مرزامحمد الیاس

1 مراسلات 0 تبصرے

لبرل ازم کیا ہے ؟

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے افکارو نظریات میں بہت زبردست انقلاب رونما...

اہم بلاگز

کچراچی

اگر آپ کراچی میں رہتے ہیں اور اب تک اگر آپ کی صفائی ستھرائی کی حس باقی ہے تو پھر آپ کو اکیس توپوں کی سلامی ضرور بنتی ہے ۔ آپ گھر سے باہر نکلیں اور کچروں کے ڈھیر کو گننا شروع کریں آپ کی گنتی ختم ہوجائیگی آپ کی منزل آجائیگی لیکن مجال ہے جو کچرے کے ڈھیر ختم ہوجائیں ۔ دنیا میں اگر کہیں گڑھا ہو تو وہ سڑک پر ہوتا ہے اور کراچی میں آپ کو گڑھوں کے درمیان میں سے سڑک تلاش کر کے گاڑی چلانی ہوتی ہے ۔ اگر تو  آپ کے پاس موٹر سائیکل ہے تو آپ یقین کریں موٹر سائیکل چلانے والے ساٹھ فیصد سے زیادہ لوگ کمر درد کے مریض ہیں ، جن کے پاس گاڑی یا کار ہے وہ سر درد کے مریض ہیں اور جن کے پاس یہ دونوں سواریاں نہیں ہیں وہ یقینا ذہنی مریض تو ضرور ہونگے ۔ آپ تماشہ ملاحظہ کریں لاہور کی میٹرو کے لئیے 84 ارب مختص کئیے گئے ۔ اور کراچی کا کل بجٹ ہی 25 ارب ہے ۔پورے ملک کو ستر فیصد وہیکل ٹیکس اور پچپن فیصد سیلز ٹیکس دینے والے شہر کا کل بجٹ ہی 25 ارب ہے ۔ مصطفی کمال کے دور تک شہر کا بجٹ 72 ارب روپے تھا ۔آپ کمال دیکھیں آپ کو پورے شہر میں کہیں میٹھا پانی نہیں ملے گا ۔اگر کہیں آتا بھی ہے تو وہاں دن اور اس کے بھی اوقات طے ہیں ۔ ساری قوم موٹر چلا کر اپنے نلکوں کے سامنے پانی آنے کا انتظار کرتی ہے اور ہر مہینے پانی کا پورا بل بھی ادا کرتی ہے ۔ لیکن اسی شہر میں اگر کہیں چوبیس گھنٹے پوری مقدار میں پانی میسر ہے تو وہ واٹر ٹینکر والے ہیں ۔وہاں دن اور رات میں ہر وقت پانی میسر ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ واٹر ٹینکرز کے اڈے ڈی – ایچ – اے میں ہیں یا پھر کنٹونمنٹ میں ۔ بہرحال کراچی کے باسی 43 ملین ڈالرز سے زیادہ ہر سال پانی خریدنے پر لگاتے ہیں ۔ آپ کو پورے شہر میں کوئی ایک ڈھنگ کا فیملی پارک نہیں ملے گا اور اگر فوج کی مہربانی سے کوئی پارک مل بھی گیا تو آپ اپنا منہ چھپا کر اپنے بچوں کے ساتھ واپس نکل جائینگے ۔ پورے شہر میں ٹرانسپورٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ نعمت اللہ خان نے پانچ سو گرین لائن بسوں کا تحفہ کراچی کو دیا تھا جو اب سرجانی ٹاؤن میں لوہے کا ڈھیر بنی سڑ رہی ہیں ۔ آپ تماشہ ملاحظہ کریں اس وقت پوری قوم نقاب پوش بن چکی ہے ۔ خواتین کے ساتھ ساتھ آُپ  کو پورے شہر میں مرد بھی منہ چھاپتے گھومتے نظر آئینگے ویسے کراچی والوں نے اس شہر کے ساتھ جو کیا ہے اس پر منہ چھپانا تو بنتا ہے اب آپ وہ چاہے دھول مٹی کے نام پر ہی کیوں نہ چھپائیں ۔ حکومتوں اور پارٹیوں پر بے تحاشہ الزامات لگائے جاسکتے ہیں اور جو یقینا حقائق بھی ہیں لیکن میں تو " آپ"  کو...

بچوں کے ساتھ زیادتی اور سیکس ایجوکیشن

قصور کی ننھی زینب کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک پر پورا ملک سوگوار ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس حوالے سے بات کی جارہی ہے۔ پاکستان میں مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہر طبقے کے افراد نے اپنے اپنے انداز میں اس واقعے کی مذمت، اس پر تبصرہ اور اس کی وجوہات پر بات کی ہے۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس واقعے کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ جی ہاں آپ لوگ ٹھیک سمجھے میرا اشارہ موم بتی مافیا کی طرف ہے۔ ننھی زینب کے واقعے کی آڑ لے کر ایک میڈیا گروپ اور ایک مخصوص لابی احتیاط اور آگاہی کے نام پر اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن کو فروغ دینا اور اس کو نصاب میں شامل کرنے کی مہم چلانے نکل کھڑی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے کئی باتیں غور طلب ہیں۔ان باتوں کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کیوں کہ جن باتوں کو بنیاد بنا کر یہ مہم چلائی جارہی ہے اول تو وہ ساری باتیں ہی بے بنیاد ہیں اور دوسری بات یہ کہ یہاں نام تو آگاہی اور احتیاط کا لیا جارہا ہے لیکن جب قانونی طور پر سیکس ایجوکیشن کا نام نصاب میں شامل ہوجائے گا تو پھر وہی سیکس کی تعلیم یہاں بھی دیجائے گی جو کہ دنیا بھر میں سیکس ایجوکیشن کے نام پر اسکولوں میں دی جاتی ہے۔ یہاں ہم ان باتوں کا جائزہ لیں گے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ یہ مہم بے بنیاد باتوں پر چلائی جارہی ہے تو اس کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ ننھی زینب، قصور میں ہونے والے پے درپے واقعات اور پورے ملک ہونے والے ایسے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ سارے کیسز اغوا، زیادتی اور قتل کے ہیں، یعنی یہ سارے واقعات فوجداری ہیں، ان کی روک تھام پولیس، انتظامیہ اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ (اس حوالے سے ہم نے ایک مضمون میں تفصیلی بات کی ہے جو کہ اسی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جس کا لنک یہاں دیا جارہا ہے۔) https://blog.jasarat.com/2018/01/13/saleem-ullah-3/ لیکن ان کو ٹھیک کرنے کے بجائے بڑی چالاکی سے ان کی ذمے داری والدین اور اسکولوں پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان سارے واقعات کا سیکس ایجوکیشن وغیرہ سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز اس کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا دوسرا نکتہ جس کو یہ مخصوص لابی اپنی بنیاد بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ جب بچے اپنے والدین سے ایسی کوئی شکایت کرتے ہیں، اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی یا کا بتاتے ہیں تو والدین دقیانوسی رویہ اپناتے ہوئے ان کو چپ کراتے ہیں یا بدنامی کے خوف سے چپ ہوجاتے ہیں۔ یہ بات بھی بالکل بے بنیاد ہے۔ کیوں کہ بدنامی کے خوف سے والدین صرف اس وقت خاموش ہوتے ہیں جب خدانخواستہ میرے منہ میں خاک کسی کی جوان بچی کی عزت و آبرو کو تار تار کیا جائے۔ بچوں160کے معاملے پر توہم نے میڈیاپر، معاشرے میں، گلی محلے...

وارفتگی 

اہلیہ کو غمگین دیکھا تو میں سوال کر بیٹھا : "عمرہ ہوگیا ہے تو خوش ہونا چاہیے کہ منھ بِسورنا چاہیے _" کہنے لگیں :" کرسی پر بیٹھ کر عمرہ کوئی عمرہ ہوتا ہے _ دور دور سے طواف کرلیا ، نہ غلافِ کعبہ کو چھوا، نہ رکنِ یمانی کا استلام کیا ، نہ ملتزم سے چمٹے، نہ حجر اسود کو بوسہ دیا، مجھے تو لگتا ہے کہ میرا عمرہ ہوا ہی نہیں _"  میں نے تسلّی دینی چاہی: " معذوروں کا عمرہ ایسے ہی ہوتا ہے، جیسے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والوں کا سجدہ پیشانی زمین پر ٹِکایے بغیر ہوجاتا ہے _"   وہ خاموش ہوگئیں، لیکن چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ میرا جواب انھیں مطمئن نہیں کرسکا ہے _ دو روز کے بعد گروپ لیڈر نے اطلاع دی کہ آج مسجد عائشہ جائیں گے ، جو لوگ دوسرا عمرہ کرنا چاہیں وہ وہاں سے احرام باندھ سکتے ہیں _ یہ سن کر اہلیہ خوش ہوگئیں _ کہنے لگیں کہ اب کی بار میں پیدل چل کر اور خانہ کعبہ کے قریب جاکر طواف کروں گی اور پیدل ہی سعی بھی کروں گی _  مجھے بہ خوبی اندازہ تھا کہ اہلیہ کے لیے پیدل طواف اور سعی کرنا تکلیف کی وجہ سے ممکن نہیں ، اس لیے میں نے ہمّت شکنی کرتے ہوئے کہا :" ایک مرتبہ دو طواف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں _ آپ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں 4 مرتبہ عمرہ کیا ہے ، کبھی ایک سے زاید عمرہ نہیں کیا _"  " لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ مقام ' تنعیم' تک جائیں ( اب وہیں ایک مسجد بنا دی گئی ہے جو مسجد عائشہ کے نام سے مشہور ہے) اور وہاں سے احرام کی نیت کرکے آئیں اور طواف کریں _" اہلیہ نے دلیل پیش کی _ میں نے جواب دیا : " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک عذر(حیض) پیش آگیا تھا ، جس کی بنا پر وہ دوسروں کے ساتھ عمرہ نہیں کرسکی تھیں، اس وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے لیے ایک گنجائش پیدا کی تھی ، یہ عام لوگوں کے لیے اجازت نہ تھی _"  اہلیہ میری کوئی بات سننے کو تیار نہ تھیں _ انھیں تو دوسرا عمرہ کرنا تھا اور وہ بھی پیدل _ ان کا ساتھ دینے کے لیے میں بھی دوسرا عمرہ کرنے کے لیے مجبور تھا _ احرام ہوٹل ہی سے باندھ لیا تھا _ مسجدِ عائشہ پہنچ کر عمرہ کی نیت کی _ بس ڈرائیور نے واپسی میں حرم کے قریب لاکر چھوڑ دیا  آج کل حرم میں خانہ کعبہ کے قریب زمزم کے کنویں کی مرمّت کا کام چل رہا ہے، اس لیے مطاف کا صحن تنگ کردیا گیا ہے اور وہاں صرف عمرہ کرنے والوں کو داخل ہونے کی اجازت ہے _ ہم حرم کے ایک دروازے سے داخل ہوئے ، مگر صحنِ مطاف تک نہ پہنچ سکے ، بلکہ مختلف راستوں...

اے انسان! پلٹ اپنے ربّ کی طرف۔۔۔۔۔

کیا کسی نے غور کیا کہ اب انسان کا اپنے پیدا کرنے والے ربّ سے رشتہ بہت حد تک کمزور پڑ چکا ہے، بلکہ تقریباً ٹوٹ ہی چکا ہے۔ اب اسے کوئی تکلیف، رنج اور غم پنہچے تو وہ کوئی ایسا فرد یا ادارہ تلاش کرتا ہے جس پر اس مصیبت کا الزام دھر سکے۔ یہ مغربی طرززندگی اور طرزفکر ہی کا کمال ہے کہ اب ہر بات کا موجب ’’حکومت‘‘ کو سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ اس سے قبل ہم حضورصلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنھم کی زندگیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ ہر راحت، خوشی، تکلیف یا غم کے معاملہ میں اللہ ہی کی ذات کی طرف پلٹتے تھے۔ اب آپ، قصور واقعہ ہی کو لے لیجیے۔ کتنے انسان ہوں گے جن کا ذہن اس واقعہ کے بعد اپنے اعمال اور انسانوں کے اجتماعی گناہوں کی طرف گیا ہوگا؟۔ ٹھیک ہے حکومت، نالائق ہے۔۔۔ برے اور خائن لوگ ہم پر مسلط ہیں۔۔۔ ہر چیز بگاڑ کا شکار ہے۔۔۔ کہیں عافیت اور خیر نظر نہیں آتا۔۔۔ مگر یہ سب بھی تو اللہ کے عذاب کی ایک شکل ہے کہ وہ ہماری بداعمالیوں، برے کرتوتوں اور نافرمانیوں کی بنا پر ہم پر ایسے لوگ مسلط کر دیتا ہے جو ہمارا جینا دوبھر کر دیتے ہیں۔ دو تین روز قبل قرآن کی تفسیر احسن البیان کا مطالعہ کر رہا تھا کہ سورہ الانعام کی آیت نمبر 65 پر سے گزر ہوا۔ یہ آیت میں نے پہلے تو متعدد بار پڑھی ہے مگر اس کی تشریح کے اس پہلو کی طرف ذہن نہیں گیا تھا جو فاضل مفسر نے یہاں بیان کی ہے۔ پہلے آپ آیت کا ترجمہ پڑھیں پھر تشریح: ’’کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کردے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کردے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوادے۔ دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں.‘‘..الانعام: ۵۶ مفسر احسن البیان، ’’اوپر سے عذاب‘‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں: ’’یعنی آسمان سے، جیسے بارش کی کثرت، ہوا، پتھر کے ذریعہ سے عذاب یا امراء و حکام کی طرف سے ظلم۔ (نوٹ: امراء و حکام کی طرف سے ظلم کو ’’اوپرسے عذاب‘‘ میں شامل کرنے کی بات میں نے پہلی بار جانی)۔‘‘ ’’قدموں کے نیچے سے عذاب‘‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں: ’’جیسے دھنسایا جانا، طوفانی سیلاب، جس میں سب کچھ غرق ہو جائے یا مراد ہے ماتحتوں، غلاموں اور نوکروں چاکروں کی طرف سے عذاب کہ وہ بددیانت اور خائن بن جائیں۔ (یہ پہلو بھی پہلی بار آشکار ہوا کہ خائن نوکر اور ماتحت ملازمین بھی عذاب کی ایک صورت ہے)۔‘‘ پھر مسلم شریف کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’حدیث میں آتا ہے، نبیؐ نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں، پہلی یہ کہ: ۔۔۔۔ میری امت غرق کے ذریعے سے ہلاک نہ کی جائے، دوسری یہ کہ ۔۔۔۔ قحط کے ذریعہ سے اس کی تباہی نہ ہو اور تیسری...

“جسارت بلاگ” کی فکرانگیز جسارت

اور بالآخر جسارت بلاگ کی " رائٹرز/بلاگرز ورکشاپ" منعقد ہو گئی۔ ورکشاپ کی آن لائن عمومی دعوت پر بمشکل بھاگتے دوڑتے، ذمہ داریوں سے رخصت لیتے پہنچے تو شرکت کے لحاظ سے انتہائی خاص لگی۔ نئے اور پرانے لکھاریوں کے لیے نہایت اثرانگیز تربیتی علمی نشست تھی۔ جسارت بلاگ، جسارت میڈیا گروپ کی متعارف کردہ بلاگ ویب سائٹ ہے۔ نظریاتی تشخص رکھنے والے لکھاری اس پلیٹ فارم سے معاشرے کی کمزور پڑتی عمارت کی مضبوطی کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ رائٹرز/بلاگرز ورکشاپ بھی ان ہی کوششوں کا حصہ نظر آئی۔ تمام مربّیین(سہولت کار،اسپیکرز) اپنے اپنے میدانِ کار کے ماہر اور نظریاتی سوچ کے حامل تھے۔ سب نے ہی معاشرے کی دکھتی رگ پر نہ صرف ہاتھ رکھا بلکہ دردمندی کے ساتھ اس کی دوا بھی تجویز کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ میزبانی کے فرائض نوجوان شعلہ بیاں مقرر سلمان علی نے انجام دیئے۔روزنامہ جسارت کے چیف آپریٹنگ آفیسر محمد اکرم قریشی نے ورکشاپ کا تعارف کرواتے ہوئے اسے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔ پہلا پروگرام، رائٹر سلیم اللّٰہ شیخ کا تھا۔ انہوں نے "مؤثر تحریر کیسے؟" کے موضوع پر اثرانگیز تحریر کے لوازمات کی وضاحت کی۔ان کے مطابق، موثر تمہید، چھوٹے چھوٹے پیراگرافس، متعلقہ مستند معلومات، محاورات و ضرب الامثال اور آسان و معیاری الفاظ کے استعمال سے تحریر کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسامہ شفیق نے "سوشل میڈیا کی ضرورت و اہمیت" کے عنوان سے ابلاغ کے اسرار و رموز سے آگہی فراہم کی۔ انہوں نے جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری کے اس عالمی شاہکار کی حقیقتِ حال کو واضح کیا۔ ان کے مطابق ابلاغ کی صلاحیت اب اداروں کے ساتھ ساتھ افراد کے ہاتھوں میں بھی آ گئی ہے۔ سوشل میڈیا نے اصل حقیقت کو پسِ پردہ رکھ کر سامنے دکھائی دینے والے جھوٹ پر مبنی من پسند سچ کو فروغ دینے کی روایت ڈالی ہے۔ ابلاغی صلاحیت کو جاننا، سمجھنا اور عمل درآمد کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ آج ٹی وی سے تعلق رکھنے والے عطا محمد تبسم نے سوشل میڈیا کو سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار قرار دیا۔ان کے مطابق ماحول کی بہتری کے لیے ہر ایک کو اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ ان کے منصوبے میں ایک تحریری سرگرمی بھی شامل تھی جو کہ وقت کی کمی کے باعث آئندہ کے لیے مؤخر کر دی گئی۔ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کاشف نصیر نے " بلاگ کیا ہے؟ اور پاکستان میں بلاگنگ کی تاریخ" کے عنوان سے بلاگ کی وضاحت کی. انہوں نے پاکستان میں بلاگنگ کی تاریخ کو مرحلہ وار بیان کیا۔ کھانے اور نماز کے وقفے کے بعد حاضرین تازہ دم ہونے کے بعد بقیہ سیشن شروع ہوا۔ عبد اللہ صاحب نے"بلاگ کی اہمیت" کے عنوان سے بلاگ کی کامیابی پر نہایت عام فہم اور ہلکے پھلکے انداز میں عمل انگیز نکات پیش کیے۔ انہوں نے چند بلاگ سائٹس، دنیا نیوز، ایکسپریس نیوز اور سماء نیوز کا مختصر تعارف بھی پیش کیا۔ ان کے مطابق بلاگ/آرٹکل رائے سازی کا اہم ذریعہ (ٹول) ہے۔ ابتدائی بلاگنگ کے لیے بڑے بڑے عالمی اِشوز یا سیاست کے بجائے چھوٹے چھوٹے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

لائن پر آؤ یا لائن بناؤ

الن کلن کی باتیں ’’ہمارے یہاں عقلمندوں کی کمی نہیں، ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔‘‘ ’’جب ہزار ملتے ہیں تو پھر ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ’’اسی لئے ڈھونڈنے کی زحمت نہیں کی جاتی بلکہ جو مل جائے اسی سے کام چلا لیا جاتا ہے۔‘‘ ’’ایسا کیا ہوگیا، کچھ بتاؤ گے بھی یا پہیلیاں ہی بھجواتے رہو گے؟‘‘ ’’اب دیکھو ناں ہمارے ملک میں جو عقلمند ملتے ہیں وہ عوام کے خادم نہیں بلکہ عوام کے حاکم ہوتے ہیں۔ اسی لئے وہ عقلمندی کے ایسے جوہر دکھاتے ہیں کہ جس سے عوام کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔‘‘ ’’ ایسا کیا ہوگیا جو تم ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہو؟‘‘ وارداتیں ہورہی ہیں یا ہونے کا خطرہ ہے تو ڈبل سواری پر پابندی لگا دو۔ موبائل سے ریکی کی جاتی ہے تو موبائل کا نیٹ ورک بند کردو۔ بجلی کی ادائیگی کسی علاقے میں کم ہورہی ہے تو وہاں پر لوڈ شیڈنگ کرو۔ آٹا مہنگا ہے تو ڈبل روٹی کھا لو۔ ‘‘ ’’واقعی یہ بات تو تم نے ٹھیک کہی، لیکن اصل بات کیا ہے؟ وہ بتاؤ، یہ پرانی باتیں ہیں۔‘‘ ’’عوام کے نصیب میں دربدر کی ٹھوکریں کھانا لکھا ہے۔ کبھی یوٹیلٹی بلوں کے لئے لائن میں لگایا جاتا ہے، کہیں گیس بھروانے کی لائن میں لگایا گیا، کہیں پیٹرول نایاب کرکے لائن میں لگایا گیا، کہیں سم رجسٹریشن کے نام پر لائن میں لگایا گیا، کہیں ووٹ ڈالنے کے لئے لائن میں لگایا، کہیں لائسنس کے لئے لائن میں لگایا اور کہیں شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نادرا کی لائن میں لگایا۔‘‘ ’’جو قوم لائن پر نہیں آتی پھر اسے اسی طرح لائن میں لگایا جاتا ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ ابھی کون سی لائن لگنے والی ہے؟‘‘ ’’سنا ہے چھ ماہ میں شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق ہوگی۔‘‘ ’’ٹھیک سنا ہے۔‘‘ ’’مطلب ایک بار پھر دوبارہ سے لائن میں لگ کر تصدیق کرنی ہوگی؟‘‘ ’’اب تک تو آپ کو لائن میں لگنے کی عادت ہوجانی چاہیئے تھی۔ لیکن چونکہ یہ قوم لائن میں لگنے کی عادی نہیں اس لیے یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے۔‘‘ ’’اب آپ کیا چاہتے ہو بغیر لائن کے تمہارا کام ہوجائے؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ زرداری کے بیٹے بلاول تو نہیں ہیں یا آپ شریف خاندان سے تو تعلق نہیں رکھتے جو آپ بغیر لائن میں لگے اپنا کام کروا سکیں۔‘‘ ’’تو پھر ایک کام کیوں نہیں کرتے۔ سب کو لائن میں لگا کر چار چار جوتے کیوں نہیں لگائے جاتے تاکہ سب کی عقل ٹھکانے آجائے۔‘‘ ’’ایسی ذلت بھلا کون پسند کرے گا؟‘‘ ’’ذلت عوام کا مقدر ہے کیونکہ ان کے پاس شعور نہیں۔ انہوں نے اس کو اپنا نصیب سمجھ لیا ہے اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ عقلمند ہم پر کیوں حکومت کررہے ہیں جو ہمارے ووٹ لے کرآتے ہیں اور ہمارے ہی پیسوں پر پلتے ہیں اور ہمارے درمیان اس طرح وی آئی پی انداز میں نکلتے ہیں، جیسے یہ انسان ہیں اور ہم سب گدھے۔ ان کی جان کی قیمت ہے اور ہم چیونٹیاں ہیں جس کے جی میں ا?ئے پاؤں تلے روند جائے۔‘‘ ’’تو تمہارے خیال میں عوام کیا کرسکتی ہے؟‘‘ ’’کہہ تو رہا ہوں چار جوتے سب کو...

چلتی پھرتی جلی کٹی تحریریں

جس ملک میں ہاتھ دیکھنے والا اور سڑک پر طوطے سے فال نکالنے والاپروفیسر اور عامل کا بورڈ لگائے بیٹھا ہو اور جس قوم میں پانی کے ٹیکے لگانے والا اپنی کلینک کے ماتھے پر اسپیشلسٹ کا اشتہاری بورڈ لگائے ہوئے ہو، بھلا اْس قوم کے ڈرائیور اپنی اپنی گاڑیوں کے پیچھے دلچسپ و عجیب معنی خیز المیہ و طربیہ عبارتیں لکھ کر اپنا کتھارسس کیوں نہ کریں گے؟ ان کی چلتی پھرتی تحریریں پورے ملک کی سیر کراتی ہیں اور لوگوں کا دل بہلاتی ہیں۔ یہ تحریں ہم نے درختوں اور دیواروں پر بھی دیکھی ہیں جو لوگوں کا ضمیر جھنجوڑنے کے لئے لکھی گئی ہوتی ہیں لیکن ہم اتنے مردہ ضمیر ہیں کہ اْن پر غور کرنے کے بجائے ہنس دیتے ہیں اور بے ترتیب جملے لکھنے والوں کو کوستے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے حکومت نے دیواروں پر وال چاکنگ سے روک رکھا ہے کہ دل جلوں کی یہ تحریریں کہیں عوام کو بیدار نہ کردیں۔ خیر دیواروں پر لکھی تحریروں کو تو روکا جاسکتا ہے لیکن ان پیغامبر عبارتوں کو کون مٹائے گا جو ڈرائیور حضرات اپنی گاڑیوں پر لکھواتے اور قوم تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اْس روز ہمارا سفر تھا انڈس ہائی وے شہداد کوٹ سے حیدرآباد تک کا تھا۔ اْس سفر کا اصل مقصد گاڑیوں پر لکھی گرم نرم عبارتوں کا معائنہ کرنا تھا۔ یہ عبارتیں کن کی پسند پر لکھوائی جاتی ہیں یہ کوئی نہیں جانتا، نہ ڈرائیور نہ مالکان نہ پینٹرز، اور نہ ہی کبھی کسی ادیب نے اْن الفاظ پر غور کیا ہے۔ یہ ایک روایت کی طرح بس لکھی جارہی ہیں۔ کیا کبھی کسی کالم نگار نے ان الفاظوں پر تبصرہ کیا ہے؟ کبھی نہیں۔ اگر کیا ہوگا تو زندگی میں شاید ایک آدھ بار۔ کیا کوئی ٹاک شو ان الفاظ پر چلا؟ کبھی نہیں۔ بس اگر انہیں کسی نے پڑھا اور لکھا تو یہ عوام اور ڈرائیور ہیں۔ ملک کے 75 فیصد ڈرائیور اَن پڑھ ہیں پھر بھی اْن کی گاڑیوں کے پیچھے لکھے الفاظ دل کو چھو لیتے ہیں۔ گاڑیوں کے پیچھے لکھے الفاظ کی جنگ کا نظارہ کرنے ہم جیسے ہی قنمبر شہر پہنچے تو سب سے پہلے پولیس کی گاڑی ملی جس پر جلے ہوئے الفاظ کے ساتھ لکھا تھا ’’مجرم کی تلاش‘‘ بھلا ہو سندھ کے قانون کا جنہیں مجرم کی تلاش تو ہے ملزم کی نہیں۔ ایک اور قانون کی گاڑی ملی جس پر لمبے لمبے حروف کے ساتھ لکھا تھا ’’بادشاہ‘‘ بالکل سچ لکھا تھا۔ واقعی سندھ پولیس بادشاہ ہے کچھ آگے بڑھے تو ایک رکشہ ملا جس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ’’تعلیم عورت کا زیور ہے اور میرا چھوٹا بھائی اْس عورت کا دیور ہے‘‘ مزید آگئے گئے تو یہ پڑھنے کو ملا ’’جسم پر گندگی بے شک ہو مگر دل پر گندگی کبھی نہ ہونے دینا‘‘ اِس تحریر کو لکھوانے والا ڈرائیور غالباً کئی دنوں سے نہایا نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ گاڑی کے پیچھے یہ الفاظ لکھوا رکھے تھے یا ممکن ہے کہ وہ گاڑی والا گندا رہنے والوں پر طنز کررہا تھا۔ جس قوم کے فراڈئیے، بہروپئیے عالم دین کا ٹائٹل سجائے ہوئے ہوں وہاں ڈرائیور...

آئی رے سردی

سردی کب شروع ہوتی ہے اس بارے میں الگ الگ اندازے ہیں لیکن اس پہ سب کا اتفاق ہے کہ جب لگنا شروع ہوجائے اسی دن سے سردی شروع ہوجاتی ہے ، تاہم روایتی طور پہ سردی کا آغاز بالعموم دسمبر کے مہینے سے شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہر برس دسمبر کی آمد پہ گرما گرم شاعری اور سرد مغالطوں کی نئی فصل کاشت ہوتی ہے اور ہر بار عاشق دسمبر کی آمد کا جس بیتابی سے انتظار  کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس بار کے دسمبر میں تو وہ اپنے عشق کی کیاری میں ذاتی خون جگر سے سینچی گئی رومانی مولی کاشت کر ہی لیں گے لیکن پھر ہوتا یوں ہے کہ ان کا عشق سرد موسم کے دو تین ٹھٹھراتے غسل ہی میں کافی ٹھنڈیا جاتا ہے اور پھر وہ سارا خنک موسم کھانستے چھینکتے اور بڑا سا گرم ٹوپا پہنے رقیب کی مونگ پھلیاں ٹھونگتے اور اس سے فرمائش کرکے گرما گرم چکن سوپ پیتے گزار دیتے ہیں۔ یوں مزید عشق کرنے کے لیے وہ بھی سلامت رہتے ہیں اور رقیب کو بھی گزند نہیں پہنچتی۔ کچھ ہونہار عاشق اس موسم میں محبوب کے بھائی سے دوستی گانٹھ کے اس کی گلی میں بلکہ عین اس کے گھر کے سامنے اکثر بڑے دھڑلے سے لکڑیاں جمع کرکے الاؤ روشن کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ، یوں محبوب کا بھائی ہاتھ تاپتا ہے اور وہ دل تاپتے ہیں اور گاہے آنکھیں سینکتے ہیں۔ سردی کی کونپل چونکہ دسمبر میں سر ابھارتی ہے چنانچہ کچھ خاص قسم کے شعراء کی افزائش کا مہینہ بھی یہی ہے جنہیں ہم دسمبری شاعر کہتے ہیں کیونکہ ان کے کلام کا مرکزی نکتہ سرد  دسمبر کا گرم انتظار اور اس کا والہانہ خیرمقدم ہوتا ہے اور یہ دسمبری کلام عام طور پہ تاثیر کے لحاظ سے ٹھنڈے موسم سے بھی کہیں زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے ، اتنا ٹھنڈا کہ  اس کی خنکی سے اس کے تمام ردیف اور قافیے  اور  اوزان وغیرہ بھی ٹھٹھر جاتے ہیں- موسم سرما کی خصوصیات یوں‌ تو بیشمار ہیں لیکن آغا ان میں سے خاص الخاص یہ قرار دیتے ہیں کہ سردی درحقیقت قدرت کی طرف سے کپکپانا سکھانے کا وہ سالانہ ٹریننگ پروگرام ہے جس سے ملازمت اور ازدواجی زندگی ، دونوں ہی کو خوش اسلوبی سے بھگتانے میں بڑی اخلاقی مدد ملتی ہے اور اس سیزن سے حاصل کردہ سبق کےتحت بغلوں میں ہاتھ دبائے رکھنے اور کسی قدر خمیدہ پشت ہوکے چلنے کی عادت پڑجانے سے اور بعد از موسم سرما اس انداز کو معمول بنالینے سے تو دنیاوی درجات کی بلندی تقریباً یقینی ہوجاتی ہے- ہجر و فراق کے رموز پہ گہری نظر رکھنے والوں کے مطابق تکنیکی و فنی لحاظ سے سردی کا موسم ہی درحقیقت سرد آہ بھرنے کا اصل موسم ہے۔ غیرمحتاط اور ناتجربہ کار عاشق گرم مہینوں میں سرد آہ کھیچنے کی کوشش میں اپنی بچی کھچی توانائی اور محبوبہ کا اعتبار کھوتے ہیں۔ سرد موسم میں سرد آہ بھرنے پہ کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ پھر وہ بھاپ بن کے خارج ہوتی...

قرۃ العین حیدر نے پاکستان کیوں چھوڑا تھا؟ حصہ دوم

ایک دن ہم نے پریس کلب میں اگلی میز پر بیٹھے ایک معروف اینکر کی توجّہ حاصل کرنے کے لیے یہ سوال، یعنی قرۃ العین حیدر نے پاکستان کیوں چھوڑا؟اپنے دوست اشفاق سے کیا، اور بلند آواز سے کیا۔ نتیجہ حسبِ خواہش نکلا۔  اس سے پہلے کہ اشفاق سوال پر غور کرتا، اینکر صاحب (انہیں آپ بیگ صاحب سمجھ لیجیے) جھپٹ کر ہماری میز پر آگئے، (اپنا)منہ کان کے قریب لا کر سرگوشی میں پوچھنے لگے  ’’یہ کتنے بجے کی بات ہے؟‘‘ ہم نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا ’’کون سی بات؟‘‘۔ بیگ صاحب نے وضاحت کی ’’یہی…. پاکستان چھوڑنے والی بات، یہ کسی چینل پر بریک ہوئی ہے یا نہیں؟‘‘۔ ہم نے اطمینان سے عرض کیا ’’یہ بات پچاس پچپن برس پہلے کی ہے‘‘۔ ’’ہت تیرے کی…..‘‘ کہتے ہوئے بیگ صاحب نے اپنا موبائل فون واپس جیب میں رکھ لیا۔ انہیں اپنی بریکنگ نیوز اس طرح ضائع ہونے کا بہت دکھ تھا۔ وہ واپس اپنی میز پر جا بیٹھے۔ اب اشفاق کی باری تھی۔ وہ قرۃ العین سے تو واقف تھا لیکن وہ کوئی گلوکارہ تھی۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کہ یہ گلوکارہ اتنی پرانی ہے، پر لگتی نہیں ہے۔ پچپن برس پہلے پاکستان چھوڑا اور اب پھر آگئی ہے؟ اس کی اصل عمر کیا ہوگی؟ اشفاق بولا ’’مجھے تو اس بات پر حیرت ہے کہ اس نے خود کو کتنا فٹ رکھا ہوا ہے، اُسے پاکستان واپس آنے پر راضی کس نے کیا؟ جس نے بھی کیا، اُس نے فن کی بڑی خدمت کی ہے‘‘۔ ہم نے اشفاق کی پیٹھ پر نرم سا مُکّا مارتے ہوئے کہا ’’فن کے بچّے! قرۃ العین حیدرادیبہ تھیں، بہت بڑی ناول نگار، ’آگ کا دریا‘ کی مصنف۔ پاکستان بننے کے کئی سال بعد بھارت سے یہاں آئیں، لیکن چند سال بعد نہ جانے کیا ہوا کہ وہ واپس وہیں چلی گئیں۔ کچھ سال پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ اب مجھے جستجو ہے کہ کوئی میرے اس سوال کا جوب دے‘‘۔ ’’اچھا ، تو یہ بات ہے۔ میں تمہیں خالو کے پاس لے جاتا ہوں،وہ بھی ادیب اور شاعر ہیں، چلو، اُٹھو!‘‘ تھوڑی دیر بعد ہم غزالی صاحب کے روبرو بیٹھے تھے۔ قلم اور بیاض اُن کے ہاتھ میں تھا اور پان منہ میں۔ عادتاً وہ (اپنا)گھُٹنا مسلسل ہلا رہے تھے۔ اپنی مشقِ سخن میں سے کچھ وقت نکال کر ہمارا سوال سنا اور پھڑک کر بولے ’’بھئی! بڑے موقع سے آئے۔ میں نے قرۃ العین کے پاکستان سے چلے جانے پر پچاس سال پہلے جو پُرسوز نظم کہی تھی، وہ آج بھی تازہ ہے،پیش کرتا ہوں۔ اجازت ہے؟‘‘ ہماری حالت چھُری کے نیچے آئے ہوئے بکرے جیسی تھی، بکرے جیسی نظروں سے ہم نے قصائی….. معاف کیجیے گا، غزالی صاحب کو دیکھا۔ اُن کی آنکھوں میں رحم نہیں تھا۔ شکایتی نظروں سے اشفاق کو دیکھا۔ وہ موبائل فون پر (خاموشی سے)گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔ خالو کی نظروں میں وہ بدذوق کا درجہ پہلے ہی حاصل کر چکا تھا، اور اِس درجے کو گنوانے کا ابھی اُس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔اِس وقت خالو کو پورے گھر میں ہم واحد ادب شناس نظر آ رہے تھے۔ ناچار...

ایک جن کی سرگزشت

ایک لمحے کے لیے تو اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہوا ۔ جب ذرا حواس قابو میں آئے تو آس پاس کے ماحول پر نظر ڈالی۔ چند نظروں کو اپنی جانب گھورتے ہوئے پایا۔ایک طرف مرد اور عورت ایک بچے کو لیے بیٹھے تھے جو شکل سے ہی کافی بیمار نظر آرہا تھا۔ دوسری طرف ایک عجیب وغریب حلیے کا آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کے گلے میں بہت سی مالائیں پڑی ہوئی تھیں۔ درمیان میں آگ کا ایک بڑا سا الاؤ جل رہا تھا۔ جس میں وہ عجیب و غریب حلیے والا آدمی جو کوئی جعلی پیر معلوم ہو رہا تھا کوئی سفوف قسم کی چیز ڈال رہا تھا۔اس آدمی نے مرد و عورت سے کہا ۔۔۔دیکھا میں نہ کہتا تھا اس بچے پر کسی نہایت خبیث جن کا سایہ ہے ۔ دیکھا میرے ایک ہی عمل نے کیسے اسے یہاں لا پھینکا۔ اب تمہارا بچہ بہت جلد ٹھیک ہوجائے گا۔ ایسے آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا ۔ آئیے میں آپ کو شروع سے بتاتا ہوں۔ سالم ایک نہایت خوبصورت گول مٹول سا بچہ تھا مگر اسے کیا کہا جائے کہ وہ جن کا بچہ تھا۔ ایک نمبر کا شریر۔ کیونکہ اکلوتا بچہ تھا اس لیے سب کے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ کے رکھ دیا تھا۔ نتیجہ یہ کہ جب تک اس نے بی اے مکمل کیا جب تک اس کی حرکتیں عروج پر پہنچ چکی تھیں۔ اس کے ماں باپ بھی اس کی طرف سے سخت پریشان رہتے۔ آخر کار ایک دن تنگ آکر اس کے ابا نے اپنی پریشانی کا ذکر شاہ جنات سے کیا اور یہ بھی بتایا کہ آج کل اسے ملک سے باہر جا کر کام کرنے اور مزید پڑھنے کا جنون سوار ہو گیا ہے۔ ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ بہت ضدی ہے کسی صورت باز نہیں آتا۔ شاہ جنات نے جواب دیا میرے پاس اسے سدھارنے کا حل ہے۔ میں اسے ایسی جگہ بھیج دوں گا کہ وہاں جا کر تمام چوکڑیاں بھول جائے گا اور ایک دم نیک اور سیدھا جن بن جائے گا۔ مگر تمہیں اور تمہاری بیوی کو اس کی بہتری کے لیے کچھ عرصے تک اس سے دوری برداشت کرنی پڑے گی۔ سالم کے ابا نے آمادگی ظاہر کی تو شاہ جنات نے انہیں سالم کو لے کر آنے کی ہدایت کی۔ اگلے دن سالم کے ابا اسے لے کر شاہ جنات کے دربار میں حاضر ہوئے۔ شاہ جنات نے سالم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے بارے میں بہت شکایات موصول ہوئی ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ تمہارے اندر آج کل کے انسانوں والی حرکتوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔ تم جھوٹ بہت بولتے ہو۔ تم دوسرے جنات کو تنگ کرتے ہو اور نہ صرف یہ کہ تم نے بہت سے دکانداروں کو چیزوں میں ملاوٹ کرنے کا مشورہ دیا بلکہ انہیں چیزیں کم تولنے کے گر بھی بتائے۔ اس کے علاوہ تمہارے ابا نے بھی تمہاری بے شمار شکایتیں میرے گوش گزار کی ہیں لہٰذا میں نے تمہیں اپنی مملکت سے جلا وطن کرنے کا فیصلہ کر...

ہمارے بلاگرز