ادب

بھروسہ

ناصر نے تیاری کی، ضروری سامان بیگ میں رکھا اور پھر ایک طویل سفر کے لئے نکل پڑا۔ دبئی میں روز گار کے لئے...

سوچ کا فرق

 سردیوں کی شام تھی عاصمہ آنٹی ھمارے گھر آئی تھی عاصمہ آنٹی ہماری پڑوسن تھی.ویسے تو وہ ہر لحآظ سے بہتر خاتون تھی مگر...

میں بھی خاموش ہوں

میں بھی خاموش ہوں  وہ بھی خاموش ہے خاموشی  میں ہے اک طلاطم بپا کھویا کھویا سا ہے اعتمادِ وفا میں بھی خاموش ہوں وہ بھی خاموش ہے بیتے لمحوں...

معذور بچے توجہ کے طالب

نوید کے چیخنے چلانے کی آوازوں پر وہ دونوں بیزاری سے اس کے کمرے میں گئے۔ کمرے میں داخل ہوکر کمرے کی ابتر حالت...

ڈھلتی شام۔۔۔افسانچہ

ڈھلتی شام کا وقت ہے. سورج گھر لوٹنے کو ہے... درخت و پیڑ سبز چادر اتار کر کالی چادر اوڑھنے لگے ہیں  .... میں...

   غم دلِ

پوچھتا        ہوں میں    اکثر    دل سے کیوں روٹھ  گیں خوشیاں مجھ  سے شبِِ  کرب  کا عادی ہوں برسوں سے نیند  بھی  رہتی  ہے خفا  مجھ   سے دل کو...

شرافت کے مارے ۔۔افسانہ

وہ مینار والی مسجد کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہاں سے اُسے دور دور تک سارا منظر صاف نظر آتا...

پلیٹ فارم

 تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے چائے کا گلاس اور بسکٹ کی پلیٹ رکھتے ہوئے اس تیرہ سالہ بچے سے پوچھا۔ جی مجھے سب چھوٹا...

عبادت۔۔۔دل سے پڑھی جانے والی ایک دل گداز معاشرتی کہانی

لگتا ہے یہ بڑے میاں اس عمر میں آکر تھوڑا کھسک گئے ہیں۔‘‘ امین صاحب نے دبی آواز میں سلیم صاحب سے کہا اور...

خون کی سیج

اگر آپ کی یادداشت بہت اچھی ہے تو مجھے یقین ہے کہ آج سے پندرہ سال پہلے چھپنے والی ایک خبر ابھی تک آپ...

اہم بلاگز

“دعا سے بدل جاتی ہے تقدیر”

دعا کا موضوع کوئی نیا اور اچھوتا موضوع نہیں ہے۔یہ موضوع اتنا ہی قدیم ہے جتنا کے خود انسان۔حضرت آدم کو جو رب کریم نے جو دعا سیکھائی وہ قرآن میں موجود ہے۔اس طرح پے در پے باقی انبیاءکی بھی دعا موجود ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ھمارے پیارے نبی ہیں اللہ تعالی نے  نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے ہمیں یہ پیغام پہنچایا ہے کہ دنیا کے آخر تک کس طرح سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں .شریعی اصطلاح میں دعا کا مفہوم مدد طلب کرنا ہے .دعا بذات خود عبادت کا مقام رکھتی ہے رب کریم نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ،اور تمھارے رب نے فرمایا ہے کہ اور تمہارے رب کا فرمان ( سرزد ہو چکا ) ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے ۔سورۃالمومن۔ یعنی دعا ہمیں اس یقین کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ قبول ہوگی اور ہمارا پروردگار ہمیں ۷۰ماؤں سے بڑھ کر ہم سے محبت کرتا ہے ہم اپنے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہمارا رب ہمارے ماضی حال مستقبل سے خوب واقف ہے بعض دعا ئیں قبول نہیں ہوتیں اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کے وہ ہمیں پسند نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیں ہمارے طلب سے زیادہ بہتر دینا چاہتا ہے. ایک مومن کو توکل کی صفت قوی بناتی ہے،قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کہ:آپ فرمادیجیے !مجھے اللہ کافی ہے ,توکل کرنے والے اس پر توکل کرتے ہیں (الزمر:۳۷) انسان اپنی نادانی کی وجہ سے جلد بازی کرنے لگتا ہے اور اپنے وجود کو سوچ سمجھ سے خالی کرنے لگتا ہے.لیکن اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے توبہ کا دوازہ کھول رکھا ہے ، جس سے بندہ توبہ کر کے اپنا نام نیک لوگوں میں شامل کراسکتا ہے.دعا کے لیے یہ بھی ضروری ہے کے انسان تدبیر بھی کرے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص بیمار ہے اور وہ علاج ومعالجہ اختیار نہیں کرتا تو یہ غلط ہے.صحت کے ممکنہ اسباب اختیار کر ے اور دعا کرے.انسان کو دعا ہمیشہ پورے دل کے ساتھ مانگنی چاہیے ایسا نا ہو زبان سے دعا مانگ رہے ہوں اور دل کسی اور طرف متوجہ ہے.حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ "غافل اور بے پرواہ  دل والے بندے کی دعا قبول نہیں کی جاتی "یعنی ہمیں دعا اس یقین اور اطمینان کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ قبول ہوگی اور اگر ہماری مانگی ہوئی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ہمیں دل بردشتہ  شکستہ دل ہونے کے بجائے اس بات پے غور کرنا چاہیے اللہ ہمیں ہم سے بہتر جانتا ہے اور ہمارے یقین کا تقاضا ہی یہی ہونا چاہیے کے ہم اللہ کی رضا میں پورے دل سے راضی ہوں۔

ڈرامے, تفریح یا بے راہ روی

سڑکوں پہ ناچتی ہیں کنیزیں بتول کی اور تالیاں بجاتی ہے امت رسول کی یہ شعر ہمارے مسلم معاشرے میں اسلامی قدروں کی پامال ہوتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کسی دل گرفتہ شاعر نے کہی تھی ۔مگرآج کل کے ٹی وی ڈراموں پر جو کچھ پیش کیا جارہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے محسو س ہوتا ہے کہ ان ڈراموں کے پروڈیوسر ہمارے یہاں کچھ ایسا ہی ماحول پیدا کرنے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ پاکستانی عوام کی سستی تفریح کی بات کی جائے تو پاکستانی عوام ٹیلی ویژن کے ذریعے سستی تفریح حاصل کرلیتی ہے مگر جب ٹیلی ویژن پر عوام کو تفریح کے نام پر پاکستانی معاشرے کا غلط کلچر پیش کیا جانے لگے تو یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے آج سے دس بارہ سال قبل جب پرائیوٹ چینلز برساتی کھمبیوں کی طرح نہیں اگلے تھے تو پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے تفریح کے ساتھ ساتھ مفید معلومات بھی فراہم کرتے تھے اورسنجیدہ موضوعات پر معاشرے کے مسائل اور ان کے حل پر بھی ڈرامے بنتے نظر آتے تھے۔پی ٹی وی کے ڈراموں کے لیے لوگ پورا پورا ہفتہ انتظار کرتے تھے کیونکہ واقعی وہ ڈرامے اپنے موضوعات کے حساب سے بہترین بلکہ ناظرین کو کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقع ضرور دیتے تھے مگر شائد زمانہ کی ترقی کے ساتھ ہی ڈراموں نے بھی اپنا انداز بدل ڈالا اور ترقی کے نام پر وہ کچھ دکھایا جانے لگا کہ اللہ کی پناہ ۔ اب جو ڈرامے بن رہے ہیں اسے ہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ بھی نہیں ۔آج کل کے پرائیوٹ ٹی وی چینل کے ڈراموں پر نظر دوڑائیں تومحبت تو محبت بلکہ چند ناجائز رشتوں پر مبنی ڈرامے بھی دکھائے جارہے ہیں کبھی طلاق کے بعد بھی بیوی اپنے شوہر کے ساتھ رہتی نظر آتی ہے تو کبھی محرم رشتوں کے دوران محبت اور پھر بات شادی تک جا پہنچتی ہے کبھی بھاگ کر شادی کرنے کی بات ہوتی ہے تو کبھی شادی کے بعد بھی بیوی کی کسی دوسرے مرد سے محبت یا مرد کے عورت سے تعلقات کو ناصرف دکھایا جاتا ہے بلکہ اس کو معاشرے میں اچھا بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ طلاق لینے کے عمل کو عورت کی آزادی کے نام پر بہت ہی معمولی دکھایا جاتا ہے پھر ان ڈراموں میں ثقافت کے نام پر جو کچھ پیش کیا جاتا ہے وہ قطعی طور پر پاکستانی معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتے ۔پاکستانی چینلز ڈرامے کی ریٹنگ کے چکر میں ہماری معاشرتی قدروں کو پامال کر رہے ہیں اورالمیہ یہ ہے کہ اس سب کے باجود ہماری حکومت اور پیمرا مٹی کی مورت بنے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈرامے ایسے موضوعات پر بنائے جائیں جس سے کسی میں احساس محرومی پیدا نہ ہو اور جو کسی ایک طبقہ کی نمائندگی نہ کرے بلکہ پورے پاکستانی کلچر کی ترجمان ہو اور پاکستان سے متعلق بہترین تاثر جائے۔ جو دِکھتا ہے وہ بکتا ہے کی پالیسی کو بدلنا ہوگا اور شعوری طور پر ایسے ڈرامے بنانے ہونگے جو موضوع کے...

پہلے اور اب

پہلے لوگ تعلیم خدمت خلق سمجھ کر دیتے تھے اور اب تعلیم دینا کاروبار بن چکا ہے۔ پہلے مکان چھوٹے اور دل بڑے ہوا کرتے تھے. اب مکان بڑے اور دل چھوٹے ہوگئے ہیں۔ پہلے انسان قیمتی ہوتے تھے اور اب انسان کے علاوہ ہر چیز کی قیمتی ہے۔ پہلے انسان کم مگر معاشرے میں انسانیت زیادہ تھی اب انسانوں کی بہتات مگر انسانیت کا فقدان ہوچکا یے۔ پہلے بڑوں سے چھوٹے ڈرتے تھے، اب بڑے چھوٹوں سے ڈرتے ہیں۔ پہلے بزرگوں کو گھر کی برکت سمجھا جاتا تھا اب  بزرگ گھر کے لئے مصیبت سمجھے جاتے ہیں۔ پہلے والدین اولاد کو سمجھاتے تھے اب اولاد والدین کو سمجھاتے ہیں۔ پہلے طالب علم تعلیمی اداروں سے صرف تعلیم حاصل کرتا تھے۔ مگر اب صرف تعلیم کے علاوہ سب کچھ حاصل کرتے ہیں۔ پہلے استاد معاشرے کا اہم ترین ستون تھا اور اب استاد معاشرے کا مظلوم ترین مزدور ہے۔ پہلے آسائشیں کم اور انسانی زندگی پرسکون تھی مگر اب آسائشیں بہت زیادہ مگر انسانی زندگی بے سکون ہوگئی ہے۔ پہلے ڈاکٹر حکیم و طبیب کم تھے اور بیماریاں بھی کم تھی اب ڈاکٹر حکیم و طبیب زیادہ ہوگئے تو بیماریاں بھی لاتعداد ہوگئی۔ پہلے بھیک مانگنا ایک لعنت تھی اور اب پیشہ بن چکا ہے۔ پہلے حاکم غریب اور عوام امیر ہوتی تھی مگر اب حاکم امیر اور عوام غریب ہوچکی ہے۔ پہلے انسان اپنا احتساب خود کرتا تھا مگر اب عدالتیں کرتی ہیں۔ پہلے انسان کا سب سے بڑا رازدار انسان ہوتا تھا اب انسان کا سب سے بڑا رازدار موبائل ہوگیا ہے۔ پہلے طالب علم تعلیم کو باشعور بننے کیلئے حاصل کرتا تھا اور اب ملازمت حاصل کرنے کیلئے کرتا ہے۔ پہلے انسان کا قد لمبا اور اسکی زبان چھوٹی ہوتی تھی اب اسکا قد چھوٹا اور اسکی زبان لمبی ہوگئی ہے۔ پہلے کتابیں پڑھنے والے زیادہ اور لکھنے والے کم تھے. اب پڑھنے والے کم اور لکھنے والے زیادہ ہوگئے ہیں۔ پہلے حیوان حیوانیت پھیلاتے تھے اب یہ کام انسان بخوبی سرانجام دیتا ہے۔ پہلے بچوں کی تربیت ماں باپ کرتے تھے اب یہ کام گھر میں میڈیا کرتا ہے۔ پہلے بچہ استاد سے تھپڑ کھانے سے ڈرتا تھا،اب استاد بچے کو تھپڑ مارنے سے ڈرتا ہے۔  

​بلوچستان کے طالب علم یا چوکیدار 

​بلوچستان کا سب سے بڑا صنعنتی شہر اوستہ محمد کا سب سے بڑا قدیمی سرکاری ہائی اسکول اوستہ محمد جہاں ایک ہزار سے زاہد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکول بنیادی سہولیات سے محروم تو  ہے مگر اسکول کے بچے پورا ماہ چوکیدار بنے ہوئے ہیں کیا ایسے پڑھےگا بلوچستان ، کیا ایس بدلےگا بلوچستان کا تعلیمی نظام ، حکومت بلوچستان کا نعرہ ہے کہ؛ پڑھے گا بلوچستان تو بدلے گا بلوچستان، مگر افسوس کہ بلوچستان کے اسکولوں کے بچے چوکیدار بن بیٹھے ہیں۔دادا جان کہتے تھے اگر اولاد کو تحفہ نہ دیا جائے تو وہ کچھ دیر روئے گی مگر علم نہ دیا جائے تو وہ عمر بھر روئے گی۔ جو والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں لیکن وہاں پہ اسکول ٹیچر  طالب علموں کو پڑھانے کے بجائے چوکیدار بنا دیتے ہیں جو انتہائی افسوس ناک اور حیرت  انگیز اور باعث شرمندگی کا عمل ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی کے نام پہ ایک مہم جو پانچ سالوں سے چل رہی ہے؛؛پڑھے گا بلوچستان تو بڑھے گا بلوچستان ؛؛؛کیا ایسے عمل سے پڑھے گا۔ کیا ایسے پڑھ کر بلوچستان ترقی کی راہ پہ گامزن ہوگا۔ کیا یہ عمل انتظامیہ نہیں دیکھ رہی ہے اگر دیکھ رہی ہے تو خاموش کیوں ہے؟ کیا یہ طالب علم کسی کو نظر نہیں آتے ہیں؟ کیا یہ بلوچستان کے قانون میں ہے کہ پڑھنے والےطالب علم  چوکیدار بن جائیں ؟ ان طالب علموں کا کہنا ہے کہ ہر روز دو بچے مین گیٹ پہ چوکیدار کی ڈیوٹی دیتے ہیں اور پورے ماہ تک طالب علم ہی مین گیٹ پہ کھڑے ہوتے ہیں۔ چاہے سردی ہو یا گرمی ہم لوگ یہ کام احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں لیکن ہم اپنے والدین کو اس کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے ہیں ویسے بھی ہمارے اسکول کے چوکیدار کا کچھ پتا نہیں ہے وہ کہاں ہے اور کون ہے ہمیں یاد نہیں کب سے ہم اسکول کے چوکیدار بن بیٹھے ہیں خدارا ہمیں تعلیم حاصل  کرنے دیا جائے تو ہم بھی دوسرے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنا سبق یاد کر سکیں اور تعلیم میں اچھے مارک لیکر والدین کو خوش رکھیں ہماری حکومت بلوچستان سے اپیل ہے کہ تمام بلوچستان کے اسکولوں سے طلبہ چوکیداروں کو ہٹایا جائے ۔ حکومت بلوچستان کو چاہیئے کہ فی الفور تمام چوکیدار طلبہ کو مین گیٹ سے ہٹا دیا جائے اور طلبہ کو چوکیداری کے بجائے کلاس روم میں روانہ کریں تاکہ پڑھے گا بلوچستان تو ترقی کریں گا بلوچستان  نہ چوکیدار بن کے ترقی کرے گا۔ ہمیں پڑھا لکھا بلوچستان چاہیے جس کے لیے ہم سب کو آواز اٹھانا ہو گا۔ ہم سب کو چاہیئے کہ ہم بچوں کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ ان کو چوکیدار بنائیں  یہ بچے چوکیدار بن کر نئے چیلنجز کا کیسے سامنا کر پائیں گے۔ بلوچستان کے تمام والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ اس جانب ضرور دیں  یہ تصویر ہم سب کیلئے باعث عبرت ہے۔

بلیک فرائیڈے ۔۔۔ حقیقت کیا؟؟

جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ سنن ابی ماجہ کی ایک حدیث میں نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "مسلمانو اللہ نے جمعہ کے دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے، جو شخص نماز جمعہ کے لیے آئے اسے چاہیئے کہ غسل کرلے اور ہوسکے تو خوشبو لگائے اور مسواک کا اہتمام ضرور کرے" ۔ اس کے علاوہ دیگر کئی احادیث میں جمعہ کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے، قرآن کریم میں بھی جمعہ کے حوالے سے حکم موجود ہے کہ جب جمعے کا وقت ہوجائے تو سب کچھ چھوڑ کر نماز ادا کی جائے اور اس کے بعد زمین پر پھیلے رب کے رزق کو تلاش کیاجائے۔ الغرض مسلمانوں کے لیے جمعہ کا دن رحمتوں و برکتوں کے نزول کا دن ہے۔ مگر آپ نے سوچا کہ پچھلے دو سال سے ایک منظم سازش کے تحت ملک پاکستان کے اندر جمعہ کو بلیک فرائیڈے کہا اور منایا جارہا ہے۔ بظاہر تو یہ بلیک فرائیڈے سال میں ایک ہی مرتبہ منایا جاتا ہے لیکن اس نام کے ذریعے ہماری نئی نسل کے ذہن میں کیا پیغام پہنچایا جارہا ہے اس کو سوچنا اوربروقت سدباب کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ بلیک فرائیڈے نومبر کے آخری جمعے کو مغربی ممالک میں منایا جاتا ہے، بنیادی طور پر اس کا مقصد کرسمس جوکہ عیسائیوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ہے اس کی خریداری و تیاریوں کا آغاز ہوتا ہے۔ سن 1952 میں پہلی مرتبہ امریکہ کی متعدد ریاستوں میں اس کا آغاز کیا گیا۔ اس دن یا اس پورے ہفتے میں تمام عیسائی ریاستوں میں ہر چیز کو بہت سستا کردیا جاتا ہے یا دوسرے الفاظ میں سیل لگادی جاتی ہے۔ جس سے معاشرے کا ہر طبقہ باآسانی کرسمس کی تیاری کرلیتا ہے۔ یوں کہیئے کہ ہر غریب فرد اس دن باآسانی اپنے لیئے نئے کپڑے اور دیگر اشیاء انتہائی سستے داموں خرید لیتا ہے۔ پاکستان میں یہ لفظ پہلی مرتبہ 2015 میں سنا گیا جب دو تین آن لائن اشیاء فروخت کرنے والی ویب سائٹس نے نومبر کے آخری جمعے کے ساٹھ فیصد تک سیل لگائی، پچھلے سال ان کمپنیز کی تعداد میں اضافہ ہوا اور کئی مشہور برانڈز بھی اس بلیک فرائیڈے کا راگ الاپتے نظر آئے۔ جبکہ اس سال یہ مہم انتہائی منظم انداز میں چلتی ہوئی محسوس ہورہی ہے جس کو دراز ڈاٹ پی کے نامی ویب سائیٹ لیڈ کررہی ہے۔ اکتوبر کے آخری جمعے سے اس مہم کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور اب ہر جگہ اس بلیک فرائیڈے سیل کے چرچے ہیں، نوجوان نسل بالخصوص سوشل میڈیا یوزرز کو اپروچ کیا جارہا ہے۔ چھیاسی فیصدتک سیل لگائی جارہی ہے، مشہور برانڈز سیل کا اہتمام کررہے ہیں۔ میں ہرگز اس سیل کے مخالف نہیں، مگر کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اس سیل کو بلیسنگ فرائیڈے کے نام سے مناتے، کہ اسلام نے جمعے کو رحمتوں کا دن قرار دیا ہے۔ آخر یہ سیل عید الفطر اور بقر عید سے پہلے جمعے کو کیوں نہیں منائی جاسکتی؟؟ کہ جب ہر چیز دسیوں گنا مہنگی ہوجاتی ہے اور معاشرے کا...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ایک جن کی سرگزشت

ایک لمحے کے لیے تو اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہوا ۔ جب ذرا حواس قابو میں آئے تو آس پاس کے ماحول پر نظر ڈالی۔ چند نظروں کو اپنی جانب گھورتے ہوئے پایا۔ایک طرف مرد اور عورت ایک بچے کو لیے بیٹھے تھے جو شکل سے ہی کافی بیمار نظر آرہا تھا۔ دوسری طرف ایک عجیب وغریب حلیے کا آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کے گلے میں بہت سی مالائیں پڑی ہوئی تھیں۔ درمیان میں آگ کا ایک بڑا سا الاؤ جل رہا تھا۔ جس میں وہ عجیب و غریب حلیے والا آدمی جو کوئی جعلی پیر معلوم ہو رہا تھا کوئی سفوف قسم کی چیز ڈال رہا تھا۔اس آدمی نے مرد و عورت سے کہا ۔۔۔دیکھا میں نہ کہتا تھا اس بچے پر کسی نہایت خبیث جن کا سایہ ہے ۔ دیکھا میرے ایک ہی عمل نے کیسے اسے یہاں لا پھینکا۔ اب تمہارا بچہ بہت جلد ٹھیک ہوجائے گا۔ ایسے آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا ۔ آئیے میں آپ کو شروع سے بتاتا ہوں۔ سالم ایک نہایت خوبصورت گول مٹول سا بچہ تھا مگر اسے کیا کہا جائے کہ وہ جن کا بچہ تھا۔ ایک نمبر کا شریر۔ کیونکہ اکلوتا بچہ تھا اس لیے سب کے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ کے رکھ دیا تھا۔ نتیجہ یہ کہ جب تک اس نے بی اے مکمل کیا جب تک اس کی حرکتیں عروج پر پہنچ چکی تھیں۔ اس کے ماں باپ بھی اس کی طرف سے سخت پریشان رہتے۔ آخر کار ایک دن تنگ آکر اس کے ابا نے اپنی پریشانی کا ذکر شاہ جنات سے کیا اور یہ بھی بتایا کہ آج کل اسے ملک سے باہر جا کر کام کرنے اور مزید پڑھنے کا جنون سوار ہو گیا ہے۔ ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ بہت ضدی ہے کسی صورت باز نہیں آتا۔ شاہ جنات نے جواب دیا میرے پاس اسے سدھارنے کا حل ہے۔ میں اسے ایسی جگہ بھیج دوں گا کہ وہاں جا کر تمام چوکڑیاں بھول جائے گا اور ایک دم نیک اور سیدھا جن بن جائے گا۔ مگر تمہیں اور تمہاری بیوی کو اس کی بہتری کے لیے کچھ عرصے تک اس سے دوری برداشت کرنی پڑے گی۔ سالم کے ابا نے آمادگی ظاہر کی تو شاہ جنات نے انہیں سالم کو لے کر آنے کی ہدایت کی۔ اگلے دن سالم کے ابا اسے لے کر شاہ جنات کے دربار میں حاضر ہوئے۔ شاہ جنات نے سالم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے بارے میں بہت شکایات موصول ہوئی ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ تمہارے اندر آج کل کے انسانوں والی حرکتوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔ تم جھوٹ بہت بولتے ہو۔ تم دوسرے جنات کو تنگ کرتے ہو اور نہ صرف یہ کہ تم نے بہت سے دکانداروں کو چیزوں میں ملاوٹ کرنے کا مشورہ دیا بلکہ انہیں چیزیں کم تولنے کے گر بھی بتائے۔ اس کے علاوہ تمہارے ابا نے بھی تمہاری بے شمار شکایتیں میرے گوش گزار کی ہیں لہٰذا میں نے تمہیں اپنی مملکت سے جلا وطن کرنے کا فیصلہ کر...

سالا ، اتنا متنازع کیوں؟

سالا متنازع ترین رشتہ ہے، بارہا دیکھا گیا کہ جو شخص کسی کو یکطرفہ طور پر، اور فریق ثانی کی رضامندی کے بغیر لیکن علی الاعلان اس رشتے پر فائز کر دیتا ہے وہ ضرور (جوابی) گالیوں کا نشانہ بنتا ہے، اور نوبت بعض اوقات خراشوں یا  خون خرابے تک جا پہنچتی ہے۔ مشرقی معاشرے میں سالا ہونا قابل فخر بات نہیں، البتہ بہنوئی ہونے پر فخر کرتے ہوئے بھی ہم نے کسی کو نہیں دیکھا۔ جہاں تک خجالت کا سوال ہے تو اس کا تعلق کسی رشتے سے جوڑنا مناسب نہیں البتہ کوئی رشتہ دار ضرور کسی کے لیے باعث خجالت ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود سالا بنتے دیر نہیں لگتی۔ تحقیق (جو کسی امریکی یا برطانوی یونیورسٹی نے نہیں بلکہ ہم نے خود کی ہے) سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک بے ضرر سی شادی کئی سالوں کو وجود میں لانے کا سبب بنتی ہے۔ ہمیں اس موضوع سے گہری دلچسپی تھی کہ مغرب میں سالا ہونا لوگوں کو کیسا لگتا ہے؟ ہمارے یار دوست جب بھی یورپ یا امریکہ کا چکر لگا کر آتے ہم یہ سوال ان کے سامنے ضرور  رکھتے۔ اکثر کا جواب یہ ہوتا تھا کہ ابھی تو مغرب کے مردوں نے خود کو شوہر محسوس کرنا شروع نہیں کیا، سالے کی باری تو نہ جانے کب آئے گی۔یہ پوچھنے کا جی چاہا کہ مغرب کے مرد فی الحال خود کو کیا محسوس کرتے ہیں، لیکن اس مختصر سے تبصرے کو سن کر ہماری تحقیق کی روح پرواز کر گئی۔ کہتے ہیں، عورتوں میں برداشت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ ہم نے ’’سالی‘‘ کہے جانے پر کسی عورت کو برا مانتے  ہوتے نہیں دیکھا (شرماتے ہوئے البتہ دیکھا ہے)۔ عورتیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے میں ایک دوسری کے لیے حددرجہ محتاط واقع ہوئی ہیں، وہ ذاتی جھگڑے میں بھی مردوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتی ہیں، تب ہی تو آپس میں ’’اللہ کرے تیری سوکن آئے، تجھے جلائے‘‘ جیسی بددعائیں دیتی ہیں جس پر متعلقہ مرد زیرلب ’’آمین، ثم آمین‘‘ کہتے پائے جاتے ہیں۔

طلاق میں اضافے کی وجوہات

طلاق کی بعض وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کے اکثر شہروں میں منہ دکھلائی، دودھ پلائی جیسی رسموں کے ساتھ ساتھ شادی کے فوراً بعد "منہ دھلائی" کی رسم نے جڑ پکڑ لی ہے۔۔ خادم اعلیٰ و دیگر اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ اس "حقیقت پسندانہ رسم کی جلد سے جلد سرکوبی کر کے سماج میں بکھرتے رشتوں کی نیا کو ڈوبنے سے بچانے کےلیے اقدامات کیے جائیں۔۔۔ نیز ملک بھر میں موجود بیوٹی پارلر جیسی جھوٹ کی فیکٹریوں​ سے دھوکہ دہی میں اعانت فراہم کرنے والوں اوزاروں اور کایا پلٹ و چہرہ بدل بیماروں کا جلد سے جلد قلع قمع کر کے کنواروں کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچانے لیے تگ ودو​ کی جائے۔۔ نوجوانان کنوارہ ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنی پارٹی کی ذیلی تنظیم "ڈسے ہوئے دلہے" سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ اس حوالے سے کسی خاتون، جیسا کہ مریم نوازشریف کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ملک کے چپے چپے میں پھیلے ایسے پارلرز پر چھاپے مارے اور اصل و نقل کے مابین فرق واضح کرنے کو کوئی اصول و ضوابط متعین کرے تاکہ نوجوانوں کو شادی جیسے پاکیزہ رشتے کی ابتدا ہی میں جوے جیسی لعنت سے محفوظ و مامون رکھا جا سکے۔۔ دھوکہ خورد نوجوانوں کے مظلوم صدر نے صدر مملکت سے بھی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "آپ تو اس قسم کے واقعات سے بخوبی واقف ہی ہیں کہ کس طرح پھر زندگی بھر چپ لگ جاتی ہے پھر چاہے آپ ملک کے صدر ہی کیوں نہ بن جائیں" صدر مظلوم نے نوجوانوں کی آہ و بکا میں فوجی انتظامیہ کی بھی اس جانب توجہ دلائی کہ سی پیک کے بعد ایسے واقعات میں چینی مداخلت کے باعث اصل و نقل کے مابین فرق میں مزید خلا آنے کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے لہٰذا ان خدشات کا ابھی سے تدارک کیا جائے۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوجوان زندگی بھر کی جمع پونجی تو لٹوا ہی بیٹھیں ساتھ ہی ساتھ "مایوسی"کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گمراہ ہو کر "منزل نہیں رہنما چاہیے"جیسے بے ہودہ نعروں پر وشواس کرنا شروع کر دیں۔۔۔لٹے پٹے نوجوانوں کے صدر نے حکومت وقت سے آخری درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں اب بینکوں کے سامان کی نیلامی کے اشتہارات کی مانند رشتوں کا بندوبست کروایا جائے کہ جن میں مشتہر لکھتا ہے کہ "سامان جہاں جیسے کی بنیاد پر موجود ہے بولی میں شرکت کے خواہشمند حضرات جلد ازجلد دیے گئے نمبروں پر رابطہ کر کے خریداروں کے فہرست میں اپنا نام درج کروائیں شکریه"

شکوے شکایت

عمر میں  چھوٹے لیکن عقل و فہم میں بڑے نذیر الحسن کا حکمیہ فون آیا،حسب عادت پہلے ہمارا مذاق اڑایا اس کے بعد عشق و محبت پر اتر آئے کہنے لگے کہ آپ کو پیر سمجھتا ہوں لیکن نذرانہ  سب اپنی جیب میں رکھوں گا۔ یہ جو آپ کے بالوں میں سفیدی آگئی ہے اس کی وجہ سے پیر سمجھتا ہوں۔ ان کی یہ ساری باتیں ہم نے بغور سنیں اس کے بعد کہا بھائی نذیر الحسن آپ سے واقفیت اور تعلق جو کبھی برادر یوسف کا سا لگتا ہے کم و بیش 15 برس تو بیت گئے ہیں ۔فون تو آپ نے کسی کام سے ہی کیا ہوگا اور اس لیے میٹھی زبان میں ہماری چٹکیاں لے رہے ہو۔فرمانے لگے کہ جسارت اپنا بلاگ لے کر آرہا ہے اور آپ کو بھی اس میں لکھنا ہے کب تک آپ کا بلاگ آجائے گا۔ہم نے کہا کہ بھائی ہم تو ویسے ہی جسارت سے راندہ درگاہ ہیں کچھ عرصہ پہلے تک وہاں قلم توڑتے تھے لیکن جب سے قلم میں روانی آئی تو ایڈیٹر صاحب نے کہا کہ یہ آپ کے قلم میں روانی ذرا سیاسی زیادہ ہے اور خصوصاً آپ عمرانی نظریات و خرافات کے ہمنوانظر آتے ہیں اس لیے ہم آپ کو جسارت میں تو داخل نہیں ہونے دیں گے۔ہم نے بھی اپنا قلم اپنے ہی کان پر دھرا اور ڈاکخانہ کے باہر بیٹھ کر چھٹیاں لکھنے لگے کبھی کبھی منی آرڈر بھی آجاتے تھے لیکن بھلا ہو اس نئے دور کا اس نے خط کا رومانس اور ڈاکیے کی مخصوص آوازبھی ہم سے چھین لی۔ اب نہ وہ نورجہاں کی آواز رہی کہ "چھٹی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے" اب تو سیاں اور میاں دونوں کے ساتھ chat ہو جاتی ہے اور وٹس اپ پر تصویر شیئر ہوجاتی ہے۔ ایک وہ زمانہ  تھا کہ شہر کا شہر عشق کا دشمن ہوتا تھااور پورا محلہ مل کر آپ کے اخلاق و کردارکی رکھوالی کرتا تھا۔گوکہ کہ کالج تک پہنچنے سے قبل علم الابدان کے بارے میں ہم صرف وہ جانتے تو جو ہم نے بزرگوں کی گالیوں سے سنا تھا لیکن اب کا بچہ شاید میٹرنٹی ہوم سے ہی میٹرک کر کے نکلتا ہے۔اور ماں باپ اس کے نرسری میں ایڈمیشن کے لیے پی ایچ ڈی کا نصاب پڑھنے لگتے ہیں بچے کے ایڈمیشن کے لیے کسی اچھے اسکول میں اس کو انٹریو دینا بچہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل لگنے لگتا ہے۔ خیر قصہ مختصر بات یہ ہورہی تھی جسارت میں بلاگ لکھنے کی۔بھائی ہم کہ ٹھیرے دقیانوسی اور ساتھ ساتھ رجعت پسندبھی اس لیے یہ بلاگ والی کہانی ہم کو آتی نہیں ہے۔ برادر نذیر الحسن کے کہنے پر قلم گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جسارت بے شمار حوالوں سے ایک راہ متعین کرنے ولا اخبار ہے اور اس نئے طریقہ تحریر میں بھی ایک راہ متعین کرے گا۔تمام دوسروں کو اس کی تقلید کرنی پڑے گی۔ہم تو آپ کے ساتھ ہمشیہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے اور اگر چھاپتے رہے تو بلاگ بھی لکھتے رہیں گے نہیں تو" اور بھی غم ہیں زمانے میں بلاگ...

عقل بڑی کہ بھینس ۔۔۔ ؟؟

خدانخواستہ اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جو عقل کو بھینس سے بڑا بتاتے ہیں تو میری یہ تحریر آپ ہی کے لیئے ہے تاکہ اگر آپ میں‌ بھینس سے متعلق دیرینہ غلط فہمیاں اگر ختم نہیں کی جا سکتیں تو کم ضرور ہوسکیں اور آپ بھینسوں سے متعلق اپنے ناگوار خیالات کی اصلاح کرکے کسی بھینس کو منہ دکھانے کے قابل ہو سکیں اور ان سے متعلق ایک نئے نظریئے کے ساتھ جی سکیں- یہاں میں یہ حوالہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ صاحب طرز مزاح نگار شفیق الرحمان نے بھینسوں‌ سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں اوریہ کہ کر انکا مستقبل تاریک کرنے کی کوشش کی ہے کہ " بھینسیں ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتیں کیونکہ محبت اندھی تو ہوتی ہے لیکن اتنی بھی اندھی نہیں ہوتی " ۔۔۔ لیکن بڑے اطمینان کی بات یہ ہے کہ ایک دوسرے سے منہ پھیر کے بیٹھی رہنے والی ان بھینسوں کے یہاں بھی بالکل دوسرے مویشیوں کی مانند نئے مہمانوں کی ریل پیل لگی رہتی ہے - جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ محض محبت اور حسن کی تلاش میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے عمل اور حمل پہ یقین رکھتی ہیں حالانکہ وہ بالکل بھی نہیں جانتیں کہ عمل سے زندگی بننے کے بارے میں اقبال کیا کہ گئے ہیں - ایک بات اور بھی بھینسوں کے حق میں جاتی ہے اور وہ یہ کہ انکی اس بے نیازانہ طرز حیات نے انسانی زندگی پہ بھی بہت اثر ڈالا ہے اور ان سے متاثر ہوکے ہمارے بہت سے ناراض ازدواجی جوڑے باہم راضی بھی نہیں ہوتے لیکن پیہم 'گل کھلانے ' سے باز بھی نہیں آتے - اسی طرح یہ خصلت بھی وہیں سے آئی ہے کہ بھینس اور بھینسے کی مانند لحیم شحیم دکھنے والے اور اسکے سینگوں‌ کی مانند بڑی بڑی اور نوکیلی مونچھیں رکھنے والے بہت سے خوفناک صورت مرد عین خطرے کے وقت بیٹھے کے بیٹھے ہی رہ جاتے ہیں اور بعضے وقت تو اسی حالت میں بغیر اف کیئے ذبح تک ہوجاتے ہیں ۔۔۔ میری دانست میں اب اس بے نیازانہ و صلح جویانہ سوچ کو نفسیات کے باب میں بفیلو سائیکلوجی کی صورت اک خاطر خواہ مقام ضرور دیا جانا چاہیئے- یہ عرض کردوں کہ آپ میری اس تحریر کو کائنات میں بھینس کا مقام متعین کرنے کی کوشش کے طور پہ ہرگز نہ لیں کیونکہ وہ پہلے سے واضح ہے بس یہ تو اس بڑے مغالطے کی اصلاح کی ایک عاجزانہ سی کوشش ہے کہ جسکی رو سے عقل کو بھینس سے بڑا بتانے کی کوشش کی جاتی ہے - آپ خود ہی دیکھیئے کہ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جو کچھ لوگ عقل اور بھینس کا موازنہ کرتے ہیں اوردو روشن آنکھوں کے حامل ہونے کے باوجود عقل کو بھینس سے بڑا بتاتے ہیں حالانکہ بینائی سے محروم افراد تک ٹٹولے بغیر بھی بتاسکتے ہیں کہ بھینس عقل سے بڑی بلکہ بیحد بڑی ہے اور زیادہ ٹٹولنے سے تو بھینس خود ہی بتا دیتی ہے کہ وہ کتنی بڑی ہے- تحقیق...

ہمارے بلاگرز