تعارفِ کتب

’’سلطنت عثمانیہ‘‘ عروج وزوال کی مکمل تاریخ

مصنف: ڈاکٹر محمد عزیر غازی عثمان اوّل سے جنگ عظیم اوّل تک اسلامی تاریخ کی پانچ صدیوں کی شان دار تاریخ سلطنتِ عثمانیہ، دنیا کے تین براعظموں...

اہم بلاگز

جب کتاب کو جامعہ میں داخلہ نہ ملا

کہتے ہیں کہ کسی گھر کا ماحول دیکھنا ہوتو وہاں کے بچوں کو دیکھ لو سب پتا چل جا ئے گا ، ایسے ہی اگرکسی یونیورسٹی کے بارے میں جا ننا ہو تو وہاں کے طلبا کو دیکھ لیں تو اس کی تمام تر صورت حال واضح ہوجائے گی ۔ میں بات کر رہا ہوں این ای ڈی یو نیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لو جی کی جہاں کے طلبہ نہ صرف ذہین اور باصلاحیت ہیں بلکہ بہت محنتی بھی ہیں ، جو اپنی پڑھائی کے ساتھ دیگر غیر نصابی سرگرمیاں اور تعلیمی پروگرام کے انعقاد میں بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔ ایسا ہی ایک پروگرام اسلامی جمعیت طلبہ این ای ڈی یو نیو رسٹی کی طرف سے کیا گیا ،جس کا عنوان  ’’ایجوکیشن فیسٹا اور بک فیئر ‘‘کے نام سے ہونے والا یہ ایونٹ  22,21,اور  23نومبر 2017 کو تین دن تک جا ری رہا ، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف سیاسی ،سماجی و مذہبی شخصیات نے شرکت کی اور طلبہ کی کوششوں کو سراہا ۔ پروگرام کے پہلے روز کا افتتاح ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا اور ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ نے کیا ۔ اور بک فیئر کے مختلف اسٹالوں کا دورہ  بھی کیا ، اس مو قع پرشہلا رضا طلبہ کو داد دیئے بغیر  نہ رہ سکیں ان کا کہنا تھا کہ جمعیت کی طرف سے منعقد کردہ یہ کتب میلہ طلبہ کے لیے کسی انعام سے کم نہیں ہے جس میں طلبہ کو ان کے کورس اور ان کی پسند کی تمام کتابیں ایک ہی جگہ پر ڈسکائونٹ کے ساتھ مل جا تی ہیں ، انہوں نے کہا کہ جب ہم طالب علم تھے تو اس زمانے میں بھی جمعیت اس طرح کے کتب میلے کیا کرتی تھی ، اس کی یہ روایت آج بھی قائم ہے ، جس پر جمعیت اور ان کے تمام ذمہ داران مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ کتب میلے میں شریک ہو نے والے طلبہ کے چہروں پر خو شی دیدنی تھی ۔ تاہم اس میں سب سےزیادہ افسوس نا ک بات یہ تھی کہ اس کتب میلے کے انعقاد کی اجازت جامعہ کی حدود میں نہ مل سکی مجبوراًیہ کتب میلہ سڑک  پر کتابیں رکھ کر کیا گیا ۔یہ منظر دیکھ کر میں بہت افسردہ ہو گیا اور یہ سوچنے لگا کہ جب ایک یو نیورسٹی طلبا کو اپنی حدود میں ایک مثبت علم دوست سرگرمی اور کتب میلے کے انعقاد کی اجازت نہیں دیتی تو پھر معاشرے میں کتب بینی اورعلم کا فروغ کیسے ہو گا ، یہ بے چارے طلبہ کہاں جا ئیں گے اور علم کی طرف کیسے راغب ہوں گے ۔ مگر یہ امر بھی بہت خوش آئند ہے کہ جہاں ایک طرف یونیورسٹی کی انتظامیہ ان طالب علموں کے ساتھ کو ئی تعاون نہیں کرتی اور ان کے پروگرام میں روڑے اٹکاتی نظر آتی ہے ، وہیں دوسری طرف یہ طلبہ تمام تر مخالفتوں اور مشکلات کے باوجود بغیر کسی انتظامی و مالی تعاون کے نہ صرف  ایک علم دوست اور کتاب دوست سرگرمی کا کامیابی...

معماران قوم سے ہمارا سلوک

اب استاد چونکہ ایک ملازم بن گیا ہے، انتظامیہ کا رویہ تنخواہ دار ملازم سے اچھی طرح کام لینا ہے. اس صورت میں اساتذہ سے پیشہ پیغمبری کی امید رکھنا چہ معنی؟ والدین کا رویہ بھی اس کو تقویت دیتا ہے،کہ ہم فیس دیتے ہیں تو جو چاہیں بچوں کی موجودگی ناموجودگی میں کچھ بھی کہہ لیں، یا کسی بھی معاملے کو کتنا ہی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے: اسکول میں معاملہ بڑاہو یا چھوٹا بات گھوم پھر کر ٹیچر پر ہی آتی ہے، وہ ہی ذمہ دار کہلاتا/کہلاتی ہے اس صورت میں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ رتبہ بھی اس کا سب سے زیادہ ہو، سہولیات فراہم کی جائیں، تنخواہ سب سے اچھی ہو. یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات والدین کے کام کا حوالہ دے کر اساتذہ سے ان مخصوص بچوں سے معاملات الگ طریقے سے کرنے کا کہا جاتا ہے. کسی زمانے میں اساتذہ اتنے پروفیشنل نہیں ہوتے تھے جس قدر آج کل ہیں، مگر والدین انہیں تربیت کا بہترین ذریعہ سمجھتے تھے. تو اساتذہ بھی وہی کردار ادا کرتے تھے. اس سلسلے میں کیا کیا جاسکتا ہے؟ تعلیمی نظام میں اساتذہ کے حوالے سے پالیسیاں مرتب کی جائیں تعلیمی ادارے کو ان پالیسیوں کا پابند کیا جائے اساتذہ کو اپنی سفارشات، شکایات پیش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم دیا جائے اور ان کا حل دیا جائے  

موسم سرما کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے، موسم سرما جہاں اپنے ساتھ بہت سی سوغاتیں لاتا ہے، وہیں کچھ بیماریاں بھی بن بلائے مہمان کی طرح حاضر ہوجاتی ہیں ۔ جن میں سب سے زیادہ پائی جانے والی بیماری نزلہ زکام اور بخار ہے ۔نزلہ زکام اور بخار بظاہر معمولی بیماریاں ہیں مگر ان کے شروع ہوتے ہی دیگر بیماریوں کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتاہے۔ بخار جسم می شروع ہونے والے انفیکشن کی ایک علامت ہے ۔ انفیکشن بیکٹیریل ، فنگل یا وائرل ہو سکتا ہے ۔ انسانی جسم کا ایک اہم نظام ( امیون سسٹم ) ہوتا ہے جس کا کام انسانی جسم کو ہر قسم کے انفیکشن اور بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے ۔ ماحولیاتی درجہ حرارت کے گرتے ہی انسان کے جسم کا بھی درجہ حرارات کم ہوجاتا ہے ، جس کی وجہ سے امیون سسٹم کمزور ہوجاتا ہے اور بیماریوں کے لیے دروازے کھل جاتے ہیں جو نزلہ زکام اور بخار کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اکثر اوقات اس کا دورانیہ کم ہوتا ہے امیون سسٹم دفاع کر کے اس کا خاتمہ کردیتا ہے مگر جن لوگوں کی قوت مدافعت پہلے ہی سے متاثر ہوتی ہے۔ ان کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے عموماً ایسے لوگوں میں نزلہ زکام اور بخار کا دورانیہ بھی لمبا ہوتا ہے جو مختلف بیماریوں پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اسی لیے احتیاط علاج سے بہتر ہے اگر بر وقت چند احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں تو پریشانی سے بچا جاسکتا ہے۔ موسم سرما کے آتے ہی گرم کپڑوں کا استعمال شروع کردینا چاہیے گھر سے باہر نکلتے ہوئے خاص کر الصبح اور رات گئے سر کو ہیٹ یا ہوڈی سی ڈھکنے سے ٹھنڈ سے بچا جا سکتا ہے۔ ناک کو بھی اگر ماسک سے ڈھک لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ناک کے ذریعے ہی ٹھنڈ جسم میں داخل ہوتے ہے اسی طرح دستانے اور جرابوں کا استعمال موزوں ہے۔ عموماً سرد موسم میں پانی پینے کی عادت کم ہوجاتی ہے۔ خاص مقدار میں پانی پینا انسانی جسم کے لیے نہایت ضروری ہے۔ پانی پینے سے باڈی ٹمپریچر کنٹرول رہتا ہے۔ ورزش اور واک کرنے سے بھی جسم کا درجہ حرارت معمول پر رہتا ہے۔ اچھی اور صحت مند غذا کا استعمال سرد موسم میں انتہائی ضروری ہے۔ ایسے پھل اور سبزیاں جن میں وٹامن سی، ڈی اور ای وافر مقدار میں پایا جاتا ہو (اسٹرابری ، کینو، پپیتا، کیوی ، ٹماٹر، پھول گوبھی ، پالک وغیرہ ) ان کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرناچاہیے۔ مچھلی بھی سرد موسم میں نہایت موثر ہے اور ایسی تمام تر غذائیں جن میں گڈ کولیسٹرول موجود ہو مثلاً ڈرائے فروٹس وغیرہ ان کا استعمال زیادہ رکھنا چاہیے۔ گڈ کولیسٹرول جسم کو توانائی مہیا کرتا ہے۔ جس سے جسم کا درجہ حرارت نارمل رہتا ہے۔ چکن سوپ اور ادرک کا قہوہ بھی سرد موسم میں نہایت ہی مفید ہے۔ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے نزلہ زکام، بخار اور دیگر بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے اور موسم سرما کا لطف بھرپور انداز میں لیا جا سکتا ہے

نجی تعلیمی ادارے یا نجی کاروبار

ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اعلیٰ اور معیاری تعلیم و تربیت حاصل کرے اور وہ اس مقصد کے حصول کے لئے اپنے بچوں کو اپنی دانست میں معیاری اسکولز میں داخل کرواتے ہیں اوربچوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لئے وہ ہر ممکن جدوجہد بھی کرتے ہیں اسی ضمن میں وہ گورنمنٹ اسکولز کو نظرانداز بھی کرتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے کسی بھی اچھے اور مہنگے اسکول سے تعلیم حاصل کریں تاکہ معاشرے میں ان کا نام ہو اور وہ اپنے بچے کے بارے میں بتاتے ہوئے فخر محسوس کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر سرکاری اساتذہ اپنے نجی اسکول اور کو چنگ سینٹر کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں اور اپنی ساری توانائیاں سرکاری اسکولز کے طلبہ کی بجائے نجی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ پر صرف کر رہے ہیں اور بحالت مجبوری والدین اپنے بچوں کو اچھے سے اچھے اسکولز میں داخل کروانے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح دوسری طرف نجی اسکولز یا تعلیمی اداروں نے اپنا ذریعہ تعلیم انگریزی بنا رکھا ہے جس کی بناء پر اکثر والدین یہ سوچتے ہیں کہ ان کے بچے کو بہتر تعلیم و تربیت ملے گی اور ان کے سماجی رتبے میں بھی اضافہ ہوگا اور وہ سب کو فخر سے بتا سکیں گے کہ ان کا بچہ بھی مہنگے اور اعلیٰ اسکول میں زیر تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب نجی تعلیمی ادارے اپنے اسکولز کو ایک کاروبار کی طرح چلا رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ والدین ناچاہ کر بھی اپنے بچوں کو ان کے اسکولز میں داخل کروائیں گے۔ یہ کاروبار آج کل بہت ہی زور و شور سے چل رہا ہے ہر گلی محلے میں لوگ اہنے گھروں کو ہی اسکولز بنا کر بیٹھ گئے ہیں اور انہوں نے اپنی منہ مانگی فیسیس مقرر کر رکھی ہیں۔ ہر اسکولز کی فیس اس کے معیار سے %50 زیادہ ہو تی ہے ان کے دعوے تو بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں مگر معیاری تعلیم ان کے دعوؤں کو جھو ٹا ثابت کر رہی ہے اس کے باوجودبھی جب بھی نیا تعلیمی سال شروع ہوتا ہے ان اسکولز کی فیسوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ کام صرف فیسوں سے نہں چلتا وہ اپنے کاروبار کو چمکانے کے لیے مختلف طرح کے فنڈز کا بھی سہارا لیتے ہیں مثال کے طور پر سائنس لیب چارجز ،کمپیوٹر لیب چارجز اور بھی بہت سے چارجز۔ اگرچے اسکول میں کمپیوٹر لیب موجود ہو یا نہ ہو مگر چارجز ہر سال بڑھتے جاتے ہیں۔ ہر سال %20 سے %40 فیسوں میں اضافہ کہ باوجود بھی والدین اپنے بچوں کو نجی اسکولز میں پڑھانے پر مجبور ہیں۔ اکثر نجی تعلیمی اداروں نے سکیورٹی کے نام پر والدین سے علیحدہ چارجز اکھٹا کر رکھے ہیں اور یوں فیسوں میں اچھا خاصا اضافہ کردیا اتنا جارجز لینے کے باوجود بھی اکثر تعلیمی اداروں کا معیار تعلیم بہت ناقص اور غیر معیاری ہے۔اس کے برعکس حکومت اور نجی تعلیمی ادارے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے پر لگے رہتے ہیں...

بلوچستان میں ڈاکٹروں اور ادویہ ساز کمپنیوں کی ملی بھگت

مریض اور ڈاکٹر میں رشتہ داروں جیسا تعلق نہیں ہوتا مگر پھر بھی مریض رشتے داروں سے زیادہ بھروسہ اپنے معالج پر کرتا ہے۔ مریض کبھی یہ نہیں سمجھتا کہ اس کا معالج اس کی غلط تشخیص کرے گا۔ مریض یہ سوچ کر اسپتال جاتا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے معالج کی ادویہ سے صحت یاب ہوجائے گا۔ لیکن افسوسناک خبر یہ ہے کہ بلوچستان کے اکثر معالج حضرات مریضوں کو اپنا گاہک سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ معالج اور ادویہ ساز کمپنیوں کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے۔ یہ گٹھ جوڑ مریضوں کےلیے وبال جان بن رہا ہے۔ بلوچستان میں اتائی ڈاکٹروں اور پرائیویٹ اسپتالوں کی بھرمار نے مریضوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ اوپر سے یہ ڈاکٹروں اور ادویہ ساز کمپنیوں کو ہر ماہ کروڑوں کا منافع کما کر دیتے ہیں۔ جب ایک میڈیکل اسٹور کے مالک سے جعلی دواؤں کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ کبھی یہ نہیں بتائے گا کہ کون سی ادویہ اچھی کمپنی کی ہیں اور کون سی بُری اور نقلی کمپنی کی۔ ڈاکٹروں اور ادویہ ساز کمپنیوں کے گٹھ جوڑ نے بلوچستان میں عام لوگوں پر بہت برے اثرات مرتب کیے ہیں۔ آج بھی اکثر بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بلوچی علاج معالجہ بھی کیاجاتا ہے جو مختلف جڑی بوٹیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ علاج غریب لوگوں کےلیے موت کا سبب بن رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اب تو بلوچستان میں طب کا شعبہ کوڑیوں کے داموں بک رہا ہے۔ بلوچستان حکومت پانچ سال میں ایک ڈاکٹر کی تیاری پر لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے مگر جب ان ڈاکٹروں کو ڈگری اور سرکاری نوکریاں دی جاتی ہیں تو یہ لوگ پھر بھی اپنا کلینک کھول لیتے اور سرکاری اسپتالوں میں وقت نہیں دیتے۔ ان لوگوں کا مقصد صرف اور صرف پیسے اکٹھے کرنا ہوتا ہے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ حکومت بلوچستان نے ان ڈاکٹروں کے سروس اسٹرکچر تک منظور کرلئے ہیں جس کی وجہ سے فی ڈاکٹر تنخواہ کم از کم ایک لاکھ روپے تک بنتی ہے لیکن پھر بھی ڈاکٹر حضرات اپنے کلینک کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونے دیتے اور غریب مریضوں کی کھال اتارنے میں پوری دس انگلیوں کا زور لگاتے ہیں جس کی وجہ سے کئی بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جن کے علاج کےلیے والدین در در کے پرائیویٹ اور سرکاری اسپتالوں کی ٹھوکریں کھاتے کھاتے آخری سانسیں لے کر اپنی جان دے دیتے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت دیکھ کر مریض خودبخود موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ بلوچستان میں ادویہ ساز اداروں نے ڈاکٹروں کے ساتھ مک مکا کررکھا ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ اگر وہ اتنے لاکھ کی ادویہ استعمال کرائیں گے تو انہیں اتنے لاکھ کا چیک دیا جائے گا جبکہ 25 فیصد سے لے کر 50 فیصد تک کا کمیشن ڈاکٹر اپنے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ یہ کمیشن کمپنیوں سے ایڈوانس کی شکل میں بھی لیا جاتا ہے اور یوں کمیشن ہولڈر ڈاکٹر اندھادھند مریضوں کو ادویہ لکھ دیتے ہیں اور اپنا ٹارگٹ پورا کرکے ہی دم لیتے ہیں۔ یہی ڈاکٹر ان...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ایک جن کی سرگزشت

ایک لمحے کے لیے تو اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہوا ۔ جب ذرا حواس قابو میں آئے تو آس پاس کے ماحول پر نظر ڈالی۔ چند نظروں کو اپنی جانب گھورتے ہوئے پایا۔ایک طرف مرد اور عورت ایک بچے کو لیے بیٹھے تھے جو شکل سے ہی کافی بیمار نظر آرہا تھا۔ دوسری طرف ایک عجیب وغریب حلیے کا آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کے گلے میں بہت سی مالائیں پڑی ہوئی تھیں۔ درمیان میں آگ کا ایک بڑا سا الاؤ جل رہا تھا۔ جس میں وہ عجیب و غریب حلیے والا آدمی جو کوئی جعلی پیر معلوم ہو رہا تھا کوئی سفوف قسم کی چیز ڈال رہا تھا۔اس آدمی نے مرد و عورت سے کہا ۔۔۔دیکھا میں نہ کہتا تھا اس بچے پر کسی نہایت خبیث جن کا سایہ ہے ۔ دیکھا میرے ایک ہی عمل نے کیسے اسے یہاں لا پھینکا۔ اب تمہارا بچہ بہت جلد ٹھیک ہوجائے گا۔ ایسے آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا ۔ آئیے میں آپ کو شروع سے بتاتا ہوں۔ سالم ایک نہایت خوبصورت گول مٹول سا بچہ تھا مگر اسے کیا کہا جائے کہ وہ جن کا بچہ تھا۔ ایک نمبر کا شریر۔ کیونکہ اکلوتا بچہ تھا اس لیے سب کے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ کے رکھ دیا تھا۔ نتیجہ یہ کہ جب تک اس نے بی اے مکمل کیا جب تک اس کی حرکتیں عروج پر پہنچ چکی تھیں۔ اس کے ماں باپ بھی اس کی طرف سے سخت پریشان رہتے۔ آخر کار ایک دن تنگ آکر اس کے ابا نے اپنی پریشانی کا ذکر شاہ جنات سے کیا اور یہ بھی بتایا کہ آج کل اسے ملک سے باہر جا کر کام کرنے اور مزید پڑھنے کا جنون سوار ہو گیا ہے۔ ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ بہت ضدی ہے کسی صورت باز نہیں آتا۔ شاہ جنات نے جواب دیا میرے پاس اسے سدھارنے کا حل ہے۔ میں اسے ایسی جگہ بھیج دوں گا کہ وہاں جا کر تمام چوکڑیاں بھول جائے گا اور ایک دم نیک اور سیدھا جن بن جائے گا۔ مگر تمہیں اور تمہاری بیوی کو اس کی بہتری کے لیے کچھ عرصے تک اس سے دوری برداشت کرنی پڑے گی۔ سالم کے ابا نے آمادگی ظاہر کی تو شاہ جنات نے انہیں سالم کو لے کر آنے کی ہدایت کی۔ اگلے دن سالم کے ابا اسے لے کر شاہ جنات کے دربار میں حاضر ہوئے۔ شاہ جنات نے سالم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے بارے میں بہت شکایات موصول ہوئی ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ تمہارے اندر آج کل کے انسانوں والی حرکتوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔ تم جھوٹ بہت بولتے ہو۔ تم دوسرے جنات کو تنگ کرتے ہو اور نہ صرف یہ کہ تم نے بہت سے دکانداروں کو چیزوں میں ملاوٹ کرنے کا مشورہ دیا بلکہ انہیں چیزیں کم تولنے کے گر بھی بتائے۔ اس کے علاوہ تمہارے ابا نے بھی تمہاری بے شمار شکایتیں میرے گوش گزار کی ہیں لہٰذا میں نے تمہیں اپنی مملکت سے جلا وطن کرنے کا فیصلہ کر...

سالا ، اتنا متنازع کیوں؟

سالا متنازع ترین رشتہ ہے، بارہا دیکھا گیا کہ جو شخص کسی کو یکطرفہ طور پر، اور فریق ثانی کی رضامندی کے بغیر لیکن علی الاعلان اس رشتے پر فائز کر دیتا ہے وہ ضرور (جوابی) گالیوں کا نشانہ بنتا ہے، اور نوبت بعض اوقات خراشوں یا  خون خرابے تک جا پہنچتی ہے۔ مشرقی معاشرے میں سالا ہونا قابل فخر بات نہیں، البتہ بہنوئی ہونے پر فخر کرتے ہوئے بھی ہم نے کسی کو نہیں دیکھا۔ جہاں تک خجالت کا سوال ہے تو اس کا تعلق کسی رشتے سے جوڑنا مناسب نہیں البتہ کوئی رشتہ دار ضرور کسی کے لیے باعث خجالت ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود سالا بنتے دیر نہیں لگتی۔ تحقیق (جو کسی امریکی یا برطانوی یونیورسٹی نے نہیں بلکہ ہم نے خود کی ہے) سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک بے ضرر سی شادی کئی سالوں کو وجود میں لانے کا سبب بنتی ہے۔ ہمیں اس موضوع سے گہری دلچسپی تھی کہ مغرب میں سالا ہونا لوگوں کو کیسا لگتا ہے؟ ہمارے یار دوست جب بھی یورپ یا امریکہ کا چکر لگا کر آتے ہم یہ سوال ان کے سامنے ضرور  رکھتے۔ اکثر کا جواب یہ ہوتا تھا کہ ابھی تو مغرب کے مردوں نے خود کو شوہر محسوس کرنا شروع نہیں کیا، سالے کی باری تو نہ جانے کب آئے گی۔یہ پوچھنے کا جی چاہا کہ مغرب کے مرد فی الحال خود کو کیا محسوس کرتے ہیں، لیکن اس مختصر سے تبصرے کو سن کر ہماری تحقیق کی روح پرواز کر گئی۔ کہتے ہیں، عورتوں میں برداشت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ ہم نے ’’سالی‘‘ کہے جانے پر کسی عورت کو برا مانتے  ہوتے نہیں دیکھا (شرماتے ہوئے البتہ دیکھا ہے)۔ عورتیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے میں ایک دوسری کے لیے حددرجہ محتاط واقع ہوئی ہیں، وہ ذاتی جھگڑے میں بھی مردوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتی ہیں، تب ہی تو آپس میں ’’اللہ کرے تیری سوکن آئے، تجھے جلائے‘‘ جیسی بددعائیں دیتی ہیں جس پر متعلقہ مرد زیرلب ’’آمین، ثم آمین‘‘ کہتے پائے جاتے ہیں۔

طلاق میں اضافے کی وجوہات

طلاق کی بعض وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کے اکثر شہروں میں منہ دکھلائی، دودھ پلائی جیسی رسموں کے ساتھ ساتھ شادی کے فوراً بعد "منہ دھلائی" کی رسم نے جڑ پکڑ لی ہے۔۔ خادم اعلیٰ و دیگر اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ اس "حقیقت پسندانہ رسم کی جلد سے جلد سرکوبی کر کے سماج میں بکھرتے رشتوں کی نیا کو ڈوبنے سے بچانے کےلیے اقدامات کیے جائیں۔۔۔ نیز ملک بھر میں موجود بیوٹی پارلر جیسی جھوٹ کی فیکٹریوں​ سے دھوکہ دہی میں اعانت فراہم کرنے والوں اوزاروں اور کایا پلٹ و چہرہ بدل بیماروں کا جلد سے جلد قلع قمع کر کے کنواروں کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچانے لیے تگ ودو​ کی جائے۔۔ نوجوانان کنوارہ ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنی پارٹی کی ذیلی تنظیم "ڈسے ہوئے دلہے" سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ اس حوالے سے کسی خاتون، جیسا کہ مریم نوازشریف کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ملک کے چپے چپے میں پھیلے ایسے پارلرز پر چھاپے مارے اور اصل و نقل کے مابین فرق واضح کرنے کو کوئی اصول و ضوابط متعین کرے تاکہ نوجوانوں کو شادی جیسے پاکیزہ رشتے کی ابتدا ہی میں جوے جیسی لعنت سے محفوظ و مامون رکھا جا سکے۔۔ دھوکہ خورد نوجوانوں کے مظلوم صدر نے صدر مملکت سے بھی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "آپ تو اس قسم کے واقعات سے بخوبی واقف ہی ہیں کہ کس طرح پھر زندگی بھر چپ لگ جاتی ہے پھر چاہے آپ ملک کے صدر ہی کیوں نہ بن جائیں" صدر مظلوم نے نوجوانوں کی آہ و بکا میں فوجی انتظامیہ کی بھی اس جانب توجہ دلائی کہ سی پیک کے بعد ایسے واقعات میں چینی مداخلت کے باعث اصل و نقل کے مابین فرق میں مزید خلا آنے کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے لہٰذا ان خدشات کا ابھی سے تدارک کیا جائے۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوجوان زندگی بھر کی جمع پونجی تو لٹوا ہی بیٹھیں ساتھ ہی ساتھ "مایوسی"کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گمراہ ہو کر "منزل نہیں رہنما چاہیے"جیسے بے ہودہ نعروں پر وشواس کرنا شروع کر دیں۔۔۔لٹے پٹے نوجوانوں کے صدر نے حکومت وقت سے آخری درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں اب بینکوں کے سامان کی نیلامی کے اشتہارات کی مانند رشتوں کا بندوبست کروایا جائے کہ جن میں مشتہر لکھتا ہے کہ "سامان جہاں جیسے کی بنیاد پر موجود ہے بولی میں شرکت کے خواہشمند حضرات جلد ازجلد دیے گئے نمبروں پر رابطہ کر کے خریداروں کے فہرست میں اپنا نام درج کروائیں شکریه"

شکوے شکایت

عمر میں  چھوٹے لیکن عقل و فہم میں بڑے نذیر الحسن کا حکمیہ فون آیا،حسب عادت پہلے ہمارا مذاق اڑایا اس کے بعد عشق و محبت پر اتر آئے کہنے لگے کہ آپ کو پیر سمجھتا ہوں لیکن نذرانہ  سب اپنی جیب میں رکھوں گا۔ یہ جو آپ کے بالوں میں سفیدی آگئی ہے اس کی وجہ سے پیر سمجھتا ہوں۔ ان کی یہ ساری باتیں ہم نے بغور سنیں اس کے بعد کہا بھائی نذیر الحسن آپ سے واقفیت اور تعلق جو کبھی برادر یوسف کا سا لگتا ہے کم و بیش 15 برس تو بیت گئے ہیں ۔فون تو آپ نے کسی کام سے ہی کیا ہوگا اور اس لیے میٹھی زبان میں ہماری چٹکیاں لے رہے ہو۔فرمانے لگے کہ جسارت اپنا بلاگ لے کر آرہا ہے اور آپ کو بھی اس میں لکھنا ہے کب تک آپ کا بلاگ آجائے گا۔ہم نے کہا کہ بھائی ہم تو ویسے ہی جسارت سے راندہ درگاہ ہیں کچھ عرصہ پہلے تک وہاں قلم توڑتے تھے لیکن جب سے قلم میں روانی آئی تو ایڈیٹر صاحب نے کہا کہ یہ آپ کے قلم میں روانی ذرا سیاسی زیادہ ہے اور خصوصاً آپ عمرانی نظریات و خرافات کے ہمنوانظر آتے ہیں اس لیے ہم آپ کو جسارت میں تو داخل نہیں ہونے دیں گے۔ہم نے بھی اپنا قلم اپنے ہی کان پر دھرا اور ڈاکخانہ کے باہر بیٹھ کر چھٹیاں لکھنے لگے کبھی کبھی منی آرڈر بھی آجاتے تھے لیکن بھلا ہو اس نئے دور کا اس نے خط کا رومانس اور ڈاکیے کی مخصوص آوازبھی ہم سے چھین لی۔ اب نہ وہ نورجہاں کی آواز رہی کہ "چھٹی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے" اب تو سیاں اور میاں دونوں کے ساتھ chat ہو جاتی ہے اور وٹس اپ پر تصویر شیئر ہوجاتی ہے۔ ایک وہ زمانہ  تھا کہ شہر کا شہر عشق کا دشمن ہوتا تھااور پورا محلہ مل کر آپ کے اخلاق و کردارکی رکھوالی کرتا تھا۔گوکہ کہ کالج تک پہنچنے سے قبل علم الابدان کے بارے میں ہم صرف وہ جانتے تو جو ہم نے بزرگوں کی گالیوں سے سنا تھا لیکن اب کا بچہ شاید میٹرنٹی ہوم سے ہی میٹرک کر کے نکلتا ہے۔اور ماں باپ اس کے نرسری میں ایڈمیشن کے لیے پی ایچ ڈی کا نصاب پڑھنے لگتے ہیں بچے کے ایڈمیشن کے لیے کسی اچھے اسکول میں اس کو انٹریو دینا بچہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل لگنے لگتا ہے۔ خیر قصہ مختصر بات یہ ہورہی تھی جسارت میں بلاگ لکھنے کی۔بھائی ہم کہ ٹھیرے دقیانوسی اور ساتھ ساتھ رجعت پسندبھی اس لیے یہ بلاگ والی کہانی ہم کو آتی نہیں ہے۔ برادر نذیر الحسن کے کہنے پر قلم گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جسارت بے شمار حوالوں سے ایک راہ متعین کرنے ولا اخبار ہے اور اس نئے طریقہ تحریر میں بھی ایک راہ متعین کرے گا۔تمام دوسروں کو اس کی تقلید کرنی پڑے گی۔ہم تو آپ کے ساتھ ہمشیہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے اور اگر چھاپتے رہے تو بلاگ بھی لکھتے رہیں گے نہیں تو" اور بھی غم ہیں زمانے میں بلاگ...

عقل بڑی کہ بھینس ۔۔۔ ؟؟

خدانخواستہ اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جو عقل کو بھینس سے بڑا بتاتے ہیں تو میری یہ تحریر آپ ہی کے لیئے ہے تاکہ اگر آپ میں‌ بھینس سے متعلق دیرینہ غلط فہمیاں اگر ختم نہیں کی جا سکتیں تو کم ضرور ہوسکیں اور آپ بھینسوں سے متعلق اپنے ناگوار خیالات کی اصلاح کرکے کسی بھینس کو منہ دکھانے کے قابل ہو سکیں اور ان سے متعلق ایک نئے نظریئے کے ساتھ جی سکیں- یہاں میں یہ حوالہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ صاحب طرز مزاح نگار شفیق الرحمان نے بھینسوں‌ سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں اوریہ کہ کر انکا مستقبل تاریک کرنے کی کوشش کی ہے کہ " بھینسیں ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتیں کیونکہ محبت اندھی تو ہوتی ہے لیکن اتنی بھی اندھی نہیں ہوتی " ۔۔۔ لیکن بڑے اطمینان کی بات یہ ہے کہ ایک دوسرے سے منہ پھیر کے بیٹھی رہنے والی ان بھینسوں کے یہاں بھی بالکل دوسرے مویشیوں کی مانند نئے مہمانوں کی ریل پیل لگی رہتی ہے - جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ محض محبت اور حسن کی تلاش میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے عمل اور حمل پہ یقین رکھتی ہیں حالانکہ وہ بالکل بھی نہیں جانتیں کہ عمل سے زندگی بننے کے بارے میں اقبال کیا کہ گئے ہیں - ایک بات اور بھی بھینسوں کے حق میں جاتی ہے اور وہ یہ کہ انکی اس بے نیازانہ طرز حیات نے انسانی زندگی پہ بھی بہت اثر ڈالا ہے اور ان سے متاثر ہوکے ہمارے بہت سے ناراض ازدواجی جوڑے باہم راضی بھی نہیں ہوتے لیکن پیہم 'گل کھلانے ' سے باز بھی نہیں آتے - اسی طرح یہ خصلت بھی وہیں سے آئی ہے کہ بھینس اور بھینسے کی مانند لحیم شحیم دکھنے والے اور اسکے سینگوں‌ کی مانند بڑی بڑی اور نوکیلی مونچھیں رکھنے والے بہت سے خوفناک صورت مرد عین خطرے کے وقت بیٹھے کے بیٹھے ہی رہ جاتے ہیں اور بعضے وقت تو اسی حالت میں بغیر اف کیئے ذبح تک ہوجاتے ہیں ۔۔۔ میری دانست میں اب اس بے نیازانہ و صلح جویانہ سوچ کو نفسیات کے باب میں بفیلو سائیکلوجی کی صورت اک خاطر خواہ مقام ضرور دیا جانا چاہیئے- یہ عرض کردوں کہ آپ میری اس تحریر کو کائنات میں بھینس کا مقام متعین کرنے کی کوشش کے طور پہ ہرگز نہ لیں کیونکہ وہ پہلے سے واضح ہے بس یہ تو اس بڑے مغالطے کی اصلاح کی ایک عاجزانہ سی کوشش ہے کہ جسکی رو سے عقل کو بھینس سے بڑا بتانے کی کوشش کی جاتی ہے - آپ خود ہی دیکھیئے کہ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جو کچھ لوگ عقل اور بھینس کا موازنہ کرتے ہیں اوردو روشن آنکھوں کے حامل ہونے کے باوجود عقل کو بھینس سے بڑا بتاتے ہیں حالانکہ بینائی سے محروم افراد تک ٹٹولے بغیر بھی بتاسکتے ہیں کہ بھینس عقل سے بڑی بلکہ بیحد بڑی ہے اور زیادہ ٹٹولنے سے تو بھینس خود ہی بتا دیتی ہے کہ وہ کتنی بڑی ہے- تحقیق...

ہمارے بلاگرز