خبر لیجیے زباں بگڑی

!فوج کا سپہ سالار

آج پہلے اپنی خبر لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جسارت میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے بغیر کسی تردد کے ’’بے مہابہ‘‘ لکھ ڈالا۔ فاضل مضمون نگار سے کون پوچھے کہ یہ کیا ہے؟ یہ دراصل ’’بے محابا‘‘ ہے اور اس میں ہائے ہوز (ہاتھی والی ’ہ‘) نہیں بلکہ ہائے حطی (حلوہ والی ’ح‘) آتی ہے۔ اس غلطی سے ہمیں ایک فائدہ ہوا کہ لغت میں محابا کا مطلب تلاش کرلیا۔ دراصل بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کا مفہوم اور استعمال تو معلوم ہوتا ہے لیکن لغوی معنی یا ان کی اصل کا علم نہیں ہوتا۔ ’’محابا‘‘کے لغوی معنی باہم نزدیک کرنا، آپس میں سلوک کرنا، مجازاً بمعنی فروگزاشت۔ اور یہ محابہ نہیں بلکہ محابا ہے۔ بہارِ عجم کے مطابق محابا (بضم اول) بمعنی معاوضہ کرنا اور بخشش ہے۔ فارسی میں بمعنی خوف و ہراس مستعمل ہے۔ اردو میں ’’بے محابا‘ کا مطلب ہوا بغیر کسی خوف و خطر کے۔ غالب کا شعر ہے: محابا کیا ہے میں ضامن اِدھر دیکھ شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا جسارت کے مضمون میں شائع ہونے والے ’’بے مہابہ‘‘ میں دو غلطیاں ہیں۔ کچھ دن پہلے ایک خبرمیں تھا کہ ’’راز افشاں ہوگئے‘‘۔ کسی سب ایڈیٹر نے راز افشاں کی طرح خبر کے صفحے پر چھڑک دیے۔ افشا اور افشاں کی غلطی پر پہلے بھی توجہ دلائی جاچکی ہے۔ مکرر عرض ہے کہ ’’اِفشا‘‘ کا الف بالکسر ہے یعنی اس کے نیچے زیر ہے، جب کہ عموماً اسے الف بالفتح یعنی اَفشا بولاجاتا ہے اور لگتا ہے کہ یوں ہی بولا جاتا رہے گا۔ اِفشا کا قافیہ اِخفا ہے۔ اب اگر کوئی اخفا کے الف پر بھی زبر لگا دے تو کہا کیا جاسکتا ہے۔ اب ذرا فرائیڈے اسپیشل کا جائزہ لیں۔ تازہ شمارے (7تا 13جولائی) میں ایک دلچسپ ترکیب نظر سے گزری۔ صفحہ 8 پر ایک حکایت میں اورنگ زیب عالمگیرؒ کو ’’فوج کا سپہ سالار‘‘ لکھا گیا ہے۔ ہم اس سوچ میں پڑ گئے کہ فوج اور سپہ میں کیا فرق ہے۔ اورنگ زیب ایک بڑی شخصیت تھی اس لیے شاید اسے سپہ سالار یا فوج کا سالار لکھنا اس کی شان کے شایان نہیں تھا۔ یہ حکایت مولانا سراج الدین ندوی کی کتاب ’’کردار کے غازی‘‘ سے لی گئی ہے۔ لیکن کیا یہ غلطی حضرت مولانا کی ہے؟ ہو بھی سکتی ہے۔ کئی نامور لکھنے والوں کی تحریروں میں یہ غلطی نظر سے گزری ہے۔ فوج عربی کا، سپہ فارسی کا لفظ ہے، لیکن مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔ ایک لفظ ’’اتباع‘‘ ہے۔ ایک طالب علم نے پوچھ لیا کہ یہ مذکر ہے یا مونث؟ اس کا کہنا تھا کہ کئی علما کی تقریر اور تحریر میں یہ مذکر استعمال ہوا ہے۔ سید مودودیؒ نے اتباع کو مذکر لکھا ہے، تاہم ان ہی کے خوشہ چیں محترم حافظ ادریس نے اسے مونث باندھا ہے۔ فرائیڈے اسپیشل کے اسی شمارے میں حافظ صاحب کا جملہ ہے ’’ان کی زیادہ سے زیادہ اتباع ۔۔۔ رسول اکرم ؐ کی اتباع مرحوم کے ایمان و عمل کا حصہ تھی‘‘۔ لغت میں یہ مذکر ہے۔ عربی کا لفظ ہے (الف بالکسر) مطلب ہے پیروی کرنا۔...

نیک اختر

ہمارے صحافی اور ادیب کسی بھی لفظ کے آگے ’’یت‘‘ (ی ت) بڑھاکر اسم صفت بنالیتے ہیں۔ اس طرف پروفیسر علم الدین نے بھی توجہ دلائی تھی۔ ایک مضمون میں ’’معتبریت‘‘ پڑھا۔ غنیمت ہے کہ اعتباریت نہیں لکھا۔ لیکن اعتبار میں کیا خرابی ہے؟ یا اپنے آپ پر اعتبار نہیں کہ اس طرح ’’معتبریت‘‘ قائم نہیں ہوسکے گی۔ جامعہ کراچی میں اردو کے استاد اور زبان پر دسترس رکھنے والے پروفیسر رؤف پاریکھ ایک اخبار میں زبان کے حوالے سے مضامین بھی لکھ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک مضمون میں انہوں نے عام ہوجانے والی کئی اصطلاحوں کی وجۂ تسمیہ بھی بیان کی ہے، مثلاً ’’سینڈوچ‘‘۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عبدالرحیم کی کتاب ’’پردہ اٹھادوں اگر چہرۂ الفاظ سے‘‘ بڑی دلچسپ ہے جس میں الفاظ کا تاریخی، لغوی اور لسانی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ ہم بھی اس سے استفادہ کرچکے ہیں، مثلاً ہڑتال کی وضاحت بڑی دلچسپ ہے۔ رؤف پاریکھ نے بائیکاٹ کی جو تاریخ بیان کی ہے ایسی ہی ڈاکٹر عبدالرحیم نے اپنی کتاب میں دی ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ معروف عالم دین مفتی منیب الرحمن بھی اصلاحِ زبان کے میدان میں آگئے ہیں۔ ان کی آمد اس لیے بھی خوش آئند ہے کہ وہ عربی و فارسی پرعبور رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنے کسی مضمون میں لکھا تھا ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘‘۔ اور یہی معروف بھی ہے، لیکن مفتی صاحب نے اس کی اصلاح فرمائی ہے۔ یہ سعدی شیرازی کا شعر ہے جو یوں ہے: نہ در ہر سخن بحث کردن رواست خطا بر بزرگاں گرفتن خطاست یعنی خطائے بزرگاں کی جگہ ’’خطا بر بزرگاں‘‘۔ شیخ سعدی زندہ ہوتے تو ممکن ہے کہ عوامی اصلاح قبول کرلیتے کہ اس طرح مصرع رواں اور سہل ہوگیا ہے اور ’’بر۔بز‘‘ کے عیب تنافر سے بھی پاک ہوگیا ہے۔ ایسے کئی شعر ہیں جو عوام کی زبان پر چڑھ کر زیادہ جامع ہوگئے ہیں۔ مفتی صاحب نے ’’نور چشمی‘‘ کی وضاحت بھی کی ہے کہ یہ مہمل ہے۔ اسی پر یاد آیاکہ شادی کے دعوت نامے میں نور چشمی کے علاوہ ’’دختر نیک اختر‘‘ بھی لکھا جاتا ہے۔ نیک اختر کا مطلب ہے اچھے ستارے والی یعنی اچھی قسمت والی۔ گو کہ عربی میں ’نیک‘ کے معنی اُس کے برعکس ہیں جو ہم اردو میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ تو جملۂ معترضہ ہے لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضعیف الاعتقاد انسان نے اپنی قسمت کی باگ ڈور ستاروں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے کہ فلاں ستارے کے زیراثر پیدا ہونے والا بخت ور ہوگا اور فلاں ستارے کے زیر سایہ پیدا ہونے والا بدقسمت۔ ہندوؤں میں تو جیوتش ودیا، ستارہ شناسی، دست شناسی وغیرہ جیسی باتیں سمجھ میں آتی ہیں کہ پورا دھرم ہی ضعیف الاعتقادی کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی جنم کنڈلی بنوا لی جاتی ہے اور پنڈت جی نومولود کا پورا زائچہ بناکر دے دیتے ہیں۔ لیکن یہ کام مسلمان بھی کرتے ہیں۔ مرزا غالب کا مصرع ہے اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے اور علامہ اقبال نے ستاروں سے حال معلوم کرنے پر کہا تھا کہ ستارہ کیا مری...

’نوچی‘ کا بھونڈا استعمال

جسارت کے ایک بہت مقبول اور قارئین کے پسندیدہ کالم نگار، ادیب وشاعر ’’بالخصوص‘‘ کو عموماً باالخصوص لکھتے ہیں، یعنی ایک الف کا اضافہ کردیتے ہیں۔ لیکن اس سے تلفظ بھی بگڑ جاتا ہے اور با۔الخصوص ہوجاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بالکل میں بھی ایک الف بڑھا دیا جائے۔ اب تو کچھ لوگوں کو بالکل میں ایک الف بھی گوارہ نہیں اور ان کی دلیل ہے کہ جیسے بولا جاتا ہے ویسے ہی لکھنا چاہیے۔ ہمارے یہ لسانی دانشور اس اصول کا اطلاق انگریزی پر نہیں کرتے، مثلاً نالج کے شروع میں یہ جو فضول سا K ہے اسے نہ لکھا کریں۔ انگریزی میں ایسے کئی K فالتو ہیں جو بولے نہیں جاتے مگر لکھے جاتے ہیں۔ بعض املا اور تلفظ لڑکپن ہی میں پختہ ہوجاتے ہیں اور لاشعوری طور پر استعمال ہوجاتے ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت میں بچوں کے صفحے پر املا درست کرنے کی کاوش نظر آتی ہے۔ یہ بہت اچھا سلسلہ ہے۔ بچوں کا املا درست ہوگا تو وہ بڑوں کو بھی درست کرسکیں گے۔ ہم اب تک ’کسر‘ اور ’کثر‘ میں گڑبڑا جاتے ہیں۔ عرصے تک گلف (GULF) کو گلْف (بضم اول) کہتے رہے اور اب بھی کئی الفاظ کے تلفظ میں گڑبڑا جاتے ہیں۔ ایک لفظ ’’نوچی‘‘ تقریباً متروک ہوچکا ہے البتہ لغات میں موجود ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کا مطلب اچھا نہیں ہے۔ 21 اگست کے ایک اخبار میں ایک بہت سینئر صحافی نے اپنے سیاسی منظرنامہ میں یہ لفظ استعمال کیا ہے لیکن بہت بھونڈے طریقے سے۔ سیاسی تجزیے میں ان کا جملہ ہے ’’محل سرا کی نوچیاں غلام گردش میں پلنے والی سازشوں کی کہانیاں سنارہی ہیں‘‘۔ ان صحافی کو نوچی کا مطلب تو معلوم ہوگا اور یہ لفظ شعوری طور پر استعمال کیا گیا ہوگا۔ ’’نوچی‘‘ اُس نوعمر لڑکی کو کہتے ہیں جس سے طوائفیں پیشہ کراتی ہیں۔ یہ ان کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہیں۔ اب ذرا مذکورہ جملے میں نوچی کے استعمال پر غور کریں۔ یہ محل سرا کس کی ہے جہاں غلام گردش میں نوچیاں ٹہلتی پھرتی ہیں اور سازشوں کی کہانیاں سناتی پھرتی ہیں۔ نوچی فارسی زبان کا لفظ ہے مگر کیا کوئی نوچی کسی صحافی سے ٹکرا گئی ہے؟ سوال یہ ہے کہ یہ نوچیاں کس نے پال رکھی ہیں اور کس کی نگرانی میں ہیں؟ معذرت کے ساتھ، ایک متروک لفظ کا احیا تو ہوگیا لیکن اخلاق سے باہر۔ مناسب تھا کہ اس کی جگہ خادمائیں کا لفظ استعمال کیا ہوتا۔ ایک بڑے اخبار کے مضمون کی سرخی تھی ’’گھر ملازم بچوں کی مقتل گاہ بن گئے‘‘۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ اس حوالے سے مضمون چشم کشا ہے، لیکن یہ ’’مقتل گاہ‘‘ کیا ہوتا ہے؟ صرف مقتل کافی ہے، اس میں گاہ کا مفہوم موجود ہے۔ ایسے ہی مذبح خانہ غلط ہے۔ یا تو صرف مذبح لکھا جائے یا ذبح خانہ۔ اردو میں رائج ہونے والی انگریزی اصطلاحات کے بارے میں تو عموماً تشریح ہوتی رہتی ہے اور ان کی اصل تک پہنچا جاتا ہے۔ عربی، فارسی کے کئی الفاظ ایسے ہیں جو اردو میں آکر اپنے معانی بدل...

گیسوئے اردو کی حجامت

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’مشاق‘‘ طیارے کے حادثے پر اسے ’’مشتاق‘‘ کہا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ایک خاتون خبر دے رہی تھیں کہ فلاں نے ’’جھان سہ‘‘ دے دیا۔ انہیں گوارہ نہیں ہوا کہ جھانسہ کے نون غنہ کو خالی جانے دیا جائے۔ حیرت تو اس پر ہوتی ہے کہ کوئی اصلاح کرنے والا بھی نہیں۔ جب جب خبر دہرائی گئی، یہی تلفظ سننے میں آیا۔ ایک صاحب خبر دے رہے تھے کہ فلاں نے فلاں کو ’’ہوس‘‘ (بروزن جوش، ہوش) کا نشانہ بنایا۔ ٹی وی چینلوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ یہ ذریعہ براہِ راست سماعت و بصارت پر اثرانداز ہوتا ہے اور کچے ذہن اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ تلفظ صحیح کرانے کی کوشش کرو تو جواب ملتا ہے ’’ہمیں تو یہی پڑھایا گیا ہے، آپ نئی اردو ایجاد کررہے ہیں!‘‘ اس پر یاد آیا کہ اسکول میں تو ہمیں بھی برطانوی بادشاہ چارلس کا تلفظ ’’چار۔لس‘‘ پڑھایا گیا تھا۔ کسی نے ڈانٹ کر تصحیح کردی تھی۔ لیکن گزشتہ دنوں پی ٹی وی پر ’’چار۔لس‘‘ سن کر خوشی ہوئی کہ ہم نے گیسوئے اردو ہی نہیں انگریزی کا حشر بھی وہی کیا ہے جو انگریزوں نے برعظیم پاک و ہند کا کیا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کبھی صحیح تلفظ کے لیے معروف تھا اور صرف تلفظ صحیح کرنے کے لیے سکہ بند ادیبوں کی خدمات حاصل تھیں۔ ’’سکہ بند‘‘ لکھ تو دیا پھر خیال آیا کہ کسی نے پوچھ لیا کہ یہ کیا ہے، تو کیا جواب دیں گے، یہ کہ ایسا ہی پڑھا ہے! ایک سکہ تو پنسل میں ہوتا ہے اور ایک کبھی کبھار جیب میں بھی ہوتا ہے اور جیب بند ہوسکتی ہے۔ تاہم ’’سکہ بند‘‘ کا مطلب ہے: پختہ، معیاری، سچا۔ خود سکہ کے کئی مطلب ہیں مثلاً ٹھپا، ضرب، چھاپ، نقش کیا ہوا، ڈھلا ہوا، سرکاری منقش زر جو ملک میں چلے، طرز، روش، طریقہ، قانون، رعب داب وغیرہ۔ اسی سے سکہ بٹھانا، سکہ پڑنا وغیرہ ہیں۔ ایک عجیب مطلب سکہ قلب کا ہے، یعنی جھوٹا سکہ، وہ سکہ جو ناجائز طور پر بنایا جائے۔ یہ سکہ عربی میں چلتا ہے۔ ’ق‘ کا تلفظ ’ک‘ کچھ اہلِ پنجاب سے مخصوص نہیں ہے جن کو وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ یہ کینچی (قینچی) والا کاف ہے یا کتے والا۔ یہی ’ق‘ دکن میں جاکر ’خ‘ سے بدل جاتا ہے اور قاضی جی ’خاضی جی‘ ہوجاتے ہیں۔ لیکن ماہرالقادری نے لکھا ہے کہ بعض عرب قبائل بھی قاف کی...

فرنگی بیماریاں

ہمارے ہاں بہت کچھ باہر سے آتا ہے حتیٰ کہ کبھی کبھار وزیراعظم بھی۔ ہمارے اداروں کے نام بھی فرنگی ہیں۔ اور تو اور بیماریاں بھی انگریزی یا لاطینی میں حملہ آور ہوتی ہیں۔ چکن گونیا کا شکار ہوئے تو یہی سوچتے رہے کہ اپنی زبان میں اسے کیا نام دیں۔ لیکن یہی کیا، ڈینگی بخار، یلو فیور، نیگلریا وغیرہ بھی ہیں۔ ملیریا، ٹائیفائیڈ اور نمونیہ تو اپنے ہی سے لگتے ہیں۔ کسی ڈاکٹر سے جاکر کہیں کہ باری کا بخار، یا تپِ محرقہ یا میعادی بخار ہے تو وہ ذہنی حالت پر شک کرے گا۔ ممکن ہے کوئی حکیم صاحب سمجھ لیں کہ یہ ملیریا اور ٹائیفائیڈ ہیں۔ لیکن ’’ذات الرّیہ‘‘ تو شاید نوجوان حکیم بھی نہ سمجھ پائیں۔ یوں بھی نمونیہ تو اب اپنا ہی ہوگیا ہے۔ ویسے یہ بھی ’دساوری‘ ہے۔ انگریزی میں اس کے ہجے بھی مشکل ہیں جو N کے بجائے P سے شروع ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دساوری کیا ہے؟ اس کی جگہ غیر ملکی یا ’فارن‘ آسان نہیں! معاف کیجیے، شاید ابھی ہم پر چکن گونیا کے اثرات باقی ہیں۔ ہماری عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاکر قارئین کو پرانے کالم بطور ’’نشر مکرر‘‘ پڑھوا دیے گئے، گو کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ نئے ہی ہوں گے، ہمیں بھی نئے نئے سے لگے۔ کہیں کوئی سہو ہوجائے تو ہمارے ممدوح جناب باب الدین، میرپورخاص سے بابِ التفات کھول دیتے ہیں۔ انہوں نے توجہ دلائی ہے کہ ’’فرائیڈے اسپیشل‘ شمارہ 29 میں آپ نے ایک جگہ فرمایا ’’محطّہ تو ظاہر ہے احاطہ سے ہے‘‘۔ یہ صحیح نہیں۔ محطہ کا مصدر حَطّہ ہے جس کے دیگر معانی کے علاوہ ایک معنیٰ گرنا یا اترنا ہے۔ البتہ محیط اور محاط کا مصدر احاطہ صحیح ہے۔‘‘ اس سے آگے انہوں نے دل دہی کے لیے لکھا کہ آپ کا کالم نہایت شوق اور دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اور آپ کی تصحیح سے ہمارا فائدہ ہوجاتا ہے۔ سچی بات ہے کہ عربی ہماری اردو سے زیادہ کمزور ہے۔ مصادر یاد نہیں۔ محطہ کا تعلق احاطہ سے یوں جوڑ دیا تھا کہ یہ لفظ اردو میں عام فہم ہے۔ اِحاطہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے گھری ہوئی چار دیواری، گھرا ہوا میدان، چار دیواری سے گھری ہوئی جگہ خواہ اس میں کوئی عمارت ہو یا نہ ہو۔ برطانوی ہند میں احاطہ پریزیڈنسی یا صوبے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا تھا جیسے احاطہ مدراس، احاطہ بنگال، احاطہ بمبئی وغیرہ۔ احاطہ کھینچنا کسی جگہ کو گھیرنا۔ آج کل شاید احاطے کی چائنا کٹنگ کردی جاتی ہے۔ ایک محترم قاری جناب عقیل نے شکوہ کیا ہے کہ چراغ تلے اندھیرا ہے۔ حالانکہ اب چراغوں کی جگہ بلب جلتے ہیں جن کے نیچے نہیں اوپر اندھیرا ہوسکتا ہے۔ سنا ہے کہ ایک صاحب چراغ دین نے اپنا نام بدل کر بلب دین کرلیا تھا۔ عقیل صاحب کا اشارہ اس طرف ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیاں تو پکڑتے ہیں لیکن خود جسارت اور فرائیڈے اسپیشل میں غلطیاں شائع ہورہی ہیں۔ اب کیا کیا جائے، کوئی ہماری اصلاح قبول کرنے پر تیار نہیں۔ لیکن پھر بھی کہیں...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے ‘‘کا آسان نسخہ

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قولِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن اپنی رائے کا اظہار تو کیا جاسکتا ہے۔ مولوی عبدالحق اپنی کتاب ’قواعدِ اردو‘ میں لکھتے ہیں: ’’بعض عربی الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں الف ’ی‘ کی صورت میں لکھا جاتا ہے جیسے عقبیٰ اور دعویٰ‘‘۔ اردو میں ایسے الفاظ ’الف‘ سے لکھنے چاہئیں مثلاً دعوا، اعلا، ادنا۔ انہوں نے عقبیٰ کا حوالہ دے کر اسے الف سے یعنی عقبا نہیں لکھا۔ ہماری رائے یہ ہے کہ عربی کے جو الفاظ اپنے مخصوص املا کے ساتھ اردو میں آگئے ہیں انہیں ایسے ہی لکھنا چاہیے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ جب سے زبانِ اردو وجود میں آئی ہے، عربی کے کئی الفاظ اپنے املا کے ساتھ ہی اردو بلکہ فارسی میں بھی جوں کے توں لے لیے گئے ہیں، جیسے صلوٰۃ، مشکوٰۃ، زکوٰۃ وغیرہ۔ چنانچہ اب املا ’’درست‘‘ کرنے کی مہم چلی تو تمام پرانے علمی، ادبی و مذہبی ذخیروں پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ طالب علم ایک طرف تو اعلا، ادنا، دعوا پڑھے گا، دوسری طرف اسے پرانے لٹریچر (جو زیادہ پرانا بھی نہیں) اور لغات میں مختلف ہجے ملیں گے۔ یہ قرآنی املا ہے اور اسے بحال رکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قرآن پڑھنے والے کے لیے یہ الفاظ نامانوس نہیں ہوں گے۔ عربی الفاظ کا املا بدلنے کا رواج چل پڑا تو بات بہت آگے تک جائے گی۔ کیا عیسیٰ اور موسیٰ کا املا بھی بدل کا عیسا اور موسا کیا جائے گا؟ چھوٹا منہ بڑی بات، ہمیں تو اس سے اتفاق نہیں۔ بعض الفاظ کی جمع الجمع تو ہے جیسے دوا، ادویہ اور ادویات۔ لیکن کچھ لوگ زبردستی جمع الجمع بنا رہے ہیں۔ ٹی وی کے میزبان اور ’’روائے عافیت‘‘ کے شہرت یافتہ کامران خان صرف ’الفاظ‘ یا ’جذبات‘ کہہ کر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ شاید زور پیدا کرنے کے لیے ’’الفاظوں‘‘، ’’جذباتوں‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹی وی کے میزبانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اُن کی غلطیاں صرف اُن تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سننے والوں کو بھی خراب کرتی ہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ اب تک کسی نے کامران خان کو ’’الفاظوں‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا! شاید یہ اختیار رکھنے والے خود بھی ’’جذباتوں‘‘ میں بہہ جاتے ہوں۔ باباے اردو کی ’ے‘ پر ہمزہ لگانا صحیح نہیں ہے۔ لیکن ان کی مذکورہ کتاب جو انجمن ترقی اردو، پاکستان نے شائع کی ہے اُس میں باباجی کی ’ ے‘ پر ہمزہ لگا ہوا ہے یعنی ’بابائے‘۔ مولوی عبدالحق نے ’’اقوام‘‘ کو مذکر لکھا ہے، ’’جب یونانیوں کو دوسرے اقوام سے سابقہ پڑا‘‘۔...

وتیرہ یا وطیرہ؟

کہتے ہیں ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔‘‘ حافظ محمد ادریس صاحب علم و فضل میں بحر ذخار ہیں لیکن عمر میں ہم سے چھوٹے ہیں، اس لیے ان کے مضامین میں سہو کی نشاندہی خطا نہ سمجھی جائے۔ بلاشبہ حافظ ادریس ایک دانشور اور بڑے قلم کار ہیں۔ وہ ایک علمی ادارے کے سربراہ بھی ہیں، اس لیے یہ خدشہ ہے کہ ان کے سہو کو لوگ سند نہ بنالیں کہ حافظ ادریس نے لکھا ہے تو یہی صحیح ہوگا۔ فرائیڈے اسپیشل کے گزشتہ شمارے (30 جون تا 6 جولائی) میں مرحوم رائے بخش کلیار کے بارے میں ان کا ایک بہت اچھا مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں انہوں نے ’’وتیرہ‘‘ کو وطیرہ لکھا ہے۔ یہ بہت عام غلطی ہے لیکن حافظ صاحب کو عربی پر بھی عبور ہے اس لیے انہیں گریز کرنا چاہیے تھا۔ وتیرہ عربی ہی کا لفظ ہے لیکن بغیر ’ط‘ کے۔ ایک شعر حاضر ہے: یار کو لاکھا جمانے کا وتیرہ ہو گیا دعوت لب، خونِ ناحق کا ذخیرہ ہو گیا وتیرہ تو عربی کا لفظ ہے لیکن بہت سے لوگ ہندی کے لفظ ’’ناتا‘‘ میں ’ط‘ شامل کرکے اسے معرب کرلیتے ہیں یعنی ’ناطہ‘ یا ’ناطا‘۔ حافظ ادریس صاحب سے بہت معذرت کے ساتھ، انہوں نے اپنے مذکورہ مضمون میں کئی جگہ ’’بال آخر‘‘ لکھا ہے۔ یہ کیا ہے؟ بال بروزن دال، گال، جال وغیرہ۔ بال آخر لکھا جائے گا تو لوگ پڑھیں گے بھی اسی طرح۔ اسے ’’بل آخر‘‘ کون پڑھے گا؟ اگر بالآخر کا املا مشکل ہے تو بال آخر کی جگہ بل آخر ہی لکھ دیا ہوتا۔ کم از کم تلفظ تو صحیح ہوتا۔ اس قباحت سے بچنے کے لیے ’آخرکار‘ لکھ دیا ہوتا۔ کل کوئی بالکل کو بھی ’بال کل‘ لکھنے لگے گا۔ ماہر لسانیات رشید حسن خان مرحوم کی تحریک یہی تھی کہ جو الفاظ جس طرح بولے جاتے ہیں اسی طرح لکھے بھی جائیں مثلاً ’بلکل‘ اور ’بل آخر‘۔ لیکن کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح رشید حسن خان کا مقصد عربی املا سے دور کرنا تھا، اسی لیے انہوں نے ’اعلیٰ‘ کا املا ’اعلا‘ کردیا۔ شاید وہ بھارتی مسلمانوں کو ہندی سے قریب لانا چاہتے ہوں۔ ’بالکل‘ بھی دراصل ’بالکلّیہ‘ ہے۔ ’لاکن‘ عربی کا لفظ ہے اور قرآن کریم میں اسی طرح آیا ہے، لیکن اردو میں آکر یہ ’لیکن‘ ہوگیا اورلام پر کھڑا زبر غائب ہوگیا۔ حافظ صاحب نے مرحوم رائے خدا بخش کلیار کے منہ سے سنا ہوا شیخ سعدی کا ایک شعر درج کیا ہے کہ: دیدۂ سعدی و دل ہمراہ توست تا پنداری کہ تنہا می روی ہوسکتا ہے کہ مرحوم کلیار اسی طرح پڑھتے ہوں اور ممکن ہے کہ کمپوزنگ کی غلطی ہو، ورنہ صحیح شعر یوں ہے: دیدۂ سعدی و دل ہمراہ تست تانہ پنداری کہ تنہا می روی دوسرے مصرعے میں سہو ’نہ‘ رہ گیا جس سے مفہوم متاثر ہوجاتا ہے۔ سچی بات ہے کہ شعر تو ہمیں بھی صحیح یاد نہیں رہتے اور حافظ ادریس کی تو بے پناہ علمی مصروفیات ہیں۔ اخبارات میں ’’بیزارآنا‘‘ پڑھنے میں آتا ہے، جب کہ ہمارے خیال میں بیزار کے ساتھ ’ہونا‘ آنا چاہیے، یا پھر بیزار ہوجانا۔ ’بیزار‘ فارسی کا لفظ ہے۔...

اہم بلاگز

نیا پاکستان، عمران اور چیلنجز

پاکستان میں حالیہ عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تو حکومت بنا ہی رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وفاق اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے گڑھ صوبہ پنجاب میں بھی حکومت بنائے گی۔ پی ٹی آئی کے اس دعوے کا درست یا غلط ہونا تو ایک ہفتے کے اندر اندر سامنے آجائے گا لیکن جو صورت حال ہے اس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ پی ٹی آئی ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بات یہ نہیں کہ وہ حکومت بنانے میں کامیابی ہوگی یا نہیں، یہاں سوال حکومت کے استحکام کا ہے۔ اس سلسلے میں جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی حکومت جو مختلف الخیال لوگوں اور گروہوں پر قائم ہونے والی ہے کیا وہ پاکستان کی اس بگڑی ہوئی شکل کے ساتھ پاکستان کی ایسی شکل و صورت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی جس کو دیکھ کر دنیا اسے "نئے پاکستان" سے تعبیر کر سکے اور عمران خان اس کو فخر کے ساتھ یہ کہہ سکیں کہ دیکھو یہ ہے ایک نیا پاکستان، امن والا، تشدد پسندانہ رویوں سے پاک، ایک کروڑ سے زائد ملازمتوں کو فراہم کرنے والا، گلی گلی خوشیاں لانے والا، اعلیٰ تعلیمی اداروں والا، صحت کی ایسی سہولتوں والا جو بین الاقوامی معیار سے بھی کہیں بہتر ہیں، شہری اور دیہی تفریق ختم کردینے والا، میرٹ کے علاوہ اور کچھ نہ سننے والا اور سب سے بڑھ کر "مدینہ" والی فلاحی ریاست بن جانے والا جو آپ (ص) کے دور میں ہوا کرتی تھی۔ اس پاکستان کو سب سے پہلے مزید نیا بنانے والی بات قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی اور میں پورے دعوے سے کہتا ہوں کہ اس نے ایسا ہی کر دکھایا تھا۔ پاکستان ٹوٹ چکا تھا۔ شاید دنیا اس کو پاکستان کے نام سے یاد بھی نہ رکھتی لیکن بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ پاکستان کے نام سے ہی قائم ہے اور یہی نام اس کی اب تک پہچان ہے۔ سرمایہ دار پاکستان سے سرمایہ باہر منتقل کرنا ہی چاہتے تھے کہ راتوں رات پورے ملک کو قومیالیا گیا اور سب سرمایہ ضبط کر لیا گیا۔ اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا۔ ایٹمی پروگرام کو ایک نیا رنگ و ڈھنگ دیا گیا اور ڈاکٹر قدیر کی صورت میں ایک عظیم سائنس دان کو ملک کے اندر لاکر اس ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اسی طرح کے بیشمار کام ایسے تھے جس کو کرنے کی جرات کوئی حکمران کبھی پہلے کرسکا تھا اور نہ آج تک کسی میں یہ جرات پائی گئی۔ بھٹو نے اگر "نیا ملک" یا باالفاظ دیگر نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کیا تھا تو پھر کرکے بھی دکھایا تھا۔ اب یہ دعویٰ عمران خان کا ہے ہم نیا پاکستان بنائیں گے۔ اس کو اس دعوے کے ساتھ جو مدد حاصل ہے وہ عوام کی تو ہے ہی لیکن پاکستان کا سب سے مضبوط ادارہ بھی اس کے ساتھ قدم سے قدم جوڑ کر کھڑا...

کسی دربان کی ضرورت نہیں

                میدان حشر لگا ہوا تھا، تاحد نگاہ خوفناک آگ اگلتے غار تھے، سوال کرنے والے نے سوال کیا کہ یہ کیسے غار ہیں، جواب ملا یہ سب گناہگاروںکے غار ہیں، یہ فلاں ملک کا ہے، وہ فلاں ملک کا ہے، وہ فلاں قوم کا ہے اور وہ فلاں فلاں قبیلے کا ہے، سوال کرنے والے نے پھر سوال کیا کہ ہر غار پر ایک بہت عظیم الجثہ دربان ہاتھ میں آگ کا گرز لے کر کیوں کھڑا ہے؟ جواب آیا، جب کوئی غار سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ دربان اسے واپس غار میں دھکیل دیتا ہے، سوال کرنے والے نے بہت دور ایک غار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پھر سوال کیا، وہ غار کن کا ہے؟ جواب آیا کہ وہ پاکستانی گناہگاروں کا غار ہے، سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا، اس پر دربان کیوں موجود نہیں ہے؟ جواب آیا ضرورت نہیں پڑی اس لیئے کہ جو بھی باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے اندر والے خود اس کی ٹانگیں کھینچ لیتے ہیں۔                 کسی بھی میدان میں جگہ بنانے کے دو ہی طریقے ہوتے ہیں، ہر مرد میدان سے بڑھ کر اپنے اندر خوبیاں پیدا کرنا ۔۔۔ یا ۔۔۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مرد میدان کا ”پتہ صاف “ کر دیاجائے۔                 دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آنے کے لئے سخت مسابقتی کشمکش دیکھنے میں آتی ہے، میدان خواہ کھیل کا ہو، پڑھائی کا ہو، پہاڑوں کی چوٹیاں سر کر لینے کا ہو یا میدان حرب و ضرب، ہر قوم ہر قوم سے آگے نکل جانے کی جدوجہد میں مصروف نظر آتی ہے۔                 پاکستان میں بھی ایسا ہی کچھ ہے لیکن ایک واضح فرق کے ساتھ، دوسری اقوام مسلسل تحقیق، محنت اور انتھک جدوجہد کر کے ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہیں لیکن پاکستان میں ہر طبقہ اپنے سے آگے جانے والے کے ہاتھ پاوں توڑ کر اپنے آپ کو ”وکٹری اسٹینڈ“ پر کھڑا دیکھنا چاہتا ہے۔                 ٹانگیں گھسیٹ نے اور توڑدینے کا عمل ہر شعبہ ہائے زندگی میں نظر آئے گا۔                 بورڈ کے امتحانات ہوں یا یونیورسٹی کے ، میرے بچے کو آگے ہونا ہے ، "قائد اعظم"، کھیل کے میدان میں کس کنگلے کو لے کر جارہے ہو، چیف سلیکٹر تک پہنچنے کا موقعہ کیا بار بار ملتا ہے ، "قائد اعظم" پکڑو، نہیں نہیں یہ کام میں نہیں کرونگا، اچھا، کیا یہاں تک قائد کی روح کو ثواب پہنچا کرنہیں آئے تھے؟ چلو اب "قائد اعظم" کو سلامی دو، اسمبلی کا ممبر بننا ہے، "قائد اعظم"، ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں جانا ہے، "قائد اعظم"، ضمیر کیوں سویا ، "قائد اعظم"، اچانک ضمیر کیوں جاگ پڑا ، "قائد اعظم"۔                 دنیا کا واحد قائد ہے جو دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود اپنے (بے ضمیر) عوام و خواص کے کام آرہا ہے۔                 قابلیت کا ایسا خون ہوا کہ کھیل کے میدان تباہ ہو گئے، اب تو ان میں کتے بھی لوٹنا گوارہ نہیں کرتے ، تعلیم کا جنازہ نکل گیا، جب کام جعلی ڈگریوں سے بھی چل سکتا ہے تو اصلی کے لئے اپنے دماغ کو کیوں کھپائے، معیشت...

معرکہ عین جالوت اور سلطان رکن الدین بیبرس 

۲۵ رمضان ۶۵۸ھ ؁ تاریخ میں کئی واقعات ایسے ہیں کہ جن کے رونماء ہونے کے سبب کچھ ایسا منظر نامہ بنا جس نے یکایک تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ ۹۷ ؁ھ میں دمشق میں سلیمان بن عبدالمالک کا مسند خلافت سنبھالنا اور اس کے نتیجے میں قتیبہ بن مسلم کا چین کی سرحدوں سے ،طارق بن زیاد کا فرانس سے اور محمد بن قاسم کا فتح سندھ کے بعد پلٹ جانا اس کی ایک مثال ہے۔بعد میں اگرچہ ترک اور افغان فاتحین کے ذریعے ہندوستان میں تو اسلام پہنچ گیا مگر چین اور فرانس کی سرحدوں سے واپسی کے بعد عالم اسلام کی سرحدیں چودہ سو سال کے بعد بھی کاشغر(مشرقی ترکستان) سے آگے نہ بڑھ سکیں اور نہ ہی یورپ عالم اسلام میں شامل ہوسکا۔ اس کے علاوہ 1402 ؁ء میں جنگ انقرہ میں امیر تیمور کے ہاتھوں عثمانی سلطان بایزید یلدرم کی افسوس ناک شکست اور گرفتاری بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا کہ جس نے یکایک تاریخ کا رخ موڑ دیا اور اس کے نتیجے میں پورے یورپ کی تسخیر کی خواہش عثمانی ترکوں کا خواب بن کر رہ گئی۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اگر 1815 ؁ء میں واٹر لو کے میدان میں نپولین کو شکست نہ ہوتی تو شاید دنیا کو جنگ عظیم اول اور دوم کی تباہ کاری کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آج ہمارا موضوع ایک ایسی ہی معرکہ آرائی کا تذکرہ ہے جو 25رمضان المبارک 658 ؁ ء بمطابق1260 ؁ء کو مصر اور شام کے درمیان واقع عین جالوت کے مقام پر پیش آئی اور جس کے نتیجے میں عالم اسلام جو بظاہر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا وہ مکمل بربادی سے بچ گیا،عامتہ الناس کو تو چھوڑیں ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بھی ’’معرکہ عین جالوت‘‘ اور اس کے ہیرو ’’سلطان رکن الدین بیبرس‘‘ کے بارے میں بہت کم واقفیت رکھتا ہے ۔حالانکہ اس معرکہ آرائی کے نتیجے میں نہ صرف عالم اسلام کو سیاسی طور پر نئی زندگی ملی بلکہ حرمین شریفین کی حرمت کو لاحق شدید ترین خطرہ بھی ٹل گیا ۔ تیرھویں صدی عیسوی کا سیاسی منظر نامہ معرکہ عین جالوت کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے تیرویں صدی عیسوی کے سیاسی منظر نامہ کو دیکھنا پڑے گا ۔یہ صدی عالم اسلام کے لئے نہایت پر آشوب تھی اور اس صدی میں جتنے مسلمان شہید ہوئے اتنے شاید نہ اس سے پہلے شہید ہوئے نہ اس کے بعد آج تک (دور جدید میں اکیسوی صدی عیسوی کا آغاز اگر چہ اب تک مسلمانوں کے لیے کچھ ایسی ہی صورت حال لیے ہوئے ہے۔) بہر حال تیرھویں صدی عیسوی میں1219 ؁ء میں منگولیا سے اٹھنے والا طوفان بلاخیز ایک کروڑ مسلمانوں کو بہا کر لے گیا ۔ چنگیز خان نے پہلے تو چین کی عظیم تاریخی سلطنت کو برباد کیا پھر اس نے ماوراء ا لنہر کے علاقوں کا رُخ کرتے ہوئے سمرقند، بخارا،تاشقند، مرو اور نسا سے لے کر خراسان کے علاقے ہرات تک اور نیشا پور سے لے کر دریائے سندھ کے ساحلی علاقوں تک تباہی اور بربادی کی داستانیں رقم کیں ۔ وسطی ایشیا اور چین کے بعد مشرقی...

روزہ اور معاشرتی صحت

روزہ بظاہر ایک انفرادی عبادت ہے ، ہر فرد صبح سویرے اٹھتا ہے ، سحری کرتا ہے، پورا دن بھوکا پیاسا رہتا ہے اور شام میں افطار کرتا ہے اور اس کے روزے کا اس کو اور اس کے رب کو پتا ہوتا ہے، کسی تیسرے فرد کو پتا نہیں ہوتا ، ان معنوں میں روزہ ایک انفرادی عبادت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ روزہ ایک اجتماعی عبادت بھی ہے معاشرتی عبادت بھی ہے ، اس لیے کہ پورا معاشرہ ایک ساتھ ایک وقت میں روزہ رکھنا شروع کرتا ہے ، چاند دیکھا جاتا ہے اور اس کے بعد پورے معاشرے کے اندر ایک نمایاں تبدیلی ہمیں نظر آتی ہے۔لوگ پہلی رمضان سے تراویح کے لیے جانا شروع کردیتے ہیں ، مسجدیں بھر جاتی ہیں ، پورے پورے مسلم معاشروں میں ایک وقت پر سحری ہوتی ہے ، ایک وقت پر لوگ کھانا روک دیتے ہیں ، پورے دن بھوکا پیاسا رہتے ہیں اس کے بعد ایک ہی وقت پر کھانا پینا شروع کردیتے ہیں اور پھر تراویح ہوتی ہے پورے معاشرے میں لاکھوں اور کروڑوں لوگ جب ایک کام کررہے ہوتے ہیں تو اس سے اجتماعی عبادت کی فضا بنتی ہے ۔ روزے ایک معاشرتی عبادت بن جاتے ہیں۔ روزے میں سب سے نمایاں جو تبدیلی معاشرے میں نظر آتی ہے اس کو کافی لوگوں نے اسٹڈی کیا ہے کہ کس کس طریقے سے معاشرے کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں،بالخصوص ان معاشروں میں جہاں لوگ بڑی تعداد میں روزے رکھتے ہیں ان معاشروں میں بہت ہی نمایاں اور واضح تبدیلیاں ہمیں نظر آتی ہیں۔ تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ روزے رکھنے کی وجہ سے معاشرے میں ڈسپلن پیدا ہوجاتا ہے اور پورے کا پورا معاشرہ ایک خاص نظم وضبط کا پابند ہوجاتا ہے ، سارے لوگ ایک وقت میں تراویح پڑھتے ہیں ، ایک وقت میں کھانا شروع کرتے ہیں ایک وقت میں ہی کھانا روک دیتے ہیں، یہ ڈسپلن جس معاشرے میں ہوتا ہے یہ اتنا موثر ہوتا ہے کہ دیکھنے والا اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کچھ عرصہ پہلے رمضان کے مہینے میں آسٹریلیا سے ہمارے ایک دوست ڈاکٹر آئے جو بہت بڑے پروفیسر اور ریسرچر ہیں رمضان میں ہم انھیں ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے لے کر گئے جب کھانے کے لیے سب لوگ بیٹھے تو وہ افطار کا وقت تھا، انھوں نے کہاکہ کھانا شروع کریں تو میں نے ان سے کہا کہ یہ ایک خاص وقت ہے جس پر سب لوگ کھانا شروع کریں گے اور پھر وہ وقت آیا اذان ہوئی ، سارے لوگوں نے ایک ساتھ کھانا شروع کیا یہ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوئے اور اس کے بعد انھوں نے پاکستان، ہندوستان کے علاوہ مختلف جگہوں پر لیکچرز دئیے تو ہرجگہ یہ بات کہی کہ میں نے اپنی زندگی میں انسانوں میں اتنا بڑا ڈسپلن کبھی نہیں دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ عورتیں بھی تھیں، بچے اور بوڑھے، بزرگ اورجوان بھی کھانا سامنے رکھا ہوا تھا لوگ پورے دن کے بھوکے پیاسے تھے مگر سب نے ایک خاص وقت پر ہی کھانا...

’’ماہِ رمضان کی خصوصیات‘‘

رمضان المبارک کی باسعادت گھڑیاں قریب ہیں۔ اس کی برکتیں اور رحمتیں بے شمار ہیں۔ یہ مہینہ آخرت کمانے،باطن سنوارنے،اورزندگی بنانے کا ہے۔ اس لیے اس کی پہلے سے تیاری کی ضرورت ہے۔ اس ماہ(رمضان المبارک) میں جتنے کام عام طور پر پیش آتے ہیں، ان میں سے جتنے کام رمضان المبارک سے پہلے ہو سکیں،پہلے ہی کر لیے جائیں۔ او رجو کام رمضان المبارک میں کرنے ہوں، ان کے کرنے میں بھی کم سے کم وقت لگایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت رمضان المبارک میں ذکر وعبادت اور دعا وتلاوت کے لیے فارغ کرسکیں۔ بلا ضرورت لوگوں سے ملاقات کرنا ترک کردیں،تاکہ فضولیات میں قیمتی مہینہ یا اس کے قیمتی لمحات ضائع نہ ہوں۔ اس ماہ میں گناہوں سے بچنے کی خوب کوشش کریں، آنکھ، کان، ناک، دل زبان اور ہاتھ پیروں کو گناہوں سے بچائیں۔ T.V دیکھنے، گانا سْننے سے بچیں، خواتین بے پردگی کے گناہ سے بطور خاص اپنی حفاظت کریں۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، گالم گلوچ، اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب برتیں۔تراویح پورے ماہ پابندی سے ادا کریں۔کیوں کہ عموماََلوگ دس یا پندرہ روزہ تراویح پڑھ کر سمجھ کر لیتے ہیں کہ اب ان پر آگے تراویح نہیں۔ان کا فرض پورا ہوگیا۔یہ سوچ بھی غلط ہے کہ ایک دفعہ تراویح میں قرآن کی سماعت کرلینے سے فرض پورا ہوگیا۔نہیں! مکمل قرآن تروایح میں سننا الگ سنت ہے،اور پورا ماہ پابندی سے تراویح پڑھنا الگ سنت۔ اسی طرح اللہ پاک سے گڑ گڑا کر اپنے والدین، اہل وعیال اور تمام مسلمان مردوں وعورتوں کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے خاص طو رپر اس کی رضا اور جنت مانگیں۔اللہ کی ناراضگی اور دوزخ کی آگ سے پناہ مانگیں۔ رمضان المبارک ایسا مقدس مہینہ ہے کہ اس میں ہر فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابر کردیا جاتا ہے، اور ہر نفل عبادت کاثواب فرض کے برابر۔ یہ صبر وغم خواری کرنے کا مہینہ ہے۔ روزہ افطار کرانا ۔لوگوں کی خوشیوں میں شامل حال ہو کر ان کی ہمت بندھانا۔مساکین و یتامیٰ کی کفالت کرنا۔ اس ماہ کا ہر عشرہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ چنانچہ پہلا عشرہ سراسر رحمت ہے۔ دوسرا عشرہ دِن ورات مغفرت کا عشرہ ہے۔ اور آخری عشرہ دوزخ سے آزادی کے لیے ہے۔اس مہینے میں تمام آسمانی کتابوں اور صحائف کا نزول ہوا ۔خاص طور پر قرآن مجید کا نزول تو خود ہی قرآن نے ہمیں بتایا ہے ۔تفسیر مظہری میں ہے کہ رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے نازل ہوئے۔ جو تعداد میں دس تھے۔ پھر سات سو سال بعد چھ رمضان کو حضرت موسی علیہ السلام پر توریت کا نزول ہوا۔ پھر پانچ سو سال بعد حضرت داؤد علیہ السلام پر13 رمضان کو زبور کا نزول ہوا۔ زبور سے بارہ سو سال بعد 18 رمضان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل کا نزول ہوا۔ پھر انجیل کے بعد پورے چھ سو سال بعد24 رمضان کو لوح محفوظ سے دنیاوی آسمان پر پورے قرآن کا نزول ہوا اور اسی ماہ کی اسی تاریخ کو خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

دبی شخصیت کے ساتھ ایک صبح

تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر ادبی شخصیات کے ساتھ آپ نے سنا ہوگا کہ اکثر شام یا رات منائی جاتی ہے۔کیونکہ سارا دن وہ ادبی کاموں،رسائل،میگزین و دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے شام سے رات گئے تک وہ فارغ ہوتے ہیں۔مشاعرہ ہو یا ادبی نششت محفل رات کو ہی جمتی ہے۔یقین مانئے اکثر شعرا کرام کے گھر اُتنی دہی نہیں جمتی جتنی محفلیں جمتی ہیں۔رات تاخیر سے بسترِ استراحت پر جانے کی وجہ سے صبح صادق آنکھ کا نہ کھلنا قدرتی اور محفل کا ’’خمار‘‘ بھی ہو تا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کوئل و بلبل کو اپنی شاعری میں استعمال کرنے والے شعرا نے کبھی ان پرندوں کی شکل علی الصبح باہر نکل کردیکھی ہو یا ان کی آواز سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں۔دوحہ سے واپسی اسلام آباد کوئی پانچ گھنٹے کا قیام تھا علی الصبح اسلام آباد ائر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنے ایک دیرینہ ادبی دوست کے گھر کا راستہ لیا۔ملاقات چونکہ دوحہ سے روانگی پر ہی فون پہ طے ہو چکی تھی اس لئے صبح سویرے انہیں فون بھی نہ کیا سوچا ہمدم دیرینہ ہے میرے پہنچتے ہی بیڈ روم سے گیٹ تک دیر نہیں لگائے گا۔مقررہ وقت پر اس کے ہاں پہنچے،ڈور بیل دی۔اور ذرا گیٹ کی سائیڈ پہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے،جواب و شکل دونوں ہی ندارد پا کر ایک بار دو بار،سہ بار مسلسل بیل پہ ہاتھ دھرے رکھا،تھوڑا توقف کیا اور سوچ میں پڑ گئے خدایا کسی اور کے گھر تو دھاوا نہیں بول دیا۔چند قدم پیچھے ہٹے،گھر کے باہری حصہ کو غور سے دیکھا،ماسوا اس کے کوئی فرق نہ پایا کہ جب پچھلی بار تشریف آوری ہوئی تھی تو منڈیر پر کالا کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا،جس کی کہانی بھی الگ سے ہے۔کہ پچھلی بار میں نے یونہی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی کوّے کی کائیں کائیں شروع ہو گئی تو موصوف اپنا پسٹل لے کر نمودار ہوئے کہ آج یا کوا نہیں یا مہمان نہیں۔کیونکہ مجھ سے قبل کوئی چار بار کوّے نے کائیں کائیں کی اور چاروں مرتبہ مہمان آ وارد ہوئے اور میں پانچواں مہمان تھا۔صد شکر کہ اس بار کوّے کی جگہ ایک فاختہ تشریف فرما تھی ۔ایک بار پھر ہمت مجتمع کی اور ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ آنکھیں ملتے ہوئے چوکیدار کی شکل دکھائی دی،بھاری بھر کم آواز میں اس استقبالیہ کے ساتھ خوش آمدید کیا کہ اتنی صبح آن دھمکا ہے ،چین سے سونے بھی نہیں دیتے۔لو جی موصوف کیا یہاں تو چوکیدار تک سویا ہوا ہے۔نیم بند آنکھوں سے ہی ہمیں پہچانتے ہوئے دور سے ہی سلام کیا اور اسی ہاتھ سے اندر آنے کا بھی اشارہ فرما دیا۔ڈرائنگ روم کھول کے بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی،نہ چوکیدار،نہ دوست اور نہ کوئی چائے پانی،سب ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ،حالانکہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے نہیں ۔کوئی گھنٹہ بعد کام والی ماسی ڈرائنگ روم کی صفائی کرنے آئی تو ایسے ہی اسے پوچھ لیا کہ یہ چوکیدار کدھر...

بڑھاپے کی بڑھکیں،عینک اور بتیسی

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے حالانکہ اس عمر میں انسان کسی رخ سے بھی سیدھا نہیں ہوتا۔ دونوں کی بتیسی(مصنوعی دانت) اور عینک کا نمبر ایک جیسا ہو جاتا ہے۔جس کو جو چاہئیے مستعار لے اور اپنا گزارہ کر لے۔مثلاًبابا جی کو بھوک لگی ہو تو کھانے کے لئے بتیسی ادھار پکڑی کھانا کھایا بتیسی گرم پانی میں سٹرلائز کی اور ’’بابی‘‘ کے منہ میں۔اماں کو تلاوت فرمانی ہوئی تو بابے کی عینک پکڑی ،دھاگے والے فریم کو ناک کی سلوٹوں پہ ایڈجسٹ کیا ،بعد از تلاوت عینک بڑے پیار سے بابے کی ناک پہ چسپاں۔گویا انسان اگر بوڑھا نہ ہوتا تو چشموں اور دانتوں کے کام کا مکمل مندا ہوتا۔اکثر میری کلاس کے بچے شرارتاً سوال کرتے ہیں کہ سر بڑھاپے کی آمد کا پتہ کیسے چلتا ہے۔تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ جب منہ میں دانت گرنے لگیں اور عینک کا نمبر بڑھنے لگے تو سمجھ جاؤ کہ بڑھاپے کی آمد آمد ہے۔یا پھر اولاد اور اعضائے جسمانی ایک ساتھ جواب دینے لگ جائیں ،بیوی اور یاد داشت کا ساتھ کم ہونے لگے،کھانے کا ذائقہ اور بدصورت عورتوں کا ساتھ حسین لگنے لگے ،حد یہ کہ جب بچے آپ کو نانا ،دادا جبکہ حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنا شروع کر دیں تو کسی قسم کے تردًد سے کام نہ لیتے ہوئے چپ چاپ اپنے بڑھاپے کو ایسے ہی تسلیم کر لیں جیسے بوقتِ نکاح دلہن سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ فلاں بن فلاں قبول ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوا اس کے کہ ہاں’’ سب چلے گا‘‘۔ ویسے بڑھاپا مغرب میں اتنا برا خیال نہیں کیا جاتا جتنا کہ مشرقی لوگوں نے بنا دیا ہے۔مغربی بڈھے جتنا بڑھاپے کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں اتنا ہم مشرقی جوانی میں بھی شائد نہ کرتے ہوں،مغرب میں بوڑھوں کو عمر کے ڈھلتے ہی اولڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ان کی کیئر ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں بوڑھوں کو گھر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ جوانوں کے ’’طعنے معنوں‘‘ کی زد میں رہ کر ان کے کتھارسس کا باعث بن سکیں۔طعنے ذرا ملاحظہ فرمائیں ٌ* بابے کی چارپائی جانوروں والے کمرے میں لگا دیں * بابا ہر بات میں ٹانگ نہ اڑایا کر،حالانکہ بابا اپنی ٹانگوں پہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ * بڑھاپے میں کوئی فعلِ جوانی سر زد ہو جائے تو’’چٹے چاٹے(سفید بالوں) کا خیال کر،چاٹا سفید ہو گیا عقل نہ آئی،بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مشرق میں تو بڑھاپے کو توبہ و استغفار کی عمر خیال کیا جاتا ہے کہ بابا جی تسبیح مصلحہ لے لو اور اللہ اللہ کرو،حالانکہ مغرب میں جو بوڑھے ایامِ جوانی میں جس عورت سے عیاشی کرتے رہے بڑھاپے میں اسی عورت سے شادی کو آئیڈیل عمر اور جوڑی سمجھتے ہیں،اسی لئے بڑھاپا مشرق میں مرض اور بوجھ جبکہ...

اُف یہ بیویاں

عورت ٹیڑھی پسلی کی وہ تخلیق ہے کہ ایک بار بیوی بن جائے تو پھر ٹیڑھے سے ٹیڑھے مرد کو بھی یک جنبش انگلی ایک ہی پاؤں پہ وہ ناچ نچواتی ہے کہ شوہر نامدارکے تمام کس بل نکال دیتی ہے۔اور مرد بے چارہ جو قبل از شادی کسی کو پلے نہیں باندھتا تھا اب بیوی کے پلو سے ایسے بندھا رہتا ہے جیسے اونٹ کے گلے میں بلی اور بلی بھی وہ کی جو بہت سے بلوں میں اکیلی گھری ہوئی ہو جیسے رضیہ غندوں میں اور دور کھڑا ایک خاوند لاچارگی و نحیف آوازمیں کہہ رہا ہو کہ :شیر بن شیر؛ بیوی آ پکا وہ قانونی حق ہے جسے آپ سو(۱۰۰)دو سو(۲۰۰) افراد کی موجودگی میں قبولیت ثلاثہ کے ساتھ بخوشی حق قبولی میں لیتے ہیں۔بعد از شادی بعدین دو سو دن شادی مرگ ہو بھی جائے تو یقین مانیں آپ دنیا کے خوش قسمت ترین خاوند خیال کئے جائیں گے ہو سکتا ہے آپ کو :عائلی شہید: کے اعلی رتبے پر خیال کیا جائے۔ بیوی میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہوایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ یہ جب چاہے کوئی سا بھی روپ دھار سکتی ہے۔جب چاہے گرگٹ بن کے کوئی سا بھی رنگ بدل لے۔رنگ بدلنے کے لئے خاوند،سسرال،یا میکہ کہیں سے بھی بیوی کو اجازت نامہ درکار نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے سے ہی :بیوی نامہ:میں ڈیٹا اسٹور میں پڑا ہوتا ہے۔بس یہ بیوی پر منحصر ہے کہ ذاتی منشا و مدعا کے مطابق کب ،کونسا روپ دھار کر خاوند،ساس،نند،اوردیورانی کو بیوقوف بنانا ہے۔یعنی گھر میں دھونے والے برتنوں کی کثرت ہو تو کثرت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے لئے بھی بیوی کے سر میں درد نکل سکتاہے،سسرالی مہمانوں کی آمد آمد ہو تو :خاتون خانہُ:گندے دوپٹے سے سر باندھ کر بوڑھی :دائیہ ؛کی وضع اپنا سکتی ہے۔اور اگرمیکہ والوں سے کوئی دور پار کے رشتہ دار بھی آ جائیں تو :کپتی بیوی: کے غلاف سے دھارمک ،بی بی اور موٗدب بیوی کہاں سے عود کر آ جائے گی کہ پورا سسرال انگشت بدنداں،حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ :ہیں: ایسا روپ تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔البتہ تنخواہ کا دن وا حد دن ہوتا ہے جس میں ایک دم کپتی بیوی گل اندام محبوبہ کی وضع قطع اپنا لے گی کہ :سکے خاوند: کو یقین نہیں آتا کہ وہ ذاتی بیوی سے مخاطب ہے یا کسی اور کی بیوی کے سامنے کھڑا ہے۔بیوی کے یہ ناز و نخرے اس وقت تک چلتے ہیں تا وقتیکہ شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی نہ ہو جائے۔ ایام ماہ آ خرجب شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی ہو جاتے ہیں تو فوری طور پہ :گجی ماں:جیسے ٹکا کے بے عزتی کرتی ہے جیسے بچپن میں رات تاخیر سے وآنے پہ اماں کرتی تھیں۔بعض اوقات تو اماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہی رہتی ہے۔ بیوی کا پاور ھاؤس اسکا میکہ ہوتا ہے جبکہ خاوند کے لیے یہ جگہ بارگاہ ادب سے کم نہیں۔ ہر اس شخص کو کسھیانی مسکراہٹ اور عزت و مقام بخشتے ہوئے جھک کر سلام اور گلے لگانا پڑتا ہے جو آر...

انگریزی،انگریزنی اور ہم پاکستانی

انگریز برصغیر سے جاتے ہوئے اپنی اپنی انگریزنیوں کو تو ساتھ لے گئے۔تاہم انگریزی ہمارے واسطے بطور عذاب اور امتحان کے چھوڑ گئے۔ہم ٹھہرے باوقار پاکستانی،اپنی چائے میں مکھی بھی پڑ جائے تو اسے مکمل نچوڑ کر اور کبھی کبھار چوس کر چائے بدر کرتے ہوئے کہیں دور پھینک کر بقیہ چائے یہ کہتے ہوئے پی لیتے ہیں کہ حلال کمائی کی ہے، مگر کسی کی جھوٹی چائے کو تو ہاتھ لگانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔بھلا تصور کریں کہ انگریز کی چھوڑی ہوئی انگریزی کو ہم کیسے ہاتھ لگائیں گے۔ہاں اگر انگریزی کی جگہ انگریزنی ہو تو ہاتھ اور منہ لگانے کو ہم قومی فریضہ خیال کریں گے۔پھر بھی ہم یارانِ مہر و محبت ،انگریزی کو بھی صیغہ مونث خیال کرتے ہوئے اس امید سے برداشت کر رہے ہیں کہ اک روز تو آئیگی آتے آتے’’پر کتھوں‘‘نہ انگریزی اور نہ ہی انگریزنی آتی ہے،مایوسی کہیں کفر تک نہ لے جائے اور مذکور ان دو صنف اور صنفِ نازک سے بدلہ لینا مقصود ہو تو رختِ سفر باندھیے گوروں کے دیس کا اور ایک عدد گوری سے شادی کر وا کے خوب اپنی تشنگی بجھائیے۔جیسے 90 کی دہائی میں میرا ایک دوست اس عزمِ صمیم سے ولایت پڑھنے گیا تھا کہ وہاں جا کر انگریزی اور انگریزنیوں سے گن گن کر بدلے لوں گا۔اور وہ اپنی زبان کا پکا نکلا کہ گن گن کر اس نے سات آٹھ انگریزنیوں سے شادیاں کی ،گن گن کر پندرہ بیس مکس کراپ( mix crop ) قسم کے بچے پیدا کئے جنہوں نے بڑھاپے میں ایک ایک کر کے چھوڑ دیا اور اب محترم سوچ رہے ہیں کہ ’’اپنے اور اپنا پاکستان زندہ باد‘‘۔مگر یہ سب ہر بندے کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ انگریزی اور انگریزنی کو ایک ساتھ ہاتھ ڈال لے۔اور اگر یہ دونوں ایک ساتھ کہیں ہمارے ہتھے چڑھ جائیں تو پھر ہم ان دونوں کی وہ ’’ماں بہن‘‘ ایک کرتے ہیں کہ خدا پناہ۔میرا ایک دوست انگریزی کے ساتھ وہ ’’کتے خوانی‘‘ کرتا ہے کہ گورے ان کی انگریزی اگر پڑھ لیں تو انگریزنیوں کو بچوں سمیت موصوف سے ایسے چھپاتے پھریں جیسے بلی اپنے بچوں کو منہ میں دبائے سات گھروں میں لئے پھرتی ہو۔میری نظر سے ان کا لکھا ہوا ایک پیرا گراف گزرا ۔اس پیراگراف پڑھنے کے بعد جو میرے احساسات تھے میں چاہتا ہوں کی قارئین کی نذر کروں،پیرا پڑھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے preposition کو دھوبی پلڑا مار کر اور مجھے کرنٹ لگا کر زمیں پر دے مارا ہو،preposition کے بے ہنگم استعمال سے میں سمجھا ،کہ ہو سکتا ہے کہ میں ہی ذہنی طور پہ تیا ر نہ تھا ،ایسا ہرگز نہیں تھا کیونکہ use of tense کو بھی انہوں نے اتنی tention میں رکھا ہوا تھا کہ میں خود tense ہو گیا کہ الہی ماجرا کیا ہے،بندہ ماسٹر ڈگری کر کے ماسٹر لگا ہوا ہے تو پھر انگریزی میں اتنا ماسٹر کیوں نہیں کہ ایک جملہ ہی ٹھیک سے لکھ سکتا ہو۔اب دیکھئے ذرا کہ ’’میں کہتا ہوں‘‘ کی انگریزی me told اور ’’تم آجانا‘‘ کی they come کی...

ہم تو گم راہ جوانی کے مزوں پر ہیں 

ایک سلپ دینا ، انہوں نے میٹھے اور دھیمے سے لہجے میں کہا۔ میں نے سر اٹھایا تو ایک چالیس پینتالیس سالہ خاتون استقبالیہ کے کاؤنٹر پر میرے سامنے کھڑی تھیں۔ جی آنٹی؟’’ اپنی ایج بتا دیجئے گا پلیز‘‘۔ بس یہ کہنا تھا کہ وہ تو آپے سے ہی باہر آگئیں۔ ایسے لگا جیسے میں نے ان سے عمر نہ پوچھی ہو بلکہ بھڑوں کے چتھے میں ہاتھ ڈال دیا ہویا کوئی ننگی سی گالی دے دی ہو۔ پہلے تو انہوں نے خوب ناک سکیڑی اور پھر غصے سے پھنکارتے ہوئے بولیں : ’’او ہیلو!! کہاں سے آنٹی لگتی ہوں ہاں؟ میں نے ان کے بپھرتے انداز سے ڈرتے ہوئے پیشہ ورانہ معذرت کی اور کہا: سوری باجی غلطی ہو گئی۔ آپ اپنی عمر بتا دیں تا کہ میں سلپ بنا دوں ۔ انہوں نے غصے سے لبریز لہجے میں بڑبڑاتے، منمناتے ہوئے پچیس سال بتائی اور میں سوچنے لگاکہ دِکھتی توچالیس کی ہیں اور بتاتی پچیس ہیں ۔ پھر میں سوچنے لگاممکن ہے سات ادوار میں سے کوئی دور ہو۔ مارک ٹوئن نے کسی سے پوچھا تھا:’’کیا آپ عورت کی زندگی کے سات ادوار سے واقف ہیں؟‘‘تو جواب ملا: نہیں واقف،کون سے ہیں؟ مارک ٹوئن نے جواب دیا: ’’ بچپن، لڑکپن، جوانی، جوانی، جوانی اور جوانی اور پھر جوانی۔ویسے بھی عمر کے معاملے میں عورتوں کا ہمیشہ سے یہ رویہ رہا ہے کہ جب وہ چھوٹی ہوں تو چاہتی ہیں کہ انہیں بڑا سمجھا جائے اور جب بڑی عمر کی ہوتی ہیں تو چاہتی ہیں کہ انہیں چھوٹا سمجھا جائے۔ خیر ! میں نے سلپ بنا کے دی تو بلا ٹلی اور میں نے سکھ کا سانس لیا کیوں کہ جب تک وہ یہاں کھڑی تھیں مجھے ہی گھورے جارہی تھیں۔ جیسے نظروں ہی نظروں میں ہڑپ کر جانا چاہتی ہوں۔ شاید انہیں لگ رہا تھا کہ میں نے راز سے پردہ اٹھا لیا۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بیل بجی ، جو اشارہ تھا خطرے کا، کہ ڈاکٹر صاحب بلا رہے ہیں۔چشمہ ناک پے اوپر کیا جو ذرا سرک کر چونچ پر آگیا تھا، کپڑے وپڑے ٹھیک کیے اورجا پہنچے ڈاکٹر صاحب کے کمرہ میں اور ہاتھ باندھ کر مؤدبانہ انداز سے کھڑے ہوئے اور عرض کیا : جی سر؟ ڈاکٹر صاحب نے اول تو چشمے کے اوپر سے مجھے گھورتے ہوئے سر تا پا جائزہ لیا پھر بولے: بھئی عبدل!آپ عمر تو ٹھیک لکھا کریں ۔ آپ جانتے بھی ہیں کہ میں مریض کو اس کی عمر کے حساب سے میڈسین دیتا ہوں ۔ یہ دیکھیں اب ، آپ نے فورٹی پلس کی سلپ پر عمر پچیس سال لکھی ہے جبکہ آئی ڈی کارڈ کے حساب سے چالیس، اکتالیس بنتی ہے۔میں نے سر جھکالیا اور رسماً معذرت کی، وہ خاتو ن وہیں پر سانس کھینچے بیٹھی مجھے ہی گھور رہی تھیں۔جان چھوٹی سو لاکھوں پائے۔ میں سوچ رہا تھا، پتا نہیں خواتین اپنی عمر چھپاتی کیوں ہیں؟ شائد احساس کمتری کی وجہ سے یا کم عمر نظر آنے کے لیے؛ کہتی ہوں گی انہیں جوان سمجھا جائے۔ ویسے بعض مرد بھی اپنی عمر چھپاتے ہیں ۔ مرد کی...

ہمارے بلاگرز