتی ہے- ہجر و فراق کے رموز پہ گہری نظر رکھنے والوں کے مطابق تکنیکی و فنی لحاظ سے سردی کا موسم ہی درحقیقت سرد آہ بھرنے کا اصل موسم ہے۔ غیرمحتاط اور ناتجربہ کار عاشق گرم مہینوں میں سرد آہ کھیچنے کی کوشش میں اپنی بچی کھچی توانائی اور محبوبہ کا اعتبار کھوتے ہیں۔ سرد موسم میں سرد آہ بھرنے پہ کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ پھر وہ بھاپ بن کے خارج ہوتی...

قرۃ العین حیدر نے پاکستان کیوں چھوڑا تھا؟ حصہ دوم

ایک دن ہم نے پریس کلب میں اگلی میز پر بیٹھے ایک معروف اینکر کی توجّہ حاصل کرنے کے لیے یہ سوال، یعنی قرۃ العین حیدر نے پاکستان کیوں چھوڑا؟اپنے دوست اشفاق سے کیا، اور بلند آواز سے کیا۔ نتیجہ حسبِ خواہش نکلا۔  اس سے پہلے کہ اشفاق سوال پر غور کرتا، اینکر صاحب (انہیں آپ بیگ صاحب سمجھ لیجیے) جھپٹ کر ہماری میز پر آگئے، (اپنا)منہ کان کے قریب لا کر سرگوشی میں پوچھنے لگے  ’’یہ کتنے بجے کی بات ہے؟‘‘ ہم نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا ’’کون سی بات؟‘‘۔ بیگ صاحب نے وضاحت کی ’’یہی…. پاکستان چھوڑنے والی بات، یہ کسی چینل پر بریک ہوئی ہے یا نہیں؟‘‘۔ ہم نے اطمینان سے عرض کیا ’’یہ بات پچاس پچپن برس پہلے کی ہے‘‘۔ ’’ہت تیرے کی…..‘‘ کہتے ہوئے بیگ صاحب نے اپنا موبائل فون واپس جیب میں رکھ لیا۔ انہیں اپنی بریکنگ نیوز اس طرح ضائع ہونے کا بہت دکھ تھا۔ وہ واپس اپنی میز پر جا بیٹھے۔ اب اشفاق کی باری تھی۔ وہ قرۃ العین سے تو واقف تھا لیکن وہ کوئی گلوکارہ تھی۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کہ یہ گلوکارہ اتنی پرانی ہے، پر لگتی نہیں ہے۔ پچپن برس پہلے پاکستان چھوڑا اور اب پھر آگئی ہے؟ اس کی اصل عمر کیا ہوگی؟ اشفاق بولا ’’مجھے تو اس بات پر حیرت ہے کہ اس نے خود کو کتنا فٹ رکھا ہوا ہے، اُسے پاکستان واپس آنے پر راضی کس نے کیا؟ جس نے بھی کیا، اُس نے فن کی بڑی خدمت کی ہے‘‘۔ ہم نے اشفاق کی پیٹھ پر نرم سا مُکّا مارتے ہوئے کہا ’’فن کے بچّے! قرۃ العین حیدرادیبہ تھیں، بہت بڑی ناول نگار، ’آگ کا دریا‘ کی مصنف۔ پاکستان بننے کے کئی سال بعد بھارت سے یہاں آئیں، لیکن چند سال بعد نہ جانے کیا ہوا کہ وہ واپس وہیں چلی گئیں۔ کچھ سال پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ اب مجھے جستجو ہے کہ کوئی میرے اس سوال کا جوب دے‘‘۔ ’’اچھا ، تو یہ بات ہے۔ میں تمہیں خالو کے پاس لے جاتا ہوں،وہ بھی ادیب اور شاعر ہیں، چلو، اُٹھو!‘‘ تھوڑی دیر بعد ہم غزالی صاحب کے روبرو بیٹھے تھے۔ قلم اور بیاض اُن کے ہاتھ میں تھا اور پان منہ میں۔ عادتاً وہ (اپنا)گھُٹنا مسلسل ہلا رہے تھے۔ اپنی مشقِ سخن میں سے کچھ وقت نکال کر ہمارا سوال سنا اور پھڑک کر بولے ’’بھئی! بڑے موقع سے آئے۔ میں نے قرۃ العین کے پاکستان سے چلے جانے پر پچاس سال پہلے جو پُرسوز نظم کہی تھی، وہ آج بھی تازہ ہے،پیش کرتا ہوں۔ اجازت ہے؟‘‘ ہماری حالت چھُری کے نیچے آئے ہوئے بکرے جیسی تھی، بکرے جیسی نظروں سے ہم نے قصائی….. معاف کیجیے گا، غزالی صاحب کو دیکھا۔ اُن کی آنکھوں میں رحم نہیں تھا۔ شکایتی نظروں سے اشفاق کو دیکھا۔ وہ موبائل فون پر (خاموشی سے)گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔ خالو کی نظروں میں وہ بدذوق کا درجہ پہلے ہی حاصل کر چکا تھا، اور اِس درجے کو گنوانے کا ابھی اُس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔اِس وقت خالو کو پورے گھر میں ہم واحد ادب شناس نظر آ رہے تھے۔ ناچار...

ہمارے بلاگرز