خبر لیجیے زباں بگڑی

!فوج کا سپہ سالار

آج پہلے اپنی خبر لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جسارت میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے بغیر کسی تردد کے ’’بے مہابہ‘‘ لکھ ڈالا۔ فاضل مضمون نگار سے کون پوچھے کہ یہ کیا ہے؟ یہ دراصل ’’بے محابا‘‘ ہے اور اس میں ہائے ہوز (ہاتھی والی ’ہ‘) نہیں بلکہ ہائے حطی (حلوہ والی ’ح‘) آتی ہے۔ اس غلطی سے ہمیں ایک فائدہ ہوا کہ لغت میں محابا کا مطلب تلاش کرلیا۔ دراصل بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کا مفہوم اور استعمال تو معلوم ہوتا ہے لیکن لغوی معنی یا ان کی اصل کا علم نہیں ہوتا۔ ’’محابا‘‘کے لغوی معنی باہم نزدیک کرنا، آپس میں سلوک کرنا، مجازاً بمعنی فروگزاشت۔ اور یہ محابہ نہیں بلکہ محابا ہے۔ بہارِ عجم کے مطابق محابا (بضم اول) بمعنی معاوضہ کرنا اور بخشش ہے۔ فارسی میں بمعنی خوف و ہراس مستعمل ہے۔ اردو میں ’’بے محابا‘ کا مطلب ہوا بغیر کسی خوف و خطر کے۔ غالب کا شعر ہے: محابا کیا ہے میں ضامن اِدھر دیکھ شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا جسارت کے مضمون میں شائع ہونے والے ’’بے مہابہ‘‘ میں دو غلطیاں ہیں۔ کچھ دن پہلے ایک خبرمیں تھا کہ ’’راز افشاں ہوگئے‘‘۔ کسی سب ایڈیٹر نے راز افشاں کی طرح خبر کے صفحے پر چھڑک دیے۔ افشا اور افشاں کی غلطی پر پہلے بھی توجہ دلائی جاچکی ہے۔ مکرر عرض ہے کہ ’’اِفشا‘‘ کا الف بالکسر ہے یعنی اس کے نیچے زیر ہے، جب کہ عموماً اسے الف بالفتح یعنی اَفشا بولاجاتا ہے اور لگتا ہے کہ یوں ہی بولا جاتا رہے گا۔ اِفشا کا قافیہ اِخفا ہے۔ اب اگر کوئی اخفا کے الف پر بھی زبر لگا دے تو کہا کیا جاسکتا ہے۔ اب ذرا فرائیڈے اسپیشل کا جائزہ لیں۔ تازہ شمارے (7تا 13جولائی) میں ایک دلچسپ ترکیب نظر سے گزری۔ صفحہ 8 پر ایک حکایت میں اورنگ زیب عالمگیرؒ کو ’’فوج کا سپہ سالار‘‘ لکھا گیا ہے۔ ہم اس سوچ میں پڑ گئے کہ فوج اور سپہ میں کیا فرق ہے۔ اورنگ زیب ایک بڑی شخصیت تھی اس لیے شاید اسے سپہ سالار یا فوج کا سالار لکھنا اس کی شان کے شایان نہیں تھا۔ یہ حکایت مولانا سراج الدین ندوی کی کتاب ’’کردار کے غازی‘‘ سے لی گئی ہے۔ لیکن کیا یہ غلطی حضرت مولانا کی ہے؟ ہو بھی سکتی ہے۔ کئی نامور لکھنے والوں کی تحریروں میں یہ غلطی نظر سے گزری ہے۔ فوج عربی کا، سپہ فارسی کا لفظ ہے، لیکن مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔ ایک لفظ ’’اتباع‘‘ ہے۔ ایک طالب علم نے پوچھ لیا کہ یہ مذکر ہے یا مونث؟ اس کا کہنا تھا کہ کئی علما کی تقریر اور تحریر میں یہ مذکر استعمال ہوا ہے۔ سید مودودیؒ نے اتباع کو مذکر لکھا ہے، تاہم ان ہی کے خوشہ چیں محترم حافظ ادریس نے اسے مونث باندھا ہے۔ فرائیڈے اسپیشل کے اسی شمارے میں حافظ صاحب کا جملہ ہے ’’ان کی زیادہ سے زیادہ اتباع ۔۔۔ رسول اکرم ؐ کی اتباع مرحوم کے ایمان و عمل کا حصہ تھی‘‘۔ لغت میں یہ مذکر ہے۔ عربی کا لفظ ہے (الف بالکسر) مطلب ہے پیروی کرنا۔...

نیک اختر

ہمارے صحافی اور ادیب کسی بھی لفظ کے آگے ’’یت‘‘ (ی ت) بڑھاکر اسم صفت بنالیتے ہیں۔ اس طرف پروفیسر علم الدین نے بھی توجہ دلائی تھی۔ ایک مضمون میں ’’معتبریت‘‘ پڑھا۔ غنیمت ہے کہ اعتباریت نہیں لکھا۔ لیکن اعتبار میں کیا خرابی ہے؟ یا اپنے آپ پر اعتبار نہیں کہ اس طرح ’’معتبریت‘‘ قائم نہیں ہوسکے گی۔ جامعہ کراچی میں اردو کے استاد اور زبان پر دسترس رکھنے والے پروفیسر رؤف پاریکھ ایک اخبار میں زبان کے حوالے سے مضامین بھی لکھ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک مضمون میں انہوں نے عام ہوجانے والی کئی اصطلاحوں کی وجۂ تسمیہ بھی بیان کی ہے، مثلاً ’’سینڈوچ‘‘۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عبدالرحیم کی کتاب ’’پردہ اٹھادوں اگر چہرۂ الفاظ سے‘‘ بڑی دلچسپ ہے جس میں الفاظ کا تاریخی، لغوی اور لسانی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ ہم بھی اس سے استفادہ کرچکے ہیں، مثلاً ہڑتال کی وضاحت بڑی دلچسپ ہے۔ رؤف پاریکھ نے بائیکاٹ کی جو تاریخ بیان کی ہے ایسی ہی ڈاکٹر عبدالرحیم نے اپنی کتاب میں دی ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ معروف عالم دین مفتی منیب الرحمن بھی اصلاحِ زبان کے میدان میں آگئے ہیں۔ ان کی آمد اس لیے بھی خوش آئند ہے کہ وہ عربی و فارسی پرعبور رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنے کسی مضمون میں لکھا تھا ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘‘۔ اور یہی معروف بھی ہے، لیکن مفتی صاحب نے اس کی اصلاح فرمائی ہے۔ یہ سعدی شیرازی کا شعر ہے جو یوں ہے: نہ در ہر سخن بحث کردن رواست خطا بر بزرگاں گرفتن خطاست یعنی خطائے بزرگاں کی جگہ ’’خطا بر بزرگاں‘‘۔ شیخ سعدی زندہ ہوتے تو ممکن ہے کہ عوامی اصلاح قبول کرلیتے کہ اس طرح مصرع رواں اور سہل ہوگیا ہے اور ’’بر۔بز‘‘ کے عیب تنافر سے بھی پاک ہوگیا ہے۔ ایسے کئی شعر ہیں جو عوام کی زبان پر چڑھ کر زیادہ جامع ہوگئے ہیں۔ مفتی صاحب نے ’’نور چشمی‘‘ کی وضاحت بھی کی ہے کہ یہ مہمل ہے۔ اسی پر یاد آیاکہ شادی کے دعوت نامے میں نور چشمی کے علاوہ ’’دختر نیک اختر‘‘ بھی لکھا جاتا ہے۔ نیک اختر کا مطلب ہے اچھے ستارے والی یعنی اچھی قسمت والی۔ گو کہ عربی میں ’نیک‘ کے معنی اُس کے برعکس ہیں جو ہم اردو میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ تو جملۂ معترضہ ہے لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضعیف الاعتقاد انسان نے اپنی قسمت کی باگ ڈور ستاروں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے کہ فلاں ستارے کے زیراثر پیدا ہونے والا بخت ور ہوگا اور فلاں ستارے کے زیر سایہ پیدا ہونے والا بدقسمت۔ ہندوؤں میں تو جیوتش ودیا، ستارہ شناسی، دست شناسی وغیرہ جیسی باتیں سمجھ میں آتی ہیں کہ پورا دھرم ہی ضعیف الاعتقادی کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی جنم کنڈلی بنوا لی جاتی ہے اور پنڈت جی نومولود کا پورا زائچہ بناکر دے دیتے ہیں۔ لیکن یہ کام مسلمان بھی کرتے ہیں۔ مرزا غالب کا مصرع ہے اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے اور علامہ اقبال نے ستاروں سے حال معلوم کرنے پر کہا تھا کہ ستارہ کیا مری...

’نوچی‘ کا بھونڈا استعمال

جسارت کے ایک بہت مقبول اور قارئین کے پسندیدہ کالم نگار، ادیب وشاعر ’’بالخصوص‘‘ کو عموماً باالخصوص لکھتے ہیں، یعنی ایک الف کا اضافہ کردیتے ہیں۔ لیکن اس سے تلفظ بھی بگڑ جاتا ہے اور با۔الخصوص ہوجاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بالکل میں بھی ایک الف بڑھا دیا جائے۔ اب تو کچھ لوگوں کو بالکل میں ایک الف بھی گوارہ نہیں اور ان کی دلیل ہے کہ جیسے بولا جاتا ہے ویسے ہی لکھنا چاہیے۔ ہمارے یہ لسانی دانشور اس اصول کا اطلاق انگریزی پر نہیں کرتے، مثلاً نالج کے شروع میں یہ جو فضول سا K ہے اسے نہ لکھا کریں۔ انگریزی میں ایسے کئی K فالتو ہیں جو بولے نہیں جاتے مگر لکھے جاتے ہیں۔ بعض املا اور تلفظ لڑکپن ہی میں پختہ ہوجاتے ہیں اور لاشعوری طور پر استعمال ہوجاتے ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت میں بچوں کے صفحے پر املا درست کرنے کی کاوش نظر آتی ہے۔ یہ بہت اچھا سلسلہ ہے۔ بچوں کا املا درست ہوگا تو وہ بڑوں کو بھی درست کرسکیں گے۔ ہم اب تک ’کسر‘ اور ’کثر‘ میں گڑبڑا جاتے ہیں۔ عرصے تک گلف (GULF) کو گلْف (بضم اول) کہتے رہے اور اب بھی کئی الفاظ کے تلفظ میں گڑبڑا جاتے ہیں۔ ایک لفظ ’’نوچی‘‘ تقریباً متروک ہوچکا ہے البتہ لغات میں موجود ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کا مطلب اچھا نہیں ہے۔ 21 اگست کے ایک اخبار میں ایک بہت سینئر صحافی نے اپنے سیاسی منظرنامہ میں یہ لفظ استعمال کیا ہے لیکن بہت بھونڈے طریقے سے۔ سیاسی تجزیے میں ان کا جملہ ہے ’’محل سرا کی نوچیاں غلام گردش میں پلنے والی سازشوں کی کہانیاں سنارہی ہیں‘‘۔ ان صحافی کو نوچی کا مطلب تو معلوم ہوگا اور یہ لفظ شعوری طور پر استعمال کیا گیا ہوگا۔ ’’نوچی‘‘ اُس نوعمر لڑکی کو کہتے ہیں جس سے طوائفیں پیشہ کراتی ہیں۔ یہ ان کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہیں۔ اب ذرا مذکورہ جملے میں نوچی کے استعمال پر غور کریں۔ یہ محل سرا کس کی ہے جہاں غلام گردش میں نوچیاں ٹہلتی پھرتی ہیں اور سازشوں کی کہانیاں سناتی پھرتی ہیں۔ نوچی فارسی زبان کا لفظ ہے مگر کیا کوئی نوچی کسی صحافی سے ٹکرا گئی ہے؟ سوال یہ ہے کہ یہ نوچیاں کس نے پال رکھی ہیں اور کس کی نگرانی میں ہیں؟ معذرت کے ساتھ، ایک متروک لفظ کا احیا تو ہوگیا لیکن اخلاق سے باہر۔ مناسب تھا کہ اس کی جگہ خادمائیں کا لفظ استعمال کیا ہوتا۔ ایک بڑے اخبار کے مضمون کی سرخی تھی ’’گھر ملازم بچوں کی مقتل گاہ بن گئے‘‘۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ اس حوالے سے مضمون چشم کشا ہے، لیکن یہ ’’مقتل گاہ‘‘ کیا ہوتا ہے؟ صرف مقتل کافی ہے، اس میں گاہ کا مفہوم موجود ہے۔ ایسے ہی مذبح خانہ غلط ہے۔ یا تو صرف مذبح لکھا جائے یا ذبح خانہ۔ اردو میں رائج ہونے والی انگریزی اصطلاحات کے بارے میں تو عموماً تشریح ہوتی رہتی ہے اور ان کی اصل تک پہنچا جاتا ہے۔ عربی، فارسی کے کئی الفاظ ایسے ہیں جو اردو میں آکر اپنے معانی بدل...

گیسوئے اردو کی حجامت

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’مشاق‘‘ طیارے کے حادثے پر اسے ’’مشتاق‘‘ کہا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ایک خاتون خبر دے رہی تھیں کہ فلاں نے ’’جھان سہ‘‘ دے دیا۔ انہیں گوارہ نہیں ہوا کہ جھانسہ کے نون غنہ کو خالی جانے دیا جائے۔ حیرت تو اس پر ہوتی ہے کہ کوئی اصلاح کرنے والا بھی نہیں۔ جب جب خبر دہرائی گئی، یہی تلفظ سننے میں آیا۔ ایک صاحب خبر دے رہے تھے کہ فلاں نے فلاں کو ’’ہوس‘‘ (بروزن جوش، ہوش) کا نشانہ بنایا۔ ٹی وی چینلوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ یہ ذریعہ براہِ راست سماعت و بصارت پر اثرانداز ہوتا ہے اور کچے ذہن اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ تلفظ صحیح کرانے کی کوشش کرو تو جواب ملتا ہے ’’ہمیں تو یہی پڑھایا گیا ہے، آپ نئی اردو ایجاد کررہے ہیں!‘‘ اس پر یاد آیا کہ اسکول میں تو ہمیں بھی برطانوی بادشاہ چارلس کا تلفظ ’’چار۔لس‘‘ پڑھایا گیا تھا۔ کسی نے ڈانٹ کر تصحیح کردی تھی۔ لیکن گزشتہ دنوں پی ٹی وی پر ’’چار۔لس‘‘ سن کر خوشی ہوئی کہ ہم نے گیسوئے اردو ہی نہیں انگریزی کا حشر بھی وہی کیا ہے جو انگریزوں نے برعظیم پاک و ہند کا کیا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کبھی صحیح تلفظ کے لیے معروف تھا اور صرف تلفظ صحیح کرنے کے لیے سکہ بند ادیبوں کی خدمات حاصل تھیں۔ ’’سکہ بند‘‘ لکھ تو دیا پھر خیال آیا کہ کسی نے پوچھ لیا کہ یہ کیا ہے، تو کیا جواب دیں گے، یہ کہ ایسا ہی پڑھا ہے! ایک سکہ تو پنسل میں ہوتا ہے اور ایک کبھی کبھار جیب میں بھی ہوتا ہے اور جیب بند ہوسکتی ہے۔ تاہم ’’سکہ بند‘‘ کا مطلب ہے: پختہ، معیاری، سچا۔ خود سکہ کے کئی مطلب ہیں مثلاً ٹھپا، ضرب، چھاپ، نقش کیا ہوا، ڈھلا ہوا، سرکاری منقش زر جو ملک میں چلے، طرز، روش، طریقہ، قانون، رعب داب وغیرہ۔ اسی سے سکہ بٹھانا، سکہ پڑنا وغیرہ ہیں۔ ایک عجیب مطلب سکہ قلب کا ہے، یعنی جھوٹا سکہ، وہ سکہ جو ناجائز طور پر بنایا جائے۔ یہ سکہ عربی میں چلتا ہے۔ ’ق‘ کا تلفظ ’ک‘ کچھ اہلِ پنجاب سے مخصوص نہیں ہے جن کو وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ یہ کینچی (قینچی) والا کاف ہے یا کتے والا۔ یہی ’ق‘ دکن میں جاکر ’خ‘ سے بدل جاتا ہے اور قاضی جی ’خاضی جی‘ ہوجاتے ہیں۔ لیکن ماہرالقادری نے لکھا ہے کہ بعض عرب قبائل بھی قاف کی...

فرنگی بیماریاں

ہمارے ہاں بہت کچھ باہر سے آتا ہے حتیٰ کہ کبھی کبھار وزیراعظم بھی۔ ہمارے اداروں کے نام بھی فرنگی ہیں۔ اور تو اور بیماریاں بھی انگریزی یا لاطینی میں حملہ آور ہوتی ہیں۔ چکن گونیا کا شکار ہوئے تو یہی سوچتے رہے کہ اپنی زبان میں اسے کیا نام دیں۔ لیکن یہی کیا، ڈینگی بخار، یلو فیور، نیگلریا وغیرہ بھی ہیں۔ ملیریا، ٹائیفائیڈ اور نمونیہ تو اپنے ہی سے لگتے ہیں۔ کسی ڈاکٹر سے جاکر کہیں کہ باری کا بخار، یا تپِ محرقہ یا میعادی بخار ہے تو وہ ذہنی حالت پر شک کرے گا۔ ممکن ہے کوئی حکیم صاحب سمجھ لیں کہ یہ ملیریا اور ٹائیفائیڈ ہیں۔ لیکن ’’ذات الرّیہ‘‘ تو شاید نوجوان حکیم بھی نہ سمجھ پائیں۔ یوں بھی نمونیہ تو اب اپنا ہی ہوگیا ہے۔ ویسے یہ بھی ’دساوری‘ ہے۔ انگریزی میں اس کے ہجے بھی مشکل ہیں جو N کے بجائے P سے شروع ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دساوری کیا ہے؟ اس کی جگہ غیر ملکی یا ’فارن‘ آسان نہیں! معاف کیجیے، شاید ابھی ہم پر چکن گونیا کے اثرات باقی ہیں۔ ہماری عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاکر قارئین کو پرانے کالم بطور ’’نشر مکرر‘‘ پڑھوا دیے گئے، گو کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ نئے ہی ہوں گے، ہمیں بھی نئے نئے سے لگے۔ کہیں کوئی سہو ہوجائے تو ہمارے ممدوح جناب باب الدین، میرپورخاص سے بابِ التفات کھول دیتے ہیں۔ انہوں نے توجہ دلائی ہے کہ ’’فرائیڈے اسپیشل‘ شمارہ 29 میں آپ نے ایک جگہ فرمایا ’’محطّہ تو ظاہر ہے احاطہ سے ہے‘‘۔ یہ صحیح نہیں۔ محطہ کا مصدر حَطّہ ہے جس کے دیگر معانی کے علاوہ ایک معنیٰ گرنا یا اترنا ہے۔ البتہ محیط اور محاط کا مصدر احاطہ صحیح ہے۔‘‘ اس سے آگے انہوں نے دل دہی کے لیے لکھا کہ آپ کا کالم نہایت شوق اور دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اور آپ کی تصحیح سے ہمارا فائدہ ہوجاتا ہے۔ سچی بات ہے کہ عربی ہماری اردو سے زیادہ کمزور ہے۔ مصادر یاد نہیں۔ محطہ کا تعلق احاطہ سے یوں جوڑ دیا تھا کہ یہ لفظ اردو میں عام فہم ہے۔ اِحاطہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے گھری ہوئی چار دیواری، گھرا ہوا میدان، چار دیواری سے گھری ہوئی جگہ خواہ اس میں کوئی عمارت ہو یا نہ ہو۔ برطانوی ہند میں احاطہ پریزیڈنسی یا صوبے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا تھا جیسے احاطہ مدراس، احاطہ بنگال، احاطہ بمبئی وغیرہ۔ احاطہ کھینچنا کسی جگہ کو گھیرنا۔ آج کل شاید احاطے کی چائنا کٹنگ کردی جاتی ہے۔ ایک محترم قاری جناب عقیل نے شکوہ کیا ہے کہ چراغ تلے اندھیرا ہے۔ حالانکہ اب چراغوں کی جگہ بلب جلتے ہیں جن کے نیچے نہیں اوپر اندھیرا ہوسکتا ہے۔ سنا ہے کہ ایک صاحب چراغ دین نے اپنا نام بدل کر بلب دین کرلیا تھا۔ عقیل صاحب کا اشارہ اس طرف ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیاں تو پکڑتے ہیں لیکن خود جسارت اور فرائیڈے اسپیشل میں غلطیاں شائع ہورہی ہیں۔ اب کیا کیا جائے، کوئی ہماری اصلاح قبول کرنے پر تیار نہیں۔ لیکن پھر بھی کہیں...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے ‘‘کا آسان نسخہ

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قولِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن اپنی رائے کا اظہار تو کیا جاسکتا ہے۔ مولوی عبدالحق اپنی کتاب ’قواعدِ اردو‘ میں لکھتے ہیں: ’’بعض عربی الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں الف ’ی‘ کی صورت میں لکھا جاتا ہے جیسے عقبیٰ اور دعویٰ‘‘۔ اردو میں ایسے الفاظ ’الف‘ سے لکھنے چاہئیں مثلاً دعوا، اعلا، ادنا۔ انہوں نے عقبیٰ کا حوالہ دے کر اسے الف سے یعنی عقبا نہیں لکھا۔ ہماری رائے یہ ہے کہ عربی کے جو الفاظ اپنے مخصوص املا کے ساتھ اردو میں آگئے ہیں انہیں ایسے ہی لکھنا چاہیے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ جب سے زبانِ اردو وجود میں آئی ہے، عربی کے کئی الفاظ اپنے املا کے ساتھ ہی اردو بلکہ فارسی میں بھی جوں کے توں لے لیے گئے ہیں، جیسے صلوٰۃ، مشکوٰۃ، زکوٰۃ وغیرہ۔ چنانچہ اب املا ’’درست‘‘ کرنے کی مہم چلی تو تمام پرانے علمی، ادبی و مذہبی ذخیروں پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ طالب علم ایک طرف تو اعلا، ادنا، دعوا پڑھے گا، دوسری طرف اسے پرانے لٹریچر (جو زیادہ پرانا بھی نہیں) اور لغات میں مختلف ہجے ملیں گے۔ یہ قرآنی املا ہے اور اسے بحال رکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قرآن پڑھنے والے کے لیے یہ الفاظ نامانوس نہیں ہوں گے۔ عربی الفاظ کا املا بدلنے کا رواج چل پڑا تو بات بہت آگے تک جائے گی۔ کیا عیسیٰ اور موسیٰ کا املا بھی بدل کا عیسا اور موسا کیا جائے گا؟ چھوٹا منہ بڑی بات، ہمیں تو اس سے اتفاق نہیں۔ بعض الفاظ کی جمع الجمع تو ہے جیسے دوا، ادویہ اور ادویات۔ لیکن کچھ لوگ زبردستی جمع الجمع بنا رہے ہیں۔ ٹی وی کے میزبان اور ’’روائے عافیت‘‘ کے شہرت یافتہ کامران خان صرف ’الفاظ‘ یا ’جذبات‘ کہہ کر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ شاید زور پیدا کرنے کے لیے ’’الفاظوں‘‘، ’’جذباتوں‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹی وی کے میزبانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اُن کی غلطیاں صرف اُن تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سننے والوں کو بھی خراب کرتی ہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ اب تک کسی نے کامران خان کو ’’الفاظوں‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا! شاید یہ اختیار رکھنے والے خود بھی ’’جذباتوں‘‘ میں بہہ جاتے ہوں۔ باباے اردو کی ’ے‘ پر ہمزہ لگانا صحیح نہیں ہے۔ لیکن ان کی مذکورہ کتاب جو انجمن ترقی اردو، پاکستان نے شائع کی ہے اُس میں باباجی کی ’ ے‘ پر ہمزہ لگا ہوا ہے یعنی ’بابائے‘۔ مولوی عبدالحق نے ’’اقوام‘‘ کو مذکر لکھا ہے، ’’جب یونانیوں کو دوسرے اقوام سے سابقہ پڑا‘‘۔...

وتیرہ یا وطیرہ؟

کہتے ہیں ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔‘‘ حافظ محمد ادریس صاحب علم و فضل میں بحر ذخار ہیں لیکن عمر میں ہم سے چھوٹے ہیں، اس لیے ان کے مضامین میں سہو کی نشاندہی خطا نہ سمجھی جائے۔ بلاشبہ حافظ ادریس ایک دانشور اور بڑے قلم کار ہیں۔ وہ ایک علمی ادارے کے سربراہ بھی ہیں، اس لیے یہ خدشہ ہے کہ ان کے سہو کو لوگ سند نہ بنالیں کہ حافظ ادریس نے لکھا ہے تو یہی صحیح ہوگا۔ فرائیڈے اسپیشل کے گزشتہ شمارے (30 جون تا 6 جولائی) میں مرحوم رائے بخش کلیار کے بارے میں ان کا ایک بہت اچھا مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں انہوں نے ’’وتیرہ‘‘ کو وطیرہ لکھا ہے۔ یہ بہت عام غلطی ہے لیکن حافظ صاحب کو عربی پر بھی عبور ہے اس لیے انہیں گریز کرنا چاہیے تھا۔ وتیرہ عربی ہی کا لفظ ہے لیکن بغیر ’ط‘ کے۔ ایک شعر حاضر ہے: یار کو لاکھا جمانے کا وتیرہ ہو گیا دعوت لب، خونِ ناحق کا ذخیرہ ہو گیا وتیرہ تو عربی کا لفظ ہے لیکن بہت سے لوگ ہندی کے لفظ ’’ناتا‘‘ میں ’ط‘ شامل کرکے اسے معرب کرلیتے ہیں یعنی ’ناطہ‘ یا ’ناطا‘۔ حافظ ادریس صاحب سے بہت معذرت کے ساتھ، انہوں نے اپنے مذکورہ مضمون میں کئی جگہ ’’بال آخر‘‘ لکھا ہے۔ یہ کیا ہے؟ بال بروزن دال، گال، جال وغیرہ۔ بال آخر لکھا جائے گا تو لوگ پڑھیں گے بھی اسی طرح۔ اسے ’’بل آخر‘‘ کون پڑھے گا؟ اگر بالآخر کا املا مشکل ہے تو بال آخر کی جگہ بل آخر ہی لکھ دیا ہوتا۔ کم از کم تلفظ تو صحیح ہوتا۔ اس قباحت سے بچنے کے لیے ’آخرکار‘ لکھ دیا ہوتا۔ کل کوئی بالکل کو بھی ’بال کل‘ لکھنے لگے گا۔ ماہر لسانیات رشید حسن خان مرحوم کی تحریک یہی تھی کہ جو الفاظ جس طرح بولے جاتے ہیں اسی طرح لکھے بھی جائیں مثلاً ’بلکل‘ اور ’بل آخر‘۔ لیکن کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح رشید حسن خان کا مقصد عربی املا سے دور کرنا تھا، اسی لیے انہوں نے ’اعلیٰ‘ کا املا ’اعلا‘ کردیا۔ شاید وہ بھارتی مسلمانوں کو ہندی سے قریب لانا چاہتے ہوں۔ ’بالکل‘ بھی دراصل ’بالکلّیہ‘ ہے۔ ’لاکن‘ عربی کا لفظ ہے اور قرآن کریم میں اسی طرح آیا ہے، لیکن اردو میں آکر یہ ’لیکن‘ ہوگیا اورلام پر کھڑا زبر غائب ہوگیا۔ حافظ صاحب نے مرحوم رائے خدا بخش کلیار کے منہ سے سنا ہوا شیخ سعدی کا ایک شعر درج کیا ہے کہ: دیدۂ سعدی و دل ہمراہ توست تا پنداری کہ تنہا می روی ہوسکتا ہے کہ مرحوم کلیار اسی طرح پڑھتے ہوں اور ممکن ہے کہ کمپوزنگ کی غلطی ہو، ورنہ صحیح شعر یوں ہے: دیدۂ سعدی و دل ہمراہ تست تانہ پنداری کہ تنہا می روی دوسرے مصرعے میں سہو ’نہ‘ رہ گیا جس سے مفہوم متاثر ہوجاتا ہے۔ سچی بات ہے کہ شعر تو ہمیں بھی صحیح یاد نہیں رہتے اور حافظ ادریس کی تو بے پناہ علمی مصروفیات ہیں۔ اخبارات میں ’’بیزارآنا‘‘ پڑھنے میں آتا ہے، جب کہ ہمارے خیال میں بیزار کے ساتھ ’ہونا‘ آنا چاہیے، یا پھر بیزار ہوجانا۔ ’بیزار‘ فارسی کا لفظ ہے۔...

اہم بلاگز

روزہ اور معاشرتی صحت

روزہ بظاہر ایک انفرادی عبادت ہے ، ہر فرد صبح سویرے اٹھتا ہے ، سحری کرتا ہے، پورا دن بھوکا پیاسا رہتا ہے اور شام میں افطار کرتا ہے اور اس کے روزے کا اس کو اور اس کے رب کو پتا ہوتا ہے، کسی تیسرے فرد کو پتا نہیں ہوتا ، ان معنوں میں روزہ ایک انفرادی عبادت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ روزہ ایک اجتماعی عبادت بھی ہے معاشرتی عبادت بھی ہے ، اس لیے کہ پورا معاشرہ ایک ساتھ ایک وقت میں روزہ رکھنا شروع کرتا ہے ، چاند دیکھا جاتا ہے اور اس کے بعد پورے معاشرے کے اندر ایک نمایاں تبدیلی ہمیں نظر آتی ہے۔لوگ پہلی رمضان سے تراویح کے لیے جانا شروع کردیتے ہیں ، مسجدیں بھر جاتی ہیں ، پورے پورے مسلم معاشروں میں ایک وقت پر سحری ہوتی ہے ، ایک وقت پر لوگ کھانا روک دیتے ہیں ، پورے دن بھوکا پیاسا رہتے ہیں اس کے بعد ایک ہی وقت پر کھانا پینا شروع کردیتے ہیں اور پھر تراویح ہوتی ہے پورے معاشرے میں لاکھوں اور کروڑوں لوگ جب ایک کام کررہے ہوتے ہیں تو اس سے اجتماعی عبادت کی فضا بنتی ہے ۔ روزے ایک معاشرتی عبادت بن جاتے ہیں۔ روزے میں سب سے نمایاں جو تبدیلی معاشرے میں نظر آتی ہے اس کو کافی لوگوں نے اسٹڈی کیا ہے کہ کس کس طریقے سے معاشرے کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں،بالخصوص ان معاشروں میں جہاں لوگ بڑی تعداد میں روزے رکھتے ہیں ان معاشروں میں بہت ہی نمایاں اور واضح تبدیلیاں ہمیں نظر آتی ہیں۔ تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ روزے رکھنے کی وجہ سے معاشرے میں ڈسپلن پیدا ہوجاتا ہے اور پورے کا پورا معاشرہ ایک خاص نظم وضبط کا پابند ہوجاتا ہے ، سارے لوگ ایک وقت میں تراویح پڑھتے ہیں ، ایک وقت میں کھانا شروع کرتے ہیں ایک وقت میں ہی کھانا روک دیتے ہیں، یہ ڈسپلن جس معاشرے میں ہوتا ہے یہ اتنا موثر ہوتا ہے کہ دیکھنے والا اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کچھ عرصہ پہلے رمضان کے مہینے میں آسٹریلیا سے ہمارے ایک دوست ڈاکٹر آئے جو بہت بڑے پروفیسر اور ریسرچر ہیں رمضان میں ہم انھیں ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے لے کر گئے جب کھانے کے لیے سب لوگ بیٹھے تو وہ افطار کا وقت تھا، انھوں نے کہاکہ کھانا شروع کریں تو میں نے ان سے کہا کہ یہ ایک خاص وقت ہے جس پر سب لوگ کھانا شروع کریں گے اور پھر وہ وقت آیا اذان ہوئی ، سارے لوگوں نے ایک ساتھ کھانا شروع کیا یہ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوئے اور اس کے بعد انھوں نے پاکستان، ہندوستان کے علاوہ مختلف جگہوں پر لیکچرز دئیے تو ہرجگہ یہ بات کہی کہ میں نے اپنی زندگی میں انسانوں میں اتنا بڑا ڈسپلن کبھی نہیں دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ عورتیں بھی تھیں، بچے اور بوڑھے، بزرگ اورجوان بھی کھانا سامنے رکھا ہوا تھا لوگ پورے دن کے بھوکے پیاسے تھے مگر سب نے ایک خاص وقت پر ہی کھانا...

’’ماہِ رمضان کی خصوصیات‘‘

رمضان المبارک کی باسعادت گھڑیاں قریب ہیں۔ اس کی برکتیں اور رحمتیں بے شمار ہیں۔ یہ مہینہ آخرت کمانے،باطن سنوارنے،اورزندگی بنانے کا ہے۔ اس لیے اس کی پہلے سے تیاری کی ضرورت ہے۔ اس ماہ(رمضان المبارک) میں جتنے کام عام طور پر پیش آتے ہیں، ان میں سے جتنے کام رمضان المبارک سے پہلے ہو سکیں،پہلے ہی کر لیے جائیں۔ او رجو کام رمضان المبارک میں کرنے ہوں، ان کے کرنے میں بھی کم سے کم وقت لگایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت رمضان المبارک میں ذکر وعبادت اور دعا وتلاوت کے لیے فارغ کرسکیں۔ بلا ضرورت لوگوں سے ملاقات کرنا ترک کردیں،تاکہ فضولیات میں قیمتی مہینہ یا اس کے قیمتی لمحات ضائع نہ ہوں۔ اس ماہ میں گناہوں سے بچنے کی خوب کوشش کریں، آنکھ، کان، ناک، دل زبان اور ہاتھ پیروں کو گناہوں سے بچائیں۔ T.V دیکھنے، گانا سْننے سے بچیں، خواتین بے پردگی کے گناہ سے بطور خاص اپنی حفاظت کریں۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، گالم گلوچ، اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب برتیں۔تراویح پورے ماہ پابندی سے ادا کریں۔کیوں کہ عموماََلوگ دس یا پندرہ روزہ تراویح پڑھ کر سمجھ کر لیتے ہیں کہ اب ان پر آگے تراویح نہیں۔ان کا فرض پورا ہوگیا۔یہ سوچ بھی غلط ہے کہ ایک دفعہ تراویح میں قرآن کی سماعت کرلینے سے فرض پورا ہوگیا۔نہیں! مکمل قرآن تروایح میں سننا الگ سنت ہے،اور پورا ماہ پابندی سے تراویح پڑھنا الگ سنت۔ اسی طرح اللہ پاک سے گڑ گڑا کر اپنے والدین، اہل وعیال اور تمام مسلمان مردوں وعورتوں کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے خاص طو رپر اس کی رضا اور جنت مانگیں۔اللہ کی ناراضگی اور دوزخ کی آگ سے پناہ مانگیں۔ رمضان المبارک ایسا مقدس مہینہ ہے کہ اس میں ہر فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابر کردیا جاتا ہے، اور ہر نفل عبادت کاثواب فرض کے برابر۔ یہ صبر وغم خواری کرنے کا مہینہ ہے۔ روزہ افطار کرانا ۔لوگوں کی خوشیوں میں شامل حال ہو کر ان کی ہمت بندھانا۔مساکین و یتامیٰ کی کفالت کرنا۔ اس ماہ کا ہر عشرہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ چنانچہ پہلا عشرہ سراسر رحمت ہے۔ دوسرا عشرہ دِن ورات مغفرت کا عشرہ ہے۔ اور آخری عشرہ دوزخ سے آزادی کے لیے ہے۔اس مہینے میں تمام آسمانی کتابوں اور صحائف کا نزول ہوا ۔خاص طور پر قرآن مجید کا نزول تو خود ہی قرآن نے ہمیں بتایا ہے ۔تفسیر مظہری میں ہے کہ رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے نازل ہوئے۔ جو تعداد میں دس تھے۔ پھر سات سو سال بعد چھ رمضان کو حضرت موسی علیہ السلام پر توریت کا نزول ہوا۔ پھر پانچ سو سال بعد حضرت داؤد علیہ السلام پر13 رمضان کو زبور کا نزول ہوا۔ زبور سے بارہ سو سال بعد 18 رمضان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل کا نزول ہوا۔ پھر انجیل کے بعد پورے چھ سو سال بعد24 رمضان کو لوح محفوظ سے دنیاوی آسمان پر پورے قرآن کا نزول ہوا اور اسی ماہ کی اسی تاریخ کو خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم...

دیہاڑی کی سوچ

حیدر میر خان کا تعلق ہندوستان کے  شہر حیدرآباد سے تھا ۔ وہ نویں کلاس میں تھا جب پاکستان وجود میں آگیا ۔ پاکستان دیکھنے کی تڑپ اور شوق اس نوجوان کو ایک دو دوستوں اور ایک عدد سائیکل کے ساتھ پاکستان کھینچ لائی ۔ جب اس نے اپنی ماں کو آواز لگائی کہ " اماں میں پاکستان جا رہا ہوں " ۔ اسوقت اس کی ماں ہنڈیا پر سالن چڑھائے بیٹھی تھی وہ غور سے بیٹے کی شکل تک نہ دیکھ سکی ۔ جب تک بھاگ کر صحن میں آئی بیٹا پاکستان کے لئیے نکل چکا تھا ۔ پاکستان تو  پاکستان تھا وہ بھی 1947 کا پاکستان کونسا امریکا تھا ۔ یہاں آکر اس کو معلوم ہوا : ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات اس نویں کے طالبعلم نے ایک چائے کے ہوٹل میں نوکری کرلی ۔لوگوں کو چائے پلانا ، صبح سے رات تک میز وں پر کپڑا مارنا  ،ٹیبل پر پانی بھر  کر رکھنا  اور رات کو اسی ہوٹل کی کسی ٹیبل کے نیچے سوجانا ۔ کچھ عرصے بعد اس نوجوان نے کنڈکٹری شروع کردی۔ اس دفعہ سر چھپانے اور رات گزارنے کے لئیے بس کی چھت مل گئی تھی ۔ روزو شب ایسے ہی گزرتے رہے کہ ایک دن پولیس والے کی گاڑی پر کپڑا مارنا کام آگیا ۔ "صاحب" نے تھانے بلا لیا اور اس طرح تھانے میں صفائی کرنا ، سپاہیوں کو چائے پلانا اور تھانے کی دیوار کے ساتھ ہی سوجانا ۔ کچھ عرصے بعد پولیس میں نوکریاں آئیں اور اس نوجوان کو اسی پولیس آفیسر نے بھرتی کروادیا ۔ تھانے میں صفائی کرنے والا اب سپاہی بن چکا تھا ۔ اس نے دن رات ایک کردیا ۔ محنت اور ایمانداری مل کر وہ قیامت ڈھاتے ہیں کہ جسکا اندازہ بھی شاید ہم نہ کرسکیں ۔اس نے ایمانداری کا بیج بونے کے بعد محنت کی سرمایہ کاری شروع کردی ۔ اگر آپ کو اپنی صلاحیتوں پر  اعتماد اور خدا پر یقین ہے تو پھر آپ آج کی محنت کا صلہ آج وصول کرنے کے بجائے اس کسان کی طرح فصل آنے کا انتظار کرینگے جو بیج بونے کے بعد روز صرف اپنی محنت کا پانی اپنی خالی زمینوں پر ڈالتا رہتا ہے لیکن اس کو یقین ضرور ہوتا ہے کہ آج نہیں تو کل میری کھیتی پھل ضرور لائیگی ۔ وہ نوجوان سپاہی سے افسر بنا ۔ سب انسپکٹر ، انسپکٹر ، ایس – ایچ – او ، ڈی – ایس –پی اور پھر سی – آئی – ڈی کا  ایس – پی بن گیا ۔ سندھ کے پانچ اضلاع کی پولیس اس کپڑا مارنے والے نوجوان کو سیلوٹ مارنے لگی ۔ لیکن اس کی ایمانداری میں فرق نہیں آیا ۔کبھی غوث علی شاہ اور کبھی قائم علی  شاہ اس کے دروازے تک آنے لگے ۔ اسی دروازے پر جہاں آج بھی ٹاٹ کا کپڑا پڑا تھا  اور وہ اب بھی اپنی ساس کے دئیے مکان میں رہائش پذیر تھا ۔ نوٹوں سے بھرے بریف کیس آتے۔ جیسے آتے ویسے ہی چلے جاتے ۔ ہر نئے موسم  میں آنے والے پھلوں کی پیٹیاں زمین داروں...

چھٹیاں ۔۔۔۔ضائع نہ ہو یہ نعمت دیکھو

آج کا دور مصروفیت سیمعنون ہے ۔مسابقت کی غیر صحت مند دوڑ میں خواہ چھوٹا ہویا بڑا ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا ہے۔ عدیم الفرصتی کے اس دور میں خاندان کے پورے افراد کو اگر اکٹھاہوکر چندیوم راحت و فرصت اور خوشی و مسرت سے بسر کرنے کا موقع حاصل ہوجائے تو یہ کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔ ہر سال گرمائی تعطیلات جہاں طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے نوید مسرت و خوشیوں کا شادیانہ ہوتے ہیں وہیں والدین کی ذمہ داریوں میں یہ ایک بڑے اضافے کا سبب بن جاتے ہیں۔گرماکی تعطیلات میں طلبہ کو با مقصدسرگرمیوں میں مصروف رکھنا والدین کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ عام دنوں میں اسکول کی روز مرہ نصابی سرگرمیوں، تعلیمی مصروفیات اوروقت کی قلت کی وجہ سے والدین بچوں کی دینی و دنیوی تعلیم و تربیت کی سلسلے میں خو د کو مجبور محسوس کرتے ہیں۔لیکن گرماکی تعطیلات والدین کو بچوں کی دینی و دنیوی تربیت کا ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہیں۔ مبسوط و منظم منصوبہ بندی کے ذریعہ تعطیلات میں والدین بچوں کی اصلاح ،کردار اور شخصیت سازی کی عمدہ کوشش کرسکتے ہیں۔ گرمائی تعطیلات کا آغاز ہوچکا ہے ۔گرمی کے قہر سے بچے دن بھر گھروں میں محبوس ہوکر آوٹ ڈور سرگرمیوں میں حصہ لینے سے قاصر ہیں۔ موسمی حالات کے پیش نظر والدین ایسا منصوبہ ترتیب دیں جو بچوں کو آؤٹ ڈور اور ان ڈور سرگرمیوں میں حصہلینے میں معاون ثابت ہوں۔والدین چھٹیوں میں بچوں کے روز مرہ معمولات اورغذا میں توازن برقرار رکھیں تاکہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشو ونما بہترطریقے سے ہوسکے۔چھٹیوں میں اگر طلبہ کی نگرانی نہ کی جائے تو وہ منفی تفریحی سرگرمیوں کی جانب مائل ہوجاتے ہیں ۔ اسی لئے والدین بچوں کی دینی تعلیم کی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دیں ٹی وی اسکرینس اور انٹر نیٹ پر وقت ضائع کرنے سے باز رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے بچوں کو بہت ساری صلاحیتوں سے نوازا ہے، ان کی صلاحیتوں کو صحیح راہ میں لگانا اساتذہ اور والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ ماہرین تعلیم و نفسیات کے مطابق طویل معیادی چھٹیوں میں بچوں کی روٹین خراب ہو جاتی ہے او ر وہ ا سکول نہ جانے کی وجہ سے اکثر صبح دیر تک سوتے رہتے ہیں۔چھٹیوں کے دوران والدین کی جانب سے برتی جانے والی لاپرواہی کا خمیازہ معصوم طلبہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔بعض والدین چھٹیوں کو صرف آرام کا وسیلہ سمجھ کراسے ضائع کردیتے ہیں۔چند والدین بچوں کی شرارتوں ،شورو غل یا پھر دیگر وجوہات کی وجہ سے بچوں کو کسی اکیڈیمی یا ٹٹوریل میں داخل کرتے ہوئے خود کو بری الذمہسمجھتے ہیں۔ایسی روایتی سرگرمیاں بچوں کے لئے اضمحلال کاسبب ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات و تعلیم کے نزدیک اس طرح کافیصلہ بچوں کی تخلیقی ،ذہنی و جسمانی نشوونما کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔چھٹیوں کی موثر و منظم منصوبہ بندی سے بچوں کی ذہنی، جسمانی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ بخشا جاسکتا ہے۔تعطیلات میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں بچوں میں قائدانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون...

مدرسہ یا اسکول ؟

آپ کمال دیکھیں انگریز جب ہندوستان آیا ۔ برصغیر میں مسلمانوں کی شرح خواندگی 94 فیصد تھی  اور جب واپس گیا تو اس حال میں کہ شرح خواندگی محض 14 فیصد باقی تھی ۔ یعنی انگریز نے ہمیں مکمل طور پر " جاہل " بنادیا ۔ سب سے بڑا ظلم عظیم ہمارے نظام تعلیم کے ساتھ ہوا  اور اس ظلم میں انگریز کی آمد سے کہیں زیادہ مسلمانوں کی "بوکھلاہٹ " کا  عمل دخل تھا ۔ مسلمان حکمران اور بالخصوص مغلوں کے پاس "دین اکبری " ، " یادگار محبت " اور اپنی عظمت کی نشانیاں بنانے کا بہت وقت تھا لیکن اگر وقت نہیں تھا تو علمی درسگاہیں قائم کرنے کے لئیے نہیں تھا ۔ آپ کو مغلوں کے پورے دور میں کو ئی ایک قابل ذکر " جامعہ " نہیں ملے گی ۔ مغلوں نے 1526 سے لے کر 1857 تک اتنا ترقیاتی کام نہیں کیا جتنا اسی دوران محض چار سالوں میں شیرشاہ سوری نے کردیا ۔ بہرحال انگریز کی آمد کے ساتھ ہی مسلمان واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے  اور ان کی یہ تقسیم کسی بڑے مقصد کے لئیے نہیں تھی بلکہ دونوں گروہ ہی اپنی جاتی "عزت " اور " ساکھ " کو بچانے کی فکر میں تھے ۔ایک گروہ وہ تھا جس نے انگریز کو ہندوستان پر  خدا کا " احسان " قرار دے کر ان کی تعلیمات ، ترجیحات اور رنگ ڈھنگ تک اختیار کرلیا ۔ علی گڑھ سے نعوذ بااللہ " خدا کا جنازہ " تک نکال دیا گیا اور انگریز کی لائی ہوئی تعلیم عین " شریعت " قرار پائی ۔اسلام دین سے " مذہب " بن گیا ۔ ہندومت اور عیسائیت کیونکہ مذاہب تھے اسلئیے انھوں نے " چھانے " کے بعد اسلام کو بھی مذہب ڈکلئیر کردیا  اور اس گروہ نے آنکھیں بند کرکے انگریز کی لائی ہوئی " شریعت " میں ہی اپنی عافیت سمجھی ۔ محبت اور غلامی دو ایسی چیزیں ہیں جس میں سامنے والے کی خامی بھی خوبی بن جاتی ہے ۔ اقبال نے کہا تھا : جو تھا نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتے ہیں قوموں کے ضمیر اس سب میں جو دوسرا گروہ تھا اس کو اپنے لباس اور روایات کہیں زیادہ عزیز تھیں ۔ان کو اپنی اور اپنی آنے والی نسل کی بھلائی اسی میں محسوس ہوئی کہ " جو ہے جیسا ہے " کی بنیاد پر اپنے پلے سے باندھ لیا جائے ۔ کیونکہ اب شاید دوبارہ مسلمان کبھی نہ " پنپ " سکیں ۔ یہ مسلمانوں کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب دینی اور دنیاوی تعلیم کا سلسلہ علیحدہ شروع ہوا۔اور شاید مسلمانوں کی زوال پرستی کا سب سے بڑا سبب بھی یہی تھا ۔  امام زین العابدین نے عراق میں جس مدرسے کی بنیاد رکھی تھی وہاں سے ایک ہی وقت میں سائنسدان اور محدثین ساتھ " پاس آؤٹ " ہوتے تھے ۔ ایک طرف جہاں جابر ابن حیان اور ابن سینا جیسے سائنسدان تھے تو دوسری طرف  اسحق بن راہویہ جیسے محدثین بھی اپنے علم کی روشنی سے دنیا کو منور کر رہے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

بڑھاپے کی بڑھکیں،عینک اور بتیسی

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے حالانکہ اس عمر میں انسان کسی رخ سے بھی سیدھا نہیں ہوتا۔ دونوں کی بتیسی(مصنوعی دانت) اور عینک کا نمبر ایک جیسا ہو جاتا ہے۔جس کو جو چاہئیے مستعار لے اور اپنا گزارہ کر لے۔مثلاًبابا جی کو بھوک لگی ہو تو کھانے کے لئے بتیسی ادھار پکڑی کھانا کھایا بتیسی گرم پانی میں سٹرلائز کی اور ’’بابی‘‘ کے منہ میں۔اماں کو تلاوت فرمانی ہوئی تو بابے کی عینک پکڑی ،دھاگے والے فریم کو ناک کی سلوٹوں پہ ایڈجسٹ کیا ،بعد از تلاوت عینک بڑے پیار سے بابے کی ناک پہ چسپاں۔گویا انسان اگر بوڑھا نہ ہوتا تو چشموں اور دانتوں کے کام کا مکمل مندا ہوتا۔اکثر میری کلاس کے بچے شرارتاً سوال کرتے ہیں کہ سر بڑھاپے کی آمد کا پتہ کیسے چلتا ہے۔تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ جب منہ میں دانت گرنے لگیں اور عینک کا نمبر بڑھنے لگے تو سمجھ جاؤ کہ بڑھاپے کی آمد آمد ہے۔یا پھر اولاد اور اعضائے جسمانی ایک ساتھ جواب دینے لگ جائیں ،بیوی اور یاد داشت کا ساتھ کم ہونے لگے،کھانے کا ذائقہ اور بدصورت عورتوں کا ساتھ حسین لگنے لگے ،حد یہ کہ جب بچے آپ کو نانا ،دادا جبکہ حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنا شروع کر دیں تو کسی قسم کے تردًد سے کام نہ لیتے ہوئے چپ چاپ اپنے بڑھاپے کو ایسے ہی تسلیم کر لیں جیسے بوقتِ نکاح دلہن سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ فلاں بن فلاں قبول ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوا اس کے کہ ہاں’’ سب چلے گا‘‘۔ ویسے بڑھاپا مغرب میں اتنا برا خیال نہیں کیا جاتا جتنا کہ مشرقی لوگوں نے بنا دیا ہے۔مغربی بڈھے جتنا بڑھاپے کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں اتنا ہم مشرقی جوانی میں بھی شائد نہ کرتے ہوں،مغرب میں بوڑھوں کو عمر کے ڈھلتے ہی اولڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ان کی کیئر ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں بوڑھوں کو گھر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ جوانوں کے ’’طعنے معنوں‘‘ کی زد میں رہ کر ان کے کتھارسس کا باعث بن سکیں۔طعنے ذرا ملاحظہ فرمائیں ٌ* بابے کی چارپائی جانوروں والے کمرے میں لگا دیں * بابا ہر بات میں ٹانگ نہ اڑایا کر،حالانکہ بابا اپنی ٹانگوں پہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ * بڑھاپے میں کوئی فعلِ جوانی سر زد ہو جائے تو’’چٹے چاٹے(سفید بالوں) کا خیال کر،چاٹا سفید ہو گیا عقل نہ آئی،بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مشرق میں تو بڑھاپے کو توبہ و استغفار کی عمر خیال کیا جاتا ہے کہ بابا جی تسبیح مصلحہ لے لو اور اللہ اللہ کرو،حالانکہ مغرب میں جو بوڑھے ایامِ جوانی میں جس عورت سے عیاشی کرتے رہے بڑھاپے میں اسی عورت سے شادی کو آئیڈیل عمر اور جوڑی سمجھتے ہیں،اسی لئے بڑھاپا مشرق میں مرض اور بوجھ جبکہ...

اُف یہ بیویاں

عورت ٹیڑھی پسلی کی وہ تخلیق ہے کہ ایک بار بیوی بن جائے تو پھر ٹیڑھے سے ٹیڑھے مرد کو بھی یک جنبش انگلی ایک ہی پاؤں پہ وہ ناچ نچواتی ہے کہ شوہر نامدارکے تمام کس بل نکال دیتی ہے۔اور مرد بے چارہ جو قبل از شادی کسی کو پلے نہیں باندھتا تھا اب بیوی کے پلو سے ایسے بندھا رہتا ہے جیسے اونٹ کے گلے میں بلی اور بلی بھی وہ کی جو بہت سے بلوں میں اکیلی گھری ہوئی ہو جیسے رضیہ غندوں میں اور دور کھڑا ایک خاوند لاچارگی و نحیف آوازمیں کہہ رہا ہو کہ :شیر بن شیر؛ بیوی آ پکا وہ قانونی حق ہے جسے آپ سو(۱۰۰)دو سو(۲۰۰) افراد کی موجودگی میں قبولیت ثلاثہ کے ساتھ بخوشی حق قبولی میں لیتے ہیں۔بعد از شادی بعدین دو سو دن شادی مرگ ہو بھی جائے تو یقین مانیں آپ دنیا کے خوش قسمت ترین خاوند خیال کئے جائیں گے ہو سکتا ہے آپ کو :عائلی شہید: کے اعلی رتبے پر خیال کیا جائے۔ بیوی میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہوایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ یہ جب چاہے کوئی سا بھی روپ دھار سکتی ہے۔جب چاہے گرگٹ بن کے کوئی سا بھی رنگ بدل لے۔رنگ بدلنے کے لئے خاوند،سسرال،یا میکہ کہیں سے بھی بیوی کو اجازت نامہ درکار نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے سے ہی :بیوی نامہ:میں ڈیٹا اسٹور میں پڑا ہوتا ہے۔بس یہ بیوی پر منحصر ہے کہ ذاتی منشا و مدعا کے مطابق کب ،کونسا روپ دھار کر خاوند،ساس،نند،اوردیورانی کو بیوقوف بنانا ہے۔یعنی گھر میں دھونے والے برتنوں کی کثرت ہو تو کثرت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے لئے بھی بیوی کے سر میں درد نکل سکتاہے،سسرالی مہمانوں کی آمد آمد ہو تو :خاتون خانہُ:گندے دوپٹے سے سر باندھ کر بوڑھی :دائیہ ؛کی وضع اپنا سکتی ہے۔اور اگرمیکہ والوں سے کوئی دور پار کے رشتہ دار بھی آ جائیں تو :کپتی بیوی: کے غلاف سے دھارمک ،بی بی اور موٗدب بیوی کہاں سے عود کر آ جائے گی کہ پورا سسرال انگشت بدنداں،حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ :ہیں: ایسا روپ تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔البتہ تنخواہ کا دن وا حد دن ہوتا ہے جس میں ایک دم کپتی بیوی گل اندام محبوبہ کی وضع قطع اپنا لے گی کہ :سکے خاوند: کو یقین نہیں آتا کہ وہ ذاتی بیوی سے مخاطب ہے یا کسی اور کی بیوی کے سامنے کھڑا ہے۔بیوی کے یہ ناز و نخرے اس وقت تک چلتے ہیں تا وقتیکہ شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی نہ ہو جائے۔ ایام ماہ آ خرجب شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی ہو جاتے ہیں تو فوری طور پہ :گجی ماں:جیسے ٹکا کے بے عزتی کرتی ہے جیسے بچپن میں رات تاخیر سے وآنے پہ اماں کرتی تھیں۔بعض اوقات تو اماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہی رہتی ہے۔ بیوی کا پاور ھاؤس اسکا میکہ ہوتا ہے جبکہ خاوند کے لیے یہ جگہ بارگاہ ادب سے کم نہیں۔ ہر اس شخص کو کسھیانی مسکراہٹ اور عزت و مقام بخشتے ہوئے جھک کر سلام اور گلے لگانا پڑتا ہے جو آر...

انگریزی،انگریزنی اور ہم پاکستانی

انگریز برصغیر سے جاتے ہوئے اپنی اپنی انگریزنیوں کو تو ساتھ لے گئے۔تاہم انگریزی ہمارے واسطے بطور عذاب اور امتحان کے چھوڑ گئے۔ہم ٹھہرے باوقار پاکستانی،اپنی چائے میں مکھی بھی پڑ جائے تو اسے مکمل نچوڑ کر اور کبھی کبھار چوس کر چائے بدر کرتے ہوئے کہیں دور پھینک کر بقیہ چائے یہ کہتے ہوئے پی لیتے ہیں کہ حلال کمائی کی ہے، مگر کسی کی جھوٹی چائے کو تو ہاتھ لگانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔بھلا تصور کریں کہ انگریز کی چھوڑی ہوئی انگریزی کو ہم کیسے ہاتھ لگائیں گے۔ہاں اگر انگریزی کی جگہ انگریزنی ہو تو ہاتھ اور منہ لگانے کو ہم قومی فریضہ خیال کریں گے۔پھر بھی ہم یارانِ مہر و محبت ،انگریزی کو بھی صیغہ مونث خیال کرتے ہوئے اس امید سے برداشت کر رہے ہیں کہ اک روز تو آئیگی آتے آتے’’پر کتھوں‘‘نہ انگریزی اور نہ ہی انگریزنی آتی ہے،مایوسی کہیں کفر تک نہ لے جائے اور مذکور ان دو صنف اور صنفِ نازک سے بدلہ لینا مقصود ہو تو رختِ سفر باندھیے گوروں کے دیس کا اور ایک عدد گوری سے شادی کر وا کے خوب اپنی تشنگی بجھائیے۔جیسے 90 کی دہائی میں میرا ایک دوست اس عزمِ صمیم سے ولایت پڑھنے گیا تھا کہ وہاں جا کر انگریزی اور انگریزنیوں سے گن گن کر بدلے لوں گا۔اور وہ اپنی زبان کا پکا نکلا کہ گن گن کر اس نے سات آٹھ انگریزنیوں سے شادیاں کی ،گن گن کر پندرہ بیس مکس کراپ( mix crop ) قسم کے بچے پیدا کئے جنہوں نے بڑھاپے میں ایک ایک کر کے چھوڑ دیا اور اب محترم سوچ رہے ہیں کہ ’’اپنے اور اپنا پاکستان زندہ باد‘‘۔مگر یہ سب ہر بندے کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ انگریزی اور انگریزنی کو ایک ساتھ ہاتھ ڈال لے۔اور اگر یہ دونوں ایک ساتھ کہیں ہمارے ہتھے چڑھ جائیں تو پھر ہم ان دونوں کی وہ ’’ماں بہن‘‘ ایک کرتے ہیں کہ خدا پناہ۔میرا ایک دوست انگریزی کے ساتھ وہ ’’کتے خوانی‘‘ کرتا ہے کہ گورے ان کی انگریزی اگر پڑھ لیں تو انگریزنیوں کو بچوں سمیت موصوف سے ایسے چھپاتے پھریں جیسے بلی اپنے بچوں کو منہ میں دبائے سات گھروں میں لئے پھرتی ہو۔میری نظر سے ان کا لکھا ہوا ایک پیرا گراف گزرا ۔اس پیراگراف پڑھنے کے بعد جو میرے احساسات تھے میں چاہتا ہوں کی قارئین کی نذر کروں،پیرا پڑھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے preposition کو دھوبی پلڑا مار کر اور مجھے کرنٹ لگا کر زمیں پر دے مارا ہو،preposition کے بے ہنگم استعمال سے میں سمجھا ،کہ ہو سکتا ہے کہ میں ہی ذہنی طور پہ تیا ر نہ تھا ،ایسا ہرگز نہیں تھا کیونکہ use of tense کو بھی انہوں نے اتنی tention میں رکھا ہوا تھا کہ میں خود tense ہو گیا کہ الہی ماجرا کیا ہے،بندہ ماسٹر ڈگری کر کے ماسٹر لگا ہوا ہے تو پھر انگریزی میں اتنا ماسٹر کیوں نہیں کہ ایک جملہ ہی ٹھیک سے لکھ سکتا ہو۔اب دیکھئے ذرا کہ ’’میں کہتا ہوں‘‘ کی انگریزی me told اور ’’تم آجانا‘‘ کی they come کی...

ہم تو گم راہ جوانی کے مزوں پر ہیں 

ایک سلپ دینا ، انہوں نے میٹھے اور دھیمے سے لہجے میں کہا۔ میں نے سر اٹھایا تو ایک چالیس پینتالیس سالہ خاتون استقبالیہ کے کاؤنٹر پر میرے سامنے کھڑی تھیں۔ جی آنٹی؟’’ اپنی ایج بتا دیجئے گا پلیز‘‘۔ بس یہ کہنا تھا کہ وہ تو آپے سے ہی باہر آگئیں۔ ایسے لگا جیسے میں نے ان سے عمر نہ پوچھی ہو بلکہ بھڑوں کے چتھے میں ہاتھ ڈال دیا ہویا کوئی ننگی سی گالی دے دی ہو۔ پہلے تو انہوں نے خوب ناک سکیڑی اور پھر غصے سے پھنکارتے ہوئے بولیں : ’’او ہیلو!! کہاں سے آنٹی لگتی ہوں ہاں؟ میں نے ان کے بپھرتے انداز سے ڈرتے ہوئے پیشہ ورانہ معذرت کی اور کہا: سوری باجی غلطی ہو گئی۔ آپ اپنی عمر بتا دیں تا کہ میں سلپ بنا دوں ۔ انہوں نے غصے سے لبریز لہجے میں بڑبڑاتے، منمناتے ہوئے پچیس سال بتائی اور میں سوچنے لگاکہ دِکھتی توچالیس کی ہیں اور بتاتی پچیس ہیں ۔ پھر میں سوچنے لگاممکن ہے سات ادوار میں سے کوئی دور ہو۔ مارک ٹوئن نے کسی سے پوچھا تھا:’’کیا آپ عورت کی زندگی کے سات ادوار سے واقف ہیں؟‘‘تو جواب ملا: نہیں واقف،کون سے ہیں؟ مارک ٹوئن نے جواب دیا: ’’ بچپن، لڑکپن، جوانی، جوانی، جوانی اور جوانی اور پھر جوانی۔ویسے بھی عمر کے معاملے میں عورتوں کا ہمیشہ سے یہ رویہ رہا ہے کہ جب وہ چھوٹی ہوں تو چاہتی ہیں کہ انہیں بڑا سمجھا جائے اور جب بڑی عمر کی ہوتی ہیں تو چاہتی ہیں کہ انہیں چھوٹا سمجھا جائے۔ خیر ! میں نے سلپ بنا کے دی تو بلا ٹلی اور میں نے سکھ کا سانس لیا کیوں کہ جب تک وہ یہاں کھڑی تھیں مجھے ہی گھورے جارہی تھیں۔ جیسے نظروں ہی نظروں میں ہڑپ کر جانا چاہتی ہوں۔ شاید انہیں لگ رہا تھا کہ میں نے راز سے پردہ اٹھا لیا۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بیل بجی ، جو اشارہ تھا خطرے کا، کہ ڈاکٹر صاحب بلا رہے ہیں۔چشمہ ناک پے اوپر کیا جو ذرا سرک کر چونچ پر آگیا تھا، کپڑے وپڑے ٹھیک کیے اورجا پہنچے ڈاکٹر صاحب کے کمرہ میں اور ہاتھ باندھ کر مؤدبانہ انداز سے کھڑے ہوئے اور عرض کیا : جی سر؟ ڈاکٹر صاحب نے اول تو چشمے کے اوپر سے مجھے گھورتے ہوئے سر تا پا جائزہ لیا پھر بولے: بھئی عبدل!آپ عمر تو ٹھیک لکھا کریں ۔ آپ جانتے بھی ہیں کہ میں مریض کو اس کی عمر کے حساب سے میڈسین دیتا ہوں ۔ یہ دیکھیں اب ، آپ نے فورٹی پلس کی سلپ پر عمر پچیس سال لکھی ہے جبکہ آئی ڈی کارڈ کے حساب سے چالیس، اکتالیس بنتی ہے۔میں نے سر جھکالیا اور رسماً معذرت کی، وہ خاتو ن وہیں پر سانس کھینچے بیٹھی مجھے ہی گھور رہی تھیں۔جان چھوٹی سو لاکھوں پائے۔ میں سوچ رہا تھا، پتا نہیں خواتین اپنی عمر چھپاتی کیوں ہیں؟ شائد احساس کمتری کی وجہ سے یا کم عمر نظر آنے کے لیے؛ کہتی ہوں گی انہیں جوان سمجھا جائے۔ ویسے بعض مرد بھی اپنی عمر چھپاتے ہیں ۔ مرد کی...

روحانی ریمانڈ

صاحبو، مجھ سے اگر کوئی یہ پوچھے کہ انسانی اعصاب کیلیئے سب سے کڑا وقت کونسا ہوتا ہے تو میں بلا تردد عرض کروں گا کہ "عین اس وقت ، کہ جب کوئی لکھنے پڑھنے والا فرد نصف شب کے بعد کسی بیتاب قوال سے بہت کم فاصلے پہ موجود ہو" ، مجھے یقین ہے کہ کسی دوسرے فرد کو میرے اس بیان کی فکرانگیزی اس وقت تک سمجھ آہی نہیں سکتی کہ جب تک کہ وہ خود کبھی اس کڑی آزمائش سے دوچار نہ ہوا ہو اور رات کے پرسکون لمحات میں اسکی سماعت ، اچانک کسی بپھرے ہوئے قوال کے ہتھے نہ چڑھ چکی ہو۔۔۔ میری یہ بپتا پرانی نہیں ابھی گزشتہ شب ہی کی ہے کہ جب میرے گھر کے عین سامنے اک مست قوال محفل سماع کے نام پہ مائیکروفون پہ کان پھٹنے اور پو پھٹنے تک نجانے کیا کیا کرنے پہ تلا رہا،،، اور میں گویا شب بھر 'روحانی ریمانڈ' پہ رہا،،، ابتداء میں تو میں نے بہت برداشت سے کام لیا اور بہت دیر تک ضبط نفس کے طریقے آزماتا رہا لیکن کانوں پہ امنڈتی بانگ درا جب اسپیکروں کی ہنرمندی سے چنگھاڑتی ضرب کلیمی بن گئی تو خوار و مضطرب ہوکر خود بھی پرعقیدت سامع بن کر 'وقوعہ' پہ جاپہنچا۔ دیکھتا ہوں کہ درمیان میں بیٹھا جو شخص متواتر گردن ہلارہا ہے اور زور زور سے ہاتھ چلا رہا ہے وہی اس 'مقدس ورکشاپ' کا استاد ہے اور اس نے کئی 'چھوٹے' یعنی اپرنٹس قوال آہ وفغاں کیلیئے دائیں بائیں ساتھ بٹھا رکھے ہیں جو کہ نہایت متناسب انداز میں گردن مٹکانے کیساتھ ساتھ استادانہ لے کی آنچ بڑھانے کیلیئے برابر سے زوردار تالیاں بھی پٹخارتے جاتے ہیں اور تالیاں بھی کیا گویا ایک ہتھیلی سے دوسری کو اور دوسری سے پہلی کو کس کس کر چانٹے لگا رہے ہیں،،، ہمراہ ایک نائب قوال بھی ہے کہ باربار بوکھلا کر اچانک اچانک واویلا مچانے کیلیئے مخصوص ہے،، اس کا دوسرا کام پوری چوکسی سے اپنے سر کو 'استاد' کی تالیوں کے بیچ آکر چپاتی بننے سے بچانا ہے کیونکہ وہ قوال کے بالکل نزدیک بیٹھا ہے اور ہر لمحے گمان ہوتا ہے کہ اس قربت کی سزا اسے آج مل کر رہے گی،،، طبلہ ٹھنک رہا ہے اور طبلہ نوازاسی سے ہم آہنگ کرکے اپنی گردن اور دیدے دونوں برابر سے مٹکارہا ہے،،، ایک لاغر و فاضل سا بچہ بھی وہیں ساتھ دبکا بیٹھا ہے جس کا کام سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وقفے وقفے سے چونک کے سیٹی جیسی باریک اور چبھتی ہوئی آواز میں چیخیتی ہوئی ایں ایں یا ریں ریں کرنے کی کوششیں جاری رکھے اور اسٹیج پہ کسی جونیئر قوال کو نیند کی جھپکی لینے نہ دے ، حاضرین کو جگائے رکھنے کا کام البتہ اسی چھٹے ہوئے قول نے مستقل اپنے ذمے لے رکھا ہے۔۔۔ ساز و صدا کی اسی ہڑبونگ میں دیکھتے ہی دیکھتے میرے سامنے بیٹھے دو افراد دفعتاً ہڑبڑا کر اٹھے اور اسٹیج کی جانب بڑھے اور،،،، اسٹیج تک پہنچنے سے پہلے ان میں سے ایک نے جیب میں ہاتھ ڈالا جس سے میں نے...

ہمارے بلاگرز