خبر لیجیے زباں بگڑی

!فوج کا سپہ سالار

آج پہلے اپنی خبر لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جسارت میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے بغیر کسی تردد کے ’’بے مہابہ‘‘ لکھ ڈالا۔ فاضل مضمون نگار سے کون پوچھے کہ یہ کیا ہے؟ یہ دراصل ’’بے محابا‘‘ ہے اور اس میں ہائے ہوز (ہاتھی والی ’ہ‘) نہیں بلکہ ہائے حطی (حلوہ والی ’ح‘) آتی ہے۔ اس غلطی سے ہمیں ایک فائدہ ہوا کہ لغت میں محابا کا مطلب تلاش کرلیا۔ دراصل بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کا مفہوم اور استعمال تو معلوم ہوتا ہے لیکن لغوی معنی یا ان کی اصل کا علم نہیں ہوتا۔ ’’محابا‘‘کے لغوی معنی باہم نزدیک کرنا، آپس میں سلوک کرنا، مجازاً بمعنی فروگزاشت۔ اور یہ محابہ نہیں بلکہ محابا ہے۔ بہارِ عجم کے مطابق محابا (بضم اول) بمعنی معاوضہ کرنا اور بخشش ہے۔ فارسی میں بمعنی خوف و ہراس مستعمل ہے۔ اردو میں ’’بے محابا‘ کا مطلب ہوا بغیر کسی خوف و خطر کے۔ غالب کا شعر ہے: محابا کیا ہے میں ضامن اِدھر دیکھ شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا جسارت کے مضمون میں شائع ہونے والے ’’بے مہابہ‘‘ میں دو غلطیاں ہیں۔ کچھ دن پہلے ایک خبرمیں تھا کہ ’’راز افشاں ہوگئے‘‘۔ کسی سب ایڈیٹر نے راز افشاں کی طرح خبر کے صفحے پر چھڑک دیے۔ افشا اور افشاں کی غلطی پر پہلے بھی توجہ دلائی جاچکی ہے۔ مکرر عرض ہے کہ ’’اِفشا‘‘ کا الف بالکسر ہے یعنی اس کے نیچے زیر ہے، جب کہ عموماً اسے الف بالفتح یعنی اَفشا بولاجاتا ہے اور لگتا ہے کہ یوں ہی بولا جاتا رہے گا۔ اِفشا کا قافیہ اِخفا ہے۔ اب اگر کوئی اخفا کے الف پر بھی زبر لگا دے تو کہا کیا جاسکتا ہے۔ اب ذرا فرائیڈے اسپیشل کا جائزہ لیں۔ تازہ شمارے (7تا 13جولائی) میں ایک دلچسپ ترکیب نظر سے گزری۔ صفحہ 8 پر ایک حکایت میں اورنگ زیب عالمگیرؒ کو ’’فوج کا سپہ سالار‘‘ لکھا گیا ہے۔ ہم اس سوچ میں پڑ گئے کہ فوج اور سپہ میں کیا فرق ہے۔ اورنگ زیب ایک بڑی شخصیت تھی اس لیے شاید اسے سپہ سالار یا فوج کا سالار لکھنا اس کی شان کے شایان نہیں تھا۔ یہ حکایت مولانا سراج الدین ندوی کی کتاب ’’کردار کے غازی‘‘ سے لی گئی ہے۔ لیکن کیا یہ غلطی حضرت مولانا کی ہے؟ ہو بھی سکتی ہے۔ کئی نامور لکھنے والوں کی تحریروں میں یہ غلطی نظر سے گزری ہے۔ فوج عربی کا، سپہ فارسی کا لفظ ہے، لیکن مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔ ایک لفظ ’’اتباع‘‘ ہے۔ ایک طالب علم نے پوچھ لیا کہ یہ مذکر ہے یا مونث؟ اس کا کہنا تھا کہ کئی علما کی تقریر اور تحریر میں یہ مذکر استعمال ہوا ہے۔ سید مودودیؒ نے اتباع کو مذکر لکھا ہے، تاہم ان ہی کے خوشہ چیں محترم حافظ ادریس نے اسے مونث باندھا ہے۔ فرائیڈے اسپیشل کے اسی شمارے میں حافظ صاحب کا جملہ ہے ’’ان کی زیادہ سے زیادہ اتباع ۔۔۔ رسول اکرم ؐ کی اتباع مرحوم کے ایمان و عمل کا حصہ تھی‘‘۔ لغت میں یہ مذکر ہے۔ عربی کا لفظ ہے (الف بالکسر) مطلب ہے پیروی کرنا۔...

نیک اختر

ہمارے صحافی اور ادیب کسی بھی لفظ کے آگے ’’یت‘‘ (ی ت) بڑھاکر اسم صفت بنالیتے ہیں۔ اس طرف پروفیسر علم الدین نے بھی توجہ دلائی تھی۔ ایک مضمون میں ’’معتبریت‘‘ پڑھا۔ غنیمت ہے کہ اعتباریت نہیں لکھا۔ لیکن اعتبار میں کیا خرابی ہے؟ یا اپنے آپ پر اعتبار نہیں کہ اس طرح ’’معتبریت‘‘ قائم نہیں ہوسکے گی۔ جامعہ کراچی میں اردو کے استاد اور زبان پر دسترس رکھنے والے پروفیسر رؤف پاریکھ ایک اخبار میں زبان کے حوالے سے مضامین بھی لکھ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک مضمون میں انہوں نے عام ہوجانے والی کئی اصطلاحوں کی وجۂ تسمیہ بھی بیان کی ہے، مثلاً ’’سینڈوچ‘‘۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عبدالرحیم کی کتاب ’’پردہ اٹھادوں اگر چہرۂ الفاظ سے‘‘ بڑی دلچسپ ہے جس میں الفاظ کا تاریخی، لغوی اور لسانی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ ہم بھی اس سے استفادہ کرچکے ہیں، مثلاً ہڑتال کی وضاحت بڑی دلچسپ ہے۔ رؤف پاریکھ نے بائیکاٹ کی جو تاریخ بیان کی ہے ایسی ہی ڈاکٹر عبدالرحیم نے اپنی کتاب میں دی ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ معروف عالم دین مفتی منیب الرحمن بھی اصلاحِ زبان کے میدان میں آگئے ہیں۔ ان کی آمد اس لیے بھی خوش آئند ہے کہ وہ عربی و فارسی پرعبور رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنے کسی مضمون میں لکھا تھا ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘‘۔ اور یہی معروف بھی ہے، لیکن مفتی صاحب نے اس کی اصلاح فرمائی ہے۔ یہ سعدی شیرازی کا شعر ہے جو یوں ہے: نہ در ہر سخن بحث کردن رواست خطا بر بزرگاں گرفتن خطاست یعنی خطائے بزرگاں کی جگہ ’’خطا بر بزرگاں‘‘۔ شیخ سعدی زندہ ہوتے تو ممکن ہے کہ عوامی اصلاح قبول کرلیتے کہ اس طرح مصرع رواں اور سہل ہوگیا ہے اور ’’بر۔بز‘‘ کے عیب تنافر سے بھی پاک ہوگیا ہے۔ ایسے کئی شعر ہیں جو عوام کی زبان پر چڑھ کر زیادہ جامع ہوگئے ہیں۔ مفتی صاحب نے ’’نور چشمی‘‘ کی وضاحت بھی کی ہے کہ یہ مہمل ہے۔ اسی پر یاد آیاکہ شادی کے دعوت نامے میں نور چشمی کے علاوہ ’’دختر نیک اختر‘‘ بھی لکھا جاتا ہے۔ نیک اختر کا مطلب ہے اچھے ستارے والی یعنی اچھی قسمت والی۔ گو کہ عربی میں ’نیک‘ کے معنی اُس کے برعکس ہیں جو ہم اردو میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ تو جملۂ معترضہ ہے لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضعیف الاعتقاد انسان نے اپنی قسمت کی باگ ڈور ستاروں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے کہ فلاں ستارے کے زیراثر پیدا ہونے والا بخت ور ہوگا اور فلاں ستارے کے زیر سایہ پیدا ہونے والا بدقسمت۔ ہندوؤں میں تو جیوتش ودیا، ستارہ شناسی، دست شناسی وغیرہ جیسی باتیں سمجھ میں آتی ہیں کہ پورا دھرم ہی ضعیف الاعتقادی کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی جنم کنڈلی بنوا لی جاتی ہے اور پنڈت جی نومولود کا پورا زائچہ بناکر دے دیتے ہیں۔ لیکن یہ کام مسلمان بھی کرتے ہیں۔ مرزا غالب کا مصرع ہے اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے اور علامہ اقبال نے ستاروں سے حال معلوم کرنے پر کہا تھا کہ ستارہ کیا مری...

’نوچی‘ کا بھونڈا استعمال

جسارت کے ایک بہت مقبول اور قارئین کے پسندیدہ کالم نگار، ادیب وشاعر ’’بالخصوص‘‘ کو عموماً باالخصوص لکھتے ہیں، یعنی ایک الف کا اضافہ کردیتے ہیں۔ لیکن اس سے تلفظ بھی بگڑ جاتا ہے اور با۔الخصوص ہوجاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بالکل میں بھی ایک الف بڑھا دیا جائے۔ اب تو کچھ لوگوں کو بالکل میں ایک الف بھی گوارہ نہیں اور ان کی دلیل ہے کہ جیسے بولا جاتا ہے ویسے ہی لکھنا چاہیے۔ ہمارے یہ لسانی دانشور اس اصول کا اطلاق انگریزی پر نہیں کرتے، مثلاً نالج کے شروع میں یہ جو فضول سا K ہے اسے نہ لکھا کریں۔ انگریزی میں ایسے کئی K فالتو ہیں جو بولے نہیں جاتے مگر لکھے جاتے ہیں۔ بعض املا اور تلفظ لڑکپن ہی میں پختہ ہوجاتے ہیں اور لاشعوری طور پر استعمال ہوجاتے ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت میں بچوں کے صفحے پر املا درست کرنے کی کاوش نظر آتی ہے۔ یہ بہت اچھا سلسلہ ہے۔ بچوں کا املا درست ہوگا تو وہ بڑوں کو بھی درست کرسکیں گے۔ ہم اب تک ’کسر‘ اور ’کثر‘ میں گڑبڑا جاتے ہیں۔ عرصے تک گلف (GULF) کو گلْف (بضم اول) کہتے رہے اور اب بھی کئی الفاظ کے تلفظ میں گڑبڑا جاتے ہیں۔ ایک لفظ ’’نوچی‘‘ تقریباً متروک ہوچکا ہے البتہ لغات میں موجود ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کا مطلب اچھا نہیں ہے۔ 21 اگست کے ایک اخبار میں ایک بہت سینئر صحافی نے اپنے سیاسی منظرنامہ میں یہ لفظ استعمال کیا ہے لیکن بہت بھونڈے طریقے سے۔ سیاسی تجزیے میں ان کا جملہ ہے ’’محل سرا کی نوچیاں غلام گردش میں پلنے والی سازشوں کی کہانیاں سنارہی ہیں‘‘۔ ان صحافی کو نوچی کا مطلب تو معلوم ہوگا اور یہ لفظ شعوری طور پر استعمال کیا گیا ہوگا۔ ’’نوچی‘‘ اُس نوعمر لڑکی کو کہتے ہیں جس سے طوائفیں پیشہ کراتی ہیں۔ یہ ان کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہیں۔ اب ذرا مذکورہ جملے میں نوچی کے استعمال پر غور کریں۔ یہ محل سرا کس کی ہے جہاں غلام گردش میں نوچیاں ٹہلتی پھرتی ہیں اور سازشوں کی کہانیاں سناتی پھرتی ہیں۔ نوچی فارسی زبان کا لفظ ہے مگر کیا کوئی نوچی کسی صحافی سے ٹکرا گئی ہے؟ سوال یہ ہے کہ یہ نوچیاں کس نے پال رکھی ہیں اور کس کی نگرانی میں ہیں؟ معذرت کے ساتھ، ایک متروک لفظ کا احیا تو ہوگیا لیکن اخلاق سے باہر۔ مناسب تھا کہ اس کی جگہ خادمائیں کا لفظ استعمال کیا ہوتا۔ ایک بڑے اخبار کے مضمون کی سرخی تھی ’’گھر ملازم بچوں کی مقتل گاہ بن گئے‘‘۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ اس حوالے سے مضمون چشم کشا ہے، لیکن یہ ’’مقتل گاہ‘‘ کیا ہوتا ہے؟ صرف مقتل کافی ہے، اس میں گاہ کا مفہوم موجود ہے۔ ایسے ہی مذبح خانہ غلط ہے۔ یا تو صرف مذبح لکھا جائے یا ذبح خانہ۔ اردو میں رائج ہونے والی انگریزی اصطلاحات کے بارے میں تو عموماً تشریح ہوتی رہتی ہے اور ان کی اصل تک پہنچا جاتا ہے۔ عربی، فارسی کے کئی الفاظ ایسے ہیں جو اردو میں آکر اپنے معانی بدل...

گیسوئے اردو کی حجامت

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’مشاق‘‘ طیارے کے حادثے پر اسے ’’مشتاق‘‘ کہا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ایک خاتون خبر دے رہی تھیں کہ فلاں نے ’’جھان سہ‘‘ دے دیا۔ انہیں گوارہ نہیں ہوا کہ جھانسہ کے نون غنہ کو خالی جانے دیا جائے۔ حیرت تو اس پر ہوتی ہے کہ کوئی اصلاح کرنے والا بھی نہیں۔ جب جب خبر دہرائی گئی، یہی تلفظ سننے میں آیا۔ ایک صاحب خبر دے رہے تھے کہ فلاں نے فلاں کو ’’ہوس‘‘ (بروزن جوش، ہوش) کا نشانہ بنایا۔ ٹی وی چینلوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ یہ ذریعہ براہِ راست سماعت و بصارت پر اثرانداز ہوتا ہے اور کچے ذہن اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ تلفظ صحیح کرانے کی کوشش کرو تو جواب ملتا ہے ’’ہمیں تو یہی پڑھایا گیا ہے، آپ نئی اردو ایجاد کررہے ہیں!‘‘ اس پر یاد آیا کہ اسکول میں تو ہمیں بھی برطانوی بادشاہ چارلس کا تلفظ ’’چار۔لس‘‘ پڑھایا گیا تھا۔ کسی نے ڈانٹ کر تصحیح کردی تھی۔ لیکن گزشتہ دنوں پی ٹی وی پر ’’چار۔لس‘‘ سن کر خوشی ہوئی کہ ہم نے گیسوئے اردو ہی نہیں انگریزی کا حشر بھی وہی کیا ہے جو انگریزوں نے برعظیم پاک و ہند کا کیا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کبھی صحیح تلفظ کے لیے معروف تھا اور صرف تلفظ صحیح کرنے کے لیے سکہ بند ادیبوں کی خدمات حاصل تھیں۔ ’’سکہ بند‘‘ لکھ تو دیا پھر خیال آیا کہ کسی نے پوچھ لیا کہ یہ کیا ہے، تو کیا جواب دیں گے، یہ کہ ایسا ہی پڑھا ہے! ایک سکہ تو پنسل میں ہوتا ہے اور ایک کبھی کبھار جیب میں بھی ہوتا ہے اور جیب بند ہوسکتی ہے۔ تاہم ’’سکہ بند‘‘ کا مطلب ہے: پختہ، معیاری، سچا۔ خود سکہ کے کئی مطلب ہیں مثلاً ٹھپا، ضرب، چھاپ، نقش کیا ہوا، ڈھلا ہوا، سرکاری منقش زر جو ملک میں چلے، طرز، روش، طریقہ، قانون، رعب داب وغیرہ۔ اسی سے سکہ بٹھانا، سکہ پڑنا وغیرہ ہیں۔ ایک عجیب مطلب سکہ قلب کا ہے، یعنی جھوٹا سکہ، وہ سکہ جو ناجائز طور پر بنایا جائے۔ یہ سکہ عربی میں چلتا ہے۔ ’ق‘ کا تلفظ ’ک‘ کچھ اہلِ پنجاب سے مخصوص نہیں ہے جن کو وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ یہ کینچی (قینچی) والا کاف ہے یا کتے والا۔ یہی ’ق‘ دکن میں جاکر ’خ‘ سے بدل جاتا ہے اور قاضی جی ’خاضی جی‘ ہوجاتے ہیں۔ لیکن ماہرالقادری نے لکھا ہے کہ بعض عرب قبائل بھی قاف کی...

فرنگی بیماریاں

ہمارے ہاں بہت کچھ باہر سے آتا ہے حتیٰ کہ کبھی کبھار وزیراعظم بھی۔ ہمارے اداروں کے نام بھی فرنگی ہیں۔ اور تو اور بیماریاں بھی انگریزی یا لاطینی میں حملہ آور ہوتی ہیں۔ چکن گونیا کا شکار ہوئے تو یہی سوچتے رہے کہ اپنی زبان میں اسے کیا نام دیں۔ لیکن یہی کیا، ڈینگی بخار، یلو فیور، نیگلریا وغیرہ بھی ہیں۔ ملیریا، ٹائیفائیڈ اور نمونیہ تو اپنے ہی سے لگتے ہیں۔ کسی ڈاکٹر سے جاکر کہیں کہ باری کا بخار، یا تپِ محرقہ یا میعادی بخار ہے تو وہ ذہنی حالت پر شک کرے گا۔ ممکن ہے کوئی حکیم صاحب سمجھ لیں کہ یہ ملیریا اور ٹائیفائیڈ ہیں۔ لیکن ’’ذات الرّیہ‘‘ تو شاید نوجوان حکیم بھی نہ سمجھ پائیں۔ یوں بھی نمونیہ تو اب اپنا ہی ہوگیا ہے۔ ویسے یہ بھی ’دساوری‘ ہے۔ انگریزی میں اس کے ہجے بھی مشکل ہیں جو N کے بجائے P سے شروع ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دساوری کیا ہے؟ اس کی جگہ غیر ملکی یا ’فارن‘ آسان نہیں! معاف کیجیے، شاید ابھی ہم پر چکن گونیا کے اثرات باقی ہیں۔ ہماری عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاکر قارئین کو پرانے کالم بطور ’’نشر مکرر‘‘ پڑھوا دیے گئے، گو کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ نئے ہی ہوں گے، ہمیں بھی نئے نئے سے لگے۔ کہیں کوئی سہو ہوجائے تو ہمارے ممدوح جناب باب الدین، میرپورخاص سے بابِ التفات کھول دیتے ہیں۔ انہوں نے توجہ دلائی ہے کہ ’’فرائیڈے اسپیشل‘ شمارہ 29 میں آپ نے ایک جگہ فرمایا ’’محطّہ تو ظاہر ہے احاطہ سے ہے‘‘۔ یہ صحیح نہیں۔ محطہ کا مصدر حَطّہ ہے جس کے دیگر معانی کے علاوہ ایک معنیٰ گرنا یا اترنا ہے۔ البتہ محیط اور محاط کا مصدر احاطہ صحیح ہے۔‘‘ اس سے آگے انہوں نے دل دہی کے لیے لکھا کہ آپ کا کالم نہایت شوق اور دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اور آپ کی تصحیح سے ہمارا فائدہ ہوجاتا ہے۔ سچی بات ہے کہ عربی ہماری اردو سے زیادہ کمزور ہے۔ مصادر یاد نہیں۔ محطہ کا تعلق احاطہ سے یوں جوڑ دیا تھا کہ یہ لفظ اردو میں عام فہم ہے۔ اِحاطہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے گھری ہوئی چار دیواری، گھرا ہوا میدان، چار دیواری سے گھری ہوئی جگہ خواہ اس میں کوئی عمارت ہو یا نہ ہو۔ برطانوی ہند میں احاطہ پریزیڈنسی یا صوبے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا تھا جیسے احاطہ مدراس، احاطہ بنگال، احاطہ بمبئی وغیرہ۔ احاطہ کھینچنا کسی جگہ کو گھیرنا۔ آج کل شاید احاطے کی چائنا کٹنگ کردی جاتی ہے۔ ایک محترم قاری جناب عقیل نے شکوہ کیا ہے کہ چراغ تلے اندھیرا ہے۔ حالانکہ اب چراغوں کی جگہ بلب جلتے ہیں جن کے نیچے نہیں اوپر اندھیرا ہوسکتا ہے۔ سنا ہے کہ ایک صاحب چراغ دین نے اپنا نام بدل کر بلب دین کرلیا تھا۔ عقیل صاحب کا اشارہ اس طرف ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیاں تو پکڑتے ہیں لیکن خود جسارت اور فرائیڈے اسپیشل میں غلطیاں شائع ہورہی ہیں۔ اب کیا کیا جائے، کوئی ہماری اصلاح قبول کرنے پر تیار نہیں۔ لیکن پھر بھی کہیں...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے ‘‘کا آسان نسخہ

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قولِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن اپنی رائے کا اظہار تو کیا جاسکتا ہے۔ مولوی عبدالحق اپنی کتاب ’قواعدِ اردو‘ میں لکھتے ہیں: ’’بعض عربی الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں الف ’ی‘ کی صورت میں لکھا جاتا ہے جیسے عقبیٰ اور دعویٰ‘‘۔ اردو میں ایسے الفاظ ’الف‘ سے لکھنے چاہئیں مثلاً دعوا، اعلا، ادنا۔ انہوں نے عقبیٰ کا حوالہ دے کر اسے الف سے یعنی عقبا نہیں لکھا۔ ہماری رائے یہ ہے کہ عربی کے جو الفاظ اپنے مخصوص املا کے ساتھ اردو میں آگئے ہیں انہیں ایسے ہی لکھنا چاہیے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ جب سے زبانِ اردو وجود میں آئی ہے، عربی کے کئی الفاظ اپنے املا کے ساتھ ہی اردو بلکہ فارسی میں بھی جوں کے توں لے لیے گئے ہیں، جیسے صلوٰۃ، مشکوٰۃ، زکوٰۃ وغیرہ۔ چنانچہ اب املا ’’درست‘‘ کرنے کی مہم چلی تو تمام پرانے علمی، ادبی و مذہبی ذخیروں پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ طالب علم ایک طرف تو اعلا، ادنا، دعوا پڑھے گا، دوسری طرف اسے پرانے لٹریچر (جو زیادہ پرانا بھی نہیں) اور لغات میں مختلف ہجے ملیں گے۔ یہ قرآنی املا ہے اور اسے بحال رکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قرآن پڑھنے والے کے لیے یہ الفاظ نامانوس نہیں ہوں گے۔ عربی الفاظ کا املا بدلنے کا رواج چل پڑا تو بات بہت آگے تک جائے گی۔ کیا عیسیٰ اور موسیٰ کا املا بھی بدل کا عیسا اور موسا کیا جائے گا؟ چھوٹا منہ بڑی بات، ہمیں تو اس سے اتفاق نہیں۔ بعض الفاظ کی جمع الجمع تو ہے جیسے دوا، ادویہ اور ادویات۔ لیکن کچھ لوگ زبردستی جمع الجمع بنا رہے ہیں۔ ٹی وی کے میزبان اور ’’روائے عافیت‘‘ کے شہرت یافتہ کامران خان صرف ’الفاظ‘ یا ’جذبات‘ کہہ کر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ شاید زور پیدا کرنے کے لیے ’’الفاظوں‘‘، ’’جذباتوں‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹی وی کے میزبانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اُن کی غلطیاں صرف اُن تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سننے والوں کو بھی خراب کرتی ہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ اب تک کسی نے کامران خان کو ’’الفاظوں‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا! شاید یہ اختیار رکھنے والے خود بھی ’’جذباتوں‘‘ میں بہہ جاتے ہوں۔ باباے اردو کی ’ے‘ پر ہمزہ لگانا صحیح نہیں ہے۔ لیکن ان کی مذکورہ کتاب جو انجمن ترقی اردو، پاکستان نے شائع کی ہے اُس میں باباجی کی ’ ے‘ پر ہمزہ لگا ہوا ہے یعنی ’بابائے‘۔ مولوی عبدالحق نے ’’اقوام‘‘ کو مذکر لکھا ہے، ’’جب یونانیوں کو دوسرے اقوام سے سابقہ پڑا‘‘۔...

وتیرہ یا وطیرہ؟

کہتے ہیں ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔‘‘ حافظ محمد ادریس صاحب علم و فضل میں بحر ذخار ہیں لیکن عمر میں ہم سے چھوٹے ہیں، اس لیے ان کے مضامین میں سہو کی نشاندہی خطا نہ سمجھی جائے۔ بلاشبہ حافظ ادریس ایک دانشور اور بڑے قلم کار ہیں۔ وہ ایک علمی ادارے کے سربراہ بھی ہیں، اس لیے یہ خدشہ ہے کہ ان کے سہو کو لوگ سند نہ بنالیں کہ حافظ ادریس نے لکھا ہے تو یہی صحیح ہوگا۔ فرائیڈے اسپیشل کے گزشتہ شمارے (30 جون تا 6 جولائی) میں مرحوم رائے بخش کلیار کے بارے میں ان کا ایک بہت اچھا مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں انہوں نے ’’وتیرہ‘‘ کو وطیرہ لکھا ہے۔ یہ بہت عام غلطی ہے لیکن حافظ صاحب کو عربی پر بھی عبور ہے اس لیے انہیں گریز کرنا چاہیے تھا۔ وتیرہ عربی ہی کا لفظ ہے لیکن بغیر ’ط‘ کے۔ ایک شعر حاضر ہے: یار کو لاکھا جمانے کا وتیرہ ہو گیا دعوت لب، خونِ ناحق کا ذخیرہ ہو گیا وتیرہ تو عربی کا لفظ ہے لیکن بہت سے لوگ ہندی کے لفظ ’’ناتا‘‘ میں ’ط‘ شامل کرکے اسے معرب کرلیتے ہیں یعنی ’ناطہ‘ یا ’ناطا‘۔ حافظ ادریس صاحب سے بہت معذرت کے ساتھ، انہوں نے اپنے مذکورہ مضمون میں کئی جگہ ’’بال آخر‘‘ لکھا ہے۔ یہ کیا ہے؟ بال بروزن دال، گال، جال وغیرہ۔ بال آخر لکھا جائے گا تو لوگ پڑھیں گے بھی اسی طرح۔ اسے ’’بل آخر‘‘ کون پڑھے گا؟ اگر بالآخر کا املا مشکل ہے تو بال آخر کی جگہ بل آخر ہی لکھ دیا ہوتا۔ کم از کم تلفظ تو صحیح ہوتا۔ اس قباحت سے بچنے کے لیے ’آخرکار‘ لکھ دیا ہوتا۔ کل کوئی بالکل کو بھی ’بال کل‘ لکھنے لگے گا۔ ماہر لسانیات رشید حسن خان مرحوم کی تحریک یہی تھی کہ جو الفاظ جس طرح بولے جاتے ہیں اسی طرح لکھے بھی جائیں مثلاً ’بلکل‘ اور ’بل آخر‘۔ لیکن کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح رشید حسن خان کا مقصد عربی املا سے دور کرنا تھا، اسی لیے انہوں نے ’اعلیٰ‘ کا املا ’اعلا‘ کردیا۔ شاید وہ بھارتی مسلمانوں کو ہندی سے قریب لانا چاہتے ہوں۔ ’بالکل‘ بھی دراصل ’بالکلّیہ‘ ہے۔ ’لاکن‘ عربی کا لفظ ہے اور قرآن کریم میں اسی طرح آیا ہے، لیکن اردو میں آکر یہ ’لیکن‘ ہوگیا اورلام پر کھڑا زبر غائب ہوگیا۔ حافظ صاحب نے مرحوم رائے خدا بخش کلیار کے منہ سے سنا ہوا شیخ سعدی کا ایک شعر درج کیا ہے کہ: دیدۂ سعدی و دل ہمراہ توست تا پنداری کہ تنہا می روی ہوسکتا ہے کہ مرحوم کلیار اسی طرح پڑھتے ہوں اور ممکن ہے کہ کمپوزنگ کی غلطی ہو، ورنہ صحیح شعر یوں ہے: دیدۂ سعدی و دل ہمراہ تست تانہ پنداری کہ تنہا می روی دوسرے مصرعے میں سہو ’نہ‘ رہ گیا جس سے مفہوم متاثر ہوجاتا ہے۔ سچی بات ہے کہ شعر تو ہمیں بھی صحیح یاد نہیں رہتے اور حافظ ادریس کی تو بے پناہ علمی مصروفیات ہیں۔ اخبارات میں ’’بیزارآنا‘‘ پڑھنے میں آتا ہے، جب کہ ہمارے خیال میں بیزار کے ساتھ ’ہونا‘ آنا چاہیے، یا پھر بیزار ہوجانا۔ ’بیزار‘ فارسی کا لفظ ہے۔...

اہم بلاگز

جدید اسکولنگ سسٹم

ہم اس وقت 29 قسم کے تعلیمی نظاموں کا شکار ہیں ۔ ان سب  تعلیمی نظاموں میں جو  چیز مشترک ہے وہ ہے " کرپشن " ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ اسکولوں اور آفسوں کے چپڑاسیوں سے لے کر پرائیوٹ اور گورنمنٹ وائٹ کالر جاب کرنے والے لوگوں سے مل لیں ۔ آپ بیورو کریسی ، فوج اور سیاستدانوں کو دیکھ لیں آپ کو اوپر سے لے کر نیچے تک سب میں جو چیز  قدر مشترک نظر آئیگی وہ سامنے والے کی کھال اتارنے کا طریقہ ہے ۔ سگنل پر کھڑے سپاہی کی اوقات پچاس روپے ہے تو وہ پچاس روپے لے لیتا ہے ۔ ایس – ایس – پی صاحب کی حثیت 440 لوگوں کا قتل کر کے ڈنکے کی چوٹ پر ریاست کی دھجیاں اڑانا ہے تو وہ اسی حساب سے کام کر رہے ہیں ۔ "صاحب" کے کمرے کے باہر بیٹھے چپڑاسی کی اوقات 100 روپے لے کر اندر بھیجنا ہے تو اندر بیٹھے " صاحب " اندر آنے والے کے کپڑے  تک اتروا کر باہر بھیجنے کو ہر دم تیار ہیں ۔ اصل میں ہم ابھی تک منافقت اور دو رنگی سے بھی باہر نہیں آسکے ہیں ہم اپنے عمل اور قول سے اپنے بچوں کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں ۔ ہم بچپن میں اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ " تعلیم شعور حاصل کرنے کا ذریعہ ہے " اور یہ اس بچے کی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ ہوتا ہے ۔ بچہ جیسے جیسے بڑا ہونے لگتا ہے ہم اس کو اچھی طرح یہ بات سمجھا دیتے ہیں کہ تمھارے تعلیم حاصل کرنے کا واحد مقصد پیسہ کمانا ہے۔ اس کو سمجھ آجاتی ہے کہ مجھے بچپن میں ہی مجھ سے میری ماں کی گود چھیننے ، میری میٹھی میٹھی نیندوں کو صبح ہی صبح دھکے کھاتی وینوں اور بسوں میں قربان کرنے کا واحد مقصد  پیسہ تھا ۔ میرا کھیل کود بند کر کے میری معصوم خوشیوں کو ذبح کرنے کی پہلی اور آخری وجہ یہی تو تھی ۔ پھر وہ اس پیسے کے لئیے کسی بھی ماں کی گود اجاڑنا ، کسی کی بھی خوشیاں چھین لینا اور دم توڑتے مریض سے بھی پیسہ لئیے بغیر علاج کرنے کو تیار نہیں ہوتا ہے ۔اس کو جعلی میٹیریل لگا کر پل بنانے  اور لاکھوں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگانے میں بھی تامل نہیں ہوتا  ، اور بھلا ہو بھی کیوں پڑھائی کا مقصد جو یہی تھا ۔  آپ یقین کریں جب تک ہماری سوچ تبدیل نہیں ہوگی تب تک ہم ، ہمارے حالات  اور ہمارا ملک کبھی تبدیل نہیں ہوسکتا ۔ اپنے بچوں کو پیسے کے لئیے نہ پڑھائیں ، سکھانے کے لئیے پڑھائیں ۔ پیسہ کمانا وہ خود سیکھ جائینگے ۔ اسکول پڑھانے کی نہیں سکھانے کی جگہ ہے ۔ ہم کو اپنا تعلیمی نظام اور طریقہ تعلیم سب کچھ بدلنا پڑیگا ۔ اپنے لئیے نہیں دوسروں کے لئیے جینا سکھانا ہوگا ۔ کمانے کا نہیں خدمت کا جذبہ فراہم کرنا ہوگا ۔ پیسہ ان کو تب بھی ملے گا اور ان کی سوچ سے...

“پاکستان میں مغرب کے ’’شہدا‘‘ اور ’’غازی

پاکستان کے سوشلسٹوں کا مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ وہ سوشلسٹ تھے اور سوشلزم ایک مذہب دشمن نظریہ تھا۔ سوشلسٹوں کا مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنے نظریے اور جدوجہد کا مقامی مرکز پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہر چیز کے سلسلے میں رہنمائی کے لیے ’’ماسکو‘‘ یا ’’پیکنگ‘‘ کی جانب دیکھتے تھے۔ دنیا میں سوشلزم کے یہی دو مراکز تھے۔ اس صورت حال نے سوشلسٹوں کو کبھی حقیقی معنوں میں ’’مقامی‘‘ اور ’’آزاد‘‘ نہ ہونے دیا۔ اتفاق سے اس وقت یہی صورتِ حال پاکستان کے سیکولر اور لبرل عناصر کی ہے۔ یہ عناصر اپنے نعروں، سرگرمیوں اور ردِ عمل کے سانچوں کے لیے واشنگٹن، لندن اور پیرس کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ واشنگٹن، لندن اور پیرس چاہتے ہیں تو پاکستان میں توہین رسالت کی وارداتیں بڑھ جاتی ہیں۔ واشنگٹن، لندن اور پیرس سے ہدایت ملتی ہے تو مظلوم زینب پر ہونے والے ظلم کی آڑ میں جنسی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے کی مہم شروع ہوجاتی ہے۔ مشال خان کا قتل حال ہی کا واقعہ ہے۔ مشال خان کو قتل کرنے والوں کا موقف تھا کہ مشال خان توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے اور اس سلسلے میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ بدقسمتی سے توہین رسالت کے مرتکبین کو ریاستی ادارے سزا دینے میں ناکام نظر آتے ہیں اس لیے لوگوں میں معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ ریاست نے توہین رسالت کے مرتکبین کو قرار واقعی سزا دینے کی روایت قائم کردی ہوتی تو شاید لوگ مشال خان کو قتل نہ کرتے بلکہ اسے قانون کے حوالے کردیتے۔ خیر یہ ایک اور ہی قصہ ہے، یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ مشال خان کے قتل نے معاشرے میں شدید ردعمل پیدا کیا اور بعض علما اور دانش ور تک مشال خان کے قتل پر ماتم کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشال خان کے قتل کے الزام میں درجنوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے، ایک اطلاع کے مطابق عدالت اس قتل کے مقدمے کا فیصلہ 7 فروری کو سنائے گی۔ یعنی ان سطور کی اشاعت تک فیصلہ آچکا ہوگا۔ عدالت اس سلسلے میں کیا فیصلے کرے گی، کہنا تو مشکل ہے لیکن اس کیس کے سلسلے میں یہ کہنا اب آسان ہوچکا ہے کہ مشال خان کیس کو ’’مقامی تناظر‘‘ میں دیکھنا حماقت اور کھلے حقائق کا انکار ہے۔ یعنی مشال خان کا معاملہ کسی نہ کسی اعتبار سے ’’واشنگٹن مرکز‘‘ یا ’’لندن مرکز‘‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ کراچی میں الطاف حسین اور ان کی ایم کیو ایم کی سیاست نے گزشتہ 25 سال میں 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کو لاشوں میں تبدیل کیا ہے، کراچی میں شہید ہونے والوں میں حکیم سعید جیسی قومی بلکہ بین الاقوامی شخصیت، بڑے بڑے علما، صحافی، ڈاکٹرز، وکلا غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ مگر کبھی امریکا یا برطانیہ کے کسی اسکول، کسی کالج اور کسی یونیورسٹی کو یہ خیال نہ آیا...

برکت کیسے حاصل ہو؟

ہم میں سے بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ آج کے دور میں برکت اٹھ گئی ہے ۔ ہمارے کھانے پینے کی چیزوں میں ، وسائل میں ، مال و دولت میں، تن خواہ میں ، تجارت میں ، غرض کسی چیز میں اب برکت نہیں رہ گئی ہے ۔ پہلے کم مقدار کی چیز میں زیادہ افراد کا گزارہ ہوجاتا تھا ، اب زیادہ مقدار کی چیز میں کم افراد کا گزارہ نہیں ہوتا۔ ہم یہ شکوہ تو کرتے ہیں، لیکن غور نہیں کرتے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا حقیقی سبب کیا ہے؟ سبب معلوم نہ ہو تو اس کا ازالہ نہیں ہوسکتا ۔ مرض کی درست تشخیص نہ ہو تو اس کا علاج ممکن نہیں۔ ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے وضاحت فرمائی ہے کہ برکت کیسے حاصل ہوتی ہے؟ اور اس سے محرومی کیوں کر ہوتی ہے؟ آپ کا ارشاد ہے : " اِنَّ اللَّہَ یَبتَلی عَبدَہُ بِمَا اَعطَاہْ ، فَمَن رَضیَ بِمَا قَسَمَ اللَّہْ لَہْ بَارَکَ اللّہْ لَہْ فیہِ ، وَوَسَّعَہْ ، وَمَن لَم یَرضَ لَم یْبَارک لہْ " (احمد:20279) ( اللہ تعالی اپنے بندے کو جو کچھ عطا کرتا ہے ، اس کے ذریعے اسے آزماتا ہے۔جو شخص اتنے پر راضی ہوجائے جتنا اللہ نے اس کی قسمت میں لکھا ہے ، اللہ اس کے لیے اُس میں برکت دے گا اور اس میں خوب وسعت دے گا ۔اور جو شخص اس پر راضی نہ ہو ، اللہ اس میں برکت نہیں دے گا۔ ) اس حدیث میں تین باتیں بتائی گئی ہیں : (1) پہلی بات یہ کہ دنیا میں ہر شخص امتحان کی حالت میں ہے ۔ کسی کو اللہ تعالی نے خوب مال و دولت اور بے انتہا آسائش سے نوازا ہے ، کسی کو اوسط آمدنی اور اوسط سہولیات عطا کی ہیں ، کسی کو معمولی رزق دیا ہے اور کسی کو محروم رکھا ہے ۔ ہر ایک یہاں حالتِ امتحان میں ہے۔اللہ تعالی در اصل یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ جس شخص کو اس نے عطا کیا ہے وہ اس کا شکر عطا کرتا ہے یا نہیں اور اسے جتنا عطا کیا ہے اس پر قناعت کرتا ہے یا نہیں اور جس شخص کو اس نے عطا نہیں کیا ہے وہ صبر کرتا ہے یا نہیں ۔ (2) دوسری بات یہ کہ جو شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی بہ رضا رہتا ہے اسی کو برکت حاصل ہوتی ہے ۔ اسے جو کچھ حاصل رہتا ہے ، اگر وہ مقدار میں کم ہو تو بھی اللہ تعالی اس میں وسعت دیتا ہے ، اسے اور اس کے متعلقین کو اتنے ہی میں آسودگی اور طمانینت حاصل رہتی ہے اور وہ بہت سوں کے لیے کفایت کرتی ہے ۔ (3) تیسری بات یہ کہ جو شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی بہ رضا نہ ہو ، اس کی زبان پر کمی کا شکوہ رہتا ہو اور وہ ہر وقت ننّانوے کے پھیر میں لگا رہتا ہو ، اللہ اسے برکت سے محروم کردیتا ہے۔ برکت کیا ہے ؟ برکت ایک احساس کا نام ہے۔ پانچ روٹی...

چوروں کو سارے نظر آتے ہیں چور

عطا الحق قاسمی کا شمار میاں نواز شریف کے اہم مشیروں اور وکیلوں میں ہوتا ہے۔ اصول ہے انسان پر صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے۔ شاید محبت کے اثر کے تحت ہی عطا الحق قاسمی نے اپنے ایک حالیہ کالم میں اقبال، قائد اعظم اور مولانا حسرت موہانی کی توہین کی تھی۔ اس توہین کی صورت یہ نکالی گئی کہ عطا الحق قاسمی کو اقبال کی شاعری کے سمندر کے مقابلے پر ان کے خطبات پسند ہیں مگر صرف اس لیے کہ خطبات میں اقبال نے پارلیمنٹ کا ذکر کیا ہے اور پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دیا ہے۔ قائد اعظم کو پسند کرنے کی وجہ عطا الحق قاسمی کے نزدیک یہ ہے کہ ان سے کچھ ایسی چیزیں بھی منسوب ہیں جن کے ذکر سے فساد خلق پیدا ہوسکتا ہے۔ مولانا حسرت موہانی کی شخصیت میں عطا الحق قاسمی کو صرف یہ بات نظر آئی کہ وہ خود کو سوشلسٹ کہا کرتے تھے۔ عطا الحق قاسمی کے اس کالم پر ہم نے گزشتہ ہفتے گفتگو کی تھی۔ مزے کی بات یہ ہوئی کہ عطا الحق قاسمی کے بعد ان کے فرزند ارجمند یاسر پیرزادہ بھی ہمارا کام ہے ہم تو سر بازار ناچیں گے‘ کہتے ہوئے سامنے آگئے۔ ان کے والد محترم نے اقبال، قائد اعظم اور حسرت موہانی پر ہاتھ صاف کیا تھا یاسر پیرزادہ نے مولانا روم اور ابن عربی پر کیچڑ اچھال دیا ہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ باپ بیٹے کے درمیان پست مزاجی کا مقابلہ ہورہا ہے۔ یاسر پیرزادہ نے 21 جنوری 2018ء کے کالم میں اگر چہ مولانا روم کو عبقری یا genius اور ابن عربی کو بڑا فلسفی قرار دیا ہے مگر انہوں نے ان عظیم شخصیات میں جو اصل شے دریافت کی ہے وہ ان کا ’’عاشقانہ مزاج‘‘ ہے۔ یاسر پیرزادہ نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ ’’وہ (یعنی ابن عربی) قرطبہ میں تھے تو فاطمہ نامی خاتون سے ان کی قربت عرصے تک رہی۔ اس کے بعد جب وہ مکے میں رہے وہاں مکین الدین نامی ایک عالم سے حدیث پڑھی۔ ان عالم کی بیٹی عین الشمس نظامی نہایت خوبصورت تھی جس پر ابن عربی مر مٹے۔ چناں چہ وہ لکھتے ہیں کہ ان کے اکثر مکاشفات کا روحانی جذبہ اس کے عشق کا رہن منت ہے۔ (بحوالہ۔ تصوف کی حقیقت از غلام احمد پرویز)‘‘۔ مولانا روم کے بارے میں یاسر پیرزادہ نے لکھا ۔ ’’رومی اگر شمس تبریز کے عاشق تھے تو خدا جانے یہ کیسا عشق تھا۔۔۔ وہ قونیہ کی گلیوں میں گھومتے، دیوانہ وار رقص کرتے، اس عالم میں غزلیں کہتے اور ایسے کہ ان کے منہ سے جھاگ اڑتی، شمس تبریز کا قصہ رومی کے شاگردوں، پیرو کاروں اور کہا جاتا ہے کہ خود ان کے بیٹے نے پاک کیا مگر اس کے باوجود رومی کا عشق ماند نہ پڑا۔ رومی کا اگلا عشق احسام الدین چیلسپی سے ہوا۔ یہ عشق بھی شدید تھا‘‘۔ مولانا روم کی فکر، شخصیت اور تخلیقی جوہر اتنا بڑا ہے کہ انہیں عبقری یا genius کہنا بھی ان کی توہین ہے۔...

خود کو قابل بنائیں قیمتی آپ خود بن جائیں گے

شاہ میر عامر کا تعلق ملتان سے ہے انھوں نے عثمان انسٹیٹیوٹ سے الیکٹرونکس میں اپنا  بی-ایس مکمل کیا اور پھر پیچھے مڑ کر کبھی الیکٹرونکس کو نہیں دیکھا ۔ انھوں نے اپنا شوق پورا کرنے کا فیصلہ کیا اور " ہیکنگ " شروع کردی محض دو سالوں میں انھوں نے 400 سے زیادہ ویب سائیٹس ہیک کیں جن میں فیس بک ، گوگل اور یاہو جیسی ویب سائٹس تک شامل ہیں۔ 2015 میں وہ دنیا کے تیسرے بڑے " ایتھیکل ہیکر " بن گئے اور اس سال ان کے پاس آنے والی آمدن 1،50000 ڈالرز کے لگ بھگ تھی ۔ عامر نے اپنی ہی ایک کمپنی بنانے کا فیصلہ کیا اور"ویلیکس " کے نام سے کمپنی بنا ڈالی ۔اس سب میں دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہ میر کی عمر اس وقت محض 21 سال تھی ۔ عبدلولی خان  فاٹا کے رہنے والے ہیں یہ روزگار کی غرض سے لاہور آئے بھاٹی گیٹ پر بریانی کا ٹھیلہ لگایا ،کچھ عرصے بعد کراچی کا رخ کیا اور بسوں میں کھلونے بیچنے شروع کئیے اور بل آخر ایک موبائل شاپ کھول لی ساتھ ہی انٹرنیٹ سے سیکھنے کا فیصلہ کیا اور پڑھنے کی ٹھانی جب عبدلولی کو یہ احساس ہوا کہ اب مجھے یہ سب لوگوں کو بھی بتانا چاہئیے تو انھوں نے اپنا " یوٹیوب " چینل بنا کر لوگوں کو پڑھانا شروع کردیا 2012 میں انٹرنیٹ سے پیسے کمانے والے سب سے بڑے پاکستانی کا نام عبدلولی تھا جس نے ایک کروڑ سے زیادہ رقم ایک سال میں حاصل کی تھی ، یاد رہے عبدلولی خان نے کے پاس دنیا کی کسی یونیورسٹی کی کوئی ڈگری نہیں ہے ۔ آپ آئی – ٹی کی دنیا کا کمال دیکھیں اس وقت آئی – ٹی کی جتنی قابل ذکر بڑی کمپنیز  ہیں وہ ساری ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جنھوں نے اپنی یونیورسٹی ڈگری تک مکمل نہیں کی ۔ آپ کمال ملاحظہ کریں بل گیٹس یونیورسٹی کے دوسرے سال روتے ہوئے نکلے ان کے استاد نے ان کو بھری کلاس میں طعنہ دیتے ہوئے کہا " جس دن تم ٹرک ڈرائیور بن گئے یہ بھی تمھارے لئیے بہت ہوگا " اور پڑھائی میں ہمیشہ پیچھے رہ جانےوالے بل گیٹس نے اپنے آنسو صاف کئیے اور پھر پلٹ کر کبھی یونیورسٹی کو نہیں دیکھا  انھوں نے اپنے دوست پال ایلن کو ساتھ لیا اور اپنے دل کی دنیا کو " عمل " کی دنیا میں لانے کا فیصلہ کرلیا اور پھر " مائیکرو سوفٹ " بنا کر لوگوں کی زندگیاں اور دنیا کی تاریخ دونوں ہی بدل کر رکھ دی۔ ہائی اسکول کے بعد فیس کی کمی کی وجہ سے اپنے کالج کی تعلیم برقرار نہ رکھنے والے اسٹیو جابز نے گزر اوقات کے لئیے مائیکرو سوفٹ میں نوکری کے لئیے انٹرویو دیا لیکن " نااہل " قرار دے دئیے گئے ۔ اور پھر اسٹیو جابز  نے مائیکرو سوفٹ کو " ٹف ٹائم " دینے کا فیصلہ کیا اور آئی – ٹی کی دنیا میں ایپل کی بنیاد رکھ دی ۔ اگر آپ نے ہالی ووڈ کی فلم " سوشل...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

روحانی ریمانڈ

صاحبو، مجھ سے اگر کوئی یہ پوچھے کہ انسانی اعصاب کیلیئے سب سے کڑا وقت کونسا ہوتا ہے تو میں بلا تردد عرض کروں گا کہ "عین اس وقت ، کہ جب کوئی لکھنے پڑھنے والا فرد نصف شب کے بعد کسی بیتاب قوال سے بہت کم فاصلے پہ موجود ہو" ، مجھے یقین ہے کہ کسی دوسرے فرد کو میرے اس بیان کی فکرانگیزی اس وقت تک سمجھ آہی نہیں سکتی کہ جب تک کہ وہ خود کبھی اس کڑی آزمائش سے دوچار نہ ہوا ہو اور رات کے پرسکون لمحات میں اسکی سماعت ، اچانک کسی بپھرے ہوئے قوال کے ہتھے نہ چڑھ چکی ہو۔۔۔ میری یہ بپتا پرانی نہیں ابھی گزشتہ شب ہی کی ہے کہ جب میرے گھر کے عین سامنے اک مست قوال محفل سماع کے نام پہ مائیکروفون پہ کان پھٹنے اور پو پھٹنے تک نجانے کیا کیا کرنے پہ تلا رہا،،، اور میں گویا شب بھر 'روحانی ریمانڈ' پہ رہا،،، ابتداء میں تو میں نے بہت برداشت سے کام لیا اور بہت دیر تک ضبط نفس کے طریقے آزماتا رہا لیکن کانوں پہ امنڈتی بانگ درا جب اسپیکروں کی ہنرمندی سے چنگھاڑتی ضرب کلیمی بن گئی تو خوار و مضطرب ہوکر خود بھی پرعقیدت سامع بن کر 'وقوعہ' پہ جاپہنچا۔ دیکھتا ہوں کہ درمیان میں بیٹھا جو شخص متواتر گردن ہلارہا ہے اور زور زور سے ہاتھ چلا رہا ہے وہی اس 'مقدس ورکشاپ' کا استاد ہے اور اس نے کئی 'چھوٹے' یعنی اپرنٹس قوال آہ وفغاں کیلیئے دائیں بائیں ساتھ بٹھا رکھے ہیں جو کہ نہایت متناسب انداز میں گردن مٹکانے کیساتھ ساتھ استادانہ لے کی آنچ بڑھانے کیلیئے برابر سے زوردار تالیاں بھی پٹخارتے جاتے ہیں اور تالیاں بھی کیا گویا ایک ہتھیلی سے دوسری کو اور دوسری سے پہلی کو کس کس کر چانٹے لگا رہے ہیں،،، ہمراہ ایک نائب قوال بھی ہے کہ باربار بوکھلا کر اچانک اچانک واویلا مچانے کیلیئے مخصوص ہے،، اس کا دوسرا کام پوری چوکسی سے اپنے سر کو 'استاد' کی تالیوں کے بیچ آکر چپاتی بننے سے بچانا ہے کیونکہ وہ قوال کے بالکل نزدیک بیٹھا ہے اور ہر لمحے گمان ہوتا ہے کہ اس قربت کی سزا اسے آج مل کر رہے گی،،، طبلہ ٹھنک رہا ہے اور طبلہ نوازاسی سے ہم آہنگ کرکے اپنی گردن اور دیدے دونوں برابر سے مٹکارہا ہے،،، ایک لاغر و فاضل سا بچہ بھی وہیں ساتھ دبکا بیٹھا ہے جس کا کام سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وقفے وقفے سے چونک کے سیٹی جیسی باریک اور چبھتی ہوئی آواز میں چیخیتی ہوئی ایں ایں یا ریں ریں کرنے کی کوششیں جاری رکھے اور اسٹیج پہ کسی جونیئر قوال کو نیند کی جھپکی لینے نہ دے ، حاضرین کو جگائے رکھنے کا کام البتہ اسی چھٹے ہوئے قول نے مستقل اپنے ذمے لے رکھا ہے۔۔۔ ساز و صدا کی اسی ہڑبونگ میں دیکھتے ہی دیکھتے میرے سامنے بیٹھے دو افراد دفعتاً ہڑبڑا کر اٹھے اور اسٹیج کی جانب بڑھے اور،،،، اسٹیج تک پہنچنے سے پہلے ان میں سے ایک نے جیب میں ہاتھ ڈالا جس سے میں نے...

لائن پر آؤ یا لائن بناؤ

الن کلن کی باتیں ’’ہمارے یہاں عقلمندوں کی کمی نہیں، ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔‘‘ ’’جب ہزار ملتے ہیں تو پھر ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ’’اسی لئے ڈھونڈنے کی زحمت نہیں کی جاتی بلکہ جو مل جائے اسی سے کام چلا لیا جاتا ہے۔‘‘ ’’ایسا کیا ہوگیا، کچھ بتاؤ گے بھی یا پہیلیاں ہی بھجواتے رہو گے؟‘‘ ’’اب دیکھو ناں ہمارے ملک میں جو عقلمند ملتے ہیں وہ عوام کے خادم نہیں بلکہ عوام کے حاکم ہوتے ہیں۔ اسی لئے وہ عقلمندی کے ایسے جوہر دکھاتے ہیں کہ جس سے عوام کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔‘‘ ’’ ایسا کیا ہوگیا جو تم ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہو؟‘‘ وارداتیں ہورہی ہیں یا ہونے کا خطرہ ہے تو ڈبل سواری پر پابندی لگا دو۔ موبائل سے ریکی کی جاتی ہے تو موبائل کا نیٹ ورک بند کردو۔ بجلی کی ادائیگی کسی علاقے میں کم ہورہی ہے تو وہاں پر لوڈ شیڈنگ کرو۔ آٹا مہنگا ہے تو ڈبل روٹی کھا لو۔ ‘‘ ’’واقعی یہ بات تو تم نے ٹھیک کہی، لیکن اصل بات کیا ہے؟ وہ بتاؤ، یہ پرانی باتیں ہیں۔‘‘ ’’عوام کے نصیب میں دربدر کی ٹھوکریں کھانا لکھا ہے۔ کبھی یوٹیلٹی بلوں کے لئے لائن میں لگایا جاتا ہے، کہیں گیس بھروانے کی لائن میں لگایا گیا، کہیں پیٹرول نایاب کرکے لائن میں لگایا گیا، کہیں سم رجسٹریشن کے نام پر لائن میں لگایا گیا، کہیں ووٹ ڈالنے کے لئے لائن میں لگایا، کہیں لائسنس کے لئے لائن میں لگایا اور کہیں شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نادرا کی لائن میں لگایا۔‘‘ ’’جو قوم لائن پر نہیں آتی پھر اسے اسی طرح لائن میں لگایا جاتا ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ ابھی کون سی لائن لگنے والی ہے؟‘‘ ’’سنا ہے چھ ماہ میں شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق ہوگی۔‘‘ ’’ٹھیک سنا ہے۔‘‘ ’’مطلب ایک بار پھر دوبارہ سے لائن میں لگ کر تصدیق کرنی ہوگی؟‘‘ ’’اب تک تو آپ کو لائن میں لگنے کی عادت ہوجانی چاہیئے تھی۔ لیکن چونکہ یہ قوم لائن میں لگنے کی عادی نہیں اس لیے یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے۔‘‘ ’’اب آپ کیا چاہتے ہو بغیر لائن کے تمہارا کام ہوجائے؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ زرداری کے بیٹے بلاول تو نہیں ہیں یا آپ شریف خاندان سے تو تعلق نہیں رکھتے جو آپ بغیر لائن میں لگے اپنا کام کروا سکیں۔‘‘ ’’تو پھر ایک کام کیوں نہیں کرتے۔ سب کو لائن میں لگا کر چار چار جوتے کیوں نہیں لگائے جاتے تاکہ سب کی عقل ٹھکانے آجائے۔‘‘ ’’ایسی ذلت بھلا کون پسند کرے گا؟‘‘ ’’ذلت عوام کا مقدر ہے کیونکہ ان کے پاس شعور نہیں۔ انہوں نے اس کو اپنا نصیب سمجھ لیا ہے اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ عقلمند ہم پر کیوں حکومت کررہے ہیں جو ہمارے ووٹ لے کرآتے ہیں اور ہمارے ہی پیسوں پر پلتے ہیں اور ہمارے درمیان اس طرح وی آئی پی انداز میں نکلتے ہیں، جیسے یہ انسان ہیں اور ہم سب گدھے۔ ان کی جان کی قیمت ہے اور ہم چیونٹیاں ہیں جس کے جی میں ا?ئے پاؤں تلے روند جائے۔‘‘ ’’تو تمہارے خیال میں عوام کیا کرسکتی ہے؟‘‘ ’’کہہ تو رہا ہوں چار جوتے سب کو...

چلتی پھرتی جلی کٹی تحریریں

جس ملک میں ہاتھ دیکھنے والا اور سڑک پر طوطے سے فال نکالنے والاپروفیسر اور عامل کا بورڈ لگائے بیٹھا ہو اور جس قوم میں پانی کے ٹیکے لگانے والا اپنی کلینک کے ماتھے پر اسپیشلسٹ کا اشتہاری بورڈ لگائے ہوئے ہو، بھلا اْس قوم کے ڈرائیور اپنی اپنی گاڑیوں کے پیچھے دلچسپ و عجیب معنی خیز المیہ و طربیہ عبارتیں لکھ کر اپنا کتھارسس کیوں نہ کریں گے؟ ان کی چلتی پھرتی تحریریں پورے ملک کی سیر کراتی ہیں اور لوگوں کا دل بہلاتی ہیں۔ یہ تحریں ہم نے درختوں اور دیواروں پر بھی دیکھی ہیں جو لوگوں کا ضمیر جھنجوڑنے کے لئے لکھی گئی ہوتی ہیں لیکن ہم اتنے مردہ ضمیر ہیں کہ اْن پر غور کرنے کے بجائے ہنس دیتے ہیں اور بے ترتیب جملے لکھنے والوں کو کوستے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے حکومت نے دیواروں پر وال چاکنگ سے روک رکھا ہے کہ دل جلوں کی یہ تحریریں کہیں عوام کو بیدار نہ کردیں۔ خیر دیواروں پر لکھی تحریروں کو تو روکا جاسکتا ہے لیکن ان پیغامبر عبارتوں کو کون مٹائے گا جو ڈرائیور حضرات اپنی گاڑیوں پر لکھواتے اور قوم تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اْس روز ہمارا سفر تھا انڈس ہائی وے شہداد کوٹ سے حیدرآباد تک کا تھا۔ اْس سفر کا اصل مقصد گاڑیوں پر لکھی گرم نرم عبارتوں کا معائنہ کرنا تھا۔ یہ عبارتیں کن کی پسند پر لکھوائی جاتی ہیں یہ کوئی نہیں جانتا، نہ ڈرائیور نہ مالکان نہ پینٹرز، اور نہ ہی کبھی کسی ادیب نے اْن الفاظ پر غور کیا ہے۔ یہ ایک روایت کی طرح بس لکھی جارہی ہیں۔ کیا کبھی کسی کالم نگار نے ان الفاظوں پر تبصرہ کیا ہے؟ کبھی نہیں۔ اگر کیا ہوگا تو زندگی میں شاید ایک آدھ بار۔ کیا کوئی ٹاک شو ان الفاظ پر چلا؟ کبھی نہیں۔ بس اگر انہیں کسی نے پڑھا اور لکھا تو یہ عوام اور ڈرائیور ہیں۔ ملک کے 75 فیصد ڈرائیور اَن پڑھ ہیں پھر بھی اْن کی گاڑیوں کے پیچھے لکھے الفاظ دل کو چھو لیتے ہیں۔ گاڑیوں کے پیچھے لکھے الفاظ کی جنگ کا نظارہ کرنے ہم جیسے ہی قنمبر شہر پہنچے تو سب سے پہلے پولیس کی گاڑی ملی جس پر جلے ہوئے الفاظ کے ساتھ لکھا تھا ’’مجرم کی تلاش‘‘ بھلا ہو سندھ کے قانون کا جنہیں مجرم کی تلاش تو ہے ملزم کی نہیں۔ ایک اور قانون کی گاڑی ملی جس پر لمبے لمبے حروف کے ساتھ لکھا تھا ’’بادشاہ‘‘ بالکل سچ لکھا تھا۔ واقعی سندھ پولیس بادشاہ ہے کچھ آگے بڑھے تو ایک رکشہ ملا جس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ’’تعلیم عورت کا زیور ہے اور میرا چھوٹا بھائی اْس عورت کا دیور ہے‘‘ مزید آگئے گئے تو یہ پڑھنے کو ملا ’’جسم پر گندگی بے شک ہو مگر دل پر گندگی کبھی نہ ہونے دینا‘‘ اِس تحریر کو لکھوانے والا ڈرائیور غالباً کئی دنوں سے نہایا نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ گاڑی کے پیچھے یہ الفاظ لکھوا رکھے تھے یا ممکن ہے کہ وہ گاڑی والا گندا رہنے والوں پر طنز کررہا تھا۔ جس قوم کے فراڈئیے، بہروپئیے عالم دین کا ٹائٹل سجائے ہوئے ہوں وہاں ڈرائیور...

آئی رے سردی

سردی کب شروع ہوتی ہے اس بارے میں الگ الگ اندازے ہیں لیکن اس پہ سب کا اتفاق ہے کہ جب لگنا شروع ہوجائے اسی دن سے سردی شروع ہوجاتی ہے ، تاہم روایتی طور پہ سردی کا آغاز بالعموم دسمبر کے مہینے سے شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہر برس دسمبر کی آمد پہ گرما گرم شاعری اور سرد مغالطوں کی نئی فصل کاشت ہوتی ہے اور ہر بار عاشق دسمبر کی آمد کا جس بیتابی سے انتظار  کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس بار کے دسمبر میں تو وہ اپنے عشق کی کیاری میں ذاتی خون جگر سے سینچی گئی رومانی مولی کاشت کر ہی لیں گے لیکن پھر ہوتا یوں ہے کہ ان کا عشق سرد موسم کے دو تین ٹھٹھراتے غسل ہی میں کافی ٹھنڈیا جاتا ہے اور پھر وہ سارا خنک موسم کھانستے چھینکتے اور بڑا سا گرم ٹوپا پہنے رقیب کی مونگ پھلیاں ٹھونگتے اور اس سے فرمائش کرکے گرما گرم چکن سوپ پیتے گزار دیتے ہیں۔ یوں مزید عشق کرنے کے لیے وہ بھی سلامت رہتے ہیں اور رقیب کو بھی گزند نہیں پہنچتی۔ کچھ ہونہار عاشق اس موسم میں محبوب کے بھائی سے دوستی گانٹھ کے اس کی گلی میں بلکہ عین اس کے گھر کے سامنے اکثر بڑے دھڑلے سے لکڑیاں جمع کرکے الاؤ روشن کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ، یوں محبوب کا بھائی ہاتھ تاپتا ہے اور وہ دل تاپتے ہیں اور گاہے آنکھیں سینکتے ہیں۔ سردی کی کونپل چونکہ دسمبر میں سر ابھارتی ہے چنانچہ کچھ خاص قسم کے شعراء کی افزائش کا مہینہ بھی یہی ہے جنہیں ہم دسمبری شاعر کہتے ہیں کیونکہ ان کے کلام کا مرکزی نکتہ سرد  دسمبر کا گرم انتظار اور اس کا والہانہ خیرمقدم ہوتا ہے اور یہ دسمبری کلام عام طور پہ تاثیر کے لحاظ سے ٹھنڈے موسم سے بھی کہیں زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے ، اتنا ٹھنڈا کہ  اس کی خنکی سے اس کے تمام ردیف اور قافیے  اور  اوزان وغیرہ بھی ٹھٹھر جاتے ہیں- موسم سرما کی خصوصیات یوں‌ تو بیشمار ہیں لیکن آغا ان میں سے خاص الخاص یہ قرار دیتے ہیں کہ سردی درحقیقت قدرت کی طرف سے کپکپانا سکھانے کا وہ سالانہ ٹریننگ پروگرام ہے جس سے ملازمت اور ازدواجی زندگی ، دونوں ہی کو خوش اسلوبی سے بھگتانے میں بڑی اخلاقی مدد ملتی ہے اور اس سیزن سے حاصل کردہ سبق کےتحت بغلوں میں ہاتھ دبائے رکھنے اور کسی قدر خمیدہ پشت ہوکے چلنے کی عادت پڑجانے سے اور بعد از موسم سرما اس انداز کو معمول بنالینے سے تو دنیاوی درجات کی بلندی تقریباً یقینی ہوجاتی ہے- ہجر و فراق کے رموز پہ گہری نظر رکھنے والوں کے مطابق تکنیکی و فنی لحاظ سے سردی کا موسم ہی درحقیقت سرد آہ بھرنے کا اصل موسم ہے۔ غیرمحتاط اور ناتجربہ کار عاشق گرم مہینوں میں سرد آہ کھیچنے کی کوشش میں اپنی بچی کھچی توانائی اور محبوبہ کا اعتبار کھوتے ہیں۔ سرد موسم میں سرد آہ بھرنے پہ کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ پھر وہ بھاپ بن کے خارج ہوتی...

قرۃ العین حیدر نے پاکستان کیوں چھوڑا تھا؟ حصہ دوم

ایک دن ہم نے پریس کلب میں اگلی میز پر بیٹھے ایک معروف اینکر کی توجّہ حاصل کرنے کے لیے یہ سوال، یعنی قرۃ العین حیدر نے پاکستان کیوں چھوڑا؟اپنے دوست اشفاق سے کیا، اور بلند آواز سے کیا۔ نتیجہ حسبِ خواہش نکلا۔  اس سے پہلے کہ اشفاق سوال پر غور کرتا، اینکر صاحب (انہیں آپ بیگ صاحب سمجھ لیجیے) جھپٹ کر ہماری میز پر آگئے، (اپنا)منہ کان کے قریب لا کر سرگوشی میں پوچھنے لگے  ’’یہ کتنے بجے کی بات ہے؟‘‘ ہم نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا ’’کون سی بات؟‘‘۔ بیگ صاحب نے وضاحت کی ’’یہی…. پاکستان چھوڑنے والی بات، یہ کسی چینل پر بریک ہوئی ہے یا نہیں؟‘‘۔ ہم نے اطمینان سے عرض کیا ’’یہ بات پچاس پچپن برس پہلے کی ہے‘‘۔ ’’ہت تیرے کی…..‘‘ کہتے ہوئے بیگ صاحب نے اپنا موبائل فون واپس جیب میں رکھ لیا۔ انہیں اپنی بریکنگ نیوز اس طرح ضائع ہونے کا بہت دکھ تھا۔ وہ واپس اپنی میز پر جا بیٹھے۔ اب اشفاق کی باری تھی۔ وہ قرۃ العین سے تو واقف تھا لیکن وہ کوئی گلوکارہ تھی۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کہ یہ گلوکارہ اتنی پرانی ہے، پر لگتی نہیں ہے۔ پچپن برس پہلے پاکستان چھوڑا اور اب پھر آگئی ہے؟ اس کی اصل عمر کیا ہوگی؟ اشفاق بولا ’’مجھے تو اس بات پر حیرت ہے کہ اس نے خود کو کتنا فٹ رکھا ہوا ہے، اُسے پاکستان واپس آنے پر راضی کس نے کیا؟ جس نے بھی کیا، اُس نے فن کی بڑی خدمت کی ہے‘‘۔ ہم نے اشفاق کی پیٹھ پر نرم سا مُکّا مارتے ہوئے کہا ’’فن کے بچّے! قرۃ العین حیدرادیبہ تھیں، بہت بڑی ناول نگار، ’آگ کا دریا‘ کی مصنف۔ پاکستان بننے کے کئی سال بعد بھارت سے یہاں آئیں، لیکن چند سال بعد نہ جانے کیا ہوا کہ وہ واپس وہیں چلی گئیں۔ کچھ سال پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ اب مجھے جستجو ہے کہ کوئی میرے اس سوال کا جوب دے‘‘۔ ’’اچھا ، تو یہ بات ہے۔ میں تمہیں خالو کے پاس لے جاتا ہوں،وہ بھی ادیب اور شاعر ہیں، چلو، اُٹھو!‘‘ تھوڑی دیر بعد ہم غزالی صاحب کے روبرو بیٹھے تھے۔ قلم اور بیاض اُن کے ہاتھ میں تھا اور پان منہ میں۔ عادتاً وہ (اپنا)گھُٹنا مسلسل ہلا رہے تھے۔ اپنی مشقِ سخن میں سے کچھ وقت نکال کر ہمارا سوال سنا اور پھڑک کر بولے ’’بھئی! بڑے موقع سے آئے۔ میں نے قرۃ العین کے پاکستان سے چلے جانے پر پچاس سال پہلے جو پُرسوز نظم کہی تھی، وہ آج بھی تازہ ہے،پیش کرتا ہوں۔ اجازت ہے؟‘‘ ہماری حالت چھُری کے نیچے آئے ہوئے بکرے جیسی تھی، بکرے جیسی نظروں سے ہم نے قصائی….. معاف کیجیے گا، غزالی صاحب کو دیکھا۔ اُن کی آنکھوں میں رحم نہیں تھا۔ شکایتی نظروں سے اشفاق کو دیکھا۔ وہ موبائل فون پر (خاموشی سے)گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔ خالو کی نظروں میں وہ بدذوق کا درجہ پہلے ہی حاصل کر چکا تھا، اور اِس درجے کو گنوانے کا ابھی اُس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔اِس وقت خالو کو پورے گھر میں ہم واحد ادب شناس نظر آ رہے تھے۔ ناچار...

ہمارے بلاگرز