خبر لیجیے زباں بگڑی

!فوج کا سپہ سالار

آج پہلے اپنی خبر لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جسارت میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے بغیر کسی تردد کے ’’بے مہابہ‘‘ لکھ ڈالا۔ فاضل مضمون نگار سے کون پوچھے کہ یہ کیا ہے؟ یہ دراصل ’’بے محابا‘‘ ہے اور اس میں ہائے ہوز (ہاتھی والی ’ہ‘) نہیں بلکہ ہائے حطی (حلوہ والی ’ح‘) آتی ہے۔ اس غلطی سے ہمیں ایک فائدہ ہوا کہ لغت میں محابا کا مطلب تلاش کرلیا۔ دراصل بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کا مفہوم اور استعمال تو معلوم ہوتا ہے لیکن لغوی معنی یا ان کی اصل کا علم نہیں ہوتا۔ ’’محابا‘‘کے لغوی معنی باہم نزدیک کرنا، آپس میں سلوک کرنا، مجازاً بمعنی فروگزاشت۔ اور یہ محابہ نہیں بلکہ محابا ہے۔ بہارِ عجم کے مطابق محابا (بضم اول) بمعنی معاوضہ کرنا اور بخشش ہے۔ فارسی میں بمعنی خوف و ہراس مستعمل ہے۔ اردو میں ’’بے محابا‘ کا مطلب ہوا بغیر کسی خوف و خطر کے۔ غالب کا شعر ہے: محابا کیا ہے میں ضامن اِدھر دیکھ شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا جسارت کے مضمون میں شائع ہونے والے ’’بے مہابہ‘‘ میں دو غلطیاں ہیں۔ کچھ دن پہلے ایک خبرمیں تھا کہ ’’راز افشاں ہوگئے‘‘۔ کسی سب ایڈیٹر نے راز افشاں کی طرح خبر کے صفحے پر چھڑک دیے۔ افشا اور افشاں کی غلطی پر پہلے بھی توجہ دلائی جاچکی ہے۔ مکرر عرض ہے کہ ’’اِفشا‘‘ کا الف بالکسر ہے یعنی اس کے نیچے زیر ہے، جب کہ عموماً اسے الف بالفتح یعنی اَفشا بولاجاتا ہے اور لگتا ہے کہ یوں ہی بولا جاتا رہے گا۔ اِفشا کا قافیہ اِخفا ہے۔ اب اگر کوئی اخفا کے الف پر بھی زبر لگا دے تو کہا کیا جاسکتا ہے۔ اب ذرا فرائیڈے اسپیشل کا جائزہ لیں۔ تازہ شمارے (7تا 13جولائی) میں ایک دلچسپ ترکیب نظر سے گزری۔ صفحہ 8 پر ایک حکایت میں اورنگ زیب عالمگیرؒ کو ’’فوج کا سپہ سالار‘‘ لکھا گیا ہے۔ ہم اس سوچ میں پڑ گئے کہ فوج اور سپہ میں کیا فرق ہے۔ اورنگ زیب ایک بڑی شخصیت تھی اس لیے شاید اسے سپہ سالار یا فوج کا سالار لکھنا اس کی شان کے شایان نہیں تھا۔ یہ حکایت مولانا سراج الدین ندوی کی کتاب ’’کردار کے غازی‘‘ سے لی گئی ہے۔ لیکن کیا یہ غلطی حضرت مولانا کی ہے؟ ہو بھی سکتی ہے۔ کئی نامور لکھنے والوں کی تحریروں میں یہ غلطی نظر سے گزری ہے۔ فوج عربی کا، سپہ فارسی کا لفظ ہے، لیکن مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔ ایک لفظ ’’اتباع‘‘ ہے۔ ایک طالب علم نے پوچھ لیا کہ یہ مذکر ہے یا مونث؟ اس کا کہنا تھا کہ کئی علما کی تقریر اور تحریر میں یہ مذکر استعمال ہوا ہے۔ سید مودودیؒ نے اتباع کو مذکر لکھا ہے، تاہم ان ہی کے خوشہ چیں محترم حافظ ادریس نے اسے مونث باندھا ہے۔ فرائیڈے اسپیشل کے اسی شمارے میں حافظ صاحب کا جملہ ہے ’’ان کی زیادہ سے زیادہ اتباع ۔۔۔ رسول اکرم ؐ کی اتباع مرحوم کے ایمان و عمل کا حصہ تھی‘‘۔ لغت میں یہ مذکر ہے۔ عربی کا لفظ ہے (الف بالکسر) مطلب ہے پیروی کرنا۔...

نیک اختر

ہمارے صحافی اور ادیب کسی بھی لفظ کے آگے ’’یت‘‘ (ی ت) بڑھاکر اسم صفت بنالیتے ہیں۔ اس طرف پروفیسر علم الدین نے بھی توجہ دلائی تھی۔ ایک مضمون میں ’’معتبریت‘‘ پڑھا۔ غنیمت ہے کہ اعتباریت نہیں لکھا۔ لیکن اعتبار میں کیا خرابی ہے؟ یا اپنے آپ پر اعتبار نہیں کہ اس طرح ’’معتبریت‘‘ قائم نہیں ہوسکے گی۔ جامعہ کراچی میں اردو کے استاد اور زبان پر دسترس رکھنے والے پروفیسر رؤف پاریکھ ایک اخبار میں زبان کے حوالے سے مضامین بھی لکھ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک مضمون میں انہوں نے عام ہوجانے والی کئی اصطلاحوں کی وجۂ تسمیہ بھی بیان کی ہے، مثلاً ’’سینڈوچ‘‘۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عبدالرحیم کی کتاب ’’پردہ اٹھادوں اگر چہرۂ الفاظ سے‘‘ بڑی دلچسپ ہے جس میں الفاظ کا تاریخی، لغوی اور لسانی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ ہم بھی اس سے استفادہ کرچکے ہیں، مثلاً ہڑتال کی وضاحت بڑی دلچسپ ہے۔ رؤف پاریکھ نے بائیکاٹ کی جو تاریخ بیان کی ہے ایسی ہی ڈاکٹر عبدالرحیم نے اپنی کتاب میں دی ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ معروف عالم دین مفتی منیب الرحمن بھی اصلاحِ زبان کے میدان میں آگئے ہیں۔ ان کی آمد اس لیے بھی خوش آئند ہے کہ وہ عربی و فارسی پرعبور رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنے کسی مضمون میں لکھا تھا ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘‘۔ اور یہی معروف بھی ہے، لیکن مفتی صاحب نے اس کی اصلاح فرمائی ہے۔ یہ سعدی شیرازی کا شعر ہے جو یوں ہے: نہ در ہر سخن بحث کردن رواست خطا بر بزرگاں گرفتن خطاست یعنی خطائے بزرگاں کی جگہ ’’خطا بر بزرگاں‘‘۔ شیخ سعدی زندہ ہوتے تو ممکن ہے کہ عوامی اصلاح قبول کرلیتے کہ اس طرح مصرع رواں اور سہل ہوگیا ہے اور ’’بر۔بز‘‘ کے عیب تنافر سے بھی پاک ہوگیا ہے۔ ایسے کئی شعر ہیں جو عوام کی زبان پر چڑھ کر زیادہ جامع ہوگئے ہیں۔ مفتی صاحب نے ’’نور چشمی‘‘ کی وضاحت بھی کی ہے کہ یہ مہمل ہے۔ اسی پر یاد آیاکہ شادی کے دعوت نامے میں نور چشمی کے علاوہ ’’دختر نیک اختر‘‘ بھی لکھا جاتا ہے۔ نیک اختر کا مطلب ہے اچھے ستارے والی یعنی اچھی قسمت والی۔ گو کہ عربی میں ’نیک‘ کے معنی اُس کے برعکس ہیں جو ہم اردو میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ تو جملۂ معترضہ ہے لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضعیف الاعتقاد انسان نے اپنی قسمت کی باگ ڈور ستاروں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے کہ فلاں ستارے کے زیراثر پیدا ہونے والا بخت ور ہوگا اور فلاں ستارے کے زیر سایہ پیدا ہونے والا بدقسمت۔ ہندوؤں میں تو جیوتش ودیا، ستارہ شناسی، دست شناسی وغیرہ جیسی باتیں سمجھ میں آتی ہیں کہ پورا دھرم ہی ضعیف الاعتقادی کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی جنم کنڈلی بنوا لی جاتی ہے اور پنڈت جی نومولود کا پورا زائچہ بناکر دے دیتے ہیں۔ لیکن یہ کام مسلمان بھی کرتے ہیں۔ مرزا غالب کا مصرع ہے اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے اور علامہ اقبال نے ستاروں سے حال معلوم کرنے پر کہا تھا کہ ستارہ کیا مری...

’نوچی‘ کا بھونڈا استعمال

جسارت کے ایک بہت مقبول اور قارئین کے پسندیدہ کالم نگار، ادیب وشاعر ’’بالخصوص‘‘ کو عموماً باالخصوص لکھتے ہیں، یعنی ایک الف کا اضافہ کردیتے ہیں۔ لیکن اس سے تلفظ بھی بگڑ جاتا ہے اور با۔الخصوص ہوجاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بالکل میں بھی ایک الف بڑھا دیا جائے۔ اب تو کچھ لوگوں کو بالکل میں ایک الف بھی گوارہ نہیں اور ان کی دلیل ہے کہ جیسے بولا جاتا ہے ویسے ہی لکھنا چاہیے۔ ہمارے یہ لسانی دانشور اس اصول کا اطلاق انگریزی پر نہیں کرتے، مثلاً نالج کے شروع میں یہ جو فضول سا K ہے اسے نہ لکھا کریں۔ انگریزی میں ایسے کئی K فالتو ہیں جو بولے نہیں جاتے مگر لکھے جاتے ہیں۔ بعض املا اور تلفظ لڑکپن ہی میں پختہ ہوجاتے ہیں اور لاشعوری طور پر استعمال ہوجاتے ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت میں بچوں کے صفحے پر املا درست کرنے کی کاوش نظر آتی ہے۔ یہ بہت اچھا سلسلہ ہے۔ بچوں کا املا درست ہوگا تو وہ بڑوں کو بھی درست کرسکیں گے۔ ہم اب تک ’کسر‘ اور ’کثر‘ میں گڑبڑا جاتے ہیں۔ عرصے تک گلف (GULF) کو گلْف (بضم اول) کہتے رہے اور اب بھی کئی الفاظ کے تلفظ میں گڑبڑا جاتے ہیں۔ ایک لفظ ’’نوچی‘‘ تقریباً متروک ہوچکا ہے البتہ لغات میں موجود ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کا مطلب اچھا نہیں ہے۔ 21 اگست کے ایک اخبار میں ایک بہت سینئر صحافی نے اپنے سیاسی منظرنامہ میں یہ لفظ استعمال کیا ہے لیکن بہت بھونڈے طریقے سے۔ سیاسی تجزیے میں ان کا جملہ ہے ’’محل سرا کی نوچیاں غلام گردش میں پلنے والی سازشوں کی کہانیاں سنارہی ہیں‘‘۔ ان صحافی کو نوچی کا مطلب تو معلوم ہوگا اور یہ لفظ شعوری طور پر استعمال کیا گیا ہوگا۔ ’’نوچی‘‘ اُس نوعمر لڑکی کو کہتے ہیں جس سے طوائفیں پیشہ کراتی ہیں۔ یہ ان کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہیں۔ اب ذرا مذکورہ جملے میں نوچی کے استعمال پر غور کریں۔ یہ محل سرا کس کی ہے جہاں غلام گردش میں نوچیاں ٹہلتی پھرتی ہیں اور سازشوں کی کہانیاں سناتی پھرتی ہیں۔ نوچی فارسی زبان کا لفظ ہے مگر کیا کوئی نوچی کسی صحافی سے ٹکرا گئی ہے؟ سوال یہ ہے کہ یہ نوچیاں کس نے پال رکھی ہیں اور کس کی نگرانی میں ہیں؟ معذرت کے ساتھ، ایک متروک لفظ کا احیا تو ہوگیا لیکن اخلاق سے باہر۔ مناسب تھا کہ اس کی جگہ خادمائیں کا لفظ استعمال کیا ہوتا۔ ایک بڑے اخبار کے مضمون کی سرخی تھی ’’گھر ملازم بچوں کی مقتل گاہ بن گئے‘‘۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ اس حوالے سے مضمون چشم کشا ہے، لیکن یہ ’’مقتل گاہ‘‘ کیا ہوتا ہے؟ صرف مقتل کافی ہے، اس میں گاہ کا مفہوم موجود ہے۔ ایسے ہی مذبح خانہ غلط ہے۔ یا تو صرف مذبح لکھا جائے یا ذبح خانہ۔ اردو میں رائج ہونے والی انگریزی اصطلاحات کے بارے میں تو عموماً تشریح ہوتی رہتی ہے اور ان کی اصل تک پہنچا جاتا ہے۔ عربی، فارسی کے کئی الفاظ ایسے ہیں جو اردو میں آکر اپنے معانی بدل...

گیسوئے اردو کی حجامت

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’مشاق‘‘ طیارے کے حادثے پر اسے ’’مشتاق‘‘ کہا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ایک خاتون خبر دے رہی تھیں کہ فلاں نے ’’جھان سہ‘‘ دے دیا۔ انہیں گوارہ نہیں ہوا کہ جھانسہ کے نون غنہ کو خالی جانے دیا جائے۔ حیرت تو اس پر ہوتی ہے کہ کوئی اصلاح کرنے والا بھی نہیں۔ جب جب خبر دہرائی گئی، یہی تلفظ سننے میں آیا۔ ایک صاحب خبر دے رہے تھے کہ فلاں نے فلاں کو ’’ہوس‘‘ (بروزن جوش، ہوش) کا نشانہ بنایا۔ ٹی وی چینلوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ یہ ذریعہ براہِ راست سماعت و بصارت پر اثرانداز ہوتا ہے اور کچے ذہن اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ تلفظ صحیح کرانے کی کوشش کرو تو جواب ملتا ہے ’’ہمیں تو یہی پڑھایا گیا ہے، آپ نئی اردو ایجاد کررہے ہیں!‘‘ اس پر یاد آیا کہ اسکول میں تو ہمیں بھی برطانوی بادشاہ چارلس کا تلفظ ’’چار۔لس‘‘ پڑھایا گیا تھا۔ کسی نے ڈانٹ کر تصحیح کردی تھی۔ لیکن گزشتہ دنوں پی ٹی وی پر ’’چار۔لس‘‘ سن کر خوشی ہوئی کہ ہم نے گیسوئے اردو ہی نہیں انگریزی کا حشر بھی وہی کیا ہے جو انگریزوں نے برعظیم پاک و ہند کا کیا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کبھی صحیح تلفظ کے لیے معروف تھا اور صرف تلفظ صحیح کرنے کے لیے سکہ بند ادیبوں کی خدمات حاصل تھیں۔ ’’سکہ بند‘‘ لکھ تو دیا پھر خیال آیا کہ کسی نے پوچھ لیا کہ یہ کیا ہے، تو کیا جواب دیں گے، یہ کہ ایسا ہی پڑھا ہے! ایک سکہ تو پنسل میں ہوتا ہے اور ایک کبھی کبھار جیب میں بھی ہوتا ہے اور جیب بند ہوسکتی ہے۔ تاہم ’’سکہ بند‘‘ کا مطلب ہے: پختہ، معیاری، سچا۔ خود سکہ کے کئی مطلب ہیں مثلاً ٹھپا، ضرب، چھاپ، نقش کیا ہوا، ڈھلا ہوا، سرکاری منقش زر جو ملک میں چلے، طرز، روش، طریقہ، قانون، رعب داب وغیرہ۔ اسی سے سکہ بٹھانا، سکہ پڑنا وغیرہ ہیں۔ ایک عجیب مطلب سکہ قلب کا ہے، یعنی جھوٹا سکہ، وہ سکہ جو ناجائز طور پر بنایا جائے۔ یہ سکہ عربی میں چلتا ہے۔ ’ق‘ کا تلفظ ’ک‘ کچھ اہلِ پنجاب سے مخصوص نہیں ہے جن کو وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ یہ کینچی (قینچی) والا کاف ہے یا کتے والا۔ یہی ’ق‘ دکن میں جاکر ’خ‘ سے بدل جاتا ہے اور قاضی جی ’خاضی جی‘ ہوجاتے ہیں۔ لیکن ماہرالقادری نے لکھا ہے کہ بعض عرب قبائل بھی قاف کی...

فرنگی بیماریاں

ہمارے ہاں بہت کچھ باہر سے آتا ہے حتیٰ کہ کبھی کبھار وزیراعظم بھی۔ ہمارے اداروں کے نام بھی فرنگی ہیں۔ اور تو اور بیماریاں بھی انگریزی یا لاطینی میں حملہ آور ہوتی ہیں۔ چکن گونیا کا شکار ہوئے تو یہی سوچتے رہے کہ اپنی زبان میں اسے کیا نام دیں۔ لیکن یہی کیا، ڈینگی بخار، یلو فیور، نیگلریا وغیرہ بھی ہیں۔ ملیریا، ٹائیفائیڈ اور نمونیہ تو اپنے ہی سے لگتے ہیں۔ کسی ڈاکٹر سے جاکر کہیں کہ باری کا بخار، یا تپِ محرقہ یا میعادی بخار ہے تو وہ ذہنی حالت پر شک کرے گا۔ ممکن ہے کوئی حکیم صاحب سمجھ لیں کہ یہ ملیریا اور ٹائیفائیڈ ہیں۔ لیکن ’’ذات الرّیہ‘‘ تو شاید نوجوان حکیم بھی نہ سمجھ پائیں۔ یوں بھی نمونیہ تو اب اپنا ہی ہوگیا ہے۔ ویسے یہ بھی ’دساوری‘ ہے۔ انگریزی میں اس کے ہجے بھی مشکل ہیں جو N کے بجائے P سے شروع ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دساوری کیا ہے؟ اس کی جگہ غیر ملکی یا ’فارن‘ آسان نہیں! معاف کیجیے، شاید ابھی ہم پر چکن گونیا کے اثرات باقی ہیں۔ ہماری عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاکر قارئین کو پرانے کالم بطور ’’نشر مکرر‘‘ پڑھوا دیے گئے، گو کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ نئے ہی ہوں گے، ہمیں بھی نئے نئے سے لگے۔ کہیں کوئی سہو ہوجائے تو ہمارے ممدوح جناب باب الدین، میرپورخاص سے بابِ التفات کھول دیتے ہیں۔ انہوں نے توجہ دلائی ہے کہ ’’فرائیڈے اسپیشل‘ شمارہ 29 میں آپ نے ایک جگہ فرمایا ’’محطّہ تو ظاہر ہے احاطہ سے ہے‘‘۔ یہ صحیح نہیں۔ محطہ کا مصدر حَطّہ ہے جس کے دیگر معانی کے علاوہ ایک معنیٰ گرنا یا اترنا ہے۔ البتہ محیط اور محاط کا مصدر احاطہ صحیح ہے۔‘‘ اس سے آگے انہوں نے دل دہی کے لیے لکھا کہ آپ کا کالم نہایت شوق اور دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اور آپ کی تصحیح سے ہمارا فائدہ ہوجاتا ہے۔ سچی بات ہے کہ عربی ہماری اردو سے زیادہ کمزور ہے۔ مصادر یاد نہیں۔ محطہ کا تعلق احاطہ سے یوں جوڑ دیا تھا کہ یہ لفظ اردو میں عام فہم ہے۔ اِحاطہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے گھری ہوئی چار دیواری، گھرا ہوا میدان، چار دیواری سے گھری ہوئی جگہ خواہ اس میں کوئی عمارت ہو یا نہ ہو۔ برطانوی ہند میں احاطہ پریزیڈنسی یا صوبے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا تھا جیسے احاطہ مدراس، احاطہ بنگال، احاطہ بمبئی وغیرہ۔ احاطہ کھینچنا کسی جگہ کو گھیرنا۔ آج کل شاید احاطے کی چائنا کٹنگ کردی جاتی ہے۔ ایک محترم قاری جناب عقیل نے شکوہ کیا ہے کہ چراغ تلے اندھیرا ہے۔ حالانکہ اب چراغوں کی جگہ بلب جلتے ہیں جن کے نیچے نہیں اوپر اندھیرا ہوسکتا ہے۔ سنا ہے کہ ایک صاحب چراغ دین نے اپنا نام بدل کر بلب دین کرلیا تھا۔ عقیل صاحب کا اشارہ اس طرف ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیاں تو پکڑتے ہیں لیکن خود جسارت اور فرائیڈے اسپیشل میں غلطیاں شائع ہورہی ہیں۔ اب کیا کیا جائے، کوئی ہماری اصلاح قبول کرنے پر تیار نہیں۔ لیکن پھر بھی کہیں...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے ‘‘کا آسان نسخہ

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قولِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن اپنی رائے کا اظہار تو کیا جاسکتا ہے۔ مولوی عبدالحق اپنی کتاب ’قواعدِ اردو‘ میں لکھتے ہیں: ’’بعض عربی الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں الف ’ی‘ کی صورت میں لکھا جاتا ہے جیسے عقبیٰ اور دعویٰ‘‘۔ اردو میں ایسے الفاظ ’الف‘ سے لکھنے چاہئیں مثلاً دعوا، اعلا، ادنا۔ انہوں نے عقبیٰ کا حوالہ دے کر اسے الف سے یعنی عقبا نہیں لکھا۔ ہماری رائے یہ ہے کہ عربی کے جو الفاظ اپنے مخصوص املا کے ساتھ اردو میں آگئے ہیں انہیں ایسے ہی لکھنا چاہیے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ جب سے زبانِ اردو وجود میں آئی ہے، عربی کے کئی الفاظ اپنے املا کے ساتھ ہی اردو بلکہ فارسی میں بھی جوں کے توں لے لیے گئے ہیں، جیسے صلوٰۃ، مشکوٰۃ، زکوٰۃ وغیرہ۔ چنانچہ اب املا ’’درست‘‘ کرنے کی مہم چلی تو تمام پرانے علمی، ادبی و مذہبی ذخیروں پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ طالب علم ایک طرف تو اعلا، ادنا، دعوا پڑھے گا، دوسری طرف اسے پرانے لٹریچر (جو زیادہ پرانا بھی نہیں) اور لغات میں مختلف ہجے ملیں گے۔ یہ قرآنی املا ہے اور اسے بحال رکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قرآن پڑھنے والے کے لیے یہ الفاظ نامانوس نہیں ہوں گے۔ عربی الفاظ کا املا بدلنے کا رواج چل پڑا تو بات بہت آگے تک جائے گی۔ کیا عیسیٰ اور موسیٰ کا املا بھی بدل کا عیسا اور موسا کیا جائے گا؟ چھوٹا منہ بڑی بات، ہمیں تو اس سے اتفاق نہیں۔ بعض الفاظ کی جمع الجمع تو ہے جیسے دوا، ادویہ اور ادویات۔ لیکن کچھ لوگ زبردستی جمع الجمع بنا رہے ہیں۔ ٹی وی کے میزبان اور ’’روائے عافیت‘‘ کے شہرت یافتہ کامران خان صرف ’الفاظ‘ یا ’جذبات‘ کہہ کر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ شاید زور پیدا کرنے کے لیے ’’الفاظوں‘‘، ’’جذباتوں‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹی وی کے میزبانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اُن کی غلطیاں صرف اُن تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سننے والوں کو بھی خراب کرتی ہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ اب تک کسی نے کامران خان کو ’’الفاظوں‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا! شاید یہ اختیار رکھنے والے خود بھی ’’جذباتوں‘‘ میں بہہ جاتے ہوں۔ باباے اردو کی ’ے‘ پر ہمزہ لگانا صحیح نہیں ہے۔ لیکن ان کی مذکورہ کتاب جو انجمن ترقی اردو، پاکستان نے شائع کی ہے اُس میں باباجی کی ’ ے‘ پر ہمزہ لگا ہوا ہے یعنی ’بابائے‘۔ مولوی عبدالحق نے ’’اقوام‘‘ کو مذکر لکھا ہے، ’’جب یونانیوں کو دوسرے اقوام سے سابقہ پڑا‘‘۔...

وتیرہ یا وطیرہ؟

کہتے ہیں ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔‘‘ حافظ محمد ادریس صاحب علم و فضل میں بحر ذخار ہیں لیکن عمر میں ہم سے چھوٹے ہیں، اس لیے ان کے مضامین میں سہو کی نشاندہی خطا نہ سمجھی جائے۔ بلاشبہ حافظ ادریس ایک دانشور اور بڑے قلم کار ہیں۔ وہ ایک علمی ادارے کے سربراہ بھی ہیں، اس لیے یہ خدشہ ہے کہ ان کے سہو کو لوگ سند نہ بنالیں کہ حافظ ادریس نے لکھا ہے تو یہی صحیح ہوگا۔ فرائیڈے اسپیشل کے گزشتہ شمارے (30 جون تا 6 جولائی) میں مرحوم رائے بخش کلیار کے بارے میں ان کا ایک بہت اچھا مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں انہوں نے ’’وتیرہ‘‘ کو وطیرہ لکھا ہے۔ یہ بہت عام غلطی ہے لیکن حافظ صاحب کو عربی پر بھی عبور ہے اس لیے انہیں گریز کرنا چاہیے تھا۔ وتیرہ عربی ہی کا لفظ ہے لیکن بغیر ’ط‘ کے۔ ایک شعر حاضر ہے: یار کو لاکھا جمانے کا وتیرہ ہو گیا دعوت لب، خونِ ناحق کا ذخیرہ ہو گیا وتیرہ تو عربی کا لفظ ہے لیکن بہت سے لوگ ہندی کے لفظ ’’ناتا‘‘ میں ’ط‘ شامل کرکے اسے معرب کرلیتے ہیں یعنی ’ناطہ‘ یا ’ناطا‘۔ حافظ ادریس صاحب سے بہت معذرت کے ساتھ، انہوں نے اپنے مذکورہ مضمون میں کئی جگہ ’’بال آخر‘‘ لکھا ہے۔ یہ کیا ہے؟ بال بروزن دال، گال، جال وغیرہ۔ بال آخر لکھا جائے گا تو لوگ پڑھیں گے بھی اسی طرح۔ اسے ’’بل آخر‘‘ کون پڑھے گا؟ اگر بالآخر کا املا مشکل ہے تو بال آخر کی جگہ بل آخر ہی لکھ دیا ہوتا۔ کم از کم تلفظ تو صحیح ہوتا۔ اس قباحت سے بچنے کے لیے ’آخرکار‘ لکھ دیا ہوتا۔ کل کوئی بالکل کو بھی ’بال کل‘ لکھنے لگے گا۔ ماہر لسانیات رشید حسن خان مرحوم کی تحریک یہی تھی کہ جو الفاظ جس طرح بولے جاتے ہیں اسی طرح لکھے بھی جائیں مثلاً ’بلکل‘ اور ’بل آخر‘۔ لیکن کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح رشید حسن خان کا مقصد عربی املا سے دور کرنا تھا، اسی لیے انہوں نے ’اعلیٰ‘ کا املا ’اعلا‘ کردیا۔ شاید وہ بھارتی مسلمانوں کو ہندی سے قریب لانا چاہتے ہوں۔ ’بالکل‘ بھی دراصل ’بالکلّیہ‘ ہے۔ ’لاکن‘ عربی کا لفظ ہے اور قرآن کریم میں اسی طرح آیا ہے، لیکن اردو میں آکر یہ ’لیکن‘ ہوگیا اورلام پر کھڑا زبر غائب ہوگیا۔ حافظ صاحب نے مرحوم رائے خدا بخش کلیار کے منہ سے سنا ہوا شیخ سعدی کا ایک شعر درج کیا ہے کہ: دیدۂ سعدی و دل ہمراہ توست تا پنداری کہ تنہا می روی ہوسکتا ہے کہ مرحوم کلیار اسی طرح پڑھتے ہوں اور ممکن ہے کہ کمپوزنگ کی غلطی ہو، ورنہ صحیح شعر یوں ہے: دیدۂ سعدی و دل ہمراہ تست تانہ پنداری کہ تنہا می روی دوسرے مصرعے میں سہو ’نہ‘ رہ گیا جس سے مفہوم متاثر ہوجاتا ہے۔ سچی بات ہے کہ شعر تو ہمیں بھی صحیح یاد نہیں رہتے اور حافظ ادریس کی تو بے پناہ علمی مصروفیات ہیں۔ اخبارات میں ’’بیزارآنا‘‘ پڑھنے میں آتا ہے، جب کہ ہمارے خیال میں بیزار کے ساتھ ’ہونا‘ آنا چاہیے، یا پھر بیزار ہوجانا۔ ’بیزار‘ فارسی کا لفظ ہے۔...

اہم بلاگز

“دعا سے بدل جاتی ہے تقدیر”

دعا کا موضوع کوئی نیا اور اچھوتا موضوع نہیں ہے۔یہ موضوع اتنا ہی قدیم ہے جتنا کے خود انسان۔حضرت آدم کو جو رب کریم نے جو دعا سیکھائی وہ قرآن میں موجود ہے۔اس طرح پے در پے باقی انبیاءکی بھی دعا موجود ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ھمارے پیارے نبی ہیں اللہ تعالی نے  نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے ہمیں یہ پیغام پہنچایا ہے کہ دنیا کے آخر تک کس طرح سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں .شریعی اصطلاح میں دعا کا مفہوم مدد طلب کرنا ہے .دعا بذات خود عبادت کا مقام رکھتی ہے رب کریم نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ،اور تمھارے رب نے فرمایا ہے کہ اور تمہارے رب کا فرمان ( سرزد ہو چکا ) ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے ۔سورۃالمومن۔ یعنی دعا ہمیں اس یقین کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ قبول ہوگی اور ہمارا پروردگار ہمیں ۷۰ماؤں سے بڑھ کر ہم سے محبت کرتا ہے ہم اپنے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہمارا رب ہمارے ماضی حال مستقبل سے خوب واقف ہے بعض دعا ئیں قبول نہیں ہوتیں اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کے وہ ہمیں پسند نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیں ہمارے طلب سے زیادہ بہتر دینا چاہتا ہے. ایک مومن کو توکل کی صفت قوی بناتی ہے،قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کہ:آپ فرمادیجیے !مجھے اللہ کافی ہے ,توکل کرنے والے اس پر توکل کرتے ہیں (الزمر:۳۷) انسان اپنی نادانی کی وجہ سے جلد بازی کرنے لگتا ہے اور اپنے وجود کو سوچ سمجھ سے خالی کرنے لگتا ہے.لیکن اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے توبہ کا دوازہ کھول رکھا ہے ، جس سے بندہ توبہ کر کے اپنا نام نیک لوگوں میں شامل کراسکتا ہے.دعا کے لیے یہ بھی ضروری ہے کے انسان تدبیر بھی کرے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص بیمار ہے اور وہ علاج ومعالجہ اختیار نہیں کرتا تو یہ غلط ہے.صحت کے ممکنہ اسباب اختیار کر ے اور دعا کرے.انسان کو دعا ہمیشہ پورے دل کے ساتھ مانگنی چاہیے ایسا نا ہو زبان سے دعا مانگ رہے ہوں اور دل کسی اور طرف متوجہ ہے.حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ "غافل اور بے پرواہ  دل والے بندے کی دعا قبول نہیں کی جاتی "یعنی ہمیں دعا اس یقین اور اطمینان کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ قبول ہوگی اور اگر ہماری مانگی ہوئی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ہمیں دل بردشتہ  شکستہ دل ہونے کے بجائے اس بات پے غور کرنا چاہیے اللہ ہمیں ہم سے بہتر جانتا ہے اور ہمارے یقین کا تقاضا ہی یہی ہونا چاہیے کے ہم اللہ کی رضا میں پورے دل سے راضی ہوں۔

ڈرامے, تفریح یا بے راہ روی

سڑکوں پہ ناچتی ہیں کنیزیں بتول کی اور تالیاں بجاتی ہے امت رسول کی یہ شعر ہمارے مسلم معاشرے میں اسلامی قدروں کی پامال ہوتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کسی دل گرفتہ شاعر نے کہی تھی ۔مگرآج کل کے ٹی وی ڈراموں پر جو کچھ پیش کیا جارہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے محسو س ہوتا ہے کہ ان ڈراموں کے پروڈیوسر ہمارے یہاں کچھ ایسا ہی ماحول پیدا کرنے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ پاکستانی عوام کی سستی تفریح کی بات کی جائے تو پاکستانی عوام ٹیلی ویژن کے ذریعے سستی تفریح حاصل کرلیتی ہے مگر جب ٹیلی ویژن پر عوام کو تفریح کے نام پر پاکستانی معاشرے کا غلط کلچر پیش کیا جانے لگے تو یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے آج سے دس بارہ سال قبل جب پرائیوٹ چینلز برساتی کھمبیوں کی طرح نہیں اگلے تھے تو پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے تفریح کے ساتھ ساتھ مفید معلومات بھی فراہم کرتے تھے اورسنجیدہ موضوعات پر معاشرے کے مسائل اور ان کے حل پر بھی ڈرامے بنتے نظر آتے تھے۔پی ٹی وی کے ڈراموں کے لیے لوگ پورا پورا ہفتہ انتظار کرتے تھے کیونکہ واقعی وہ ڈرامے اپنے موضوعات کے حساب سے بہترین بلکہ ناظرین کو کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقع ضرور دیتے تھے مگر شائد زمانہ کی ترقی کے ساتھ ہی ڈراموں نے بھی اپنا انداز بدل ڈالا اور ترقی کے نام پر وہ کچھ دکھایا جانے لگا کہ اللہ کی پناہ ۔ اب جو ڈرامے بن رہے ہیں اسے ہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ بھی نہیں ۔آج کل کے پرائیوٹ ٹی وی چینل کے ڈراموں پر نظر دوڑائیں تومحبت تو محبت بلکہ چند ناجائز رشتوں پر مبنی ڈرامے بھی دکھائے جارہے ہیں کبھی طلاق کے بعد بھی بیوی اپنے شوہر کے ساتھ رہتی نظر آتی ہے تو کبھی محرم رشتوں کے دوران محبت اور پھر بات شادی تک جا پہنچتی ہے کبھی بھاگ کر شادی کرنے کی بات ہوتی ہے تو کبھی شادی کے بعد بھی بیوی کی کسی دوسرے مرد سے محبت یا مرد کے عورت سے تعلقات کو ناصرف دکھایا جاتا ہے بلکہ اس کو معاشرے میں اچھا بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ طلاق لینے کے عمل کو عورت کی آزادی کے نام پر بہت ہی معمولی دکھایا جاتا ہے پھر ان ڈراموں میں ثقافت کے نام پر جو کچھ پیش کیا جاتا ہے وہ قطعی طور پر پاکستانی معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتے ۔پاکستانی چینلز ڈرامے کی ریٹنگ کے چکر میں ہماری معاشرتی قدروں کو پامال کر رہے ہیں اورالمیہ یہ ہے کہ اس سب کے باجود ہماری حکومت اور پیمرا مٹی کی مورت بنے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈرامے ایسے موضوعات پر بنائے جائیں جس سے کسی میں احساس محرومی پیدا نہ ہو اور جو کسی ایک طبقہ کی نمائندگی نہ کرے بلکہ پورے پاکستانی کلچر کی ترجمان ہو اور پاکستان سے متعلق بہترین تاثر جائے۔ جو دِکھتا ہے وہ بکتا ہے کی پالیسی کو بدلنا ہوگا اور شعوری طور پر ایسے ڈرامے بنانے ہونگے جو موضوع کے...

پہلے اور اب

پہلے لوگ تعلیم خدمت خلق سمجھ کر دیتے تھے اور اب تعلیم دینا کاروبار بن چکا ہے۔ پہلے مکان چھوٹے اور دل بڑے ہوا کرتے تھے. اب مکان بڑے اور دل چھوٹے ہوگئے ہیں۔ پہلے انسان قیمتی ہوتے تھے اور اب انسان کے علاوہ ہر چیز کی قیمتی ہے۔ پہلے انسان کم مگر معاشرے میں انسانیت زیادہ تھی اب انسانوں کی بہتات مگر انسانیت کا فقدان ہوچکا یے۔ پہلے بڑوں سے چھوٹے ڈرتے تھے، اب بڑے چھوٹوں سے ڈرتے ہیں۔ پہلے بزرگوں کو گھر کی برکت سمجھا جاتا تھا اب  بزرگ گھر کے لئے مصیبت سمجھے جاتے ہیں۔ پہلے والدین اولاد کو سمجھاتے تھے اب اولاد والدین کو سمجھاتے ہیں۔ پہلے طالب علم تعلیمی اداروں سے صرف تعلیم حاصل کرتا تھے۔ مگر اب صرف تعلیم کے علاوہ سب کچھ حاصل کرتے ہیں۔ پہلے استاد معاشرے کا اہم ترین ستون تھا اور اب استاد معاشرے کا مظلوم ترین مزدور ہے۔ پہلے آسائشیں کم اور انسانی زندگی پرسکون تھی مگر اب آسائشیں بہت زیادہ مگر انسانی زندگی بے سکون ہوگئی ہے۔ پہلے ڈاکٹر حکیم و طبیب کم تھے اور بیماریاں بھی کم تھی اب ڈاکٹر حکیم و طبیب زیادہ ہوگئے تو بیماریاں بھی لاتعداد ہوگئی۔ پہلے بھیک مانگنا ایک لعنت تھی اور اب پیشہ بن چکا ہے۔ پہلے حاکم غریب اور عوام امیر ہوتی تھی مگر اب حاکم امیر اور عوام غریب ہوچکی ہے۔ پہلے انسان اپنا احتساب خود کرتا تھا مگر اب عدالتیں کرتی ہیں۔ پہلے انسان کا سب سے بڑا رازدار انسان ہوتا تھا اب انسان کا سب سے بڑا رازدار موبائل ہوگیا ہے۔ پہلے طالب علم تعلیم کو باشعور بننے کیلئے حاصل کرتا تھا اور اب ملازمت حاصل کرنے کیلئے کرتا ہے۔ پہلے انسان کا قد لمبا اور اسکی زبان چھوٹی ہوتی تھی اب اسکا قد چھوٹا اور اسکی زبان لمبی ہوگئی ہے۔ پہلے کتابیں پڑھنے والے زیادہ اور لکھنے والے کم تھے. اب پڑھنے والے کم اور لکھنے والے زیادہ ہوگئے ہیں۔ پہلے حیوان حیوانیت پھیلاتے تھے اب یہ کام انسان بخوبی سرانجام دیتا ہے۔ پہلے بچوں کی تربیت ماں باپ کرتے تھے اب یہ کام گھر میں میڈیا کرتا ہے۔ پہلے بچہ استاد سے تھپڑ کھانے سے ڈرتا تھا،اب استاد بچے کو تھپڑ مارنے سے ڈرتا ہے۔  

​بلوچستان کے طالب علم یا چوکیدار 

​بلوچستان کا سب سے بڑا صنعنتی شہر اوستہ محمد کا سب سے بڑا قدیمی سرکاری ہائی اسکول اوستہ محمد جہاں ایک ہزار سے زاہد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکول بنیادی سہولیات سے محروم تو  ہے مگر اسکول کے بچے پورا ماہ چوکیدار بنے ہوئے ہیں کیا ایسے پڑھےگا بلوچستان ، کیا ایس بدلےگا بلوچستان کا تعلیمی نظام ، حکومت بلوچستان کا نعرہ ہے کہ؛ پڑھے گا بلوچستان تو بدلے گا بلوچستان، مگر افسوس کہ بلوچستان کے اسکولوں کے بچے چوکیدار بن بیٹھے ہیں۔دادا جان کہتے تھے اگر اولاد کو تحفہ نہ دیا جائے تو وہ کچھ دیر روئے گی مگر علم نہ دیا جائے تو وہ عمر بھر روئے گی۔ جو والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں لیکن وہاں پہ اسکول ٹیچر  طالب علموں کو پڑھانے کے بجائے چوکیدار بنا دیتے ہیں جو انتہائی افسوس ناک اور حیرت  انگیز اور باعث شرمندگی کا عمل ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی کے نام پہ ایک مہم جو پانچ سالوں سے چل رہی ہے؛؛پڑھے گا بلوچستان تو بڑھے گا بلوچستان ؛؛؛کیا ایسے عمل سے پڑھے گا۔ کیا ایسے پڑھ کر بلوچستان ترقی کی راہ پہ گامزن ہوگا۔ کیا یہ عمل انتظامیہ نہیں دیکھ رہی ہے اگر دیکھ رہی ہے تو خاموش کیوں ہے؟ کیا یہ طالب علم کسی کو نظر نہیں آتے ہیں؟ کیا یہ بلوچستان کے قانون میں ہے کہ پڑھنے والےطالب علم  چوکیدار بن جائیں ؟ ان طالب علموں کا کہنا ہے کہ ہر روز دو بچے مین گیٹ پہ چوکیدار کی ڈیوٹی دیتے ہیں اور پورے ماہ تک طالب علم ہی مین گیٹ پہ کھڑے ہوتے ہیں۔ چاہے سردی ہو یا گرمی ہم لوگ یہ کام احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں لیکن ہم اپنے والدین کو اس کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے ہیں ویسے بھی ہمارے اسکول کے چوکیدار کا کچھ پتا نہیں ہے وہ کہاں ہے اور کون ہے ہمیں یاد نہیں کب سے ہم اسکول کے چوکیدار بن بیٹھے ہیں خدارا ہمیں تعلیم حاصل  کرنے دیا جائے تو ہم بھی دوسرے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنا سبق یاد کر سکیں اور تعلیم میں اچھے مارک لیکر والدین کو خوش رکھیں ہماری حکومت بلوچستان سے اپیل ہے کہ تمام بلوچستان کے اسکولوں سے طلبہ چوکیداروں کو ہٹایا جائے ۔ حکومت بلوچستان کو چاہیئے کہ فی الفور تمام چوکیدار طلبہ کو مین گیٹ سے ہٹا دیا جائے اور طلبہ کو چوکیداری کے بجائے کلاس روم میں روانہ کریں تاکہ پڑھے گا بلوچستان تو ترقی کریں گا بلوچستان  نہ چوکیدار بن کے ترقی کرے گا۔ ہمیں پڑھا لکھا بلوچستان چاہیے جس کے لیے ہم سب کو آواز اٹھانا ہو گا۔ ہم سب کو چاہیئے کہ ہم بچوں کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ ان کو چوکیدار بنائیں  یہ بچے چوکیدار بن کر نئے چیلنجز کا کیسے سامنا کر پائیں گے۔ بلوچستان کے تمام والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ اس جانب ضرور دیں  یہ تصویر ہم سب کیلئے باعث عبرت ہے۔

بلیک فرائیڈے ۔۔۔ حقیقت کیا؟؟

جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ سنن ابی ماجہ کی ایک حدیث میں نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "مسلمانو اللہ نے جمعہ کے دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے، جو شخص نماز جمعہ کے لیے آئے اسے چاہیئے کہ غسل کرلے اور ہوسکے تو خوشبو لگائے اور مسواک کا اہتمام ضرور کرے" ۔ اس کے علاوہ دیگر کئی احادیث میں جمعہ کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے، قرآن کریم میں بھی جمعہ کے حوالے سے حکم موجود ہے کہ جب جمعے کا وقت ہوجائے تو سب کچھ چھوڑ کر نماز ادا کی جائے اور اس کے بعد زمین پر پھیلے رب کے رزق کو تلاش کیاجائے۔ الغرض مسلمانوں کے لیے جمعہ کا دن رحمتوں و برکتوں کے نزول کا دن ہے۔ مگر آپ نے سوچا کہ پچھلے دو سال سے ایک منظم سازش کے تحت ملک پاکستان کے اندر جمعہ کو بلیک فرائیڈے کہا اور منایا جارہا ہے۔ بظاہر تو یہ بلیک فرائیڈے سال میں ایک ہی مرتبہ منایا جاتا ہے لیکن اس نام کے ذریعے ہماری نئی نسل کے ذہن میں کیا پیغام پہنچایا جارہا ہے اس کو سوچنا اوربروقت سدباب کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ بلیک فرائیڈے نومبر کے آخری جمعے کو مغربی ممالک میں منایا جاتا ہے، بنیادی طور پر اس کا مقصد کرسمس جوکہ عیسائیوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ہے اس کی خریداری و تیاریوں کا آغاز ہوتا ہے۔ سن 1952 میں پہلی مرتبہ امریکہ کی متعدد ریاستوں میں اس کا آغاز کیا گیا۔ اس دن یا اس پورے ہفتے میں تمام عیسائی ریاستوں میں ہر چیز کو بہت سستا کردیا جاتا ہے یا دوسرے الفاظ میں سیل لگادی جاتی ہے۔ جس سے معاشرے کا ہر طبقہ باآسانی کرسمس کی تیاری کرلیتا ہے۔ یوں کہیئے کہ ہر غریب فرد اس دن باآسانی اپنے لیئے نئے کپڑے اور دیگر اشیاء انتہائی سستے داموں خرید لیتا ہے۔ پاکستان میں یہ لفظ پہلی مرتبہ 2015 میں سنا گیا جب دو تین آن لائن اشیاء فروخت کرنے والی ویب سائٹس نے نومبر کے آخری جمعے کے ساٹھ فیصد تک سیل لگائی، پچھلے سال ان کمپنیز کی تعداد میں اضافہ ہوا اور کئی مشہور برانڈز بھی اس بلیک فرائیڈے کا راگ الاپتے نظر آئے۔ جبکہ اس سال یہ مہم انتہائی منظم انداز میں چلتی ہوئی محسوس ہورہی ہے جس کو دراز ڈاٹ پی کے نامی ویب سائیٹ لیڈ کررہی ہے۔ اکتوبر کے آخری جمعے سے اس مہم کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور اب ہر جگہ اس بلیک فرائیڈے سیل کے چرچے ہیں، نوجوان نسل بالخصوص سوشل میڈیا یوزرز کو اپروچ کیا جارہا ہے۔ چھیاسی فیصدتک سیل لگائی جارہی ہے، مشہور برانڈز سیل کا اہتمام کررہے ہیں۔ میں ہرگز اس سیل کے مخالف نہیں، مگر کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اس سیل کو بلیسنگ فرائیڈے کے نام سے مناتے، کہ اسلام نے جمعے کو رحمتوں کا دن قرار دیا ہے۔ آخر یہ سیل عید الفطر اور بقر عید سے پہلے جمعے کو کیوں نہیں منائی جاسکتی؟؟ کہ جب ہر چیز دسیوں گنا مہنگی ہوجاتی ہے اور معاشرے کا...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ایک جن کی سرگزشت

ایک لمحے کے لیے تو اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہوا ۔ جب ذرا حواس قابو میں آئے تو آس پاس کے ماحول پر نظر ڈالی۔ چند نظروں کو اپنی جانب گھورتے ہوئے پایا۔ایک طرف مرد اور عورت ایک بچے کو لیے بیٹھے تھے جو شکل سے ہی کافی بیمار نظر آرہا تھا۔ دوسری طرف ایک عجیب وغریب حلیے کا آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کے گلے میں بہت سی مالائیں پڑی ہوئی تھیں۔ درمیان میں آگ کا ایک بڑا سا الاؤ جل رہا تھا۔ جس میں وہ عجیب و غریب حلیے والا آدمی جو کوئی جعلی پیر معلوم ہو رہا تھا کوئی سفوف قسم کی چیز ڈال رہا تھا۔اس آدمی نے مرد و عورت سے کہا ۔۔۔دیکھا میں نہ کہتا تھا اس بچے پر کسی نہایت خبیث جن کا سایہ ہے ۔ دیکھا میرے ایک ہی عمل نے کیسے اسے یہاں لا پھینکا۔ اب تمہارا بچہ بہت جلد ٹھیک ہوجائے گا۔ ایسے آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا ۔ آئیے میں آپ کو شروع سے بتاتا ہوں۔ سالم ایک نہایت خوبصورت گول مٹول سا بچہ تھا مگر اسے کیا کہا جائے کہ وہ جن کا بچہ تھا۔ ایک نمبر کا شریر۔ کیونکہ اکلوتا بچہ تھا اس لیے سب کے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ کے رکھ دیا تھا۔ نتیجہ یہ کہ جب تک اس نے بی اے مکمل کیا جب تک اس کی حرکتیں عروج پر پہنچ چکی تھیں۔ اس کے ماں باپ بھی اس کی طرف سے سخت پریشان رہتے۔ آخر کار ایک دن تنگ آکر اس کے ابا نے اپنی پریشانی کا ذکر شاہ جنات سے کیا اور یہ بھی بتایا کہ آج کل اسے ملک سے باہر جا کر کام کرنے اور مزید پڑھنے کا جنون سوار ہو گیا ہے۔ ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ بہت ضدی ہے کسی صورت باز نہیں آتا۔ شاہ جنات نے جواب دیا میرے پاس اسے سدھارنے کا حل ہے۔ میں اسے ایسی جگہ بھیج دوں گا کہ وہاں جا کر تمام چوکڑیاں بھول جائے گا اور ایک دم نیک اور سیدھا جن بن جائے گا۔ مگر تمہیں اور تمہاری بیوی کو اس کی بہتری کے لیے کچھ عرصے تک اس سے دوری برداشت کرنی پڑے گی۔ سالم کے ابا نے آمادگی ظاہر کی تو شاہ جنات نے انہیں سالم کو لے کر آنے کی ہدایت کی۔ اگلے دن سالم کے ابا اسے لے کر شاہ جنات کے دربار میں حاضر ہوئے۔ شاہ جنات نے سالم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے بارے میں بہت شکایات موصول ہوئی ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ تمہارے اندر آج کل کے انسانوں والی حرکتوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔ تم جھوٹ بہت بولتے ہو۔ تم دوسرے جنات کو تنگ کرتے ہو اور نہ صرف یہ کہ تم نے بہت سے دکانداروں کو چیزوں میں ملاوٹ کرنے کا مشورہ دیا بلکہ انہیں چیزیں کم تولنے کے گر بھی بتائے۔ اس کے علاوہ تمہارے ابا نے بھی تمہاری بے شمار شکایتیں میرے گوش گزار کی ہیں لہٰذا میں نے تمہیں اپنی مملکت سے جلا وطن کرنے کا فیصلہ کر...

سالا ، اتنا متنازع کیوں؟

سالا متنازع ترین رشتہ ہے، بارہا دیکھا گیا کہ جو شخص کسی کو یکطرفہ طور پر، اور فریق ثانی کی رضامندی کے بغیر لیکن علی الاعلان اس رشتے پر فائز کر دیتا ہے وہ ضرور (جوابی) گالیوں کا نشانہ بنتا ہے، اور نوبت بعض اوقات خراشوں یا  خون خرابے تک جا پہنچتی ہے۔ مشرقی معاشرے میں سالا ہونا قابل فخر بات نہیں، البتہ بہنوئی ہونے پر فخر کرتے ہوئے بھی ہم نے کسی کو نہیں دیکھا۔ جہاں تک خجالت کا سوال ہے تو اس کا تعلق کسی رشتے سے جوڑنا مناسب نہیں البتہ کوئی رشتہ دار ضرور کسی کے لیے باعث خجالت ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود سالا بنتے دیر نہیں لگتی۔ تحقیق (جو کسی امریکی یا برطانوی یونیورسٹی نے نہیں بلکہ ہم نے خود کی ہے) سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک بے ضرر سی شادی کئی سالوں کو وجود میں لانے کا سبب بنتی ہے۔ ہمیں اس موضوع سے گہری دلچسپی تھی کہ مغرب میں سالا ہونا لوگوں کو کیسا لگتا ہے؟ ہمارے یار دوست جب بھی یورپ یا امریکہ کا چکر لگا کر آتے ہم یہ سوال ان کے سامنے ضرور  رکھتے۔ اکثر کا جواب یہ ہوتا تھا کہ ابھی تو مغرب کے مردوں نے خود کو شوہر محسوس کرنا شروع نہیں کیا، سالے کی باری تو نہ جانے کب آئے گی۔یہ پوچھنے کا جی چاہا کہ مغرب کے مرد فی الحال خود کو کیا محسوس کرتے ہیں، لیکن اس مختصر سے تبصرے کو سن کر ہماری تحقیق کی روح پرواز کر گئی۔ کہتے ہیں، عورتوں میں برداشت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ ہم نے ’’سالی‘‘ کہے جانے پر کسی عورت کو برا مانتے  ہوتے نہیں دیکھا (شرماتے ہوئے البتہ دیکھا ہے)۔ عورتیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے میں ایک دوسری کے لیے حددرجہ محتاط واقع ہوئی ہیں، وہ ذاتی جھگڑے میں بھی مردوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتی ہیں، تب ہی تو آپس میں ’’اللہ کرے تیری سوکن آئے، تجھے جلائے‘‘ جیسی بددعائیں دیتی ہیں جس پر متعلقہ مرد زیرلب ’’آمین، ثم آمین‘‘ کہتے پائے جاتے ہیں۔

طلاق میں اضافے کی وجوہات

طلاق کی بعض وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کے اکثر شہروں میں منہ دکھلائی، دودھ پلائی جیسی رسموں کے ساتھ ساتھ شادی کے فوراً بعد "منہ دھلائی" کی رسم نے جڑ پکڑ لی ہے۔۔ خادم اعلیٰ و دیگر اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ اس "حقیقت پسندانہ رسم کی جلد سے جلد سرکوبی کر کے سماج میں بکھرتے رشتوں کی نیا کو ڈوبنے سے بچانے کےلیے اقدامات کیے جائیں۔۔۔ نیز ملک بھر میں موجود بیوٹی پارلر جیسی جھوٹ کی فیکٹریوں​ سے دھوکہ دہی میں اعانت فراہم کرنے والوں اوزاروں اور کایا پلٹ و چہرہ بدل بیماروں کا جلد سے جلد قلع قمع کر کے کنواروں کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچانے لیے تگ ودو​ کی جائے۔۔ نوجوانان کنوارہ ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنی پارٹی کی ذیلی تنظیم "ڈسے ہوئے دلہے" سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ اس حوالے سے کسی خاتون، جیسا کہ مریم نوازشریف کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ملک کے چپے چپے میں پھیلے ایسے پارلرز پر چھاپے مارے اور اصل و نقل کے مابین فرق واضح کرنے کو کوئی اصول و ضوابط متعین کرے تاکہ نوجوانوں کو شادی جیسے پاکیزہ رشتے کی ابتدا ہی میں جوے جیسی لعنت سے محفوظ و مامون رکھا جا سکے۔۔ دھوکہ خورد نوجوانوں کے مظلوم صدر نے صدر مملکت سے بھی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "آپ تو اس قسم کے واقعات سے بخوبی واقف ہی ہیں کہ کس طرح پھر زندگی بھر چپ لگ جاتی ہے پھر چاہے آپ ملک کے صدر ہی کیوں نہ بن جائیں" صدر مظلوم نے نوجوانوں کی آہ و بکا میں فوجی انتظامیہ کی بھی اس جانب توجہ دلائی کہ سی پیک کے بعد ایسے واقعات میں چینی مداخلت کے باعث اصل و نقل کے مابین فرق میں مزید خلا آنے کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے لہٰذا ان خدشات کا ابھی سے تدارک کیا جائے۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوجوان زندگی بھر کی جمع پونجی تو لٹوا ہی بیٹھیں ساتھ ہی ساتھ "مایوسی"کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گمراہ ہو کر "منزل نہیں رہنما چاہیے"جیسے بے ہودہ نعروں پر وشواس کرنا شروع کر دیں۔۔۔لٹے پٹے نوجوانوں کے صدر نے حکومت وقت سے آخری درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں اب بینکوں کے سامان کی نیلامی کے اشتہارات کی مانند رشتوں کا بندوبست کروایا جائے کہ جن میں مشتہر لکھتا ہے کہ "سامان جہاں جیسے کی بنیاد پر موجود ہے بولی میں شرکت کے خواہشمند حضرات جلد ازجلد دیے گئے نمبروں پر رابطہ کر کے خریداروں کے فہرست میں اپنا نام درج کروائیں شکریه"

شکوے شکایت

عمر میں  چھوٹے لیکن عقل و فہم میں بڑے نذیر الحسن کا حکمیہ فون آیا،حسب عادت پہلے ہمارا مذاق اڑایا اس کے بعد عشق و محبت پر اتر آئے کہنے لگے کہ آپ کو پیر سمجھتا ہوں لیکن نذرانہ  سب اپنی جیب میں رکھوں گا۔ یہ جو آپ کے بالوں میں سفیدی آگئی ہے اس کی وجہ سے پیر سمجھتا ہوں۔ ان کی یہ ساری باتیں ہم نے بغور سنیں اس کے بعد کہا بھائی نذیر الحسن آپ سے واقفیت اور تعلق جو کبھی برادر یوسف کا سا لگتا ہے کم و بیش 15 برس تو بیت گئے ہیں ۔فون تو آپ نے کسی کام سے ہی کیا ہوگا اور اس لیے میٹھی زبان میں ہماری چٹکیاں لے رہے ہو۔فرمانے لگے کہ جسارت اپنا بلاگ لے کر آرہا ہے اور آپ کو بھی اس میں لکھنا ہے کب تک آپ کا بلاگ آجائے گا۔ہم نے کہا کہ بھائی ہم تو ویسے ہی جسارت سے راندہ درگاہ ہیں کچھ عرصہ پہلے تک وہاں قلم توڑتے تھے لیکن جب سے قلم میں روانی آئی تو ایڈیٹر صاحب نے کہا کہ یہ آپ کے قلم میں روانی ذرا سیاسی زیادہ ہے اور خصوصاً آپ عمرانی نظریات و خرافات کے ہمنوانظر آتے ہیں اس لیے ہم آپ کو جسارت میں تو داخل نہیں ہونے دیں گے۔ہم نے بھی اپنا قلم اپنے ہی کان پر دھرا اور ڈاکخانہ کے باہر بیٹھ کر چھٹیاں لکھنے لگے کبھی کبھی منی آرڈر بھی آجاتے تھے لیکن بھلا ہو اس نئے دور کا اس نے خط کا رومانس اور ڈاکیے کی مخصوص آوازبھی ہم سے چھین لی۔ اب نہ وہ نورجہاں کی آواز رہی کہ "چھٹی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے" اب تو سیاں اور میاں دونوں کے ساتھ chat ہو جاتی ہے اور وٹس اپ پر تصویر شیئر ہوجاتی ہے۔ ایک وہ زمانہ  تھا کہ شہر کا شہر عشق کا دشمن ہوتا تھااور پورا محلہ مل کر آپ کے اخلاق و کردارکی رکھوالی کرتا تھا۔گوکہ کہ کالج تک پہنچنے سے قبل علم الابدان کے بارے میں ہم صرف وہ جانتے تو جو ہم نے بزرگوں کی گالیوں سے سنا تھا لیکن اب کا بچہ شاید میٹرنٹی ہوم سے ہی میٹرک کر کے نکلتا ہے۔اور ماں باپ اس کے نرسری میں ایڈمیشن کے لیے پی ایچ ڈی کا نصاب پڑھنے لگتے ہیں بچے کے ایڈمیشن کے لیے کسی اچھے اسکول میں اس کو انٹریو دینا بچہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل لگنے لگتا ہے۔ خیر قصہ مختصر بات یہ ہورہی تھی جسارت میں بلاگ لکھنے کی۔بھائی ہم کہ ٹھیرے دقیانوسی اور ساتھ ساتھ رجعت پسندبھی اس لیے یہ بلاگ والی کہانی ہم کو آتی نہیں ہے۔ برادر نذیر الحسن کے کہنے پر قلم گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جسارت بے شمار حوالوں سے ایک راہ متعین کرنے ولا اخبار ہے اور اس نئے طریقہ تحریر میں بھی ایک راہ متعین کرے گا۔تمام دوسروں کو اس کی تقلید کرنی پڑے گی۔ہم تو آپ کے ساتھ ہمشیہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے اور اگر چھاپتے رہے تو بلاگ بھی لکھتے رہیں گے نہیں تو" اور بھی غم ہیں زمانے میں بلاگ...

عقل بڑی کہ بھینس ۔۔۔ ؟؟

خدانخواستہ اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جو عقل کو بھینس سے بڑا بتاتے ہیں تو میری یہ تحریر آپ ہی کے لیئے ہے تاکہ اگر آپ میں‌ بھینس سے متعلق دیرینہ غلط فہمیاں اگر ختم نہیں کی جا سکتیں تو کم ضرور ہوسکیں اور آپ بھینسوں سے متعلق اپنے ناگوار خیالات کی اصلاح کرکے کسی بھینس کو منہ دکھانے کے قابل ہو سکیں اور ان سے متعلق ایک نئے نظریئے کے ساتھ جی سکیں- یہاں میں یہ حوالہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ صاحب طرز مزاح نگار شفیق الرحمان نے بھینسوں‌ سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں اوریہ کہ کر انکا مستقبل تاریک کرنے کی کوشش کی ہے کہ " بھینسیں ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتیں کیونکہ محبت اندھی تو ہوتی ہے لیکن اتنی بھی اندھی نہیں ہوتی " ۔۔۔ لیکن بڑے اطمینان کی بات یہ ہے کہ ایک دوسرے سے منہ پھیر کے بیٹھی رہنے والی ان بھینسوں کے یہاں بھی بالکل دوسرے مویشیوں کی مانند نئے مہمانوں کی ریل پیل لگی رہتی ہے - جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ محض محبت اور حسن کی تلاش میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے عمل اور حمل پہ یقین رکھتی ہیں حالانکہ وہ بالکل بھی نہیں جانتیں کہ عمل سے زندگی بننے کے بارے میں اقبال کیا کہ گئے ہیں - ایک بات اور بھی بھینسوں کے حق میں جاتی ہے اور وہ یہ کہ انکی اس بے نیازانہ طرز حیات نے انسانی زندگی پہ بھی بہت اثر ڈالا ہے اور ان سے متاثر ہوکے ہمارے بہت سے ناراض ازدواجی جوڑے باہم راضی بھی نہیں ہوتے لیکن پیہم 'گل کھلانے ' سے باز بھی نہیں آتے - اسی طرح یہ خصلت بھی وہیں سے آئی ہے کہ بھینس اور بھینسے کی مانند لحیم شحیم دکھنے والے اور اسکے سینگوں‌ کی مانند بڑی بڑی اور نوکیلی مونچھیں رکھنے والے بہت سے خوفناک صورت مرد عین خطرے کے وقت بیٹھے کے بیٹھے ہی رہ جاتے ہیں اور بعضے وقت تو اسی حالت میں بغیر اف کیئے ذبح تک ہوجاتے ہیں ۔۔۔ میری دانست میں اب اس بے نیازانہ و صلح جویانہ سوچ کو نفسیات کے باب میں بفیلو سائیکلوجی کی صورت اک خاطر خواہ مقام ضرور دیا جانا چاہیئے- یہ عرض کردوں کہ آپ میری اس تحریر کو کائنات میں بھینس کا مقام متعین کرنے کی کوشش کے طور پہ ہرگز نہ لیں کیونکہ وہ پہلے سے واضح ہے بس یہ تو اس بڑے مغالطے کی اصلاح کی ایک عاجزانہ سی کوشش ہے کہ جسکی رو سے عقل کو بھینس سے بڑا بتانے کی کوشش کی جاتی ہے - آپ خود ہی دیکھیئے کہ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جو کچھ لوگ عقل اور بھینس کا موازنہ کرتے ہیں اوردو روشن آنکھوں کے حامل ہونے کے باوجود عقل کو بھینس سے بڑا بتاتے ہیں حالانکہ بینائی سے محروم افراد تک ٹٹولے بغیر بھی بتاسکتے ہیں کہ بھینس عقل سے بڑی بلکہ بیحد بڑی ہے اور زیادہ ٹٹولنے سے تو بھینس خود ہی بتا دیتی ہے کہ وہ کتنی بڑی ہے- تحقیق...

ہمارے بلاگرز